امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات اور علماء کا کردار

   
تاریخ بیان: 
۱۱ مئی ۲۰۱۱ء

(۱۱ و ۱۲ مئی ۲۰۱۱ء کو اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام ’’امت مسلمہ اور اس کو درپیش مسائل‘‘ کے عنوان پر قومی کانفرنس ہوئی، ۱۱ مئی کو ظہر تا عصر نشست کی صدارت مولانا زاہد الراشدی نے کی اس موقع پر ان کے صدارتی خطاب کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ ادارہ نصرۃ العلوم)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور ان کے رفقاء کا شکر گزار ہوں کہ ایک اہم عنوان پر منعقد ہونے والے ارباب علم و دانش کے اس اجتماع میں شرکت اور اس کی ایک نشست کی صدارت کا اعزاز بخشا، اللہ تعالیٰ ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں اور کچھ مقصد کی باتیں کہنے اور سننے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

کانفرنس کا مرکزی عنوان ’’امت مسلمہ اور اس کو درپیش مسائل‘‘ ہے اور اس کے ایک ذیلی عنوان پر مجھے گفتگو کے لیے کہا گیا ہے جو ’’امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات اور علماء کا کردار‘‘ سے معنون ہے۔ امت مسلمہ اس وقت عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، ایک امریکی تھنک ٹینک کے حوالہ سے شائع ہونے والی اخباری خبروں کے مطابق اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب سرسٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلم امہ جو دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ سمجھی جاتی تھی اب چوتھے حصے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اور اس طرح دنیا کی انسانی آبادی کا کم و بیش چوتھا حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، مسلم ممالک کی تعداد ساٹھ کے لگ بھگ ہے اور زمینی وسائل کا ایک بڑا حصہ مسلمانوں کے پاس ہے۔ اس تناظر میں اگر مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کا جائزہ لیا جائے تو میرے خیال میں اس کی سرسری سی فہرست یوں بنتی ہے:

  1. امت مسلمہ سیاسی اور فکری مرکزیت سے محروم ہے۔ ’’خلافت عثمانیہ‘‘ کے خاتمہ کے بعد مسلم امہ کے پاس کوئی ایسی مرکزیت موجود نہیں ہے جس کی طرف وہ اپنے سیاسی اور فکری مسائل کی طرف رجوع کر سکے، یا وہ مسلمانوں کو دنیا کے کسی حصہ میں ان کے مسائل کے حل میں مدد دے سکے۔ ’’اسلامی سربراہ کانفرنس‘‘ تنظیم قائم ہونے کے بعد کسی درجہ میں یہ امید قائم ہوئی تھی کہ شاید وہ ایک بین الاقوامی ادارے کے طور پر یہ خلا پر کر سکے مگر اس کا کردار ’’تشتند و گفتند و برخاستند‘‘ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ اہل تشیع نے تو ایران کے مذہبی انقلاب کے بعد امام غائب کے نمائندہ کے طور پر ’’ولایت فقیہ‘‘ کا دستوری منصب قائم کر کے اپنے دائرہ میں اس خلا کو پر کر لیا ہے اور دنیا بھر کے اہل تشیع میں اسے مرکز اور مرجع کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، مگر اہل سنت جو مسلم آبادی کی غالب اکثریت پر مشتمل ہے اس قسم کی مرکزیت سے محروم ہے جس کی وجہ سے سیاسی اور فکری انتشار دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور میرے نزدیک امت مسلمہ کا دور حاضر میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔
  2. دنیا کے اقتصادی، معاشی اور تجارتی میدان میں مسلمانوں کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو ان کا جائز حق ہے اور وہ ان شعبوں میں دوسری قوموں کے تابع بلکہ ان کے دست نگر نظر آتے ہیں۔
  3. سائنس، ٹیکنالوجی اور عسکری شعبوں میں مسلم امہ بین الاقوامی برادری میں اپنے صحیح مقام سے محروم ہے اور میری طالب علمانہ رائے میں ہم اس وقت قرآن کریم کے ایک صریح حکم ’’واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ‘‘ کی خلاف ورزی کے سنگین جرم کی سزا بھگت رہے ہیں۔ قرآن کریم نے مسلمانوں کو عسکری قوت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کا معیار یہ طے کیا ہے کہ ’’ترھبون بہ عدو اللّٰہ وعدوکم‘‘ کہ دشمنوں پر تمہارا رعب ہو، یعنی عالمی سطح پر عسکری قوت کا توازن تمہارے ہاتھ میں ہو۔ مگر ہماری حالت یہ ہے کہ نہ صرف عسکری میدان بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے عمومی ماحول میں بھی ہم بہت پیچھے ہیں اور ہمیں ایک حد سے آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔

    مسلم امہ کو گزشتہ ایک ہزار سال کے دوران عالمی سطح پر تین قیادتیں میسر آئی تھیں۔(۱) اندلس کی مسلم حکومت، (۲) ترکی کی خلافت عثمانیہ (۳) اور جنوبی ایشیا کی مغل شہنشاہیت۔ ان تینوں میں سے اندلس کی حکومت نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف توجہ دی تھی اور اسی کی فراہم کی ہوئی اساس پر آج مغرب کی سائنسی ترقی کا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ جبکہ اندلس کی اسلامی حکومت کے خاتمہ کے بعد خلافت عثمانیہ اور مغل شہنشاہیت میں سے کسی نے اس طرح توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب سائنس، ٹیکنالوجی اور عسکریت میں مغرب نے برتری بلکہ اجارہ داری حاصل کر لی تو ہمارے لیے اس طرف آگے بڑھنے کے راستے مسدود ہوتے چلے گئے۔ اس کا صرف ایک منظر سامنے رکھ لیجئے کہ عرب ممالک میں تیل کے چشمے دریافت ہوئے تو مسلمانوں کے پاس تیل کو زمین سے نکالنے کی تکنیکی صلاحیت موجود نہیں تھی، ہم تیل کو صاف کر کے استعمال کے قابل بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھے اور نہ ہی دنیا میں اس کی مارکیٹنگ کے وسائل اور صلاحیت ہمیں حاصل تھی۔ اپنی اس نا اہلی کی وجہ سے ان کاموں کے لیے ہمیں مغرب کی تیل کمپنیوں کو بلانا پڑا وہ آئیں انہوں نے کام سنبھالا ان کے پیچھے مغرب کے بینک آئے جنہوں نے سرمایہ سمیٹنا شروع کر دیا اور پھر مغرب کی افواج نے آ کر سارا ماحول کنٹرول کر لیا۔ یہ سب کچھ سائنس، ٹیکنالوجی اور عسکری میدان میں ہماری نااہلی کا نتیجہ ہے جو ہم بھگتتے چلے آرہے ہیں اور موجودہ حالات میں مستقبل قریب میں بھی اس صورتحال میں تبدیلی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔

  4. ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر اقوام و ممالک کے باہمی معاملات کو چلانے اور کنٹرول کرنے کا جو نظام ’’اقوام متحدہ‘‘ کے نام سے موجود ہے اور اس کے نام پر سارے معاملات کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ اس میں ہماری حیثیت کیا ہے؟ ہم جنرل اسمبلی میں ہر سال دو چار تقریریں کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہم نے دل کی بھڑاس نکال لی ہے مگر پالیسی سازی اور کنٹرول کی اصل قوت سلامتی کونسل میں ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے جبکہ ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک اقوام متحدہ کے نام سے دنیا پر حکومت کر رہے ہیں۔
  5. عالمی سطح سے ہٹ کر ملکی سطح پر آجائیں تو صورتحال یہ ہے کہ سرے سے ہمارا کوئی قومی رخ ہی متعین نہیں ہے۔ ہم نے دستور میں اسلام اور جمہوریت کو قومی پالیسیوں کی اساس قرار دے رکھا ہے کہ حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کی ہوگی اور وہ قرآن و سنت کے مطابق حکومت کو چلانے کے پابند ہوں گے۔ مگر قومی سطح پر ہم اسلام اور جمہوریت میں سے کسی کے ساتھ مخلص نہیں ہیں اور چھ عشرے گزر جانے کے باوجود آج بھی ہم اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ یہ ملک اسلامی ہے یا سیکولر؟ اور اس کی پالیسیوں میں قرآن و سنت کی راہنمائی کا کوئی حصہ ہونا چاہیے یا نہیں؟ قومی سطح پر ہماری یہ دورخی اور تذبذب ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جب تک ہم اس سے نجات حاصل نہیں کریں گے، کسی سمت بھی پیشرفت نہیں کر سکتے۔
  6. ہمارا ایک بڑا مسئلہ قومی خود مختاری کا ہے جس سے ہم مسلسل محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈرون حملوں اور ملکی معاملات میں بیرونی مداخلت نے ہماری خود مختاری کو چیلنج کر رکھا ہے مگر سیاسی قیادتوں کے پاس مذمت کے بیانات کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ منتخب پارلیمنٹ قومی خودمختاری کے حوالہ سے ایک متفقہ قرارداد پاس کرتی ہے لیکن اس پر عملدرآمد کا حوصلہ کسی میں نہیں ہے۔
  7. ہمارا ایک بڑا قومی مسئلہ معاشی عدم توازن کا ہے۔ ایک طرف عیاشی، فضول خرچی اور نمود و نمائش انتہا کو پہنچ چکی ہے اور دوسری طرف فاقہ اور فقر کے باعث عام آدمی خودکشیاں کر رہے ہیں۔ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے جبکہ ہمارے حکمرانوں کو معاملات کو سلجھانے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔
  8. ایک بڑا مسئلہ ’’دہشت گردی‘‘ کا ہے۔ ہم نے دہشت گردی کی کوئی تعریف متعین کرائے بغیر مبینہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں شرکت اختیار کر رکھی ہے جس نے دہشت گر دی، تحریک آزادی، اور قومی خودمختاری کے مسائل کو گڈمڈ کر کے رکھ دیا ہے۔ اور اس کی وجہ سے بھی ملک کے اندر دہشت گردی اور باہمی قتل و قتال کا بازار گرم ہے۔ یہ دہشت گردی بظاہر مذہب کے نام پر ہے لیکن صرف مذہب کے نام پر نہیں ہے کیونکہ کراچی میں ہونے والی دہشت گردی میں مذہب کا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی بلوچستان میں ہونے والے قتل و قتال میں مذہب فریق ہے۔ پھر اس مبینہ دہشت گردی کا صرف ملک کے اندر کے معاملات سے تعلق نہیں ہے بلکہ عالمی قوتیں اور بین الاقوامی ادارے اس میں پوری قوت کے ساتھ شریک ہیں اور سب سے زیادہ کردار انہیں کا ہے۔ ملک کے اندر ہونے والے اس خوفناک قتل و قتال میں صرف مذہبی فرقہ واریت اور مذہبیت کو ذمہ دار قرار دینا کسی طرح بھی انصاف کی بات نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی ایجنسیاں، لسانیت اور علاقائی قومیتیں اس کا اہم فریق ہیں، لیکن ہم سب عوامل کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف مذہبی عناصر کو رگڑتے چلے جا رہے ہیں۔
  9. ہمارا ایک مسئلہ تہذیبی شناخت کے تحفظ کا ہے کہ مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار ہماری تہذیبی شناخت کو دھیرے دھیرے ختم کرتی جا رہی ہے، اور مغرب کی یہ دھاندلی ہم پر مسلط ہے کہ اقوام متحدہ کا منشور تو قومی اور علاقائی تہذیبوں اور ثقافتوں کے تحفظ کی بات کرتا ہے مگر مغرب اسی اقوام متحدہ کے زیرسایہ اپنی تہذیب و ثقافت کو دنیا پر مسلط کرنے کے لیے علاقائی اور قومی ثقافتوں کو بلڈوز کرتا جا رہا ہے۔ اس نے میڈیا، لابنگ اور تخویف و تحریص کے سارے وسائل اسلامی ثقافت کی اس جنگ میں جھونک رکھے ہیں۔

حضرات محترم! میں نے آپ بزرگوں اور اہل دانش کے سامنے امت مسلمہ کو درپیش مسائل کی صرف ایک فہرست پیش کی ہے جو مکمل نہیں ہے، البتہ اس سے ایک ہلکا سا عمومی تناظر سامنے آجاتا ہے۔ اس کے بعد اس سلسلہ میں علماء کے کردار کی طرف آتا ہوں کہ میرے ناقص خیال میں ان کی ذمہ داری کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. وہ پہلے خود ان مسائل کا احساس اور شعور حاصل کریں، اس لیے کہ علماء کرام اور اہل دانش کی اکثریت کو سرے سے ان مسائل و مشکلات کا احساس اور ادراک تک حاصل نہیں ہے۔
  2. امت مسلمہ میں اس کے مسائل و مشکلات کا شعور بیدار کریں، قرآن و سنت اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کے سامنے ان مسائل کا حل پیش کریں، ان حوالوں سے نئی نسل کے ذہنوں میں پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات کے ازالے کا اہتمام کریں، اور مسلم رائے عامہ کو بیدار کرنے کی طرف سنجیدہ توجہ دیں۔
  3. خود کو صرف فکری راہنمائی تک محدود نہ رکھیں بلکہ مسائل کے حل کے عملی راستوں کی تشکیل اور تنظیمی و تحریکی ماحول پیدا کرنے کی کوشش بھی کریں۔

میں ایک بار پھر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے ارباب علم و دانش کی اس محفل میں حاضری، چند احباب کے ارشادات سننے اور کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع دیا۔ اللہ تعالیٰ کونسل کی اس کاوش کو قبول فرمائیں اور ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقہ سے سر انجام دینے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔