’’لیفٹ رائٹ‘‘ کی سیاست اور رانا نذر الرحمان مرحوم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ جون ۲۰۱۷ء

گزشتہ دنوں رانا نذر الرحمان بھی چل بسے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آج کی نسل ان سے متعارف نہیں ہے لیکن جن لوگوں نے انہیں کوچۂ سیاست میں چلتے پھرتے دیکھا ہے ان کے لیے وہ بھولنے والی شخصیت نہیں ہے۔ میں نے تو ان کے ساتھ خاصا وقت گزارا ہے، باہمی محاذ آرائی کا بھی اور پھر رفاقت اور دوستی کا بھی۔ جب عملی سیاست میں سرگرم ہوا تو صدر محمد ایوب خان مرحوم کا آخری دور تھا، ان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے وزارت سے استعفیٰ دے کر ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کے نعرے پر جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بگل بجا دیا تھا اور ’’پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ کے نام پر نئی صف بندی کے لیے سرگرم تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت اس وقت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مولانا مفتی محمودؒ کے ہاتھ میں تھی اور میں اس کے پرجوش کارکنوں میں سے تھا۔ جمعیۃ میں زیادہ تر وہ علماء اور کارکن تھے جو قیام پاکستان سے پہلے تحریک پاکستان کی مخالفت میں کانگریس کا ساتھ دینے کی وجہ سے نیشنلسٹ کہلاتے تھے۔ جبکہ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والی جمعیۃ علماء اسلام کے بیشتر حضرات حجرہ نشین تھے یا چودھری محمد علی مرحوم کی ’’نظام اسلام پارٹی‘‘ کی زینت بن چکے تھے۔

بھٹو مرحوم کے اسلامی سوشلزم کے نعرے نے قومی سیاست کے فکری اور نظریاتی ماحول میں تلاطم بپا کر دیا۔ دائیں بازو اور بائیں بازو میں منقسم سیاست میں دائیں بازو نے اس نعرہ کو مسترد کر دیا جبکہ بائیں بازو کے لیے سیاست میں پیش رفت کے لیے یہ نعرہ سہارا بن گیا۔ جمعیۃ علماء اسلام کی معروف قیادت چونکہ سابق نیشنلسٹ علماء پر مشتمل تھی جو سیاسی محاذ آرائی میں بائیں بازو کی طرف قدرے زیادہ رجحان رکھتی تھی، اس لیے تحریک پاکستان والی جمعیۃ علماء اسلام ’’مرکزی جمعیۃ علماء اسلام‘‘ کے نام سے میدان میں آگئی اور ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کی اصطلاح کو کفریہ قرار دیتے ہوئے ایک سو تیرہ سرکردہ علماء کرام کی طرف سے باقاعدہ فتویٰ صادر کر دیا گیا۔ مولانا درخواستیؒ، مولانا ہزارویؒ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا عبید اللہ انورؒ نے اس فتویٰ کی حمایت سے انکار کر دیا اور فکری و علمی محاذ آرائی کا بازار گرم ہوگیا۔ ان بزرگوں کا کہنا تھا کہ یہ اصطلاح کی غلطی ہے جس کی اصلاح ہونی چاہیے، اس پر کفر کا اطلاق درست نہیں ہے۔ چنانچہ وہ علماء جو پہلے ’’نیشنلسٹ علماء‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جاتے تھے اب ’’سوشلسٹ علماء‘‘ کا نیا لیبل ان پر چسپاں کر دیا گیا۔

اس معرکہ آرائی میں رانا نذر الرحمان لاہور میں دائیں بازو کے سرگرم ترین راہنما تھے۔ انہوں نے ’’انجمن شہریان‘‘ کے عنوان سے متحرک فورم قائم کیا ہوا تھا جو دائیں بازو کے فکری اور نظریاتی موقف اور پروگرام کے فروغ کے لیے وقف تھا۔ جبکہ دوسری طرف لیفٹ کے نظریاتی کارکنوں اور جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہنماؤں کے اشتراک سے ’’عوامی فکری محاذ‘‘ کے نام سےا یک حلقہ کام کر رہا تھا جس میں مولانا اشفاق علی خانؒ، ڈاکٹر احمد حسین کمالؒ اور حکیم مختار احمد الحسینی پیش پیش تھےاور راقم الحروف بھی اس کا متحرک کردار تھا۔ لیفٹ کا قومی اخبار ’’امروز‘‘ ہمارا سب سے بڑا مورچہ تھا۔ چنانچہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات تک یہ ’’لیفٹ رائیٹ‘‘ جاری رہی۔

۱۹۷۰ء کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیۃ علماء اسلام کی رفاقت ٹوٹ گئی، قومی اسمبلی کے ڈیرہ اسماعیل خان کے انتخابی حلقہ میں مولانا مفتی محمودؒ اور ذوالفقار علی بھٹو آمنے سامنے تھے جس نے پورے ملک کی سیاست کا رخ تبدیل کر دیا۔ الیکشن کے بعد مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور سقوط ڈھاکہ کا المناک سانحہ پیش آیا اور اس کے بعد دونوں پارٹیاں مستقل طور پر ایک دوسرے کے حریف کا روپ دھار گئیں۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے الیکشن سے پہلے کا فکری ماحول بحال کرنے کی کوشش کی مگر ’’ہزاروی گروپ‘‘ کے نام سے ایک الگ دھڑے کے قیام کے علاوہ کوئی نتیجہ سامنے نہ آیا۔

دیوبندی علماء کا ذوق شروع سے اپوزیشن کا چلا آرہا ہے، دیوبندیت کا عمومی مزاج اقتدار کی رفاقت کے لیے کبھی ہموار نہیں رہا۔ اس لیے مولانا مفتی محمودؒ اس راہ پر چلتے چلتے بالآخر اپوزیشن کی نو سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاذ ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے سربراہ کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے سب سے بڑے حریف کے طور پر سامنے آئے۔ یہ میرا رانا نذر الرحمان مرحوم کے ساتھ رفاقت اور دوستی کا دور تھا۔ وہ نواب زادہ نصر اللہ خان مرحوم کی پارٹی کے متحرک راہنما تھے اور میں جمعیۃ علماء اسلام کا سرگرم کارکن تھا۔ پاکستان قومی اتحاد کا صوبائی ڈھانچہ تشکیل پایا تو محترم جناب حمزہ صدر تھے اور پیر محمد اشرف سیکرٹری جنرل چنے گئے۔ جبکہ صوبائی قیادت کے سرگرم حضرات میں اقبال احمد خان مرحوم، محمد فاروق قریشی، مولانا فتح محمد، ملک محمد اکبر ساقی، قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ، رانا نذر الرحمان، علامہ احسان الٰہی ظہیر اور راقم الحروف نمایاں تھے۔ کچھ دنوں بعد پیر محمد اشرف مرحوم اس منصب سے سبکدوش ہوئے تو مجھے پاکستان قومی اتحاد کا صوبائی سیکرٹری جنرل چن لیا گیا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم کا دفتر ہی ہمارا دفتر تھا جبکہ اس ٹیم میں سے بھی حمزہ صاحب، رانا نذر الرحمان اور راقم الحروف پر مشتمل تکون نے زیادہ تر دفتری اور تنظیمی کام اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ ہم اکٹھے ہی صوبہ کے مختلف حصوں کا دورہ کرتے اور تنظیمی و تحریکی معاملات کو مل جل کر نمٹاتے تھے جس میں نواب زادہ نصر اللہ مرحوم کی سرپرستی ہمیں مسلسل حاصل رہی۔

اس دور کی بہت سی یادیں قابل ذکر ہیں مگر یہ کالم ان کا متحمل نہیں ہے، البتہ رانا نذر الرحمان مرحوم کی اصول پرستی، شرافت، دیانت داری اور اپنے مشن کے ساتھ بے لچک کمٹمنٹ یاد آتی ہے تو ان کے لیے دل سے بہت دعائیں نکلتی ہیں۔ آج کے دور میں تو یہ باتیں سیاسی ماحول کے لیے اجنبی سی ہو کر رہ گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ رانا صاحب مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔