سیدنا صدیق اکبرؓ اور خلافت راشدہ

   
تاریخ بیان: 
۱۹ جنوری ۲۰۲۱ء

جمادی الاخریٰ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تھی اسی مناسبت سے اس ماہ کے دوران ان کے فضائل و خدمات اور ارشادات و تعلیمات کا عام طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ہر منگل کو نماز عصر کے بعد راقم الحروف کا مختصر درس ہوتا ہے، دوستوں کے مشورہ سے ترتیب یہ بنی ہے کہ اس ماہ ’’سیدنا صدیق اکبرؓ اور خلافت راشدہ‘‘ کے عنوان پر چار دروس میں بات ہو گی، ان شاء اللہ تعالیٰ، پہلے درس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ سب سے افضل صحابی ہیں اس لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی ان کے حوالہ سے یہ ماحول بن گیا تھا کہ کم و بیش سبھی حضرات کا یہ اندازہ تھا کہ آنحضرتؐ کی جانشینی کے منصب پر وہی فائز ہوں گے، اس پر بہت سی شہادتیں احادیث و تاریخ میں موجود ہیں جن میں سے تین چار کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

احد کی جنگ میں جب مسلمانوں کے لشکر میں افراتفری مچی جس کا ذکر قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور ایک مرحلہ میں یہ مشہور ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں، صحابہ کرامؓ میں بے چینی اور اضطراب کا عالم تھا، اس دوران قریش کے لشکر کے کمانڈر حضرت ابو سفیانؓ نے ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر مسلمانوں سے پوچھا کہ کیا تمہارے درمیان محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) موجود ہیں؟ نبی کریمؐ نے اشارے سے اپنے ساتھیوں کو جواب دینے سے روک دیا۔ اس پر جناب ابو سفیان، جو بعد میں مسلمان ہوئے، پھر سوال کیا کہ کیا تم میں ابوبکر موجود ہیں؟ آپؐ نے اس کا جواب دینے سے بھی روک دیا، انہوں نے پھر سوال کیا کہ کیا تم میں عمر بن الخطاب موجود ہیں؟ اس کا جواب دینے سے بھی منع فرما دیا گیا۔ اس پر یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ تینوں شہید ہو گئے ہیں، جناب ابو سفیان نے نعرہ لگایا کہ ’’اعل ھبل‘‘ ھبل زندہ باد۔ اس واقعہ کی مزید تفصیل بیان کرنے کا موقع نہیں ہے یہاں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بات کفار کے لشکر کے سربراہ کے ذہن میں بھی تھی کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوں گے تو ان کی جگہ ابوبکرؓ ہوں گے، اور اگر وہ بھی نہ ہوئے تو اس منصب پر حضرت عمرؓ ہوں گے، یہ ترتیب ان کے ذہن میں واضح تھی۔

دوسری شہادت ام المومنین حضرت عائشہؓ کی ایک طویل روایت کا حصہ ہے کہ جب بیماری کے ایام میں نبی کریمؐ نے فرمایا کہ میں مسجد میں جانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں اس لیے ابوبکرؓ سے کہو کہ وہ نماز پڑھائے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ وہ ذاتی طور پر اس کو مناسب نہیں سمجھتی تھیں اس لیے انہوں نے آپؐ سے عرض کیا کہ وہ رقیق القلب آدمی ہیں آپ کے مصلے پر کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ اس لیے ان کی بجائے حضرت عمرؓ سے فرما دیں، مگر نبی اکرمؐ نے یہ بات نہیں مانی اور دوبارہ حکم دیا کہ ابوبکرؓ سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ انہوں نے حضرت حفصہؓ سے بھی یہ بات حضورؐ کو کہلوائی جس پر آپؐ ناراض ہو گئے اور ڈانٹتے ہوئے پھر حکم دیا کہ ابوبکرؓ سے کہو کہ نماز پڑھائے۔ چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں مسجد میں حضرت ابوبکرؓ مسلسل نمازیں پڑھاتے رہے۔

اور اس پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک ارشاد بھی احادیث میں مذکور ہے کہ جس کو رسول اللہ نے ہمارے دین کا امام بنایا ہم نے اسے اپنی دنیا کا امام بھی بنا لیا۔جناب نبی اکرمؐ کا اس قدر اصرار کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ کو اپنی جگہ نماز کی جماعت کے لیے کھڑا کرنا واضح کرتا ہے کہ اس منصب کے لیے آپؐ کے ذہن میں بھی صدیق اکبرؓ ہی تھے۔

ایک اور روایت بخاری شریف کی عرض کروں گا کہ ایک موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ اپنے بھائی اور والد دونوں کو بلاؤ تاکہ میں انہیں لکھ کر دے دوں، ایسا نہ ہو کہ میرے بعد مختلف لوگ اس تمنا کا اظہار کرنے لگ جائیں۔ پھر فرمایا کہ رہنے دو ’’یابی اللہ والمومنون الا ابابکر‘‘ اللہ تعالیٰ اور مومنین دونوں ابوبکرؓ کے علاوہ کسی کو قبول نہیں کریں گے۔ اس ارشاد گرامی میں حضرت ابوبکرؓ کی اہلیت و استحقاق کا اظہار بھی تھا اور مسلمانوں کی اجتماعی صوابدید پر اعتماد کا اظہار بھی تھا کہ وہ اجتماعی طور پر کوئی غلط فیصلہ نہیں کریں گے۔ یہاں متکلمین فرماتے ہیں کہ حکمت کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو نامزد نہ کرتے اور فیصلہ مسلمانوں پر چھوڑ دیتے ورنہ نامزد کرنا ہی قیامت تک کے لیے قانون بن جاتا جس سے مسلمانوں کی عمومی رائے اور اہل حل و عقد کی مشاورت کی نفی ہو جاتی۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آنحضرتؐ کے وصال کے بعد مختلف مجالس میں بحث و مباحثہ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کو آپؐ کا جانشین اور خلیفہ بنانے کا اجتماعی فیصلہ ہوا۔ اور اسی بنیاد پر فقہاء کرامؒ لکھتے ہیں کہ کسی کو خلیفہ بنانے کا سب سے بہتر اور اولین طریقہ یہی ہے کہ مسلمانوں کی عمومی رائے اور ارباب حل و عقد کی مشاورت کے ساتھ خلیفہ کا انتخاب کیا جائے۔

ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ ایک خاتون جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں آئیں اور کوئی سوال کیا۔ آپؐ نے اسے پھر آنے کا کہا۔ اس نے پوچھا کہ اگر آپ نہ ہوئے تو پھر میں کیا کروں؟ فرمایا کہ ابوبکرؓ کے پاس جانا۔ اس نے سوال کیا کہ اگر وہ بھی نہ ہوئے تو پھر؟ آپؐ نے فرمایا کہ پھر عمرؓ کے پاس جانا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں بھی ترتیب وہی تھی جس کا اظہار حضرت ابو سفیانؓ نے جنگ احد کے موقع پر کیا تھا اور اسی ترتیب سے خلافت راشدہ کا نظام آگے بڑھا۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ جناب نبی اکرمؐ کے جانشین، مسلمانوں کے خلیفہ اول اور خلافت راشدہ کا نقطۂ آغاز ہیں جن کا انتخاب مسلمانوں نے عمومی رائے سے کیا اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تمام طبقات نے اس پر اتفاق کیا۔

(روزنامہ اسلام، لاہور ۔ ۲۱ جنوری ۲۰۲۱ء)