حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، جدائی کے بیس سال

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۰۰ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو ہم سے جدا ہوئے دو عشرے ہونے کو ہیں لیکن ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ وہ نہ صرف ہمارے درمیان موجود تھے بلکہ اہل حق کی دینی و سیاسی راہنمائی کے لیے پوری طرح متحرک اور سرگرم عمل بھی تھے۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ ہماری کمزوریاں جانے والوں کی خوبیاں ہمارے سامنے زیادہ نمایاں کرتی ہیں اور ان کا شدت کے ساتھ احساس دلاتی ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی اپنے جانے والے بزرگوں کے حوالہ سے یہی معاملہ ہو رہا ہے۔ آج امت مسلمہ کو درپیش مسائل اور پاکستانی قوم کو درپیش بحران کے تناظر میں ہماری مصلحت کوشیاں اور حقائق کا سامنا کرنے سے گریز کا طرز عمل ہمیں ان بزرگوں کی شدت کے ساتھ یاد دلا رہا ہے جو قومی ضروریات، ملی مفادات اور دینی تقاضوں کو ہر مصلحت پر مقدم سمجھتے تھے اور ان کے لیے ہر وقت قربانی اور ایثار کا مظاہرہ کرنے کو تیار رہتے تھے۔

حضرت مولانا مفتی محمودؒ بھی انہی بزرگوں میں سے تھے اور میں ان کے ایک رفیق کار اور ٹیم کے ایک رکن کی حیثیت سے اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ دینی تقاضے اور ملی ضروریات کے حوالہ سے مصلحت اور مفاد کا کوئی کانٹا بھی ان کے دامن سے الجھنے کا حوصلہ نہیں کر پاتا تھا۔ بلوچستان کا مسئلہ ان کے دور میں بھی تھا اور اس حساس صوبے میں فوجی آپریشنز نے وہاں کے عوام کے دلوں میں احساس محرومی اور احساس تنہائی کا جو بیج بویا تھا، مولانا مفتی محمودؒ نے اس وقت بلوچستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے نہ صرف یہ کہ صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ کو ٹھوکر مار دی تھی بلکہ متحدہ جمہوری محاذ کے پلیٹ فارم پر لاہور، ملتان اور دیگر مقامات پر سینکڑوں جماعتی کارکنوں کی گرفتاریاں پیش کر کے بلوچ عوام کے زخمی دلوں پر مرہم رکھی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب متحدہ جمہوری محاذ نے پنجاب کے مختلف شہروں میں دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کر کے گرفتاریاں پیش کرنے کا فیصلہ کیا تو جمعیۃ علماء اسلام کے ایک اجلاس میں مولانا مفتی محمودؒ سے سوال کیا گیا تھا کہ دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ تو ہماری سیاسی زندگی کے معمولات میں سے ہے جس سے ہمیں وقتاً فوقتاً سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کا اس قدر سختی کے ساتھ نوٹس لینے کی کیا ضرورت ہے؟ اس پر مفتی صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ بات دفعہ ۱۴۴ کی نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم ان گرفتاریوں کے ذریعہ بلوچستان کے عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم حکمرانوں کے ساتھ نہیں بلکہ تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارے کیمپ میں ہیں۔

ایک سیاسی کارکن کے طور پر میرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ اگر اس موقع پر پنجاب میں گرفتاریاں پیش نہ کی جاتیں، مولانا مفتی محمودؒ صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ نہ دیتے، چودھری ظہور الٰہی شہید مچھ جیل میں بند نہ کیے جاتے اور بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر مولوی سید شمس الدینؒ جو اس وقت جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر تھے جام شہادت نوش نہ کرتے تو بلوچستان کے عوام کو یہ یقین دلانا مشکل ہوگیا تھا کہ ان کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی میں پنجاب کے عوام بالخصوص اور ملک بھر کے عوام بالعموم شریک نہیں ہیں۔ سچی بات ہے کہ آج بلوچستان کی صورتحال دیکھ کر مجھے مولانا مفتی محمودؒ، چودھری ظہور الٰہی مرحوم اور مولوی سید شمس الدین شہیدؒ شدت کے ساتھ یاد آرہے ہیں اور میری آنکھیں تلاش کر رہی ہیں کہ بلوچستان کے مظلوم عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے اور ان کے غم میں عملی طور پر شریک ہو کر اسے کم کرنے کے لیے آج کون مفتی محمودؒ بنتا ہے، کون چودھری ظہور الٰہیؒ کے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہوتا ہے اور کون مولوی سید شمس الدین شہیدؒ کے کردار کے لیے آگے بڑھتا ہے۔

مولانا مفتی محمودؒ پاکستان میں نفاذِ شریعت کے علمبردار تھے اور انہوں نے ۱۹۷۳ء کے دستور کی اسلامی بنیادوں پر تشکیل اور جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں اسلامائزیشن کے عملی اقدامات کے لیے جو تاریخی کردار ادا کیا وہ اسلامائزیشن کی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ یہ درست ہے کہ اس مہم میں وہ اکیلے نہیں تھے اور ان کے ساتھ مختلف مکاتب فکر اور مختلف دینی جماعتوں کے قائدین کی ایک پوری کھیپ تھی لیکن اس کھیپ کی فکری قیادت انہوں نے ہی کی تھی اور اس ساری مہم کا ’’ماسٹر مائینڈ‘‘ وہی تھے۔ انہوں نے جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کا مسلسل ساتھ دینے کے بعد صرف اس لیے اپنی راہیں ان سے الگ کر لی تھیں کہ ان کے خیال میں نفاذِ اسلام کے سلسلہ میں جنرل ضیاء الحق مرحوم کی رفتار سست تھی اور ان کی ترجیحات میں سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں مولانا مفتی محمودؒ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے سب سے بڑے نقاد تھے، وہ اپنے عوامی خطابات میں ان پر سخت سے سخت الزامات عائد کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے اور ان کی زندگی کے آخری ایام جنرل ضیاء الحق مرحوم کے خلاف وسیع تر سیاسی محاذ قائم کرنے کی کوششوں میں بسر ہوئے۔ مجھے ان کا جمعہ کے اجتماع سے وہ خطاب یاد ہے جو انہوں نے اپنی وفات سے صرف ایک ہفتہ قبل جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں فرمایا تھا۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے خلاف ان کے لہجے کی گھن گرج آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے، وہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے مد مقابل صرف اس لیے آرہے تھے کہ ان کے خیال میں نفاذِ اسلام کے لیے جنرل صاحب کے اقدامات میں سنجیدگی کا عنصر کم ہوتا جا رہا تھا۔

مگر آج تو نفاذِ اسلام کی ساری بساط ہی لپیٹی جا رہی ہے۔ دستور پاکستان کی جن دفعات کی بنیاد پر اسلامائزیشن کی بات ہوتی ہے سرے سے وہ دفعات ہی مجوزہ ترامیم کی زد میں ہیں۔ اور بتایا جاتا ہے کہ قراردادِ مقاصد اور اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دینے والی دفعات کو ختم کرنے یا کم از کم غیر موثر بنا دینے کی تجاویز اعلیٰ حلقوں میں گردش کر رہی ہیں۔ ملک کو اس کے اسلامی تشخص سے محروم کرنے کے لیے سیکولر سائیڈ کے سارے کردار متحرک ہیں، چوکس ہیں اور فعال ہیں۔ مگر مولانا مفتی محمودؒ کے کردار کا خانہ خالی نظر آرہا ہے اور مولانا شاہ احمد نورانی کے کردار کے خانے میں بھی کسی نمایاں چہرے کی جھلک دکھائی نہیں دے رہی۔

افغانستان میں سوویت یونین کی فوجیں اتریں تو مولانا مفتی محمودؒ اکیلے نہیں بلکہ ان کی ساری جماعت میدان عمل میں اتر آئی تھی۔ انہوں نے اس کے خلاف افغان عوام کی مسلح مزاحمت کو نہ صرف افغانستان کی آزادی کی جنگ اور شرعی جہاد کہا بلکہ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کی جنگ بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوویت یونین کی نظریں اصل میں پاکستان کے ساحل پر ہیں اور افغانستان اس کا صرف راستہ ہے، اور یہ کہہ کر پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے میدان عمل میں کود پڑے تھے۔ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری آج بھی زد میں ہے، اسے آج بھی افغانستان ہی کی جانب سے خطرات لاحق ہیں اور صورتحال جوں کی توں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تب سوویت یونین کی افواج تھیں اور اب ان کی جگہ امریکی اتحاد کی فوجوں نے لے لی ہے۔ میدان جنگ وہی ہے، جنگ کے اہداف بھی وہی ہیں، مرنے والے افغان بھی وہی ہیں اور پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کو درپیش خطرات کا لیول بھی وہی ہے۔ مگر آج کوئی مفتی محمودؒ نظر نہیں آرہا جو قومی خودمختاری اور ملکی سالمیت کا پرچم اٹھا کر میدان میں آئے اور قوم کو دعوت دے کہ اگر اپنا وطن عزیز ہے اور اس کی وحدت و سالمیت عزیز ہے تو غیر ملکی فوجوں کا راستہ افغانستان میں ہی روک دو، انہیں آگے نہ بڑھنے دو اور ان کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کے پشتیبان بنو کہ وہ تمہاری ہی جنگ لڑ رہے ہیں اور پاکستان کی وحدت و سالمیت کے لیے ڈھال بنے ہوئے ہیں۔

مولانا مفتی محمودؒ کی خوبیاں ہمیشہ یاد رکھے جانے کے قابل ہیں اور پاکستان کی قومی سیاست میں ان کا روشن کردار آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے جس جرأت، حوصلہ، تدبر، عزیمت اور حکمت کے ساتھ قومی سیاست میں اہل دین کی قیادت کی اور دینی جدوجہد کے میدان میں پیش رفت کی ہمارے لیے موجودہ بحرانی حالات میں یقیناً وہ راہنمائی او رحوصلہ کا باعث بن سکتے ہیں۔ بشرطیکہ ہم اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں اور مولانا مفتی محمودؒ کی طرح ملی مقاصد اور دینی تقاضوں کی خاطر وقتی مفادات اور خود ساختہ مصلحتوں کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔