علماء اور جدید دور کے تقاضے

   
تاریخ بیان: 
۱۵ جون ۲۰۱۰ء

(جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی میں ’’التخصص فی الدعوۃ والارشاد‘‘ کے شرکاء سے خطاب۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ ۔ آپ حضرات دعوت و ارشاد کے حوالہ سے تخصص کا دو سالہ کورس مکمل کر کے چند دنوں میں فارغ التحصیل ہونے والے ہیں جبکہ آپ میں سے بیشتر حضرات اپنا تعلیمی دورانیہ مکمل کر کے عملی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں، اس لیے آپ کے استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی صاحب کا ارشاد ہے کہ میں آپ حضرات کے سامنے اس موضوع پر گفتگو کروں کہ رسمی تعلیم کے دور سے فارغ ہونے کے بعد عملی زندگی میں داخل ہونے پر آپ حضرات کو کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا اور ان سے نمٹنے کے لیے آپ کیا تدابیر اختیار کریں گے؟

ہمارے بزرگوں اور اکابر میں حضرت مولانا مناظر احسن گیلانیؒ معروف شخصیت ہیں، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندؒ کے مایہ ناز شاگرد تھے اور اپنے دور کے ممتاز ارباب علم و دانش اور اصحاب قلم میں ان کا شمار ہوتا ہے، صاحب طرز ادیب اور محقق تھے، انہوں نے جس موضوع پر لکھا خوب لکھا اور اس موضوع کا حق ادا کیا۔ انہوں نے ایک مقالے میں دینی مدارس کے نظام تعلیم کو اصحابِ کہف کے غار سے تشبیہ دی ہے کہ جس طرح اصحابِ غار اپنا ایمان بچانے کے لیے غار میں داخل ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں سینکڑوں سال کے لیے سلا دیا تھا جس سے ان کا ایمان تو بچ گیا تھا مگر جب وہ غار سے نکل کر آبادی میں آئے تو سارا ماحول بدلا ہوا تھا، زبان بدل چکی تھی، سکہ اور کرنسی بدل چکی تھی اور شہر کا پورا منظر تبدیل ہو چکا تھا۔ اسی طرح ہمارے بزرگوں نے برطانوی استعمار کے جبر و استبداد کے دور میں ایمان کے تحفظ کے لیے ہمیں ان غاروں میں داخل کر دیا اور ہم عام ماحول سے کٹ کر دینی مدارس کے اس مخصوص ماحول میں اپنا عقیدہ و ایمان بچانے میں بحمد اللہ کامیاب ہو گئے، جو ہمارے ان اکابر کی فراست و بصیرت کا ثمرہ طیبہ ہے، لیکن جب سالہا سال تک مدارس کے مخصوص ماحول میں رہنے کے بعد ہم عام سوسائٹی کے ماحول میں واپس آتے ہیں تو بہت سی چیزیں بدلی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور مختلف حوالوں سے عام سوسائٹی کا ماحول ہمارے لیے اجنبی اور ہم اس ماحول کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔

میں آپ دوستوں کو سب سے پہلے اس بات کا احساس دلانا چاہوں گا کہ ان غاروں سے نکل کر جب آپ سوسائٹی کے جنگل میں داخل ہوں گے اور عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو آپ کو بہت سی چیزیں بدلی ہوئی نظر آئیں گی، بہت سی باتیں آپ کو اجنبی دکھائی دیں گی اور بہت سے معاملات آپ کے لیے نامانوس ہوں گے۔ آپ حضرات کو سب سے پہلے اس پریشانی کا سامنا ہو گا اور یہ الجھن آپ کو قدم قدم پر پیش آئے گی، اپنے مانوس ماحول سے مختلف ماحول دیکھ کر آپ کیا کریں گے؟ ظاہر بات ہے کہ آپ کے سامنے دو ہی راستے ہوں گے: (۱) ایک یہ کہ اصحاب کہف کی طرح واپس غار میں جا کر پھر سے سو جائیں، (۲) اور دوسرا یہ کہ اپنے آپ کو بدلتے ہوئے ماحول کے ساتھ مانوس کریں اور زمانے کی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ کام تو آپ نے اسی ماحول میں کرنا ہے اور اردگرد کے ماحول سے مانوس اور اس میں ایڈجسٹ ہوئے بغیر آپ اپنے کسی کام میں پیشرفت نہیں کر پائیں گے اور کوئی خدمت بھی مؤثر طور پر سر انجام نہیں دے سکیں گے۔

سوسائٹی کے عمومی ماحول اور زمانے کی تبدیلیوں کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے عقیدہ و ایمان میں لچک پیدا کریں، یا خدانخواستہ دینی روایات و اقدار سے دستبردار ہو جائیں۔ ہرگز نہیں! بلکہ اس کا مطلب و مقصد یہ ہے کہ اپنے عقیدہ و ایمان اور روایات و اقدار کے ساتھ وابستگی اور وفاداری کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے اظہار اور تطبیق کے لیے طریق کار، زبان و لہجہ اور اسلوب وہ اختیار کریں جس کے ذریعے آپ اپنے اردگرد کے ماحول تک اپنی بات صحیح طریقے سے پہنچا سکیں، اور جن لوگوں میں آپ کام کر رہے ہیں ان کے اذہان و قلوب تک رسائی حاصل کر سکیں۔ مثال کے طور پر دو تین باتوں کی طرف توجہ دلاؤں گا:

  1. اب سے پون صدی قبل تک ہمارے ماحول میں مولانا ابو الکلام آزادؒ کی بھاری بھر کم زبان کا سکہ چلتا تھا، اس وقت فصاحت و بلاغت کا معیار یہ تھا کہ نادر الفاظ، مشکل تراکیب اور پرشکوہ جملوں سے کلام مزین ہو۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ کے اسی اسلوب نے ایک عرصہ تک صحافت و خطابت کی دنیا پر حکمرانی کی ہے لیکن اب اس کا دور نہیں رہا۔ اور اگر آج آپ اس زبان میں بات کریں گے تو بہت سے لوگوں کو لغت و محاورہ کی کتابیں ساتھ رکھ کر آپ کی باتوں کا مطلب سمجھنا پڑے گا۔ آج کا اسلوب یہ ہے کہ آسان لفظوں میں سادہ ترکیب و اسلوب کے ساتھ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچائیں، آپ جتنے سادہ الفاظ اور آسان اسلوب میں تحریر و تقریر پر قادر ہوں گے اتنے زیادہ مؤثر طور پر اپنی بات لوگوں سے کہہ سکیں گے۔

    ایک بات پر ضرور غور کریں کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران ہمیں جن مفکرین اور دانشوروں کے بارے میں یہ شکایت چلی آ رہی ہے کہ انہوں نے دین کے نام پر اپنے افکار و نظریات کا پرچار کیا ہے اور دین کے ساتھ لوگوں کے تعلق کو مضبوط کرنے کی بجائے فکری انتشار پھیلانے پر زیادہ توجہ دی ہے، جبکہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے اچھے خاصے حلقے قائم کر لیے ہیں، میں اس کی عملی مثال کے طور پر غلام احمد پرویز اور جاوید احمد غامدی صاحب کا نام لوں گا، آپ اس بات کا ضرور جائزہ لیں کہ یہ حضرات اپنے اردگرد لوگوں کا اتنا وسیع حلقہ جمع کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے ہیں؟ میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ سادہ اور عام فہم اسلوب میں بات کرتے ہیں، کامن سینس میں بات کرتے ہیں، اور لوگوں کی ذہنی سطح اور نفسیات کو سمجھ کر اس کے مطابق بات کرتے ہیں اور اپنی بات ان کے ذہنوں تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ہم خطابت اور عمومی وعظ میں بھی تدریس و مناظرہ کے اسلوب سے کام لے رہے ہیں اور عام لوگوں کے ساتھ اسی انداز میں گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ درس نظامی کی کسی کلاس کے طلبہ ہیں، یا کسی مسئلہ میں ہمارے خلاف فریق کے طور پر بیٹھے ہیں، اور ہم نے مجادلہ و مناظرہ کے ذریعے ان سے اپنی بات منوانی ہے۔ یہ اسلوب آج کے دور کا اسلوب نہیں ہے، یہ اسلوب مدت ہوئی متروک ہو چکا ہے اور ہمیں بھی عمومی ماحول میں اسے ترک کر دینا چاہیے۔ اگر آپ حضرات آج کی دنیا سے مخاطب ہیں اور آج کے لوگوں سے بات کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بریفنگ اور کامن سینس کا اسلوب سیکھنا ہو گا، اس کی مشق کرنا ہو گی اور اس میں مہارت پیدا کرنی ہو گی، ورنہ آپ دین کی خدمت کے تقاضے آج کی دنیا میں اور آج کے ماحول میں پورے نہیں کر سکیں گے۔

  2. دوسری بات جس کی طرف اس ضمن میں توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں یہ ہے کہ اب سے نصف صدی پہلے تک خطابت کی دنیا میں امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے طرز خطابت کی حکمرانی تھی اور انہی کا سکہ چلتا تھا۔ اس دور میں خطابت کا کمال یہ تھا کہ آپ کتنے گھنٹے تقریر کر سکتے ہیں اور کتنی دیر تک اپنی خطابت کے سحر میں لوگوں کو مسحور رکھ کر جلسہ گاہ میں بٹھا سکتے ہیں۔ حضرت امیر شریعت کی خطابت کا نقطہ عروج یہ ہوتا تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد خطاب شروع ہوتا تھا اور فجر کی اذانوں کی آواز لوگوں کو چونکا کر احساس دلاتی تھی کہ رات بیت چکی ہے۔

    آج کا اسلوب یہ نہیں ہے۔ آج کی خطابت کا کمال یہ ہے کہ آپ کتنے مختصر وقت میں اپنی بات مکمل کر سکتے ہیں، آج عام لوگوں کے پاس ذہنی اور عملی دونوں حوالوں سے اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ گھنٹوں آپ کے سامنے بیٹھے آپ کی خطابت سے حظ اٹھاتے رہیں۔ جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم آج بھی اسی پرانے اور متروک اسلوب کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں، ہم میں سے کسی خطیب کو کسی جلسے میں یہ کہا جائے کہ آپ نے اپنی بات پانچ منٹ میں مکمل کرنی ہے تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں، ہم مائیک پر آ کر باقاعدہ غصے کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری توہین ہے۔ پھر اس پانچ منٹ کی تقسیم ہمارے پاس یہ ہوتی ہے کہ تین چار منٹ خطبے میں صرف کر دیتے ہیں، ایک دو منٹ میں غصے کا اظہار کر کے اپنا سارا وقت ضائع کر دیتے ہیں اور جو بات ہم کہنے کے لیے آتے ہیں وہ اسی کشمکش میں گم ہو کر رہ جاتی ہے۔

    آج کی خطابت یہ نہیں ہے کہ آپ کتنے گھنٹے لوگوں کو اپنی لفاظی کے سحر میں مسحور رکھ سکتے ہیں بلکہ آج کی خطابت یہ ہے کہ آپ کتنے سادہ لہجے میں اور کتنے مختصر وقت میں اپنی مکمل بات لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ آپ کو اس بات کی باقاعدہ مشق کرنا ہو گی اور یہ فن سیکھنا ہو گا کہ مختصر وقت میں اپنی بات کہہ سکیں۔ بات بھی ادھوری نہ ہو اور پیغام بھی نامکمل نہ ہو مگر وقت کم سے کم صرف کریں، اور اسلوب و لہجہ لوگوں کے ذہنوں تک رسائی حاصل کرنے والا ہو۔

  3. اس کے ساتھ ایک اور تبدیلی پر بھی غور کر لیں وہ یہ کہ اب سے دو تین عشرے قبل تک عام لوگوں اور جدید تعلیم یافتہ حضرات کے پاس دین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہم لوگ ہوتے تھے۔ کسی مسئلہ میں انہیں ہم جو معلومات فراہم کر دیتے تھے وہی ان کا سارا مبلغ علم ہوتا تھا، اس لیے ان معلومات کی بنیاد پر ہم ان سے جو بات فتویٰ اور رائے کے طور پر کہہ دیتے تھے وہی ان کے لیے بہرصورت قابل قبول ہوتا تھا۔ مگر آج یہ صورتحال نہیں ہے، عام لوگوں اور خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ حضرات کے پاس دینی معلومات حاصل کرنے کے متبادل ذرائع موجود ہیں، اخبارات، ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ نے معلومات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کر دیا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ ساری معلومات صحیح بھی ہوں لیکن بہرحال معلومات تو موجود اور میسر ہیں اور معاشرے کا کم و بیش ہر تعلیم یافتہ فرد نہ صرف ان سے استفادہ کرتا ہے بلکہ ان کی بنیاد پر فیصلے بھی کرتا ہے۔ اس ماحول میں اگر ہم کسی مسئلہ میں محدود اور نامکمل معلومات کی بنیاد پر بات کریں گے تو وہ لوگوں کو اپیل نہیں کرے گی بلکہ ہمارا علمی اعتماد اور ثقاہت مجروح ہو گی۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ دینی معلومات میں عام لوگوں کو صحیح راہنمائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی علمی ثقاہت اور اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی معلومات کا دائرہ وسیع کریں، مطالعہ کریں، مسائل کے تجزیے کی عادت ڈالیں، اور کسی مسئلہ کے تمام ممکنہ پہلوؤں سے واقفیت کے بعد اس کے بارے میں گفتگو کا مزاج بنائیں۔

مقابلہ بہت سخت ہے جو دن بدن سخت تر ہوتا جا رہا ہے، اس لیے ہمیں ان تبدیلیوں اور ضروریات کا احساس کرنا ہو گا اور ان کے مطابق تیاری کر کے اپنے طرز عمل، طریق کار اور اسلوب و لہجہ کو اس کی روشنی میں ازسرنو تشکیل دینا ہو گا، کیونکہ اسی صورت میں ہم اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا کر سکیں گے۔