پاکستان میں سودی نظام کے حوالہ سے ایک رپورٹ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۱۴ء
اصل عنوان: 
غیر سودی نظام اور دینی مدارس کی ذمہ داری

روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ۱۹ نومبر کو شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون سے ہونے والی ایک منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ:

  • پاکستان میں اسلامک بینکاری کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور ۹۵ فیصد عوام کا ماننا ہے کہ سود پر پابندی ہونی چاہیے اور ساتھ ہی بینکوں میں سود کے موجودہ سسٹم کو بھی ختم ہونا چاہیے۔
  • تحقیق میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں اسلامی بینکاری کے موجودہ حجم سے ملک کے گھریلو اور کاروباری ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں۔
  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسی حکمت عملی مرتب کرے جس سے اسلامی بینکاری کی صنعت میں وسعت آئے تاکہ اسلامی بینکاری سے متعلق مصنوعات میں اضافہ ہو سکے۔
  • رپورٹ میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ ایسے روایتی بینک جن میں اسلامی بینکاری کے بڑے آپریشنز چلائے جا رہے ہیں انہیں ایسی مراعات دینا چاہیے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو مکمل طور پر اسلامی بینکاری میں ڈھال سکیں، یا پھر کم از کم آزاد اسلامی بینکاری کے ادارے چلانے پر غور کر سکیں۔

۶۵ صفحات پر مشتمل اس تحقیق کا عنوان ’’کے ای پی اسٹڈی۔ پاکستان میں اسلامی بینکاری کا طرز عمل، علم اور رویہ‘‘ بتایا گیا ہے، اس میں ملک بھر سے سروے کے نتائج شامل کیے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ:

  • ۹۵ فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ سود ختم ہونا چاہیے جبکہ ۹۳ فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ بینکوں کی جانب سے لیا جانے والا سود اور بینکوں کی جانب سے دیا جانے والا سود ختم ہونا چاہیے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے ۹۴.۵ فیصد لوگوں کی رائے ہے کہ سود پر پابندی ہونی چاہیے اور ۸۸.۴۱ فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ بینکوں میں سود کے موجودہ طرز عمل پر پابندی ہونا چاہیے۔ رپورٹ میں اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ اسلامی بینکاری کا مطالبہ دراصل اسلامی مظہر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں گھریلو (ریٹیل) بنیادوں پر اسلامی بینکاری کا مطالبہ زیادہ یعنی ۹۵ فیصد ہے جبکہ کاروباری سطح پر اس کا مطالبہ ۷۳ فیصد ہے۔
  • تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ شرعی ماہرین اور علماء کے کردار کو مزید وسیع کرنا چاہیے اور اسلامی بینکاری اور مالیات کے نظام کو فروغ دینا چاہیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی بینکاری میں کئی شرعی عالم شامل ہیں، اہم بات یہ ہے کہ اسکالرز کو اسلامی بینکاری میں تربیت حاصل ہو تاکہ وہ کسی بھی معاملے میں ٹھوس پہلو پیش کر سکیں۔
  • اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ملک میں اسلامی بینکاری کے متعلق عوامی سطح پر کم معلومات پائی جاتی ہیں کیونکہ سروے میں حصہ لینے والوں کی اکثریت کو اسلامی بینکاری ماڈل، ٹھیکوں (کنٹریکٹ) کی نوعیت، اور شرعی نظام پر عمل کے میکنزم کا علم نہیں، جبکہ اسلامی کنٹریکٹ اور اصطلاحات کے متعلق معلومات کا تقریباً علم ہی نہیں تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عوام کو اسلامی اصطلاحات کے متعلق بنیادی معلومات دینے اور یہ بتانے کا معاملہ اب تک ایک چیلنج ہے کہ اسلامی بینکاری کی مصنوعات کس طرح کام کرتی ہیں، ایک زبردست آگہی مہم کے بغیر اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کا کام مشکل ہو گا۔
  • رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کی بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان اور اس کے ادارے بالخصوص اسٹیٹ بینک ایسی پیشرفت کو نظر انداز نہیں کر سکتا، رپورٹ میں مرکزی بینک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسی پالیسی تشکیل دے جس سے اسلامی بینکاری کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔
  • رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلامی بینکاری کو ملک بھر میں پھیلانے کے لیے اس کی شاخیں دیہی اور شہری علاقوں تک پھیلانے کی ضرورت ہے جبکہ اسلامی بینکوں کے موجودہ حجم کو بھی بڑھانا ہو گا۔

یہ رپورٹ اس قدر تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کا مقصد خاص طور پر علمی مراکز اور بڑے دینی مدارس کو توجہ دلانا ہے کہ غیر سودی بینکاری کا دائرہ ہر سطح پر وسیع ہو رہا ہے اور اس سلسلہ میں عوام بلکہ دینی حلقوں کی ضروری امور سے بے خبری اور عدم آگہی کے باعث جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں وہ ذہنوں میں بہت سے خدشات کو جنم دے رہے ہیں، جبکہ اس پوری مہم میں دینی مدارس کی مجموعی صورتحال ایک دو اداروں کے استثناء کے ساتھ:

؂ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

کی دکھائی دے رہی ہے، ضرورت ہے کہ دینی مدارس میں اسلامی معاشی نظام اور غیر سودی بینکاری کو سنجیدگی کے ساتھ موضوع بحث بنایا جائے اور اساتذہ و طلبہ کی بریفنگ کے ساتھ ساتھ عوامی حلقوں کی راہنمائی کا بھی اہتمام کیا جائے۔