’’حسبہ بل‘‘ پر عدالت عظمیٰ کا نیا فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ فروری ۲۰۰۷ء

بعض اخباری رپورٹوں کے مطابق صوبہ سرحد کے وزیر قانون ملک ظفر اعظم سپریم کورٹ آف پاکستان میں ”حسبہ بل“ کے مقدمہ میں ناکامی پر دل برداشتہ ہو گئے ہیں اور وزارت سے مستعفی ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

حسبہ بل صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت نے عوامی سطح پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم کرنے کے لیے پیش کیا تھا، جسے صوبائی اسمبلی نے منظور کر لیا لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے چیلنج کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس بل کی تین دفعات کو دستور کے منافی قرار دے دیا ہے جس کی وجہ سے یہ بل ایکٹ کی صورت اختیار نہیں کر سکا۔ اس سے قبل بھی حسبہ بل صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا تھا اور عدالت عظمیٰ نے اس پر اعتراضات لگائے تھے جس پر صوبائی وزارت قانون نے اسے از سر نو مرتب کر کے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا اور وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے کہا کہ اس میں سپریم کورٹ کے اعتراضات اور ہدایات کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہے لیکن سپریم کورٹ نے ان کے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا اور تین دفعات کو دستور کے منافی قرار دے کر واپس کر دیا جس پر ملک ظفر اعظم کی دل برداشتگی اور استعفیٰ کی خبریں آرہی ہیں۔

ملک صاحب کا تعلق جمعیۃ علماء اسلام سے ہے اور جمعیۃ کے حلقوں کی طرف سے خبر آئی ہے کہ ان کے استعفیٰ پر یکم مارچ کو غور کیا جائے گا۔ جہاں تک ”حسبہ بل“ کا تعلق ہے اس کا بنیادی مقصد معاشرے میں اسلامی اقدار کا فروغ اور غیر اسلامی رسوم و رواج اور روایات و اقدار کی حوصلہ شکنی کے لیے ”محتسب اعلیٰ“ کی سربراہی میں ایک نظام قائم کرنا ہے جس سے متعلقہ افراد کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں اس بات کی نگرانی کریں کہ قرآن و سنت کے معاشرتی احکام میں سے کس پر عمل ہو رہا ہے اور کس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں جو کوتاہی نظر آئے اس کا قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے نوٹس لیں اور ضروری کاروائی کریں۔ ایم ایم اے کی صوبائی حکومت کا موقف یہ ہے کہ یہ اس کی دینی اور دستوری ذمہ داریوں میں سے ہے` جب کہ وفاقی حکومت اور ایم ایم اے کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ روایتی انتظامیہ اور عدلیہ سے ہٹ کر ایک متوازی نظام قائم کرنے کے مترادف ہے جو ایم ایم اے کی حکومت اپنے کارکنوں کو نوازنے کے لیے قائم کر رہی ہے۔

جہاں تک روایتی انتظامی اور عدالتی نظام سے ہٹ کر عوامی سطح پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نظام کا تعلق ہے تو یہ اسلامی روایات کا حصہ رہا ہے اور خلافت راشدہ سے لے کر بعد کی مسلم خلافتوں کے ادوار تک اس امر کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے کہ کچھ افراد اپنے محلے، شہر اور علاقے پر نظر رکھیں اور شرعی احکام کی خلاف ورزی روکنے کی کوشش کریں، جس کے لیے ایک مخصوص حد تک انہیں تعزیری اختیارات بھی حاصل رہے ہیں۔ موجودہ دور میں یہ نظام سعودی عرب میں موجود ہے اور حد تک آزاد کشمیر میں بھی یہ نظام کام کر رہا ہے، جس کی بنیاد قرآن کریم کے اس ارشاد گرامی پر ہے کہ ”ہم اہل ایمان کو جب زمین میں اقتدار دیتے ہیں تو وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ کا اہتمام کرتے ہیں، لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں“ (سورۃ الحج، آیت نمبر ۱۴)۔ جبکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیسوں ارشادات میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اہتمام کی بطور خاص تلقین فرمائی ہے۔

باقی رہی بات روایتی قانونی اور عدالتی نظام سے ہٹ کر اس کے لیے کوئی الگ طریق کار اور ڈھانچہ ترتیب دینے کی تو اسے متوازی نظام قرار دینا ہمارے خیال میں درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس نے بھی تو دستور اور قانون کے دائرہ میں رہ کر اپنا کام کرنا ہے اور مروجہ نظام میں اس کی مثالیں موجود ہیں:

  • یہ بات فرنگی دور سے چلی آرہی ہے کہ عام عدالتی نظام سے ہٹ کر سوسائٹی میں کچھ افراد کو ”آنریری مجسٹریٹ“ کا درجہ دے دیا جاتا ہے اور انہیں ایک حد تک اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں،
  • ملک کے عمومی عدالتی نظام کی موجودگی میں خصوصی عدالتوں کا قیام بھی اسی روایت کا حصہ ہے اور قانون میں ملک کے مالیاتی نظام کو درست رکھنے کے تمام تر ضابطوں اور قواعد کے ہوتے ہوئے بھی نیب (NAB) کا الگ نظام قائم کیا گیا ہے۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بسا اوقات بعض خرابیاں اس حد تک بڑھ جاتی ہیں کہ مروجہ نظام کے تحت ان کا راستہ روکنا مشکل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے الگ خصوصی انتظامات ضروری ہو جاتے ہیں۔ البتہ یہ بات ضروری ہے کہ ملک کے دستور کی پابندی کی جائے اور کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کیا جائے کہ اس سے دستور کے تقاضوں کی نفی ہوتی ہو، اس لیے عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ بہرحال واجب عمل اور واجب احترام ہے کہ اگر حسبہ بل یا کسی بھی اور بل میں دستور کی کسی شق کی خلاف ورزی ہوتی ہیں تو اسے درست کر کے دستور کے مطابق بنایا جائے۔

مگر اس پس منظر میں ہم سپریم کورٹ آف پاکستان بالخصوص چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ایک پہلو کی طرف توجہ دلانا مناسب خیال کرتے ہیں کہ جہاں دستور کی کسی دفعہ کی خلاف ورزی کا نوٹس لینا عدالت عظمیٰ کی ذمہ داری ہے، وہاں ہمارے خیال میں کسی دفعہ پر عمل نہ ہونے اور دستور میں کیے گئے کسی وعدہ کے پورا نہ کیے جانے کا نوٹس لینا بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائرہ اختیار میں ہے، اور عدالت عظمیٰ کو اس سلسلے میں لوگوں کی شکایات اور مشکلات کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ موجودہ دستور ۱۹۷۳ء میں نافذ ہوا تھا اور یہ کسی فرد واحد کا بنایا ہوا دستور نہیں بلکہ ملک کی منتخب دستور ساز اسمبلی نے کئی ماہ کی بحث و تمحیص اور طویل غور و خوض کے بعد اسے منظور کیا تھا، اس دستور میں دو باتوں کی ضمانت دی گئی تھی:

  1. ایک یہ کہ پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں کر سکے گی،
  2. اور دوسری یہ کہ ملک میں جتنے قوانین بھی موجود ہیں انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں قانون سازی کے باضابطہ عمل کے ذریعے قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالا جائے گا۔

اس کے لیے دستور کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے سالہا سال کی محنت کے بعد ملک کے تمام قوانین کے بارے میں ایک جامع رپورٹ وزارت قانون کے حوالے کی جو وزارت قانون کے فریزر میں منجمد پڑی ہے۔ جب کہ ملک کا عام شہری سوالیہ نشان بنا ہوا ہے کہ پاکستان کا قیام اسلامی معاشرہ کی تشکیل اور قرآن و سنت کی عملداری کے اہتمام کے لیے عمل میں آیا تھا، اس سلسلہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے واضح ارشادات اور وعدوں کو کم و بیش ۶۵ برس کا عرصہ گزر رہا ہے۔ اور دستور پاکستان نے ۱۹۷۳ء میں اس بات کی ضمانت دی تھی کہ ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالا جائے گا اور آئندہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جائے گی، اس دستوری ضمانت کو بھی ۳۴ برس گزر گئے ہیں۔ مگر ملک میں نفاذ اسلام کی ’’دلّی‘‘ اب بھی دور نظر آتی ہے جس سے عام شہریوں کی مایوسیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ منظر ان کی پریشانیوں اور مایوسیوں میں مزید شدت پیدا کر رہا ہے کہ:

  • قرارداد مقاصد کی دستور میں بالادست حیثیت تسلیم نہ کرنے پر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ موجود ہے،
  • سود کے قوانین کے خاتمہ کو روکنے کے لیے بھی عدالت عظمیٰ کا فیصلہ سامنے ہے،
  • اور اب حسبہ بل کو دوبارہ اعتراضات کے ساتھ واپس کرنے کا فیصلہ بھی آ گیا ہے۔

ہم ان سب فیصلوں کا احترام کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہماری یہ بھی خواہش ہے کہ اگر اسلامی نظام کے نفاذ کے بارے میں دستوری ضمانت کی مسلسل خلاف ورزی کا نوٹس لیتے ہوئے بھی ہماری عدالت عظمیٰ کوئی ٹھوس فیصلہ صادر فرما دے تو اس سے توازن قائم ہو جائے گا اور قیام پاکستان کے نظریاتی ہدف کی طرف پیشرفت کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔