کرونا کنٹرول میں چین کی پالیسی اور ہمارا طرز عمل

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳۱ مارچ ۲۰۲۰ء

کرونا وائرس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ چائنہ نے کافی حد تک اسے کنٹرول کر لیا ہے مگر ایران اور اٹلی کے بعد امریکہ میں اس کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ رپورٹیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں کہ کرونا وائرس یا وبائی فلو کی یہ لہر فطری ہے یا اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ ہم اس سلسلہ میں اپنے ایک کالم میں عرض کر چکے ہیں کہ اس کا پورا امکان موجود ہے کہ یہ حیاتیاتی جنگ یا وائرس وار کا کوئی مرحلہ ہو، مگر ابھی اس بحث کو چھیڑنے کی بجائے ہم اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرین کی مدد کے پہلو کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگر یہ کوئی منصوبہ بندی ہے تو وہ زیادہ دیر تک مخفی نہیں رہے گی اور رفتہ رفتہ اس کے سارے حقائق بہرحال منظر عام پر آ کر رہیں گے۔

چائنہ میں اس وبا پر کسی حد تک کنٹرول کی جو خبریں آ رہی ہیں ان کے ساتھ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی بڑی وجہ چین کا منظم معاشرتی نظام ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ ہم بھی مکمل طور پر کنٹرولڈ سسٹم کے بغیر اس وبا کے پھیلاؤ کو نہیں روک سکتے، مگر اس معاشرتی کنٹرول کی ہر بحث کی تان اس بات پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ مسجدوں کو تو بہرحال بند ہی کر دینا چاہیے۔ اس پر ایک صاحب نے بہت دلچسپ تبصرہ یہ کہہ کر کیا ہے کہ شاید کسی ٹیسٹ میں یہ بات بھی سامنے آ گئی ہو کہ موجودہ کرونا وائرس ’’سیکولر وائرس‘‘ ہے جس کا اصل ہدف مسجد ہے، اس لیے عوام کے مجتمع ہونے کے باقی مراکز و مقامات میں تو احتیاطی تدابیر کا اہتمام کیا جا رہا ہے جبکہ مسجد کو سرے سے بند کر دینے کی ضروری سمجھ لیا گیا ہے۔

اگر چین میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کسی حد تک کامیابی ہوئی ہے تو ہمیں اس پر خوشی ہے اور ہم اس پر چینی قوم اور حکومت کی تحسین کرتے ہوئے اپنے ملک کی حکومت اور عوام کو ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیں گے۔ البتہ اس احساس کا تذکرہ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ چین کے منظم معاشرتی نظام کا تو وبا پر قابو پانے کے سبب کے طور پر تذکرہ کیا جا رہا ہے جو ضروری ہے مگر دوسرے سبب کو نظرانداز کر کے اس سے توجہ ہٹائے رکھنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ اور وہ ہے ’’میڈیا کنٹرول‘‘ کی پالیسی جس نے چین میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چینی حکومت اور نظام نے صرف عوام کے مختلف طبقات اور حلقوں کو ہی ایسے اجتماعات سے نہیں روکا جو وبا کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ میڈیا کو بھی سختی کے ساتھ اس بات سے روکا ہے کہ وہ کسی قسم کی فری اسٹائل پالیسیوں اور طریق کار کے ذریعے سوسائٹی میں افراتفری اور خلفشار کا ماحول پیدا کرے۔ جبکہ ہمارے ہاں میڈیا نے اس حوالہ سے ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کیا اور اس کی بیشتر سرگرمیوں کے نتائج لوگوں کو خوفزدہ کرنے، کنفیوژ کرنے، اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار کرنے کی صورت میں دکھائی دے رہے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں میڈیا قوم کو آگاہی، بیداری، راہنمائی اور بریفنگ مہیا کرنے کی بجائے مارکیٹنگ اور پروفیشنل ریٹنگ کی نفسیات کا اسیر ہے اور خود کو ابھی تک اس سے باہر نہیں نکال سکا حتٰی کہ انسانی، معاشرتی اور اسلامی اخلاقیات کے بہت سے دائرے بھی بے بسی کے ساتھ شکوہ کناں نظر آنے لگے ہیں۔

مثلاً ہمارا عمومی میڈیائی مزاج خبر دینے کا نہیں بلکہ خبر بنانے کا بن گیا ہے۔ مثلاً میں اگر کسی واقعہ یا حادثہ کی رپورٹنگ کر رہا ہوں تو میری ترجیحات میں یہ بات دوسرے یا تیسرے نمبر پر ہو گی ہے کہ اصل واقعہ کیا ہوا ہے، اس کی بجائے ہماری پہلی ترجیح یہ بن گئی ہے کہ اس میں ’’خبریت‘‘ تلاش کرنے بلکہ تراشنے کی ایسی کیا صورت ہو سکتی ہے کہ میری رپورٹ کی ’’لیڈ‘‘ لگے اور میرے اخبار یا چینل کی ریٹنگ بڑھے۔ جبکہ مجھے بحیثیت رپورٹر یہ بات یاد نہیں رہتی کہ میری اس رپورٹ کے سوسائٹی پر کیا اثرات ہوں گے۔

اسی طرح میں اگر کسی چینل پر اینکر کی سیٹ سنبھالے کچھ دانشوروں کو کسی بحث میں شریک کرتا ہوں تو میری کوشش یہ نہیں ہوتی کہ متعلقہ مسئلہ پر ان دانشوروں کے خیالات لوگوں تک پہنچاؤں تاکہ وہ ان سے استفادہ کر سکیں۔ بلکہ میں پہلے سے طے کر کے بیٹھتا ہوں کہ اپنے مہمانوں سے کیا کچھ کہلوانا ہے اور ان کے منہ میں کون کون سی بات ڈالنی ہے۔ مجھے اس کی فکر نہیں ہوتی کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں بلکہ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنی طے شدہ بات ان کے منہ سے نکلوانے میں کامیابی حاصل کروں۔

میں خود میڈیا کے ساتھ نصف صدی کا تعلق رکھتا ہوں۔ ایک دینی طالب علم اور سیاسی کارکن کے طور پر بھی، اور ایک رپورٹر، کالم نگار اور متکلم کے طور پر بھی۔اور میرے تجربات کا نتیجہ یہ ہے کہ میں نے بہت سے دوستوں کی طرف سے تقاضوں کے باوجود کسی چینل پر آنا چھوڑ رکھا ہے۔ اس لیے کہ جو بات میں کہنے کی کوشش کرتا ہوں وہ غائب ہو جاتی ہے اور جو بات مجھ سے کہلوانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ بسا اوقات میرے نہ کہنے کے باوجود میری طرف منسوب ہو کر نشر ہو جاتی ہے۔

ابھی دو ہفتے قبل ایک چینل کی ٹیم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں نماز جمعہ کے موقعہ پر سازوسامان سمیت آ دھمکی۔ میں نے عرض کیا کہ اول تو یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے کہ آپ حضرات میری جمعۃ المبارک کی مصروفیات کے درمیان کسی پیشگی اطلاع کے بغیر آ گئے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اگر آپ اس بات کی ضمانت دیں کہ جو میں کہوں گا وہی نشر ہوگا تو میں انٹرویو دینے کے لیے تیار ہوں، اس پر وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگ گئے اور میں نے یہ صورتحال دیکھ کر ان سے صاف معذرت کر دی۔

ہمیں کرونا وائرس پر کنٹرول کے حوالہ سے اپنے عظیم دوست ملک چین کے تجربات، مشوروں اور راہنمائی سے استفادہ کرنا چاہیے اور اس کے لیے تحسین و تشکر کا اظہار بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ لیکن ان تجربات میں عوام کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا کو کنٹرول میں رکھنے کا کامیاب تجربہ بھی شامل ہے، چین نے قومی مفادات اور عوام کی فلاح و بہبود کے حوالہ سے کنٹرول کی یہ پالیسی طے کی جس میں اس نے کامیاب پیشرفت کی ہے، جبکہ ہمیں اس کے ساتھ ملک و قوم کے نظریاتی و تہذیبی تشخص کے تحفظ کے لیے اسلامی احکام و ہدایات کی پاسداری کو بھی اپنی پالیسیوں کی بنیاد بنانا ہوگا۔ اس لیے کہ چین اور پاکستان کے درمیان تمام تر دوستی اور خلوص کے باوجود یہ امتیاز بہرحال موجود رہے گا جس کا نہ انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی مرحلہ میں اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

درجہ بندی: