عورت کی حکمرانی اور مولانا فضل الرحمان کا موقف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ مارچ ۱۹۸۹ء

عورت کی حکمرانی کے بارے میں تمام مکاتب فکر کے جمہور علماء ایک طرف ہیں کہ قرآن و سنت کے صریح احکام اور امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ تواتر عملی کے باعث کسی مسلمان ملک پر عورت کے حکمران بننے کا شرعاً کوئی جواز نہیں ہے۔ جبکہ علماء کہلانے والے چند افراد دوسری طرف ہیں جو کسی منطق، استدلال اور جواز کے بغیر سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اس پراپیگنڈا میں مصروف ہیں کہ عورت کے حکمران بن جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خیر یہ تو تاریخ کا فطری عمل اور ہر دینی جدوجہد کا ناگزیر حصہ ہے کہ کوئی اپنے لیے امام احمد بن حنبلؒ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور حضرت مجدد الفؒ ثانی کا کردار پسند کرتا ہے اور کسی کے سر پر ابوالفضل اور فیضی کی دستار سج جاتی ہے۔ لیکن اس ساری کشمکش میں قومی اسمبلی میں علماء کے ایک گروپ کی قیاادت کرنے والے مولانا فضل الرحمان کا موقف اور رویہ ملک کے دینی حلقوں کے لیے معمہ بنا ہوا ہے کیونکہ مولانا موصوف عورت کی حکمرانی شرعاً جائز نہ ہونے کے بارے میں علماء کے متفقہ فتویٰ سے اختلاف کی ہمت نہیں پا رہے اور انہیں یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ علماء کا فتویٰ درست ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں اس فتویٰ کی اہمیت اور وزن کو کم کرنے کا فکر بھی دامن گیر ہے اور یہ مقصد وہ فتویٰ دینے والے علماء کی کردارکشی کی مہم چلا کر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مولانا موصوف نے گزشتہ دنوں اپنے بیرونی دورہ سے واپسی پر اس مہم کا آغاز کیا اور ملتان میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بہت کچھ کہا جس کا خلاصہ روزنامہ نوائے وقت ملتان اور امروز ملتان (۷ مارچ) کے حوالہ سے درج ذیل ہے:

  • عورت کی حکمرانی کے خلاف علماء کا فتویٰ درست ہے لیکن اس میں عوامی کشش نہیں ہے۔
  • عورت کی حکمرانی کے خلاف راولپنڈی میں منعقد ہونے والے ’’علماء کنونشن‘‘ کے شرکاء کی اکثریت نے ۱۹۶۴ء کے صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی۔
  • فتویٰ دینے والوں میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو ضیاء حکومت کے اقدامات کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

حالانکہ خود مولانا موصوف بخوبی یہ سمجھتے ہیں کہ کسی فتویٰ کے درست ہونے کے بعد اس کے لیے عوامی کشش ضروری نہیں ہوتی اور اس قسم کی شرط لگانا فتویٰ کے شرعی تقاضوں کی نفی کے مترادف ہے۔ اسی طرح وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ۱۹۶۴ء میں علماء کی تینوں بڑی جماعتوں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان، جمعیۃ علماء پاکستان اور جمعیۃ اہل حدیث پاکستان نے یہ کہہ کر محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت سے انکار کر دیا تھا کہ چونکہ عورت شرعاً حکمران نہیں بن سکتی اس لیے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ جبکہ متحدہ علماء کنونشن راولپنڈی میں شریک ہونے والے دو ہزار سے زائد علماء میں سے ایسے بیس افراد کی نشاندہی کرنا بھی مولانا فضل الرحمان کے بس میں نہیں ہے جن پر وہ محترمہ فاطمہ جناح کی (صدارتی مہم کی) حمایت کا الزام ثابت کر سکیں۔

جہاں تک جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے اقدامات کی حمایت کا تعلق ہے بلاشبہ علماء کی ایک بڑی تعداد نے:

  • قراردادِ مقاصد کو آئین کا حصہ بنانے،
  • حدود آرڈیننس،
  • امتناع قادیانیت آرڈیننس،
  • احترام رمضان آرڈیننس،
  • احترام صحابہ کرامؓ و اہل بیتؓ آرڈیننس

اور جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے اس جیسے بہت سے اسلامی اقدامات کی حمایت کی ہے۔ لیکن ان اقدامات کی حمایت اور ان کے تحفظ کی بات تو خود مولانا فضل الرحمان بھی آٹھویں ترمیمی بل کی بحث کے حوالہ سے کر رہے ہیں اور مسلسل آٹھ سال تک مخالفت کے باوجود انہیں انہی علماء کے موقف پر آنا پڑا ہے جن پر وہ ضیاء حکومت کے اقدامات کی حمایت کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس لیے یہ الزام ان کی زبان سے جچتا نہیں ہے۔اور اب روزنامہ امروز لاہور (۱۷ مارچ) کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ

’’وہ لوگ جو عورت کی حکمرانی کے بارے میں شوروغوغا کر رہے ہیں اور ہم پر پیپلزپارٹی سے تعاون کا الزام لگا رہے ہیں انہوں نے ایک ایسے بیوروکریٹ سیاستدان کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا جس نے ایک عورت کو نامزد کیا تھا۔ ہمارے آئین میں عورت کی حکمرانی کی گنجائش موجود ہے اور اس آئین میں ان لوگوں نے کوئی ترمیم نہیں کی جنہیں مجلس شوریٰ اور دوسرے غیر جمہوری اداروں میں نمائندگی حاصل تھی۔‘‘

ہم مولانا موصوف کی خدمت میں بصد ادب و احترام عرض کریں گے کہ

  • عورت کی حکمرانی کے بارے میں علماء کی جدوجہد ’’شوروغوغا‘‘ نہیں بلکہ قرآن و سنت اور اجماع امت کی صریح خلاف ورزی پر دینی حمیت اور احساس فرض کا فطری اظہار ہے جو علماء کی دینی و شرعی ذمہ داری ہے۔ اگر ادائے فرض کی اس دینی جدوجہد میں شرکت کی توفیق مولانا موصوف کو نہیں ہے تو کم از کم اس کے خلاف ان لوگوں کی زبان استعمال کرنے سے گریز کریں جن کے ساتھ تعاون کے الزام سے بچنے کی وہ ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
  • آئین میں عورت کو حکمران بنانے کی گنجائش نہیں ہے، آئین اس بارے میں خاموش ہے۔ یہ خاموشی قراردادِ مقاصد کو آئین کا حصہ بنانے سے قبل تو کسی درجہ میں دلیل بن سکتی تھی لیکن جب سے قراردادِ مقاصد کو آئین کا باضابطہ حصہ بنا دیا گیا ہے تو آئینی طور پر اس امر کی پابندی ضروری ہو گئی ہے کہ کوئی فیصلہ قرآن و سنت کے خلاف نہ کیا جائے۔ اس لیے عورت کو حکمران بنانا قراردادِ مقاصد کی طرف سے عائد کی جانے والی اس آئینی پابندی کے منافی ہے۔
  • علماء نے جمہوری اور غیر جمہوری دونوں قسم کے اداروں میں عورت کی حکمرانی کے بارے میں شرعی موقف کی وضاحت اور ترجمانی کی ہے۔ ۱۹۷۳ء کی دستور ساز اسمبلی میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحقؒ کی پیش کردہ آئینی ترامیم اور ۱۹۸۵ء کی مجلس شوریٰ کی قائم کردہ آئینی کمیٹی میں مولانا قاضی عبد اللطیف کا اس مسئلہ پر اختلافی نوٹ ان دونوں اداروں کے ریکارڈ میں موجود ہے جسے مولانا موصوف با آسانی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
  • بیوروکریٹ سیاستدان جناب غلام اسحاق خان کو صدارت کے لیے نامزد کرنے اور ووٹ دینے کا پس منظر بھی وہ نہیں ہے جو مولانا فضل الرحمان ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ ملک کے محب وطن سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کے لیے یہ صورتحال قابل قبول نہیں تھی کہ ملک کی صدارت اور وزارت عظمیٰ دونوں ایک ہی سیاسی کیمپ (ایم آر ڈی) کے پاس چلی جائیں اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو جاتا تو ’’ضیاء دشمنی‘‘ کی بنیاد پر تشکیل پانے والا یہ سیاسی کیمپ آٹھویں ترمیمی بل سمیت بہت سے اقدامات کا جھٹکا کر کے ملک کے سیاسی توازن کو تباہ کر دیتا۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ صدارت پر کسی ایسے شخص کو لایا جائے جو مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو اور اس کا تعلق ضیاء دشمنی کے سیاسی کیمپ سے نہ ہو تاکہ سیاسی توازن برقرار رہے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو ضیاء دشمنی کے بہانے عوامی مسائل کو فٹ بال بنانے کا موقع نہ مل سکے۔

    جہاں تک پیپلز پارٹی کی طرف سے جناب غلام اسحاق خان کی حمایت کا تعلق ہے تو یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ اس میں پیپلز پارٹی کے داخلی عوامل کی بجائے خارجی محرکات کا دخل زیادہ تھا۔ اگر پیپلز پارٹی ملک کی صدارت کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے میں خودمختار ہوتی تو اس کا فیصلہ یقیناً جناب غلام اسحاق خان کے حق میں نہ ہوتا لیکن اسے اپنے اقتدار کی بقا و استحکام کے لیے قومی سیاست میں توازن کی اس شرط کو بادلِ ناخواستہ قبول کرنا پڑا۔ باقی رہی بات عورت کی حکمرانی کے بارے میں جناب غلام اسحاق خان کے کردار کی تو علماء نے اس کی کبھی حمایت نہیں کی۔

    ایک خاتون کو وزیراعظم نامزد کرنے سے قبل علماء کی طرف سے قائد جمعیۃ علماء اسلام مولانا سمیع الحق نے جناب غلام اسحاق خان سے ملاقات کر کے انہیں شرعی موقف سے آگاہ کیا اور اب بھی علماء صدرِ پاکستان کو اس ذمہ داری سے بری الذمہ قرار نہیں دے رہے بلکہ علماء کے نزدیک جناب غلام اسحاق خان اور پیپلز پارٹی کی ہائی کمان دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورت کی غیر شرعی حکمرانی کے بارے میں علماء کے متفقہ موقف کو تسلیم کرتے ہوئے حکمران پارٹی کے کسی مرد لیڈر کو وزیراعظم بنانے کا اہتمام کریں۔

ان گزارشات کے بعد ہم مولانا فضل الرحمان کی خدمت میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ایک خالص دینی مسئلہ کے بارے میں ان کا یہ طرزعمل کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔ یہ بجا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ گزشتہ نو سال کی سیاسی رفاقت کے ساتھ ساتھ دوستی کی قدر مشترک بھی پیپلز پارٹی کے خلاف کوئی واضح موقف اختیار کرنے میں ان کے لیے رکاوٹ ہے، لیکن اسلامی اصول و احکام اور شرعی تقاضوں کی پاسداری کے لیے ایسی رکاوٹوں کو عبور کرنا ہی ایک ایسا درست طرزعمل ہے جو علماء کے شایان شان ہے اور جس کی توقع ملک کے دینی حلقے ’’علماء‘‘ کے عنوان سے کام کرنے والی جماعت سے بجا طور پر رکھتے ہیں۔