امریکہ کا لکڑ ہضم، پتھر ہضم معاشرہ اور مسلمانوں کی نئی پود کا مستقبل

   
مقام / زیر اہتمام: 
تاریخ بیان: 
۱۷ دسمبر ۱۹۹۰ء

بعد الحمد والصلوۃ۔ بزرگان محترم و برادران اسلام! مجھے امریکہ میں حاضری دیتے ہوئے چوتھا سال ہے۔ ہر سال کچھ دنوں کے لیے حاضری کا موقع ملتا ہے۔ یہاں مکی مسجد میں آپ حضرات سے ملاقات کی سعادت بھی حاصل ہوتی ہے۔ پہلی دفعہ ۱۹۸۷ء میں حاضر ہوا تو یہیں مکی مسجد میں مسلسل آٹھ دس روز قادیانیت کے بارے میں روزانہ گفتگو ہوتی رہی۔ اس وقت یہاں آنے کا مقصد بھی قادیانی گروہ کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا اور امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کے حالات معلوم کرنا تھا۔ پھر جوں جوں مسائل و احوال سے واقفیت ہوتی گئی، اس مشن کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور اس بار بھی امریکہ حاضری اسی مشن کے سلسلہ میں ہے۔ میں مکی مسجد کے خطیب محترم حافظ محمد صابر صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس اجتماع میں آپ سے گفتگو کا موقع فراہم کیا۔

حضرات محترم! میں آج کی گفتگو میں آپ دوستوں سے ایک اہم مسئلہ پر بات کرنا چاہتا ہوں اور وہ ہے امریکہ میں آباد مسلمانوں کے مذہبی مستقبل کا مسئلہ، اور یہ سوال کہ یہاں رہنے والے مسلمانوں کی اگلی نسل کا تعلق اسلام کے ساتھ باقی رہے گا یا نہیں۔ یہ سوال انتہائی نازک اور پریشان کن ہے اور شمالی امریکہ کے مختلف علاقوں میں گھوم پھر کر حالات کا جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہاں کے مسلمانوں کو اس مسئلہ کی سنگینی کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے، کیونکہ ماضی کے تلخ تجربات شاہد ہیں کہ اگر مسلمانوں کی اگلی نسل کے ایمان کو بچانے کی ابھی سے سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو ماضی میں یہاں آنے والے ہزاروں مسلمان خاندانوں کی طرح موجودہ مسلمانوں کی اولاد بھی خدا نخواستہ بطور مسلمان اپنا تشخص باقی نہیں رکھ سکے گی۔

میرے محترم دوستو! آپ لوگ بحمد اللہ مسلمان ہیں اور مختلف ممالک سے نقل مکانی کر کے روزگار کی تلاش میں اس سرزمین میں آ کر آباد ہو گئے ہیں۔ روزگار کی تلاش اچھی بات ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ: ’’فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ‘‘ (الجمعہ) زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بات یہ بھی شامل کر لیں کہ ان لوگوں کے حشر اور انجام پر ایک نظر ڈال لیں جو آپ سے پہلے یہاں آئے تھے اور آپ کے مسلمان بھائی تھے، لیکن یہاں کی معاشرت اور تہذیب میں جذب ہو کر اپنا تہذیبی اور مذہبی امتیاز کھو بیٹھے ہیں اور آج مسلمانوں کی حیثیت سے ان کی پہچان ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ آپ کے اردگرد سینکڑوں مشاہدات بکھرے پڑے ہیں، صرف آنکھیں کھولنے اور دماغ کے دریچے وا کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو قدم قدم پر عبرت کے مناظر دکھائی دیں گے، مجھے تو یہ مناظر دکھائی دیے ہیں اور آپ کو بھی دکھانا چاہتا ہوں، صرف اس سفر کے چند مشاہدات سماعت فرما لیجیے:

ابھی چند روز قبل میں واشنگٹن ڈی سی میں تھا، ایک دوست کے ہاں شام کا کھانا تھا۔ ادارہ دعوت و ارشاد واشنگٹن ڈی سی کے مولانا محمد رفیق میرے ساتھ تھے، دس بارہ احباب کی محفل تھی جس میں صرف ہم دونوں باریش تھے۔ چار پانچ سال کا ایک بچہ آیا۔ پہلے اس نے ہم دونوں کو غور سے دیکھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کون سی مخلوق ہے! کچھ دیر دیکھتا رہا، پھر قریب آیا۔ یہاں کے بچوں میں جھجھک تو ہے نہیں۔ وہ مولانا محمد رفیق کے ساتھ بیٹھ گیا، ان کی ڈاڑھی کو ہاتھ میں لے کر ٹٹولا، پھر اسے اچھی طرح ہلایا اور بڑی معصومیت کے ساتھ پوچھا کہ ’’انکل یہ کیا ہے؟‘‘ بات بظاہر چھوٹی سی تھی لیکن میں احساس کی گہرائیوں میں ڈبکیاں کھانے لگا کہ ایک مسلمان گھرانے کے بچے کو ڈاڑھی جیسی سنت رسولؐ اور علامت دین کے بارے میں بھی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟

اسی سفر کے دوران اگستا (جارجیا) میں میرے دوست افتخار رانا مجھے ایک مقامی ہسپتال میں لے گئے جہاں ایک بوڑھا البانوی مسلمان بستر علالت پر موت و حیات کی کشمکش میں تھا۔ اسے اس حال میں پندرہ بیس روز گزر گئے تھے مگر امریکہ کے مختلف شہروں میں مقیم اس کے پانچ بیٹوں میں سے کسی ایک کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ اس کی بیمار پرسی کے لیے ہسپتال تک آ سکے، اور وہ بوڑھا تمناؤں اور حسرتوں کا ایک طوفان دل میں دبائے زبان حال سے امریکی معاشرت کی ستم ظریفی کا ماتم کر رہا تھا۔ پھر افتخار رانا نے مجھے ایک ’’اسٹیفی‘‘ کا قصہ سنایا جو ان کے ساتھ اگستا (جارجیا) کے ایک پلانٹ پر کام کرتا ہے۔ اسے قرآن کریم کی مختلف سورتیں یاد ہیں اور وہ بتاتا ہے کہ اس کا دادا مسلمان تھا جس نے اسے یہ سورتیں یاد کرائیں لیکن وہ خود مسلمان نہیں ہے، عیسائی ہے۔ میرے بھائیو! خدا کے لیے آنکھیں کھولو اور دیکھ لو کہ تمہارے اردگرد اس معاشرہ میں کتنے ’’اسٹیفی‘‘ موجود ہیں، ان کو دیکھو اور پھر فیصلہ کر لو کہ ان میں تم کتنے ’’اسٹیفیوں‘‘ کا اضافہ کرنا چاہتے ہو۔

میرے محترم دوستو! آپ لوگ یہاں آنے والے پہلے مسلمان نہیں ہیں، آپ سے پہلے بھی دو مرحلوں میں مسلمان یہاں آچکے ہیں، آپ تیسری کھیپ ہیں۔ اس لیے یہاں قدم جمانے سے پہلے ان لوگوں کے حالات پر ضرور نظر ڈال لیجیے جنہوں نے آپ سے پہلے اس سرزمین پر قدم رکھا اور پھر اس ’’لکڑ ہضم پتھر ہضم‘‘ معاشرہ میں گم ہو کر رہ گئے:

  1. تاریخ بتلاتی ہے کہ امریکہ میں مسلمان سب سے پہلے اندلس سے آئے تھے۔ جب صلیبی جنگوں کے نتیجے میں اندلس دوبارہ عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا تو ہزاروں مسلمان اپنی جانیں اور ایمان بچانے کے لیے ہزاروں میل کا سمندر عبور کر کے یہاں آگئے تھے۔ یہ کم و بیش وہی دور ہے جب کولمبس نے مغربی راستے سے ہندوستان پہنچنے کے جنون میں براعظم امریکہ دریافت کیا تھا، اس لیے یہ بات ابھی تک تاریخ میں متنازعہ ہے کہ امریکہ میں کولمبس پہلے آیا تھا یا مسلمانوں نے پہلے اس سرزمین پر قدم رکھا تھا، لیکن یہ بات طے ہے کہ اس دور میں ہزاروں مسلمان یہاں آئے اور اس وقت امریکہ میں اسپینش نسل کے جو لاکھوں خاندان آباد ہیں، ان میں سے اکثر انہی مسلمانوں کی اولاد ہیں لیکن ان میں شاید ہی اب کوئی مسلمان رہ گیا ہوگا۔
  2. مسلمانوں کی دوسری کھیپ رواں صدی کے آغاز میں ترکی کی خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور مشرقی یورپ پر کمیونزم کے غلبہ کے دوران یہاں آئی اور ایک روایت کے مطابق اس مرحلہ میں مشرقی یورپ کے مختلف ممالک سے دو لاکھ کے لگ بھگ مسلمان خاندان ترک وطن کر کے امریکہ میں آباد ہوئے۔ ان کی اولاد کا بھی ایک بڑا حصہ عیسائیت کی آغوش میں جا چکا ہے اور جو باقی ہیں، ان کی اکثریت کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق باقی نہیں رہ گیا۔
  3. تیسرے مرحلہ میں امریکہ آنے والے مسلمان آپ لوگ ہیں جو مختلف ممالک سے روزگار اور زندگی کی بہتر سہولتوں کی تلاش میں یہاں آئے ہیں اور ڈالر کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ میں آپ کو ڈالر کمانے سے منع کرنے کے لیے نہیں آیا۔ خوب ڈالر کمائیے اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو زندگی کی اس سے بہتر سہولتوں سے نوازے اور اس سے کئی گنا زیادہ ڈالر دے، لیکن صرف یہ سوچ لیجیے کہ ڈالر اور زندگی کی بہتر سہولتوں کے عوض آپ اس معاشرہ کو کیا دے رہے ہیں؟ اس کی آپ لوگ کیا قیمت ادا کر رہے ہیں؟ یہ قیمت اپنی اولاد کے ایمان کی صورت میں تو آپ ادا نہیں کرنا پڑے گی؟ اگر ایسا ہے تو یہ بہت خسارے کا سودا ہے۔ اس سودے پر نظرثانی کر لیجیے، اس کے نتائج پر غور کر لیجیے اور خدا کے لیے بہتر زندگی اور ڈالر کے عوض اپنی اگلی نسل کو کفر کی دلدل میں دھکیلنے کا سودا نہ کیجیے۔

ایک بات اور میں آپ سے دوٹوک کہنا چاہتا ہوں کہ اس کا فیصلہ آپ کو ابھی کرنا ہے، بعد میں آپ کسی فیصلہ کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔ آپ امریکی معاشرت کی بھٹی میں داخل ہو چکے ہیں، یہ بڑی سخت بھٹی ہے، یہاں ہر چیز پگھل جاتی ہے۔ یہ معاشرت اور کلچر جسے امریکی کہا جاتا ہے، دراصل امریکی نہیں، یورپی ہے اور اس نے بے شمار کلچر ہضم کیے ہیں، حتٰی کہ یہ معاشرت امریکہ کی مقامی معاشرت کو بھی کھا گئی ہے۔ آپ دیکھ لیجیے کہ اصل امریکی اس معاشرہ میں کہاں ہیں؟ ان کا تو اصل نام بھی کسی کو یاد نہیں رہا۔ وہ ریڈ انڈین کے نام سے پکارے جاتے ہیں، یہ نام انہیں یورپی آباد کاروں نے دیا تھا، انہیں مخصوص علاقوں کی طرف دھکیل دیا گیا ہے، امریکہ کی قومی زندگی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ یہاں کے اصل امریکی ہونے کے باوجود اجنبیوں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ یورپی تہذیب کا کمال ہے اور اس کا ہاضمہ ہے کہ اس کان نمک میں جو بھی آیا، نمک ہو کر رہ گیا۔ اب آپ یہ سوچ لیں کہ اس میں ہضم ہونے سے آپ نے کیسے بچنا ہے اور اپنی اولاد اور اگلی نسل کو کیسے بچانا ہے؟ اگر آپ ابھی اس کا فیصلہ نہیں کریں گے تو یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ آپ کی آنے والی نسلیں مسلمان نہیں رہیں گی۔ دوسری نسل لبرل ہوگی اور تیسری نسل عیسائیت کی آغوش میں چلی جائے گی اور اس کی ذمہ داری آپ پر ہوگی۔ خدا کی بارگاہ میں بھی آپ اس کے مجرم ہوں گے اور تاریخ بھی اس کا ذمہ دار آپ کو ٹھہرائے گی۔

آپ شاید یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں آپ کو یہاں سے واپس جانے کا مشورہ دوں گا۔ بالکل نہیں، اس لیے کہ یہ فرار ہے اور مسلمان کا کام مسائل سے فرار اختیار کرنا نہیں بلکہ مسائل کا سامنا کرنا ہے۔ ابھی چند روز قبل ایک مجلس میں یہ گزارشات میں نے پیش کیں تو ایک صاحب کہنے لگے کہ میں تو واپس چلے جانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ نہیں، میں آپ کو اس کا مشورہ نہیں دوں گا اور کسی مسلمان کو مسائل سے فرار کا مشورہ کم از کم میں نہیں دے سکتا۔ مسائل کا سامنا کیجیے، ان کا تجزیہ کیجیے اور ان کا حل تلاش کیجیے۔ حضرات محترم! میری آپ سے درخواست ہے کہ اس سنگین مسئلہ کے حل کے لیے آپ دو باتوں کا اہتمام ضرور کر لیجیے، ورنہ آپ ان نتائج سے نہیں بچ سکیں گے جن کا سامنا یہاں آپ سے پہلے آنے والے مسلمانوں کو کرنا پڑا ہے:

  1. ایک بات یہ کہ اپنے گھروں کے ماحول کو دینی بنانے کی کوشش کیجیے۔ گھر میں نماز روزہ اور تلاوت کلام پاک کے معمولات کا اہتمام کیجیے، اپنے مذہبی تشخص کا تحفظ کیجیے۔
  2. دوسری یہ کہ اپنی اولاد کی دینی تعلیم کا اہتمام ضرور کیجیے، انہیں قرآن کریم اور دینی احکام و مسائل کی تعلیم دلائیے۔ مساجد و مدارس کا نظام قائم کیجیے اور دین کی بنیادی تعلیم کے سلسلہ کو ہر مسلمان تک پھیلا دیجیے۔ اگر آپ اپنے بچوں کو دین کی تعلیم دلائیں گے اور انہیں گھروں میں مذہبی ماحول مہیا کریں گے تو دین کے ساتھ ان کا تعلق باقی رہے گا اور وہ مسلمان کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھ سکیں گے۔ ورنہ وہ صرف یہاں کے کلچر میں ضم ہو کر رہ جائیں گے، بلکہ اس سوسائٹی کا مذہب بھی قبول کر لیں گے۔ انہیں اس انجام سے صرف آپ کی سنجیدہ سوچ بچا سکتی ہے اور اس کا فیصلہ آپ کو ابھی اسی مرحلہ میں کرنا ہے۔

اس ملک میں ایک اور بات بھی عرض کیا کرتا ہوں اور آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ جن ممالک سے آپ آئے ہیں، ان کے ماحول اور سوسائٹی پر آپ اس معاشرہ کو قیاس نہ کریں۔ وہاں اگر والدین اپنی اولاد کی مذہبی وابستگی اور تعلیم و تربیت کے فرض سے کوتاہی بھی کر جائیں تو کچھ متبادل ذرائع ہیں جو انہیں مذہب سے وابستہ رکھنے کا وسیلہ بن جاتے ہیں: محلہ کی مسجد سے ان کا تعلق جڑ سکتا ہے، اسکول اور کالج میں اچھا استاذ مل سکتا ہے، دوستوں کی اچھی سوسائٹی مل سکتی ہے، حتیٰ کہ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے بھی وقتاً فوقتاً اذان، تلاوت کلام پاک اور درس و وعظ کی آواز کان میں پڑتی رہتی ہے، اور سب سے بڑھ کر معاشرہ اور سوسائٹی کا اجتماعی ماحول نئی پود کا تعلق مذہب کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے۔ لیکن یہاں ان صورتوں میں سے کسی ایک کا بھی امکان نہیں ہے۔ اسکول، کالج، سوسائٹی، میڈیا اور عمومی معاشرت ان سب کے رجحان سے آپ بخوبی آگاہ ہیں۔ ان میں سے کسی سے آپ کو ’’خیر‘‘ کی توقع ہے؟ اور اپنی اولاد کے مذہبی اور تہذیبی مستقبل کے بارے میں آپ ان میں سے کس پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ یہ تو سب کے سب کفر اور بے حیائی کے داعی ہیں اور ان سب نے قسم کھا رکھی ہے کہ کسی مسلمان کو مسلمان باقی نہیں رہنے دینا، اس لیے یہاں نئی نسل کے مذہبی مستقبل کا انحصار صرف اور صرف والدین کی توجہ پر ہے۔ والدین اپنی اولاد کو مسلمان رکھنا چاہیں گے تو وہ مسلمان رہے گی، ورنہ نہیں رہے گی اور خوب سمجھ لیجیے کہ بالکل نہیں رہے گی۔

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد گرامی بیسیوں بار پڑھا اور بیسیوں بار بیان بھی کیا، لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس کا عملی مفہوم یہاں اس معاشرہ میں آ کر سمجھ میں آیا۔ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ: ’’کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یہودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ‘‘ (الحدیث) کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، اس کے ماں باپ اس کو یہودی بناتے ہیں، عیسائی بناتے ہیں یا مجوسی بناتے ہیں۔ اب یہ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ اپنی اولاد کو، نئی نسل کو اور آنے والی مسلمان پود کو آپ نے مسلمان باقی رکھنا ہے یا عیسائی اور یہودی بنا دینا ہے۔ اس فیصلے کا اختیار آپ کے پاس ہے اور اس کی ذمہ داری بھی صرف آپ پر ہوگی۔

محترم بزرگو دوستو! بس اس پیغام کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ گزارشات شاید کچھ تلخ ہوں لیکن میں اسی قسم کی باتوں کا عادی ہوں، لوریاں دینا نہیں جانتا۔ ان گزارشات پر پوری توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ غور فرمائیں، اپنی اولاد کے مستقبل کا فکر کریں، اسے کفر کی آغوش میں جانے سے بچائیں اور وہ تمام ذرائع اختیار کریں جو یہاں مسلمانوں کی اگلی نسل کو مسلمان باقی رکھنے کے لیے ضروری ہوں اور اس کے ساتھ بارگاہ خداوندی میں دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے مخلصانہ کام کرنے کی توفیق سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین۔

موضوع: