مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا ابوالقاسم نعمانی کے ساتھ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ دسمبر ۲۰۱۳ء

جوہانسبرگ میں مولانا محمد ابراہیم پانڈور کی رہائش گاہ پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی کے ساتھ نشست کی باتیں ادھوری رہ گئی تھیں، ان کا مکمل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مولانا نعمانی کی اس بات کا تذکرہ ہو رہا تھا کہ بڑے بزرگوں کے جانے پر بعد والے لوگوں میں ان کی خصوصیات تلاش کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ اس پر مولانا مفتی محمد اسماعیل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہر دور کے لیے اس کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق صلاحیتوں کے ساتھ لوگوں کو کھڑا کرتا ہے اور چونکہ دین نے قیامت تک باقی رہنا ہے اس لیے یہ تسلسل بھی باقی رہے گا اور کوئی دور بھی اس کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق کام کرنے والوں سے خالی نہیں رہے گا۔ اس کی مثال انہوں نے دی کہ ہماری نئی نسل میں کمپیوٹر وغیرہ کے استعمال کی جو صلاحیت ہے وہ ہم بوڑھوں میں نہیں ہے، اور وہ جدید ذرائع کے استعمال کرنے میں ہم سے بہت آگے ہیں۔

اس پر کمپیوٹر کے نفع و نقصان کی بحث شروع ہوگئی اور حضرت مولانا نعمانی نے فرمایا کہ جدید ذرائع سے اسباب و وسائل تو بڑھ رہے ہیں لیکن ذاتی صلاحیتیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں اور اب تو صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ کسی نوجوان نے دس اور دس کو جمع کرنا ہو تو وہ ذہن پر زور دینے کی بجائے کیلکولیٹر پر اس کا حساب لگائے گا۔ اس لیے ذاتی صلاحیتوں کے حوالہ سے یہ جدید سہولتیں نقصان کا باعث بن رہی ہیں۔ مجلس میں کسی بزرگ نے کہا کہ کتابیں تو اب اکثر انٹرنیٹ پر آگئی ہیں جس سے بہت سہولت ہوگئی ہے۔ مولانا نعمانی فرمانے لگے کہ اس سے بھی مطالعہ اور تحقیق کا ذوق کم ہوگیا ہے۔ بس انٹرنیٹ پر متعلقہ مواد جمع کیا اور کتاب مرتب کر دی۔ انہوں نے مثال کے طور پر کہا کہ محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی قدس اللہ سرہ العزیز نے ’’مصنف عبد الرزاق‘‘ پر جو کام کیا ہے اس میں ان کی زندگی کے کئی سال لگے ہیں اور مطالعہ و تحقیق کی بہترین صلاحیتیں صرف ہوئی ہیں۔ ایک عرب اسکالر نے بھی اس کے بعد اس کتاب پر کام کیا ہے جس پر کسی صاحب علم نے تبصرہ کیا کہ مولانا اعظمیؒ کی کتاب علم و تحقیق اور مطالعہ و تجزیہ کا نتیجہ ہے ۔ جبکہ یہ بعد میں چند مہینوں میں سامنے آنے والی کتاب انٹرنیٹ کا کمال ہے۔ اس سے مواد تو جمع ہو جاتا ہے اور ترتیب و تدوین کا کام بھی ہو جاتا ہے، لیکن تحقیق کے پیچھے جو مطالعہ، غور و فکر اور تفقہ درکار ہے وہ مفقود ہوتا ہے۔

ایک صاحب نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ انٹرنیٹ اور سی ڈیز پر آنے والی کتابوں میں رد و بدل کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس پر مولانا نعمانی نے فرمایا کہ مثلاً حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے مسلم شریف کی جو شرح ’’فتح الملہم‘‘ کے نام سے لکھی تھی اور علمی حلقوں میں بہت مقبول ہوئی ہے۔ کسی عرب ادارے نے اسے کمپیوٹر پر لاتے ہوئے اس میں رد و بدل کیا ہے۔ مجلس کے ایک بزرگ نے کہا کہ اس وقت تو اس قسم کی غلطی چیک ہو جائے گی لیکن مستقبل میں جب یادداشت اور کتاب کی بجائے انٹرنیٹ جیسے ذرائع ہی واحد ذریعہ ہوں گے، تو یہ تحریفات اور رد و بدل کتاب کا حصہ بن جائے گا۔ ایک صاحب نے ذکر کیا کہ انٹرنیٹ پر قرآن کریم میں تحریفات کا سلسلہ چل پڑا ہے اور خاص طور پر قادیانیوں نے اپنے تراجم بہت اہتمام کے ساتھ انٹرنیٹ پر پیش کیے ہیں جن میں معنوی تحریفات کی بھرمار ہے۔ مولانا نعمانی نے فرمایا کہ انٹرنیٹ پر موجود قرآن کریم میں لفظی تحریفات بھی موجود ہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے جیب سے موبائل فون نکالا اور قرآن کریم کے ایک متن کا متعلقہ حصہ نکال کر بتایا کہ فلاں آیت میں دو جگہ الفاظ میں یہ اضافے کیے گئے ہیں۔

مولانا مفتی محمد اسماعیل نے حضرت مولانا نعمانی سے عرض کیا کہ اس وقت دنیا میں اسلام کے خلاف علمی، تہذیبی، فکری اور ثقافتی محاذوں پر جو منظم کام ہو رہا ہے اس کا جواب دینے اور نئی پھیلائی جانے والی گمراہیوں کے ازالے کے لیے دارالعلوم دیوبند کو قیادت کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ کام صحیح طور پر اکابر علماء دیوبند ہی کر سکتے ہیں۔ اس پر ایک صاحب نے کہا کہ اسی وجہ سے استعماری قوتوں کا سب سے بڑا ہدف بھی دیوبندی حلقہ ہے۔ حتیٰ کہ بھارت کے ایک بڑے ہندو دانش ور نے واضح طور پر بعض دیگر مذہبی فرقوں کا نام لے کر کہا ہے کہ ہمیں ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور علماء دیوبند کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہمارے لیے خطرہ صرف وہی ہیں۔

مولانا ابوالقاسم نعمانی کے ساتھ گفتگو اور مجلس بہت دلچسپ اور ایمان افروز رہی، مگر اس کا ابتدائی حصہ تذکرہ سے رہ گیا ہے کہ جب بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب وہ دہلی سے جدہ ایئرپورٹ پر پہنچے جہاں سے ہم اکٹھے آگے روانہ ہوئے، وہاں ان سے ملاقات کرتے ہوئے مولانا مفتی محمد شاہد نے میرا تعارف کرایا تو حضرت مولانا نعمانی نے بہت محبت و شفقت کا اظہار فرمایا اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا تذکرہ فرمانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ان کی بہت سی کتابیں پڑھ رکھی ہیں اور بہت استفادہ کیا ہے۔ حضرت والد گرامی کی بعض کتابوں کے بارے میں انہوں نے دریافت کیا کہ ان کی طباعت کی کیا صورت حال ہے؟ میں نے انہیں بتایا کہ ان کی تصنیفات ’’مکتبہ صفدریہ‘‘ کے زیر اہتمام مسلسل شائع ہو رہی ہیں۔ اس پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔

کیپ ٹاؤن میں جمعۃ المبارک کی شام کو مسلم جوڈیشل کونسل جنوبی افریقہ اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی تین روزہ عالمی ختم نبوت کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے۔ افتتاحی نشست فضیلۃ الشیخ ابراہیم جلیل کی دُعا سے شروع ہوئی۔ شیخ محمد فیلاندر نے قرآن کریم کی تلاوت کی جبکہ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا عبد الحفیظ مکی اور مسلم جوڈیشل کونسل کے راہ نماؤں الشیخ ریاض فقار، الشیخ عبد الحمید خیبر اور مولانا عبد الخالق نے کانفرنس کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی کی دُعا پر پہلی نشست اختتام پذیر ہوئی۔