امریکہ اور عالم اسلام

   
مجلہ: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۱۹۹۰ء

روزنامہ جنگ کراچی نے ۵ نومبر ۱۹۹۰ء کی اشاعت میں اپنے واشنگٹن کے نمائندہ خصوصی کے حوالے سے جہاد افغانستان کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان اس امر پر ۱۹۸۵ء میں ہی خفیہ مفاہمت ہو گئی تھی کہ افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد افغان مجاہدین کو اسلامی حکومت کے قیام کی منزل تک نہ پہنچنے دیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ امریکہ کے ممتاز سفارت کار آنجہانی آرنلڈ رافیل نے تیار کیا تھا جو پاکستان میں امریکہ کے سفیر رہے ہیں اور صدر جنرل محمد ضیاء الحق شہید کے ساتھ بہاولپور کے سانحہ میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس خفیہ مفاہمت کی رو سے روس نے افغانستان سے اپنی فوجوں کی واپسی کے لیے یہ شرط لگائی تھی کہ امریکہ افغان مجاہدین کو ’’اسلامی حکومت‘‘ قائم نہ کرنے دے، اور اس شرط کو قبول کرتے ہوئے امریکہ نے نہ صرف روسی فوجوں کی واپسی کے بعد افغان مجاہدین کی امداد بند کر دینے کا وعدہ کیا تھا بلکہ نجیب اللہ کو افغانستان کے صدر کے طور پر قبول کرنے کی یقین دہانی بھی کرا دی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس مفاہمت کے لیے آرنلڈ رافیل نے روسی حکومت کے ساتھ خفیہ خط و کتابت کی تھی اور ان خفیہ رابطوں اور مفاہمت کے بعد معاہدہ جنیوا وجود میں آیا تھا۔

دوسری طرف روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۲۱ اکتوبر ۱۹۹۰ء کی اشاعت میں سعودی عرب میں امریکہ کے سابق سفیر مسٹر جیمز ایکنز کے ایک اخباری انٹرویو کا خلاصہ شائع کیا ہے جس میں امریکی سفارت کار نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجیں اتارنے کا منصوبہ پندرہ سال قبل تیار کیا گیا تھا، جس کا مقصد تیل کے چشموں پر کنٹرول حاصل کرنا تھا، لیکن اس وقت حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہ کیا جا سکا۔

امریکی سفارت کار کے بقول پندرہ سال قبل جب شاہ فیصل شہیدؒ نے اسرائیل کی حمایت کرنے والی مغربی قوتوں کے خلاف تیل کا ہتھیار استعمال کیا تو امریکی حکام نے یہ منصوبہ تیار کیا کہ خلیج میں دو لاکھ کی تعداد میں فوج اتار دی جائے جو تیل کے چشموں پر کنٹرول حاصل کر لے، اور یہ فوج اس وقت تک خلیج میں مقیم رہے جب تک تیل کے چشمے خشک نہ ہو جائیں، جس کی مدت اس انٹرویو میں پچاس سال بتائی گئی ہے۔

اس پس منظر میں عالم اسلام کے ساتھ امریکہ کے روابط اور طرز عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ایک بار پھر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ عالم اسلام کے ساتھ دوستی کا ڈھونگ رچا کر عالمی سطح پر روس کو شکست دینے کے بعد اب امریکہ بہادر کی تمام تر توجہ اس امر پر مبذول ہو گئی ہے کہ:

  1. عالم اسلام میں نظریاتی آزادی اور دینی بیداری کی تحریکات کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے۔
  2. اور مسلم ممالک کے معاشی وسائل کو اپنے کنٹرول میں لے کر عالم اسلام کو ان سے آزادانہ استفادہ کے مواقع سے محروم کر دیا جائے۔

یہ صورتحال عالم اسلام کے نظریاتی حلقوں بالخصوص دینی تحریکات سے سنجیدہ توجہ اور گہرے غوروخوض کا تقاضا کر رہی ہے، انہیں اسلام کی سربلندی، ملت اسلامیہ کی خودمختاری، اور عالم اسلام کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے رائے عامہ کی تشکیل کے نئے تقاضوں کو محسوس کرنا ہوگا، اس سلسلہ میں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی اور وقتی مصالح و مفادات کے حصار کو توڑ کر پیش قدمی کرنا ہوگی۔ اس کے بغیر اب کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا اور اس میں تاخیر کا جو وقت بھی گزرے گا اسے فرض ناشناسی اور مجرمانہ غفلت کے بغیر اور کوئی عنوان نہیں دیا جا سکے گا۔