سیرۃ النبیؐ اور دعوتِ اسلام

   
مقام / زیر اہتمام: 
الشریعہ اکادمی، ہاشمی کالونی، گوجرانوالہ
تاریخ بیان: 
فروری ۲۰۱۸ء

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت ملنے پر اللہ تعالٰی کی طرف سے توحید اور دین کا پیغام پہنچانے کا حکم موصول ہونے کے بعد جب اپنی دعوت اور محنت کا آغاز کیا تو کہاں سے کیا اور کیسے کیا؟ حضورؐ کو حکم ملا ’’فاصدع بما تؤمر‘‘ (سورہ الحجر ۹۴) جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اب اس کا اعلان کیجیے۔ تو آپؐ نے سب سے پہلے صفا پہاڑی سے عمومی دعوت کا آغاز کیا۔ آج تو صفا پہاڑی نہیں رہی بس اس کی علامت باقی ہے، اس زمانے میں پہاڑی ہوتی تھی اور اس دور کا رواج تھا کہ سفید چادر لہرا کر لوگوں کو بلاتے تھے، جو علامت ہوتی تھی کہ کوئی اہم واقعہ پیش آ گیا ہے۔ آپؐ نے اس پر چڑھ کر چادر لہرائی تو تھوڑی دیر میں مکہ کے کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ آپؐ نے ان سے سب سے پہلے اپنی ذات کے بارے میں بات کی، اس کے بعد دعوت کا باقاعدہ آغاز اس جملہ سے کیا ’’یا ایھا الناس‘‘۔ یہ نقطۂ آغاز ہے۔ جبکہ سامنے مکی، قریشی اور عرب لوگ تھے، شاید ہی کوئی عجمی ہو، لیکن جناب نبی کریمؐ نے ان حوالوں سے کسی کو خطاب نہیں کیا، بلکہ یوں فرمایا ’’اے نسل انسانی‘‘۔ مطلب یہ کہ میں جو بات کہنے لگا ہوں یہ نہ صرف مکہ والوں کے لیے ہے، نہ صرف قریش والوں کے لیے ہے، اور نہ صرف عرب والوں کے لیے ہے، بلکہ ساری نسل انسانی کے لیے ہے۔

آج دنیا میں گلوبلائزیشن، انٹرنیشنلزم اور عالمیت کی بات ہوتی ہے اور بڑے لوگوں کے دعوے ہیں کہ ہم نے قوموں، ملکوں، نسلوں کے دائرے توڑ دیے، اب ہم ان کے اعتبار سے نہیں بلکہ انسانیت اور گلوبلائزیشن کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ آپ جس گلوبلائزیشن کی بات کرتے ہیں، نسلِ انسانی میں سب سے پہلے جس شخصیت نے گلوبلائزیشن کی بات کی ہے اس کا نام ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ قوموں، ملکوں، زبانوں اور نسلوں سے ماورا پوری نسل انسانی کو جس نے سب سے پہلے خطاب کیا وہ آپؐ کی ذات گرامی ہے۔ آپؐ سے پہلے انبیاءؑ بھی، مصلحین بھی اور بادشاہ بھی قوموں سے ہی مخاطب ہوتے تھے لیکن یا قوم، یا بنی اسرائیل اور یا ایھا الملأ ان کا عنوان ہوتا تھا۔ سب سے پہلے جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’یا ایھا الناس‘‘ سے خطاب کر کے یہ واضح کر دیا کہ میری دعوت نہ صرف مکہ والوں کے لیے ہے، نہ صرف قریش والوں کے لیے ہے، نہ صرف ہاشمیوں کے لیے ہے، اور نہ صرف عرب والوں کے لیے ہے، بلکہ ساری نسل انسانی کے لیے ہے۔

جب ہم اپنے ذہن کو اس بات پر تیار کر لیں کہ ہمارے دین کی دعوت پوری نسل انسانی کے لیے ہے تو پھر مجھے اور آپ کو سوچنا پڑے گا کہ اُس وقت حضورؐ نے پوری نسل انسانی کو مخاطب کیا تھا، آج نسل انسانی کہاں کہاں بستی ہے اور اسے ’’یا ایھا الناس‘‘ کہہ کر خطاب کرنے والا آج کون ہے؟ ہماری دعوت آج کیا ہے؟ ہم تو اپنی جماعت، قوم، طبقے، مسلک، علاقے اور فرقے سے مخاطب ہیں، ہماری کوشش اپنے مسلک کا دفاع کرنے کی ہوتی ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہ اپنے مذہب سے مخاطب ہوتے ہیں، اہل ایمان سے مخاطب ہوتے ہیں، ہم جتنا بھی دائرہ وسیع کر لیں ہمارا خطاب مسلمانوں سے ہی ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج ’’ایھا الناس‘‘ کہنے والا کون ہے؟ یہ بھی کسی نے کہنا ہے یا نہیں؟ یہ کسی کی ذمہ داری ہے یا نہیں؟ میں خود کو اور آپ کو توجہ دلانے کے لیے بات کر رہا ہوں کہ مسلمان بھائیو! کہنے والے ہم سب ہیں، اپنی قوم، اپنے علاقے، اپنی نسل اور اپنی زبان والوں کو خطاب کر کے بات کرنے والے ہم سب ہیں، لیکن نسلِ انسانی کو خطاب کرنے والا دنیا میں آج کون ہے؟ ہمیں سب سے پہلے یہ بات ذہنوں میں بٹھانی ہو گی کہ اسلام صرف مسلمانوں کا نہیں، پوری نسل انسانی کا ہے۔ قرآن کریم پر صرف ہمارا حق نہیں بلکہ یہ ’’ھدًی للناس‘‘ ہے، اس کی دعوت پوری نسل انسانی کے لیے ہے، سب کا اس پر حق ہے۔

جناب نبی کریمؐ نے جب ’’ایھا الناس‘‘ سے خطاب کیا تو آپ کے اردگرد مکہ اور طائف والے یعنی قریش اور بنو ثقیف دو ہی طبقے تھے، تیسرے طبقہ یہود سے تیرہ سال بعد مدینہ میں واسطہ پیش آیا۔ ان دو ہی قبیلوں کا اعتراض تھا کہ ’’وقالوا لو لا نزل ھذا القرآن علٰی رجل من القریتین عظیم‘‘ (سورہ الزخرف ۳۱) آپ کہتے ہیں مجھے نبوت ملی ہے، اللہ نے اگر نبوت دینی تھی تو ان دونوں بستیوں مکہ اور طائف کے کسی بڑے سردار کو کیوں نہیں دی، آپ کو ہی کیوں دی ہے؟ یہ قرآن کریم آپ پر ہی اترنا تھا؟ بہرحال تیرہ سالہ مکی دور میں ان ہی دو طبقوں سے واسطہ رہا۔

رسول اللہؐ کی اس تیرہ سالہ دعوت کے مراحل کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضورؐ کی دعوت کا سب سے پہلا ذریعہ قرآن کریم تھا۔ چونکہ مخاطبین عرب تھے، عربی زبان جانتے تھے تو قرآن بھی عربی زبان میں اترا جو آپؐ کی دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ آپؐ منڈیوں اور تجارتی میلوں میں جا کر، خوشی غمی کے مواقع پر جا کر قرآن سناتے۔ قرآن کریم جو اللہ کا کلام ہے وہ جب حضورؐ سنائیں تو اثر کیوں نہ کرے؟ اس کے اثرات کو روکنا کیونکر ممکن ہو سکتا تھا۔ حضورؐ لوگوں کو قرآن کریم سناتے، اللہ تعالٰی کی توحید بیان کرتے اور اسلام کی دعوت دیتے۔ اس دعوت کے ردعمل میں آپ کے چچاؤں میں سے کوئی آپؐ کے پیچھے چل پڑتا۔ جب حضورؐ دعوت دیتے، اول تو یہ دعوت لوگوں کے لیے اجنبی ہوتی کیونکہ وہ صدیوں سے کفر و بت پرستی میں رہ رہے تھے، حضرت اسماعیلؑ کے بعد سے ان میں کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ اور دوسرا یہ کہ ان میں سے کوئی چچا لوگوں کو کہتا یہ میرا بھتیجا ہے اس کو جن چمٹ گیا ہے ’’وقالوا مجنون وازدجر‘‘ (سورہ القمر ۹) یہ مجنون ہو گیا ہے، اس کا دماغ کام نہیں کر رہا (نعوذ باللہ)، اس کی باتوں پر نہ جانا، یہ ساحر و کاہن اور شاعر ہے، اس کو پتہ نہیں کس کی بد دعا لگ گئی ہے، لہٰذا اس کی بات سنجیدگی سے نہ سنیں۔

لیکن جب اس مرحلے میں کفار کو کامیابی نہ ہوئی اور حضورؐ کی دعوت قرآن کریم کے ذریعے پھیلتی رہی تو دوسرے مرحلے میں انہوں نے دعوت کو روکنے کے لیے قرآن کی محفلوں میں شور مچانے کی روش اختیار کی، کیونکہ جب کوئی حضورؐ کی زبان سے قرآن سنے گا تو متاثر ہوگا۔ اس لیے ان کا یہ ایجنڈا تھا کہ کوئی قرآن سنے ہی نہیں۔ ’’وقال الذین کفروا لا تسمعوا لھٰذا القرآن والغوا فیہ‘‘ اس قرآن کو نہ سنو بلکہ جہاں قرآن پڑھا جا رہا ہو وہاں شور مچاؤ تاکہ دوسرے بھی قرآن نہ سن سکیں ’’لعلکم تغلبون‘‘ (سورہ فصلت ۲۶) تاکہ تم ان کی بات روکنے میں کامیاب ہو جاؤ۔ یہ پروپیگنڈا یہاں تک ہوا کہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے کر مکہ مکرمہ آتے تھے کہ کہیں محمدؐ کی آواز اچانک کانوں میں نہ پڑ جائے اور انہیں کامیابی نہ ہو جائے۔ اس مرحلہ میں بھی کفار کو کامیابی نہیں ہوئی۔

اس کے بعد یہ مرحلہ آیا ’’ومن الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ‘‘ (سورہ لقمان ۶) کہ کچھ لوگوں نے مثلاً نضر بن حارث وغیرہ نے مقابلے میں ’’لھو الحدیث‘‘ گانے بجانے، ناچ گانے اور قصے کہانیوں کی مجلسیں سجانا شروع کر دیں، جس کو میں یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی دعوت کو روکنے کے لیے اور اس کے اثرات کم کرنے کے لیے انہوں نے مکہ میں ’’کیبل‘‘ بچھا دیا تاکہ حضورؐ کی طرف کوئی نہ جائے، سارے اسی مصروفیت میں لگے رہیں۔

جب اس مرحلہ میں بھی کامیابی نہ ہوئی تو سودے بازی پر آگئے، جب دیکھا کہ ہم روکنے میں کامیاب نہیں ہو رہے تو مصالحت کا راستہ اختیار کیا۔ اسی مرحلے کے بارے میں قرآن کریم میں ہے ’’ودّوا لو تدھن فیدھنون‘‘ (سورہ القلم ۹) جناب ابو طالب کے پاس حضور اکرمؐ سے صلح کرنے کے لیے ستر سرداروں کا وفد آیا کہ جناب آپ ہماری ان سے صلح کرا دیں۔ ان کی پیشکش یہ تھی کہ ٹھیک ہے وہ بھی حرم پاک میں عبادت کریں، ہم بھی کرتے ہیں۔ ہم ان کو نہیں روکتے، وہ ہمیں نہ روکیں۔ حرمِ مکہ میں آپؐ عبادت کریں ہم بھی ان کے ساتھ مل کر کر لیا کریں گے اور کبھی آپ ہمارے پاس آ جایا کریں، مل جل کر گزارہ کرتے ہیں۔ آپؐ جو چاہیں کریں ہم ان کو نہیں روکتے لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ آپؐ ہمارے خداؤں کی نفی نہ کریں۔ توحید کی بات ضرور کریں لیکن ہمارے بتوں کی نفی نہ کریں یعنی آج کی اصطلاح میں ’’پازیٹو بات کریں، نیگیٹو نہ کریں‘‘۔

آج بھی بین الاقوامی مکالموں میں یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ مسلمان پازیٹو بات کریں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، جب نیگیٹو بات کرتے ہیں تو ہمیں اشکال ہوتا ہے۔ مسلمان یہ کہیں کہ اسلام بہت اچھا مذہب ہے ہمیں کوئی اشکال نہیں، لیکن یہ نہ کہیں کہ عیسائیت صحیح مذہب نہیں ہے، اس سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ مسلمان اسلام کی دعوت دیں لیکن یہودیت، ہندومت اور دیگر مذاہب کی نفی نہ کریں۔ ایک دفعہ مذاکرے میں مجھ سے سوال کیا گیا کہ مولانا! کیا اس میں کچھ لچک ہو سکتی ہے؟ میں نے کہا ہم کیا لچک کریں گے ہمارے کلمہ کا پہلا لفظ ہی نیگیٹو ہے یعنی ’’لا الٰہ‘‘۔ پازیٹو کا ذکر تو بعد میں آتا ہے یعنی ’’الا اللہ‘‘ ہمارا سبق شروع ہی لاءِ نفی جنس سے ہوتا ہے جو ہر چیز کی نفی کر دیتا ہے، ہم کیسے لچک کر سکتے ہیں؟ سیرت و حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں آپ کو ملے گا کہ مشرکین مکہ کا یہی مطالبہ تھا کہ آپ اللہ کی بات کریں اور اس کی عبادت کریں لیکن ہمارے بتوں کی نفی نہ کریں۔ یعنی ’’لا الٰہ‘‘ کی بات نہ کریں ’’الا اللہ‘‘ کی بات کرتے رہیں۔ حضورؐ نے بلکہ قرآن مجید نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور اسی کے جواب میں سورۃ الکافرون نازل ہوئی جس میں فرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا، بارگیننگ نہیں چلے گی، تم نہیں مانتے تو نہ مانو۔

قرآن کریم نے ایک اور بھی دلچسپ بات ذکر کی ہے، جب آپؐ لوگوں کو قرآن کریم سناتے تو ایک موقع پر کفار نے یہ پیشکش کی کہ ٹھیک ہے ہم قرآن کو مانتے ہیں لیکن آپ یہ کریں کہ قرآن میں کچھ ترمیم اور ردوبدل کر دیں۔ قرآن مجید میں ہے ’’واذا تتلٰی علیھم آیاتنا بینات قال الذین لا یرجون لقآءنا ائت بقرآن غیر ھذا او بدلہ‘‘ جب ان کو قرآن سنایا جاتا ہے تو جن کا آخرت پر یقین نہیں وہ کہتے ہیں کہ یا تو پورا قرآن بدل دیں ’’اِئت بقرآن غیر ھذا‘‘ اس کی جگہ کوئی اور قرآن لائیں کہ اس قرآن کے احکام بڑے سخت ہیں، اس لیے یہ قابل قبول نہیں، ورنہ کچھ ترامیم تو ضرور کریں ’’او بدلہ‘‘۔ اللہ تعالٰی کو علم تھا کہ یہ مسئلہ قیامت تک چلنا ہے، اس لیے اس کا جواب بھی حضورؐ کی زبانی قرآن کریم میں دلوا دیا۔ ہمیں زحمت نہیں دی کہ ہم سوچیں کیا جواب دینا ہے۔ جواب یہ دیا ’’قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقآء نفسی‘‘ آپ کہہ دیجیے کہ مجھے سرے سے اس میں ردوبدل کا کوئی اختیار ہی نہیں، اللہ چاہے تو بدل دے کہ وحی جاری تھی، مگر میں اس میں ایک حرف کا ردوبدل بھی نہیں کر سکتا۔ اس کا اتنا جواب ہی کافی تھا لیکن اس جواب پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تاکید کے لیے اگلا جملہ بھی ساتھ کہلوا دیا ’’ان اتبع الا ما یوحٰی الیّ‘‘ اس میں حصر ہے کہ میں تو صرف اور صرف وحی کا پابند ہوں، اور اس کے بعد ایک جملہ اور بڑھا دیا ’’انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم‘‘ (سورہ یونس ۱۵) کہ مجھے ڈر لگتا ہے اگر خدانخواستہ مجھ سے یہ کام ہو گیا تو قیامت کے دن کے عذاب سے مجھے کون بچائے گا؟

یہ ترمیم اور ردوبدل کا مطالبہ آج بھی چلتا رہتا ہے۔ بعض دانشور حضرات کے ساتھ گفتگو ہوتی ہے، کچھ عرصہ پہلے ایک گفتگو میں ایک صاحب فرمانے لگے کہ مولوی صاحب! کچھ تو کرنا ہی پڑے گا، عالمی برادری کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کے لیے کوئی بات تو ماننا ہی پڑے گی، اس کے بغیر تو ہم عالمی برادری کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہو سکتے۔ جب انہوں نے بات مکمل کر لی تو میں نے کہا جناب! ٹھیک ہے پہلے ہم ایجنڈا بنا لیتے ہیں کہ آج کی دنیا کے مطالبات پورے کرنے کے لیے ہمیں کہاں کہاں اور کیا کیا ترامیم کرنی ہیں؟ اس کی تیاری میں آپ کے ساتھ شریک ہوں گا بلکہ آپ سے اچھا مسودہ بنا لوں گا کہ کہاں کہاں ترمیم کرنی پڑے گی۔ مثلاً مغرب کا مطالبہ ہے عورت کو طلاق کا برابر کا حق دو اور مرد و عورت میں کوئی فرق نہ کرو۔ اب عورت کو طلاق کا حق دینے کے لیے ترمیم کہاں کرنا ہو گی؟ ہدایہ کی عبارت میں؟ کسی امام کے قول میں؟ نہیں! بلکہ نعوذ باللہ یہ ترمیم قرآن کریم میں کرنا ہو گی۔ اس لیے ترمیم کہاں کہاں ہونی چاہیے، پہلے اس کی فہرست بناتے ہیں، لیکن ترمیم کرنی کس نے ہے؟ ہم کس کو درخواست دیں گے کہ جناب ترمیم کر دیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو درخواست دینی ہے، پاکستان کی قومی اسمبلی کو دینی ہے، یا کسی جرگے کو دینی ہے؟ درخواست دینی کہاں ہے؟ ردوبدل کی اتھارٹی تم بتا دو فہرست میں بنا دیتا ہوں۔

بہرحال حضورؐ کی دعوت میں اس فرمائش کا مرحلہ بھی آیا کہ قرآن میں ترمیم کریں۔ لیکن حضورؐ نے فرمایا یہ میرے اختیار میں ہی نہیں ہے، میں یہ کر ہی نہیں سکتا، اگر کروں گا تو مجھے ’’عذاب یوم عظیم‘‘ کا خطرہ ہے۔ جبکہ اگلی آیت میں فرمایا ’’قل لو شاء اللہ ما تلوتہ علیکم ولا ادراکم بہ‘‘ (سورہ یونس ۱۶) فرما دیں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر اللہ چاہے تو میں تمہیں پڑھ کر نہ سناؤں، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ پڑھ کر اس میں کوئی ترمیم کر دوں۔

میں تیرہ سالہ مکی دور میں دعوت کے مراحل کا خاکہ آپ حضرات کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ اس کے بعد وہ آخری مرحلہ آیا جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے، جب آپؐ اور آپؐ کے صحابہؓ پر مظالم کی انتہا ہو گئی اور تین سال شعب ابی طالب میں محصور رہنا پڑا، حضورؐ نے طائف کا سفر بھی اس غرض سے کیا کہ یہاں کا ماحول سازگار نہیں ہے، شاید طائف والے بات مان لیں لیکن وہاں سے لہولہان واپس آنا پڑا۔ اس کے بعد یہ مرحلہ آیا ’’واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک ویمکرون ویمکر اللہ‘‘ (سورہ الانفال ۳۰)۔

آزمائش کے ان مراحل کے بعد اللہ تعالٰی نے جب دعوت کا راستہ کھولا تو کیسے کھولا؟ انصار مدینہ کے دو قبیلے تھے اوس اور خزرج، ان کی آپس میں ایک صدی تک لڑائی جاری رہی جس میں سینکڑوں لوگ قتل ہوئے۔ لڑائی سے تنگ آ کر چند بوڑھے مل بیٹھے اور کہا کوئی صورت نکالو، کب تک ایک دوسرے کو مارتے مرتے رہو گے؟ لوگوں نے کہا ہم ایک دوسرے پر تو جمع نہیں ہو سکتے، قاتل و مقتول ایک دوسرے پر کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ باہر کا کوئی آدمی مل جائے جو ہماری صلح کرا دے۔ ان کے نمائندے حج کے موسم میں مکہ آئے اور دیکھ رہے ہیں تھے ہمیں ہمارے کام کا کوئی آدمی مل جائے اور ہم اس سے درخواست کریں کہ ہمارے پاس آؤ اور ہماری صلح کرا دو۔ ادھر جناب نبی کریمؐ کفار کے مظالم سے تنگ آ کر حاجیوں کے خیموں میں چکر لگا رہے تھے، دعوت دے رہے تھے اور تلاش کر رہے تھے کہ مجھے کہیں ٹھکانہ مل سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے منٰی میں دونوں کا اکٹھ فرما دیا۔ جہاں بیعت عقبہ اولٰی ہوئی، بارہ آدمیوں نے بیعت کی، اگلے سال بیعت عقبہ ثانیہ ہوئی جس میں ستر آدمیوں نے بیعت کی۔ آپس میں خفیہ مذاکرات ہوئے، مدینہ والوں نے عرض کیا کہ حضور! آپ ہمارے ہاں تشریف لے آئیں۔ حضورؐ نے فرمایا، میں بھی جگہ کی تلاش میں ہوں، اللہ تعالٰی کی طرف سے حکم ہو گا تو آجاؤں گا۔ حضرت عائشہؓ اس واقعہ کو تفصیل سے بیان فرماتی ہیں۔

لطف کی بات یہ کہ آپؐ کے چچا حضرت عباسؓ جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا، آپؐ کے ساتھ تھے۔ جب اوس و خزرج کے نمائندوں نے حضورؐ کو یثرب آنے کی دعوت دی اور کہا کہ ہم آپ کی حفاظت کریں گے، آپ کو ٹھکانہ مل جائے گا اور ہمیں رہنما مل جائے گا، دونوں کا کام چل جائے گا، تو حضرت عباسؓ کھڑے ہوئے اور کہا بات سنو! یہ ہمارا بھتیجا ہے اور ہم بنو ہاشم اس کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ اگر تم میرے بھتیجے کو لے جانا چاہتے ہو تو لے جاؤ لیکن یاد رکھو میرے بھتیجے کو ساتھ لے جانے کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں پوری عرب دنیا سے لڑائی مول لینا ہو گی۔ اگر پورے عرب سے لڑائی مول لینے کا حوصلہ ہے تو آپؐ کو ساتھ لے جاؤ، ورنہ رہنے دو ہم ان کی حفاظت کر لیں گے۔ اس پر ان میں سے کچھ حضرات کھڑے ہوئے اور کہا ہم اپنی جانوں پر کھیل کر حضورؐ کی حفاظت کریں گے۔ بہرحال یہ معاہدہ ہوا اور اللہ تعالٰی نے آپؐ کو دعوت کا نیا میدان دے دیا یعنی مدینہ منورہ۔ لیکن وہاں جانے کے بعد بھی چھ سال لڑائیوں میں گزرے، قریش نے چھ سال تک پیچھا نہیں چھوڑا۔ بدر، احد، خندق، حدیبیہ کے مراحل پیش آئے، اور حدیبیہ تک لڑائیاں چلتی رہیں۔ حدیبیہ کی صلح کے بعد دعوت کا میدان کھلا، اگرچہ حدیبیہ میں معاہدہ بظاہر کمزور شرطوں پر ہوا تھا، بہت سے مسلمانوں کو وہ شرائط ہضم نہیں ہو رہی تھیں مگر صلح حدیبیہ کے بعد آپؐ کو موقع ملا اور آپؐ نے ’’یا ایھا الناس‘‘ کے دائرے میں دعوت شروع کی۔ اس سے پہلے تو مکہ والوں سے ہی الجھاؤ رہا۔ پھر آپؐ نے رومیوں، ایرانیوں، مصریوں، حبشیوں وغیرہ کو دعوت دی اور یہ دائرہ ایسا پھیلا کہ اللہ تعالٰی نے آپؐ کی دعوت دنیا کی دو بڑی طاقتوں تک اور ان کے زیرِ اثر علاقوں تک پہنچا دی۔ ان میں سے ایک مرحلے کا ذکر کرتا ہوں۔

جیسا کہ عرض کر چکا ہوں کہ دین کی دعوت، دین کا پیغام، اللہ تعالٰی کی توحید، قرآن کریم کا تعارف اور جناب نبی کریمؐ کی دعوت پوری نسل انسانی کا حق ہے، اس لیے جناب نبی کریمؐ کو جب کھلا ماحول ملا اور حالات سازگار ہوئے تو آپؐ نے دنیا بھر کو دعوت دی اور دعوت کا میدان ایسا وسیع ہوا کہ روم میں ابوسفیانؓ کی زبانی اسلام کی دعوت پہنچی جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ بخاری شریف میں یہ تفصیلی روایت موجود ہے، اس کا کچھ حصہ عرض کرتا ہوں۔

صلح حدیبیہ کے بعد جناب نبی کریمؐ نے مختلف بادشاہوں کے نام اسلام کی دعوت بھیجی۔ روم اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھی، روم کے بادشاہ ہرقل قیصر روم کو بھی دعوت بھیجی۔ ہرقل اس وقت شام میں آیا ہوا تھا جو روم کا صوبہ تھا۔ ہرقل بیت المقدس میں موجود تھا جہاں اسے اسلام کی دعوت کا خط موصول ہوا۔ بڑے لوگوں کا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ تحقیق کرتے ہیں کہ دعوت دینے والا کون ہے، اس کا تعارف پہلے حاصل کرتے ہیں، پھر اس کی دعوت کو دیکھتے ہیں۔ چنانچہ جب حضورؐ کی طرف سے اس کو اسلام کی دعوت ملی تو اس نے کہا ان صاحب (حضورؐ) کے علاقے سے اگر کچھ لوگ آئے ہوئے ہوں تو مجھ سے ملاؤ تاکہ میں ان کے بارے میں تحقیق کروں کہ وہ کون ہیں اور ان کا بیک گراؤنڈ کیا ہے؟ حضرت ابوسفیانؓ، جو بعد میں اسلام لائے، اس وقت حضورؐ کے حریف تھے اور عرب دنیا میں حضورؐ کے سب سے بڑے مدمقابل آپ ہی تھے۔ خندق کی لڑائی میں حضورؐ کے خلاف متحدہ محاذ کی قیادت ابو سفیانؓ نے کی تھی۔ ابوسفیانؓ شام میں موجود تھے، آپؓ حضورؐ کے چچا بھی لگتے تھے اور خسر بزرگوار بھی تھے۔ ابوسفیانؓ خود یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ہرقل کے کارندے ہمارے پاس آئے اور پوچھا آپ مکہ سے آئے ہیں؟ ہم نے بتایا، ہاں۔ انہوں نے کہا بادشاہ سلامت آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ ابوسفیانؓ کہتے ہیں ہم ہرقل کے دربار میں گئے، ہرقل اور اس کی پارلیمنٹ بیٹھی ہوئی تھی، ہم پیش ہوئے۔ ہرقل نے ہم سے آپؐ کا مکمل تعارف حاصل کیا کہ یہ مدعی نبوت کون ہیں؟ ان کا نسب کیسا ہے؟ ان کا کردار کیسا ہے؟ بہت سے سوالات کیے، میں جواب دیتا رہا۔

سارا تعارف کر کے، تسلی کر کے آخر میں ہرقل نے ایک سوال کیا۔ ذرا منظر دیکھیے کہ اللہ تعالٰی نے آپؐ کی دعوت کے اسباب کیسے پیدا کیے کہ عالمی سطح پر دنیا کا سب سے بڑا حریف ہرقل سوال کر رہا ہے اور جزیرۃ العرب کے دائرے میں حضورؐ کا سب سے بڑا حریف جواب دے رہا ہے اور حضورؐ کا تعارف کرا رہا ہے۔ جب ہرقل نے سوال کیا ’’ماذا یامرکم؟‘‘ وہ تمہیں کیا کہتا ہے؟ اس کی دعوت کیا ہے؟ دنیا کے سب سے بڑے حکمران کے سامنے اس کے دربار میں حضورؐ کا جزیرۃ العرب کا سب سے بڑا حریف کھڑے ہو کر حضورؐ کی دعوت پہنچاتا ہے اور جواب دیتا ہے ’’یامرنا ان نعبد اللہ وحدہ ونترک ما کان یعبد اٰباءنا ویامرنا بالصلٰوۃ والصدق والصلۃ والعفاف‘‘ اس کی دعوت یہ ہے کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں، اللہ کے سوا جن کی پوجا ہمارے آباء و اجداد کرتے آرہے ہیں سب کو چھوڑ دیں۔ ذرا دیکھیں توحید کہ دعوت کس کے سامنے کون بیان کر رہا ہے۔ پھر کہا کہ وہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ نماز پڑھا کرو، سچ بولا کرو، اللہ کے رستے میں خرچ کیا کرو اور پاکدامن رہو۔ یہ اس کی بنیادی دعوت ہے۔

میں صرف اس نکتے پر توجہ دلا رہا ہوں کہ دین کی دعوت ہماری محتاج نہیں، اللہ جس کے ذریعے چاہے دعوت پہنچا دے۔ یہاں دیکھیں کہ کافر کو کافر دعوت پہنچا رہا ہے اور دعوت بھی بغیر کسی گڑبڑ کے صحیح پہنچا رہا ہے۔ ابو سفیانؓ واقعہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہرقل نے مجھے میرے ساتھیوں سے آگے بٹھا لیا تھا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا تھا اور ان سے کہہ دیا تھا میں اس سے سوال کروں گا اگر یہ جواب میں گڑبڑ کرے تو مجھے اشارہ کر دینا۔ ابوسفیانؓ کہتے ہیں خدا کی قسم! اس اشارے کے ڈر سے میں ہر بات کا جواب سچ سچ بتاتا رہا، ورنہ بخدا میں کیا کیا جھوٹ بولتا۔ مجھے یہ ڈر تھا کہ میں قوم کا سردار ہوں اگر جھوٹ بولا تو میرا سارا بھرم تباہ ہو جائے گا۔ اس طرح اللہ تعالٰی نے پہلے ہی بندوبست کروا لیا کہ حضورؐ کے دعوت پہنچے تو صحیح شکل میں پہنچے۔ پھر جناب نبی کریمؐ کی یہ دعوت دنیا کے کونے کونے میں پھیلی۔

میں نے یہ عرض کیا ہے کہ دعوت کا نقطۂ آغاز ہی نسلِ انسانی ہے۔ ہم سبھی اپنے آپ کو اس دعوت کا وارث سمجھتے ہیں، اور نہ سمجھیں تب بھی ہم ہی اس دعوت کے وارث ہیں کیونکہ یہ امت کے ذمے ہے۔ اس وقت نسل انسانی میں سات ارب سے زیادہ انسان ہیں، ان سات ارب انسانوں تک ’’یا ایھا الناس قولوا لا الٰہ الا اللہ تفلحوا‘‘ کی صدا لگانا کس کی ذمہ داری ہے؟ ہم تو ابھی اپنے بھائیوں کو، جو ڈیڑھ پونے دو ارب ہیں، ان کو بھی کلمہ پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو رہے کہ ان کا کلمہ صحیح کرا لیں، نماز صحیح کرا لیں، ان کو قرآن پڑھا لیں تاکہ ہم دوسروں کو کہنے کے قابل ہو جائیں۔ لیکن یہ عبوری مرحلہ ہے، اصل ذمہ داری ہماری یہ ہے کہ ’’یا ایھا الناس‘‘ سے خطاب کریں اور یہ ہماری ہی ذمہ داری ہے، ہم نے ہی کرنا ہے۔ اللہ تعالٰی یہ احساس ہمارے دلوں میں پیدا کرے کہ ہم امت کی اجتماعی ذمہ داریوں کو محسوس کریں اور دعوت کے اس عمل میں جہاں جتنا حصہ ہم ڈال سکتے ہوں، ڈالیں۔ کم از کم یہ تو ہو کہ کچھ نہ کچھ کرنے والوں میں ہی ہمارا نام آجائے، میں اسے اضعف الایمان سمجھتا ہوں۔ کرنا تو بہت کچھ چاہیے لیکن خدا کرے کچھ نہ کچھ کرنے والوں میں ہی ہمارا شمار ہو جائے۔

اللہ تعالٰی دعوت و تبلیغ کے عمل کو مزید ترقیات اور وسعتوں سے مالامال فرمائیں۔ دعوت کا یہ عمل اصلاح کا عمل ہے، امت کو دین پر واپس لانے کا عمل ہے، نماز، روزہ، حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز کی طرف واپس آنے کا عمل ہے اور وہ اسلامی ماحول پیدا کرنے کا عمل ہے جو دنیا میں دین کی دعوت کی بنیاد بن سکے۔ اللہ تعالٰی مجھے اور آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

Flag Counter