سودی نظام کے خاتمہ کی مہم

   
تاریخ بیان: 
۱۴ فروری ۲۰۱۴ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی جن اقدار کو انسانی معاشرہ سے ختم کیا ان میں ایک بڑی لعنت سود کی تھی، جاہلی معاشرہ میں سود کا چلن عام تھا اور ذاتی قرضوں اور تجارت دونوں میں سود کا لین دین ہوتا تھا۔ جب سود کی حرمت کا اعلان ہوا تو مشرکین کی طرف سے یہ اشکال پیش کیا گیا کہ ’’انما البیع مثل الربوٰا‘‘ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، جب تجارت جائز ہے تو سود کیسے حرام ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’احل اللہ البیع وحرم الربوٰا‘‘ یہ دونوں ایک نہیں ہیں، تجارت کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔

تجارت دو چیزوں کے تبادلہ کو کہتے ہیں۔ دونوں چیزیں مختلف جنس کی ہوں تو یہ تجارت کہلاتی ہے، اگر ایک ہی جنس کی دو چیزوں کا باہمی تبادلہ ہو تو اس میں کمی بیشی کو سود کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس پر فرمایا کہ ’’احل اللّٰہ البیع وحرم الربوٰا‘‘ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربوٰا کو حرام ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ جناب نبی اکرمؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ہر قسم کے سود کو سختی کے ساتھ حرام قرار دینے کا اعلان فرمایا اور قرآن کریم نے سود کے لین دین پر اصرار کو ’’فاذنوا بحرب من اللّٰہ ورسولہ‘‘ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ سے تعبیر فرما کر کسی لچک کی گنجائش باقی نہیں رہنے دی۔

جناب نبی کریمؐ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں نہ صرف آئندہ کے لیے سود کے لین دین کی ممانعت فرمائی بلکہ ماضی میں سود پر لیے گئے قرضوں پر بھی سود کی رقم ختم کر کے اصل رقم کی واپسی کی ہدایت جاری کی، اور سب سے پہلے اپنے چچا محترم حضرت عباسؓ کے بارے میں اعلان کیا کہ ان سے جن لوگوں نے سود پر قرضے لے رکھے ہیں وہ صرف اصل رقم واپس کریں گے ان سے سود وصول نہیں کیا جائے گا۔ یہ سود ذاتی قرضوں کے ساتھ ساتھ تجارتی معاملات میں بھی عام تھا، چنانچہ بنو ثقیف کا وفد جب جناب نبی اکرمؐ کے پاس حاضر ہوا اور اسلام قبول کرنے کے لیے کچھ شرائط پیش کیں، جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ ہم سود کا لین دین ترک نہیں کریں گے اور اس پر ان کی دلیل یہ تھی کہ دوسری قوموں کے ساتھ ہماری تجارت سود کے ذریعے چلتی ہے اور سود کا لین دین ختم کرنے سے ہماری تجارت متاثر ہو گی۔ مگر آنحضرتؐ نے یہ شرائط قبول کرنے سے انکار فرما دیا اور بنو ثقیف کو اپنی شرائط سے دستبردار ہو کر بالآخر غیر مشروط طور پر اسلام قبول کرنا پڑا۔

اسی طرح نجران کے عیسائیوں کے ساتھ نبی اکرمؐ نے جو معاہدہ فرمایا اس کے تحت عیسائیوں نے اسلام قبول کیے بغیر غیر مسلم کے طور پر مسلم ریاست میں ذمی کی حیثیت سے رہنے کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ نجران تاریخ کا اہم حصہ ہے جس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ نجران کے عیسائی سود کا لین دین نہیں کریں گے، حتیٰ کہ اگر ان کے کسی ذمہ دار شخص نے سود کا کاروبار کیا تو اس سے معاہدہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سود کی حرمت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ اس کی پابندی ایک اسلامی ریاست کے غیر مسلموں کے لیے بھی ضروری ہے۔

قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق حضرت موسٰی علیہ السلام کی شریعت میں بھی سود کی ممانعت تھی جیسا کہ سورۃ النسآء کی ایک آیت ۶۱ میں بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت کے نزول کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے ایک سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ’’وأخذھم الربوٰا وقد نھوا عنہ‘‘ انہیں سود سے سے منع کیا گیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے سود کا لین دین شروع کر دیا جس کی وجہ سے وہ ملعون قرار پائے۔

بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب نبی اکرمؐ نے خیبر کی طرف زکوٰۃ و عشر کی وصولی کے لیے نمائندہ بھیجا تو وہ ساری کھجوریں عمدہ قسم کی لے آیا۔ نبی اکرمؐ نے پوچھا کہ کیا خیبر میں ساری کھجوریں اس طرح کی ہوتی ہیں؟ اس نے کہا نہیں دوسری کھجوریں بھی ہوتی ہیں مگر میں نے عام کھجوریں زیادہ دے کر ان کے عوض یہ عمدہ کھجوریں تھوڑی مقدار میں حاصل کر لی تھیں۔ آپؐ نے اسے سود قرار دے کر اس سے منع فرما دیا اور کہا کہ اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو کھجوروں کا کھجوروں سے براہ راست تبادلہ کرنے کی بجائے درہم و دینار کے ذریعے گھٹیا کھجوریں بیچ کر انہی کے عوض عمدہ کھجوریں خرید لیا کرو۔

بخاری شریف کی ایک اور روایت کے مطابق حضرت بلالؓ نے ایک بار جناب نبی اکرمؐ کو بتایا کہ انہوں نے ردی کھجوریں دو صاع کے حساب سے دے کر ان کے عوض ایک صاع کے حساب سے عمدہ کھجوریں خریدی ہیں، تو نبی اکرمؐ نے اسے ’’عین الربا‘‘ قرار دیا اور ہدایت کی کہ آئندہ اس سے اجتناب کرو اور اگر تبادلہ ضروری ہو جائے تو رقم کے عوض بیچ کر اسی رقم سے عمدہ کھجوریں خرید لیا کرو۔

دور نبویؐ کے ان واقعات اور جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ سود ذاتی قرض میں ہو یا تجارت میں، ہر قسم کے سود کو حرام قرار دیا گیا ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے اس کی مکمل ممانعت فرما دی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد جب ملک کے نئے نظام کی تشکیل کا مرحلہ پیش آیا تو تحریک پاکستان کے قائدین نے جہاں ملک کے عمومی نظام کے بارے میں یہ اعلان کیا کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق ہو گا، وہاں معاشی نظام و قوانین کے بارے میں بھی دوٹوک طور پر وعدہ کیا کہ وہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں طے ہوں گے۔ چنانچہ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں وضاحت سے کہا کہ وہ پاکستان کے معاشی نظام کو مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر استوار دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مغربی نظام معیشت کی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا میں جنگوں اور فساد کا ذریعہ بنا ہے اس لیے ہم اس کی پیروی نہیں کریں گے بلکہ اپنے معاشی نظام کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں تشکیل دیں گے۔ لیکن بانیٔ پاکستان کا یہ اعلان آج تک تشنۂ تکمیل ہے۔ پھر دستور پاکستان کے نفاذ کے وقت اس میں وعدہ کیا گیا کہ ملک میں سودی نظام کو جلد از جلد ختم کر کے غیر سودی اسلامی معیشت کے قوانین لاگو کیے جائیں گے مگر یہ دوٹوک دستوری وعدہ بھی حکمران طبقوں کی بے اعتنائی کی نذر ہو گیا ہے۔

اس کے بعد وفاقی شرعی عدالت، اسلامی نظریاتی کونسل اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے بینک انٹرسٹ کو ربوٰا قرار دینے کا دوٹوک فیصلہ کر کے حکومت سے کہا کہ وہ سودی قوانین کو ختم کر کے اسلامی معاشی نظام کی ترویج کا اہتمام کرے مگر یہ فیصلہ اپیل در اپیل کے مراحل میں الجھا دیا گیا ہے اور وطن عزیز ابھی تک اسلامی معاشی نظام کی برکات سے محروم ہے۔ جبکہ سودی نظام کی نحوست اور بے برکتی دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے حتیٰ کہ اب عالمی سطح پر غیر سودی بینکاری کی ضرورت و افادیت کو تسلیم کیا جانے لگا ہے اور پاکستان کے حکمران بھی غیر سودی بینکاری کی طرف توجہ دیتے نظر آرہے ہیں۔

اس صورتحال میں ملک کے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور متعدد دینی جماعتوں کے راہنماؤں نے باہمی مشاورت کی کئی نشستوں کے بعد یہ طے کیا ہے کہ سودی نظام کی نحوست اور اسلامی نظام کی برکات سے عوام کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ سودی نظام کے خاتمہ کے لیے عوامی بیداری کی مہم منظم کی جائے اور حکمرانوں سے مسلسل مطالبات کیے جائیں کہ وہ ٹال مٹول کا طرز عمل ختم کر کے سودی نظام و قوانین کے خاتمہ کے لیے دوٹوک لائحہ عمل کا اعلان کریں۔ اس مقصد کے لیے ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے نام سے ایک فورم قائم کیا گیا ہے جو صرف سودی نظام کے خاتمے کے ایک نکاتی ایجنڈے کے لیے محنت کرے گا اور تمام مکاتبِ فکر اور طبقات کو اعتماد میں لے کر قومی سطح پر اس جدوجہد کو منظم کیا جائے گا۔ اس جدوجہد کو منظم کرنے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے ذمہ دار راہنماؤں پر مشتمل ایک رابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے اور اس کا کنوینر مجھے بنایا گیا ہے، جبکہ رابطہ کمیٹی میں مولانا عبد المالک خان، علامہ خلیل الرحمان قادری، پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، پروفیسر حافظ عاطف وحید، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، مولانا عبد الرؤف ملک، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، حافظ غضنفر عزیز، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، اور مولانا قاری محمد یعقوب شیخ شامل ہیں۔ میں اگرچہ اب عمر کے اس مرحلہ میں ہوں کہ اتنا بڑا بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہو لیکن جب دوستوں نے اعتماد کیا ہے تو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی ناشکری سے بھی بچنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ میں نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اور دوستوں کے تعاون کی امید پر یہ ذمہ داری قبول کر لی ہے اور اس کے لیے متحرک ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

گکھڑ میرا گھر ہے اور یہ جامع مسجد بچپن سے میرا مرکز ہے۔ یہ منبر جس پر بیٹھ کر میں گفتگو کر رہا ہوں والد محترم امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز کا منبر ہے اور میں آج اس مسجد اور اس منبر سے سودی نظام کے خلاف رابطہ عوام مہم کا آغاز کر رہا ہوں۔ آپ سب دوستوں سے میری درخواست ہے کہ اس مہم میں ہر قسم کے تعاون سے نوازیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا بھی فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کارِ خیر میں خلوص و محنت کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور کامیابی سے ہمکنار کریں تاکہ وطن عزیز سودی نظام کی نحوست و لعنت سے نجات پا کر اسلام کے بابرکت معاشی نظام سے بہرہ ور ہو سکے، آمین یا رب العالمین۔