مفتی اعظم سعودی عرب کا کلمۂ حق

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۳ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۵ فروری ۲۰۰۳ء کے مطابق اس سال حج کے موقع پر منٰی کے میدان میں خطبہ حج ارشاد فرماتے ہوئے سعودی عرب کے مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کیا ہے اور عالم اسلام کو اس طرف ان الفاظ کے ساتھ توجہ دلائی ہے کہ:

’’اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو اقتصادی طور پر اپنا غلام رکھنا چاہتی ہیں، یہ قوتیں اسلامی ممالک کی منڈیوں پر اپنا تصرف اور قبضہ چاہتی ہیں، وہ چاہتی ہیں کہ مسلمان مجبور رہیں اور اپنی اقتصادی ضرورتوں کے لیے صرف انہی کی طرف دیکھتے رہیں۔ رب ذوالجلال نے مسلمانوں کو ہر طرح کے مادی وسائل اور قیمتی ذخائر سے مالامال کیا ہے، مسلمان ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی اقتصادیات کی طرف توجہ دیں، اپنے فیصلے خود کریں، معاشی طور پر خود کفیل ہونے کی کوشش کریں، دنیا کو بتائیں کہ ہم آزاد اور خود مختار ہیں، ہم اپنے معاشی پروگرام خود مرتب کریں گے اور کسی کی محکومی اور غلامی کو قبول نہیں کریں گے۔ اس مقصد کے لیے عالم اسلام کو متحد و یکجان ہونا پڑے گا، اتحاد و اتفاق کے بغیر امت مسلمہ کی معاشی، سماجی اور فطری آزادی محال ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اپنی آوازیں ایک کی جائیں، کندھے کندھوں سے ملائے جائیں، ایک دوسرے سے تعاون کیا جائے، ایک دوسرے کی مدد کی جائے، نظم و ضبط کے ساتھ، یک دلی اور یکجہتی کے ساتھ مشترکہ آواز اٹھائی جائے‘‘۔

معالی الشیخ عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کا تعلق آل شیخ سے ہے جو سعودی عرب کے نامور مصلح الشیخ محمد بن عبد الوہابؒ کا خاندان ہے اور آل سعود کے ساتھ اس خطہ کے اقتدار میں ایک عرصہ سے اس معاہدہ کے ساتھ شریک ہے کہ سعودی عرب میں دینی اقدار اور شرعی احکام کی عملداری قائم رہے گی جس کی نگرانی آل شیخ کریں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آل شیخ کو جب بھی موقع ملا ہے انہوں نے دینی اقدار اور ملی مفادات کے لیے آواز اٹھائی ہے، اب سے ربع صدی قبل آل شیخ ہی کے ایک بزرگ الشیخ محمد بن ابراہیمؒ نے سعودی نظام میں بتدریج ہونے والی تبدیلیوں کی ملک کے قاضی القضاۃ کی حیثیت سے نشاندہی کی تھی اور سعودی حکومت کو ہر قدم پر ایسے اقدامات سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی جو ان کی نظر میں دینی تقاضوں کے منافی تھا مگر ان کی وفات کے بعد قاضی القضاۃ کا منصب ختم کرکے اسے مفتی اعظم کا عنوان دے دیا گیا اور ان کی جگہ آل شیخ سے ہٹ کر ایک بزرگ الشیخ عبد العزیز بن عبداللہ البازؒ کو مقرر کردیا گیا اور اب ان کی وفات کے بعد آل شیخ میں سے الشیخ عبد العزیز کو مفتی اعظم بنایا گیا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ شیخ محترم نے خطبہ حج میں مذکورہ بالا باتیں فرما کر پورے عالم اسلام کی ترجمانی کی ہے اور عالم اسلام کے خلاف استعماری قوتوں کے عزائم کا صحیح نقشہ کھینچا ہے جس سے عالم اسلام کی دینی اور نظریاتی قوتوں کو حوصلہ ملا ہے۔ استعماری قوتوں پر مسلمانوں کے جذبات ایک بار پھر واضح ہوگئے ہیں اور آل شیخ کے روایتی دینی کردار کا اعادہ ہوا ہے لیکن ہمارے خیال میں صرف اتنی بات کافی نہیں ہے، حالات جس رخ پر جا رہے ہیں اس کے پیش نظر حجاج کرام کے عوامی اجتماع کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کے حکمران کیمپ تک بھی یہی پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے جو سعودی عرب کے مفتی اعظم نے اپنے مذکورہ خطبہ حج میں ملت اسلامیہ کو دیا ہے۔ اگر یہی بات آل شیخ کے بزرگ آل سعود کے ساتھ باہمی ملاقات میں کر سکیں اور ان کی وساطت سے مسلم دنیا کے حکمرانوں کو یہ بات سمجھائی جا سکے تو حالات کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش آج بھی کامیاب ہو سکتی ہے، عام مسلمان تو پہلے ہی یہ سب سمجھے ہوئے ہیں اور ان کے جذبات و احساسات بھی یہی ہیں، اب ان سے یہ باتیں کہنے کی زیادہ ضرورت نہیں رہی، ضرورت حکمرانوں کو سمجھانے کی ہے، اقتدار کے ایوانوں تک یہ بات پہنچانے کی ہے اور مقتدر طبقات کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ہے کہ ملت اسلامیہ کی گاڑی کا اسٹیئرنگ اس وقت انہی کے ہاتھ میں ہے اور ان کی مرضی کے بغیر گاڑی کا رخ کسی اور طرف مڑ ہی نہیں سکتا۔

درجہ بندی: