سردار عبد القیوم خان سے ملاقات

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ دسمبر ۲۰۱۲ء

چند روز قبل راولپنڈی میں شادی کی ایک تقریب کے دوران آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کے والد محترم سردار محمد عبد القیوم خان کی صحت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے بتایا کہ وہ خاصے کمزور ہو گئے ہیں اور راولپنڈی میں ہی ہیں۔ اگلے روز میں نے ان کے پاس حاضری کا پروگرام بنا لیا اور تھوڑی دیر ان کے ساتھ گزارنے کا موقع مل گیا۔

مجاہد اول سردار محمد عبد القیوم خان کے ساتھ میرا اس دور سے تھوڑا بہت رابطہ چلا آ رہا ہے جب انہوں نے غالباً ۱۹۶۸ء کے دوران باغ بیرون موچی دروازہ لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ’’کل پاکستان آئین شریعت کانفرنس‘‘ سے خطاب کیا تھا۔ میں اس وقت جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں میں شمار ہوتا تھا اور اس کانفرنس کا ایک رضاکار تھا۔ سردار محمد عبد القیوم خان اس وقت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما تھے اور چودھری غلام عباس خان مرحوم کے جانشین سمجھے جاتے تھے۔ ان دنوں انہوں نے مجاہد فورس کے نام سے آزادیٔ کشمیر کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی صف بندی کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا اور اس کے لیے ملک بھر میں دورے کر رہے تھے۔ اس کے بعد سردار صاحب ریاست آزاد جموں و کشمیر کے کئی بار صدر اور وزیراعظم بنے اور مسئلہ کشمیر کے ترجمان کی حیثیت سے رابطہ عالم اسلامی اور متعدد دیگر بین الاقوامی فورموں میں کشمیری عوام کی نمائندگی کا موقع انہیں ملتا رہا۔

ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی وزارت عظمٰی کے دور میں سردار محمد عبد القیوم خان ریاست آزاد جموں و کشمیر کے منتخب حکمران تھے۔ ان کی قیادت میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے میجر (ر) محمد ایوب خان مرحوم کی پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس سے پاکستان کے دینی حلقوں میں سردار محمد عبد القیوم خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، جبکہ ریاست میں اسلامی قوانین کے مسلسل اور عملی نفاذ کے اقدامات نے جہاں اس مقبولیت کو ملک بھر کے اسلامی حلقوں میں مستحکم کیا وہاں سیکولر لابیوں میں ان کی پذیرائی کم ہوتی گئی۔

۱۹۷۷ء میں پاکستان قومی اتحاد تشکیل پایا تو اس میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس بھی شامل تھی اور اس ۹ جماعتی اتحاد کے مرکزی قائدین میں سردار محمد عبد القیوم خان ایک متحرک رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ ان جماعتوں کے قائدین پاکستان قومی اتحاد میں ۹ ستاروں کے نام سے متعارف تھے اور ان میں سردار صاحب موصوف بھی ایک چمکتا ستارہ تھے۔ میں ان دنوں جناب حمزہ، اقبال احمد خان مرحوم، مولانا فتح محمد مرحوم، ملک محمد اکبر ساقی مرحوم، رانا نذر الرحمان، محمد فاروق قریشی اور جناب معین الدین کے ساتھ قومی اتحاد کی صوبائی ٹیم کا حصہ تھا اور پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے تھا۔ اس حوالے سے بھی سردار محمد عبد القیوم خان کے ساتھ مسلسل رابطہ رہا اور مشترکہ اجتماعات میں شرکت کے ساتھ ساتھ ذاتی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

پاکستان قومی اتحاد کا شیرازہ بکھرنے کے بعد باقی روابط تو قصۂ پارینہ بن گئے، البتہ نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم، مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم اور سردار محمد عبد القیوم خان کے ساتھ میری ملاقاتوں اور نیازمندی کا معاملہ چلتا رہا، جبکہ مولانا مفتی محمودؒ تو میری اپنی پارٹی کے لیڈر تھے۔ ان بزرگوں کی وفات کے بعد سردار صاحب موصوف کے ساتھ یہ تعلق بحمد اللہ تعالٰی باقی ہے اور جب بھی موقع ملتا ہے ان سے ملاقات اور پرسش احوال کی کوئی صورت نکال لیتا ہوں اور وہ بھی نہ صرف ہر ملاقات میں محبت و مؤدت کے ساتھ پیش آتے ہیں بلکہ غائبانہ طور پر بھی مختلف مجالس میں یاد کرتے ہیں جن کی رپورٹ مجھے اکثر مل جاتی ہے اور خوشی ہوتی ہے۔

سردار محمد عبد القیوم خان کے سیاسی معاملات اور پالیسیوں سے بہت سے لوگوں کو اختلاف ہے اور ضروری نہیں کہ ان کی ہر بات سے ہم بھی متفق ہوں، لیکن ان کی بعض خوبیاں ایسی ہیں جو ان کی یاد کو قومی سیاست میں ان کے پس منظر میں چلے جانے کے باوجود تازہ رکھتی ہیں اور ان حوالوں سے میں ہمیشہ ان کے لیے دعاگو رہتا ہوں۔

ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ نہ صرف صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں بلکہ دین کے باقی احکام پر حتی الامکان عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ شب زندہ دار بھی ہیں۔ دینی معاملات میں ان کی حمیت کے اظہار کے ایسے مراحل سے میں واقف ہوں جہاں اس سطح کے کسی اور سیاسی راہنما کے قدم شاید نہ جم سکتے، لیکن سردار صاحب نے کمال حوصلے اور جرأت کے ساتھ ان مراحل کو عبور کیا۔

انہوں نے اپنے دور حکومت میں نفاذ شریعت کے لیے تحصیل اور ضلع کی سطح پر سیشن جج کے ساتھ ضلع قاضی، اور تحصیل کی سطح پر سول جج کے ساتھ تحصیل قاضی کو بٹھا کر مشترکہ عدالتی نظام قائم کرنا چاہا تو جج کے ساتھ مولوی کو برابر کی حیثیت سے بٹھانے پر انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایک لحاظ سے یہ مسئلہ ان کے لیے چیلنج کی حیثیت اختیار کر گیا۔ مگر سردار محمد عبد القیوم خان نے جرأت اور تدبر میں توازن قائم رکھتے ہوئے اس مرحلہ کو کامیابی کے ساتھ عبور کیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج آزاد کشمیر میں علماء اور جج صاحبان مشترکہ طور پر عدالتی فرائض سرانجام دے رہے ہیں جس سے ان کی باہمی محبت و اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے اور آزاد کشمیر میں شرعی قوانین کی برکات سے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ اسی لیے میں پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کرنے والوں کو اکثر اوقات یہ کہا کرتا ہوں کہ آج کے حالات میں نفاذ شریعت کے لیے یہی مشترکہ عدالتی سسٹم بنیاد بن سکتا ہے اور اس کے لیے آزاد کشمیر کے اس عدالتی نظام کو پاکستان میں متعارف کرانے کے لیے مستقل جدوجہد کی ضرورت ہے۔

اسی طرح میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اس کے صحیح تناظر میں پیش کرنے، خاص طور پر عالم اسلام کو رابطہ عالم اسلامی کے ذریعے کشمیری عوام کی جدوجہد کی طرف توجہ دلانے کے لیے سردار محمد عبد القیوم خان کی جدوجہد سب سے نمایاں ہے اور تحریک آزادیٔ کشمیر کے مستقل باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ سردار محمد عبد القیوم خان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ مطالعہ اور تحقیق کے ذوق سے پوری طرح بہرہ ور ہیں اور اپنی سیاسی و فکری جدوجہد میں تحقیق و مطالعہ سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔ میں نے چند سیاستدانوں کو دیکھا ہے جو کوئی بات کہنے سے قبل اس کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کرتے تھے، تمام ضروری معلومات حاصل کرتے تھے، ہر پہلو کا تجزیہ کر کے اپنی رائے متعین کرتے تھے اور دلیل و منطق کے ساتھ اپنی بات پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان میں سے میری معلومات کے دائرے میں اب صرف سردار محمد عبد القیوم خان ہی باقی رہ گئے ہیں، اللہ تعالٰی انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں، آمین یا رب العالمین۔سردار صاحب کا دینی مطالعہ بھی کسی معاصر سے کم نہیں ہے اور وہ جب کسی دینی و علمی موضوع پر بات کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس موضوع پر ان کے مطالعہ کی وسعت کا دائرہ کیا ہو گا۔

سردار صاحب محترم کے ساتھ ان کے گھر میں چند لمحات گزارے، حال احوال دریافت کیا، دوران گفتگو کہنے لگے کہ اب ہماری بات سمجھنے والے نہیں رہے۔ میں نے عرض کیا کہ ہماری بات سمجھنے والے بھی اب بہت کم نظر آ رہے ہیں، آپ تو ہم سے بہت سینئر ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی ضخیم تصنیف ’’فتنہ انکار سنت‘‘ کا نسخہ اپنے دستخطوں کے ساتھ مرحمت فرمایا، جس میں انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث کی اہمیت و ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے سنت کے انکار کے اسباب و نتائج اور منکرین سنت کے موقف کا دلائل کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔ آٹھ سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ ضخیم کتاب سردار صاحب کی وسعت مطالعہ کے ساتھ ساتھ ان کے منطقی طرز استدلال اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی بے لچک محبت کی گواہی دیتی ہے، جو یقیناً ان کے لیے بہت بڑا سرمایہ حیات اور صدقہ جاریہ ہو گی۔