مساجد و مدارس اور وقف اداروں کے بارے میں نیا قانون

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲ اکتوبر ۲۰۲۰ء

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت کی مساجد و مدارس اور وقف املاک کے حوالہ سے جو قانون منظور کیا گیا ہے اس پر ملک بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف النوع تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا اصل محرک مالیاتی حوالہ سے بین الاقوامی اداروں کے مطالبات ہیں جنہیں پورا کرنے کے لیے اس قانون کے فوری نفاذ کو ضروری سمجھا گیا ہے۔ جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے درجہ میں اسلام آباد میں اور وہاں یہ تجربہ کامیاب ہونے کے بعد ملک بھر میں اس قانون کا دائرہ پھیلایا گیا تو پورے ملک میں مساجد و مدارس اور وقف اداروں کا بنیادی ڈھانچہ یکسر تبدیل ہو کر رہ جائے گا، اور سرکاری یا پرائیویٹ ہر قسم کے اوقاف اور ان پر قائم ادارے براہ راست انتظامیہ کے کنٹرول میں چلے جائیں گے، نیز پرائیویٹ مساجد و مدارس کا سلسلہ بھی انتظامیہ کے رحم و کرم پر ہو گا۔

اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان میں مساجد و مدارس کے بارے میں عالمی استعمار کے اس مبینہ ایجنڈے کی تکمیل کا فیصلہ کن قدم ہو گا جس سے ڈیڑھ سو سال سے دینی تعلیم و عبادت کا جو نظام آزادانہ کردار ادا کر رہا ہے وہ خدانخواستہ باقی نہیں رہے گا۔ قانون کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  1. اینٹی منی لانڈرنگ ( منتقلی رقوم)
  2. اینٹی ٹیررازم (انسداد دہشت گردی)
  3. اوقاف کنٹرول پالیسی

اس کے تیسرے جزء میں پنجاب وقف املاک بورڈ ۱۹۷۹ء کو منسوخ کر کے دارالحکومت وقف املاک ایکٹ ۲۰۲۰ء منظور کیا گیا ہے جس کے مطابق:

  1. وفاق کے زیر اہتمام علاقوں میں مساجد و امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہو گی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔
  2. حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل (آمدن و خرچ) معلوم کرنے اور آڈٹ (احتساب) کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔
  3. وقف زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں اور مدارس وفاق کے کنٹرول میں ہوں گے۔
  4. وقف املاک پر قائم عمارتوں کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت ان کا انتظام سنبھال لے گی۔
  5. قانون کی خلاف ورزی پر ڈھائی کروڑ جرمانہ اور پانچ سال تک سزا ہو سکے گی۔
  6. حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلٰی تعینات کرے گی۔
  7. منتظم اعلٰی کسی خطاب، لیکچر یا خطبے کو روکنے کی ہدایات دے سکے گا۔
  8. منتظم اعلٰی قومی خودمختاری اور وحدانیت کو نقصان پہنچانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا۔
  9. خطبے یا تقریر کی شکایت کی صورت میں چھ ماہ تک قید رکھا جا سکتا ہے، جس کے لیے وارننگ کی ضرورت ہو گی۔ چھ ماہ تک اس کی ضمانت ہو گی نہ عدالت مداخلت کر سکے گی۔ جرم ثابت نہ ہوا تو چھ ماہ بعد رہائی ملے گی مگر اس حبس بے جا پر سوال نہیں کیا جا سکے گا۔
  10. مسجد اور مدرسے کو چلانے والی انجمن کے تمام عہدیداروں کی مکمل ویریفیکیشن (تصدیق) ہو گی اور ان کا ٹیکس ریکارڈ بھی چیک کیا جائے گا۔
  11. مسجد اور مدرسے کو زمین یا فنڈ دینے والے اپنی منی ٹریل بھی دے گا کہ اس نے یہ رقم کہاں سے حاصل کی۔
  12. مسجد اور مدرسہ کسی وقت اخراجات، فنڈنگ کرنے والوں کی تفصیل یا منی ٹریل نہ دے سکے گی تو وہ عمارت حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔‘‘

ہم اس موقع پر ملک کے دینی و علمی حلقوں سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کے بارے میں خاموشی درست نہیں ہے، اس کا قانونی، معاشرتی اور فقہی طور پر جائزہ لینا اور مبینہ خدشات و خطرات کا ادراک کرنا ضروری ہے تاکہ دینی مکاتب فکر کی مشترکہ رائے سامنے آئے اور اگر فی الواقع یہ قانون ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہے تو اس کے سدباب اور روک تھام کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اہتمام کیا جائے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ دینی جماعتوں کی قیادتیں اور علمی مراکز اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔