جب حضرت عمرؓ نے حق مہر کی حد مقرر کر دی

اسلام میں عورت کا مقام کیا ہے اور عورت کی رائے کا حق کیا ہے؟ تفسیر ابن کثیر میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ واقعہ نقل کرتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ ہے، خلافت کا دور ہے۔ حضرت عمرؓ نے مسجد نبویؐ میں جمعے کے خطبے کے دوران ایک اعلان فرمایا، حکم صادر فرمایا، امیر المؤمنین تھے، خلیفہ راشد تھے۔ آرڈر یہ جاری کیا کہ، مہر جو شادی میں ہوتا ہے، فرمایا مہر میں لوگ بڑی بڑی رقمیں مقرر کرنے لگے ہیں۔ اس وقت تو جوش و خروش میں مقرر کر دی، بعد میں جب دینے کی باری آتی ہے تو پھر مسئلہ خراب ہو جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اعلان فرمایا کہ شادی میں بڑے بڑے مہر مقرر کرنے شروع کر دیے ہیں انہوں نے، بعد میں جھگڑا ہوتا ہے، تو میں اعلان کرتا ہوں کہ چار سو درہم سے زیادہ کسی شادی میں مہر مقرر نہ کیا جائے۔ چار سو درہم۔ چاندی کا سکہ ہوتا تھا ساڑھے تین ماشے کا۔ حضرت عمرؓ نے آرڈر جاری کر دیا۔

جمعہ پڑھ کر فارغ ہوئے، باہر نکلے، عورتیں بھی آئی ہوئی تھیں، حافظ ابن کثیرؒ کی روایت کے مطابق ایک قریشی خاتون نے دروازے پر روک لیا۔ امیر المؤمنین! آپ نے مہر کی رقم پر پابندی لگا دی ہے؟ فرمایا، ہاں لگا دی ہے۔ آپ نے کہا کہ چار سو درہم سے زیادہ مہر نہ دیا جائے کسی عورت کو؟ فرمایا، ہاں میں نے کہا ہے۔ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے، آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ یا اللہ! ایک عورت مسجد نبویؐ کے دروازے پر حضرت عمرؓ کو ٹوک رہی ہے کہ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے اور حوالہ دیا کہ آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ فرمایا خدا کی بندی! قرآن میں یہ مسئلہ کدھر ہے؟ اس نے کہا، ہے، میں بتاتی ہوں۔ اس نے کہا قرآن کریم نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے ’’وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واٰتیتم احداھن قنطارًا فلا تأخذوا منہ شیئًا‘‘۔ خاوند سے بیوی کو ملنے والی رقم اس کا ذکر کیا ہے قرآن کریم نے۔ اگر تم نے اپنی بیویوں کو قنطار برابر دولت بھی دی ہے تو دینے کے بعد اب واپس نہ مانگنا شروع کر دو۔ جو دے دیا بس دے دیا۔ قنطار کا لفظ ہے، قنطار ڈھیر کو کہتے ہیں۔ محاورے کا ترجمہ یہ بنتا ہے کہ اگر تم نے اپنی بیوی کو ڈھیروں دولت بھی دے دی ہے تو ’’فلا تأخذوا‘‘ اب واپس نہ مانگنا شروع کر دو، ہو گئی اس کی، ملک ہو گئی ہے۔ کہنے لگی امیر المؤمنین قرآن کریم تو ہمیں ڈھیروں دلواتا ہے خاوندوں سے، آپ کہتے ہیں چار سو درہم سے زیادہ مت دو۔

استدلال دیکھیں اس عورت کا۔ واپس گئے مسجد نبویؐ میں، جا کر منبر پر کھڑے ہوئے، لوگوں کو بلایا آؤ بھئی بات سنو۔ میں نے ابھی اعلان کیا تھا تمہارے سامنے کہ چار سو درہم سے زیادہ مہر مقرر نہ کیا جائے۔ مجھے مسجد کے دروازے پر ایک قریشی خاتون نے روکا ہے، اس نے مجھے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیا ہے، خدا کی قسم اس آیت کی طرف میرا دھیان پہلے نہیں تھا، اس نے توجہ دلائی ہے، وہ ٹھیک کہتی ہے، میرا اعلان غلط تھا میں اپنا اعلان واپس لیتا ہوں۔ ایک جملہ پھر ہنستے ہنستے دلگی کے انداز میں فرمایا۔ میری بہن اگر کوئی سن رہی ہے تو میں بہنوں کو یہ جملہ بطور تحفہ بتایا کرتا ہوں۔ فرمایا کہ اب تو مدینہ کی عورتیں عمر سے بھی زیادہ قرآن جاننے لگی ہیں۔

اس سے آپ اندازہ کر لیں کہ عورت کا رائے کا معیار کیا ہے، عورت کا علم کا معیار کیا ہے۔ عورت کا علم میں اچھے زمانوں میں کیا معیار تھا، اور رائے کا معیار کیا ہے کہ حضرت عمرؓ جیسے امیر المؤمنین کو راستے میں روک کر اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ہاں، شرط ہے کہ دلیل ہو پاس، بغیر دلیل کے نہیں، عورتوں والا دھکا نہ ہو۔ دلیل اگر اس کے پاس ہے تو حضرت عمرؓ جیسے امیر المؤمنین کو راستے میں روک کر اپنا آرڈر واپس لینے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اسلام نے تو عورت کی رائے کا اس حد تک احترام کیا ہے۔