شیخ الہندؒ عالمی امن فورم کا قیام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ دسمبر ۲۰۱۳ء

’’شیخ الہندؒ امن عالم کانفرنس‘‘ کے بارے میں تھوڑی بہت تفصیلات چند کالموں میں پیش کر چکا ہوں، جبکہ دیوبند میں دو روز اور دہلی میں تین روز ہمارے قافلہ نے جن مصروفیات میں گزارے ان کی کچھ جھلکیاں ایک الگ کالم کی صورت میں پیش کرنے کا ارادہ ہے، آج کی صحبت میں کانفرنس کے دوران پیش کی جانے والی اپنی زبانی اور تحریری گزارشات اور کانفرنس کے اعلامیہ اور فیصلوں کے بارے میں تاثرات و تجاویز کے حوالہ سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

جہاں تک امن کا تعلق ہے اس کے لیے اسلام کا پیغام یہ ہے کہ وہ وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات پر عمل کی صورت میں ہی قائم ہو سکتا ہے۔ انسانی خواہشات خواہ فرد کی ہوں، کسی گروہ کی ہوں یا سوسائٹی کی ہوں وہ امن کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔ بخاری شریف میں حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مجلس میں بعض علاقوں کے بارے میں یہ شکایت پیش کی گئی کہ وہاں قتل و غارت بہت ہے۔ جان و مال محفوظ نہیں اور کسی کی عزت و آبرو کو تحفظ نہیں ہے، جبکہ ایک علاقے کے بارے میں کہا گیا کہ وہاں بھوک اور افلاس بہت ہے، فاقہ کشی عام ہے اور لوگوں کو کھانے کے لیے کچھ نہیں ملتا۔ اس پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلامی تعلیمات کی برکت سے وہ دور جلد آنے والا ہے کہ ایک عورت حیرہ (کوفہ) سے مکہ مکرمہ کی طرف تن تنہا سفر کرے گی، اس کا کجاوَہ ساز و سامان سے بھرا ہوا ہوگا اور وہ خود سونے چاندی کے زیورات سے لدی ہوئی ہوگی مگر پورے سفر میں اسے اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوگا۔ اور وہ دور بھی آئے گا کہ تم لوگ سونا چاندی ہاتھوں میں اٹھائے بازاروں میں آوازیں دو گے کہ کوئی زکوٰۃ کا مستحق یہ آواز سن رہا ہو تو وہ یہ زکوٰۃ وصول کر لے، مگر کوئی زکوٰۃ لینے والا اس سوسائٹی میں نہیں ملے گا۔ حضرت عدی بن حاتمؓ فرماتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اپنی آنکھوں سے پوری ہوتے دیکھ لی ہے۔

اس لیے ہمارا ایمان ہے اور اسلام کا دنیا کے نام پیغام یہ ہے کہ امن و سلامتی اور خوش حالی وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی پیروی میں ہے، آج دنیا کو مغالطہ ہے کہ کسی فرد، گروہ یا سوسائٹی کی خواہشات کی بنیاد پر دنیا کو امن حاصل ہو سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا یہ پیغام دنیا میں عام کرنا چاہیے، حضرت شیخ الہندؒ کا مشن بھی یہ تھا اور اسی مشن کے لیے انہوں نے ساری زندگی جدوجہد میں گزاری ہے۔

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ نہ صرف اپنے وقت کے عظیم محدث اور صوفی تھے بلکہ تحریک آزادی کے بہت بڑے مجاہد بھی تھے، انہوں نے تحریک آزادی کی مدبرانہ قیادت کی ہے اور جنوبی ایشیا کی تمام اقوام کو آزادی کی جدوجہد میں راہ نمائی فراہم کی ہے، انہوں نے آزادی اور فروغ اسلام کے لیے جدوجہد کے جن خطوط کی طرف امت مسلمہ کی راہ نمائی فرمائی تھی، انہیں آج پھر سے سامنے لانے کی ضرورت ہے اور شیخ الہندؒ کے حوالہ سے منعقد ہونے والی اس عظیم الشان کانفرنس میں ہمیں اس کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کر لینا چاہیے۔

شیخ الہندؒ کے فکر و فلسفہ اور ان کی روایات سے نسبت رکھنے والے حضرات صرف ہندوستان اور پاکستان میں نہیں ہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی موجود ہیں۔ ان کے درمیان فکری اور علمی رابطوں اور باہمی تبادلہ خیالات کا کوئی نہ کوئی فورم ضرور موجود ہونا چاہیے تاکہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورت میں در پیش مسائل کے بارے میں حضرت شیخ الہندؒ کی تعلیمات و افکار کی روشنی میں عوام کی راہ نمائی کی کوئی راہ نکالی جا سکے۔

اس وقت دو تین بڑے مسئلے عالمی سطح پر راہ نمائی کے طلب گار ہیں اور میری طالب علمانہ رائے میں شیخ الہندؒ کا فکری و علمی حلقہ ان کے بارے میں زیادہ بہتر راہ نمائی فراہم کر سکتا ہے۔ ایک یہ کہ آج کے بہت سے بین الاقوامی معاہدات متعدد اسلامی احکام و قوانین کی انسانی سوسائٹی میں عملداری کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور یہ پوری دنیائے اسلام کا مشترکہ مسئلہ بن چکا ہے۔ ان معاہدات کا علمی جائزہ لینا اور اسلامی احکام و قوانین بالخصوص مسلمانوں کے خاندانی نظام کے بارے میں ان معاہدات کی بنیاد پر کھڑے ہو جانے والے مسائل و مشکلات اور شکوک و شبہات کی نشاندہی کر کے ان کا شرعی حل پیش کرنا آج کی بہت بڑی ملی ضرورت ہے جس کی طرف دارالعلوم دیوبند اور حضرت شیخ الہندؒ کے علمی فورم کو سنجیدہ طور پر توجہ دینی چاہیے اور دنیائے اسلام کی راہ نمائی کرنی چاہیے۔

دوسرا مسئلہ عالم اسلام کے مختلف ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکات کا ہے کہ کسی مسلم ملک میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کن خطوط پر آگے بڑھنی چاہیے اور اس کا طریق کار کیا ہونا چاہیے؟ نیز اب تک کے سماجی ارتقاء نے جو معاشرتی مسائل پیدا کر دیے ہیں ان کی روشنی میں آج کے دور میں اسلامی نظام اور اسلامی حکومت کا ڈھانچہ کیا ہونا چاہیے؟ اور کسی جگہ اسلامی ریاست کی تشکیل اور اسلامی حکومت کے قیام کا قابل عمل فریم ورک موجودہ حالات میں کیا ہو سکتا ہے؟

تیسرا بڑا مسئلہ تہذیبی اور ثقافتی کشمکش کا ہے، مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار نے جس کی پشت پر معیشت، لابنگ، سیاسی دباؤ اور پروپیگنڈے کی تمام قوتیں کار فرما ہیں، عالم اسلام کے لیے جو مسائل اور مشکلات پیدا کر رکھی ہیں اور اسلامی ثقافتی روایات کو جو خطرات درپیش ہیں، ان کی نشاندہی اور ان کے بارے میں امت مسلمہ کی راہ نمائی بھی ہمارے دینی فرائض میں سے ہے، اور شیخ الہندؒ کے علمی و فکری حلقہ کو اس سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ میں اس حوالہ سے سیاسی مسائل کو چھیڑنے کی بات نہیں کر رہا کہ ان کا دائرہ ہر ملک کے رہنے والوں کے لیے الگ الگ ہے اور ان کے بارے میں متعلقہ حکومتیں ہی مناسب فیصلہ کر سکتی ہیں۔ لیکن علمی، فکری اور تہذیبی پہلو ضرور ہمارے دائرہ کار میں آتے ہیں اور اس سلسلہ میں ملت اسلامیہ کے مختلف حلقوں کے درمیان فکری ہم آہنگی اور عملی یکسانیت پیدا کرنے کے لیے جس کاوش و محنت کی ضرورت ہے اس کا اہتمام حضرت شیخ الہندؒ کا علمی و فکری حلقہ زیادہ بہتر طور پر کر سکتا ہے۔ اور اگر ہم شیخ الہندؒ کانفرنس کی طرف سے امت کو کوئی لائحہ عمل دے سکیں تو یہ حضرت شیخ الہندؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہتر طریقہ ہوگا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ’’شیخ الہندؒ امن عالم کانفرنس‘‘ کی طرف سے ’’شیخ الہندؒ عالمی امن فورم‘‘ کے قیام کا اعلان اس پس منظر میں انتہائی خوش آئند ہے جس نے دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں خاص طور پر دیوبندیوں کے دلوں میں امید کی ایک نئی کرن روشن کر دی ہے۔ میری دُعا ہے کہ یہ فورم امت مسلمہ کی صحیح سمت راہ نمائی کے لیے حضرت شیخ الہندؒ کی روایات کا امین ثابت ہو، آمین یا رب العالمین۔