اونٹ کے عوض بچی خریدنے والا عرب سردار

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے وہ رسمِ بد جو زندہ بچیوں کو دفن کرنے کی رسم تھی وہ ختم ہوئی۔ ورنہ اکثر عرب قبائل میں یہ رواج تھا کہ لڑکی کو زندہ ہی دفن کر دیتے تھے۔ قرآن کریم میں ہے ’’اذا بشر احدھم بالانثٰی‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی ہے تو ’’ظل وجہہ مسودًا‘‘ چہرہ اس کا سیاہ ہو جاتا ہے ’’وھو کظیم‘‘ غصہ پینے والی کیفیت ہوتی ہے ’’یتوارٰی من القوم‘‘ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے ’’من سوء ما بشر بہ‘‘ کہ لوگ مجھے طعنہ دیں گے تیرے گھر بیٹی پیدا ہو گئی ہے، اور اس غم میں پڑا رہتا ہے کہ ’’ام یمسکہٗ علیٰ ھون ام یدسہٗ فی التراب‘‘ کہ ذلت برداشت کر کے بچی کو زندہ رکھے یا عزت کے ساتھ زندہ دفن کر دے اس کو۔

آپ ایک بات سے اندازہ فرمائیں ایک عرب شاعر ہیں فرزدق، ان کے دادا ہیں صعصعہ بن ناجیہ، وہ اپنا واقعہ بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ میرا اونٹ گم ہو گیا تو میں جنگل میں جا رہا تھا، ایک خیمے کے پاس سے گزر ہوا، رات کا وقت تھا سردی تھی، ایک بوڑھا آگ سینک رہا تھا، میں بھی اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا بھئی کہ میرا اونٹ گم ہو گیا ہے اور اب رات پڑ گئی ہے تو رات یہیں کہیں تمہارے پاس لیٹا رہوں گا اور کل پھر تلاش کروں گا۔ پوچھا تم یہاں باہر کیوں بیٹھے ہو؟ اس نے کہا میری بیوی اندر ہے، بچہ بچی پیدا ہونے والا ہے، میں باہر انتظار میں ہوں۔ صعصعہ کہتا ہے کہ میرے ہوتے ہوئے اس نے آواز دی خیمے کے اندر کہ اگر بچہ پیدا ہوا تو مجھے بتانا اور اگر بچی پیدا ہوئی تو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے خیمے کے پچھلے دروازے سے جا کر گڑھے میں دبا دینا اور آ کر مجھے بتانا کہ دبا دیا ہے۔ وہ اپنے گھر والوں سے کہہ رہا ہے کہ اگر بچہ پیدا ہوا تو مجھے بتانا، اور اگر لڑکی پیدا ہوئی تو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے، پچھلے دروازے سے باہر نکلنا اور گڑھے میں دبا کر اس کو مٹی میں مجھے آ کر بتا دینا کہ ہم نے قصہ تمام کر دیا ہے۔

صعصعہ کہتا ہے کہ اتفاق ایسا ہوا کہ تھوڑی دیر کے بعد آواز آئی کہ بچی پیدا ہوئی ہے تو مجھے پتہ تھا کہ یہ زندہ بچی دفن کر دیں گے۔ میں نے کہا اللہ کے بندے! ایسا کرو یہ بچی مجھے دے دو، میں اس کے عوض تمہیں ایک اونٹ دوں گا، اونٹ کے عوض بچی بیچ دو مجھے۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ میں بچی گھر لے آیا، بچی کو پالا پوسا۔

کہتے ہیں اس کے بعد میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایسی بات ڈالی کہ جہاں کہیں مجھے پتہ چلتا کہ کسی خاندان میں بچی پیدا ہوئی ہے اور وہ اسے دفن کر دیں گے تو میں جاتا اور اونٹ کے عوض بچی لے آتا۔ جب میں نے اسلام قبول کیا تو میری حویلی کے صحن میں تین سو بچیاں پل رہی تھیں۔ فرزدق کا دادا کہتا ہے، سردار تھا نا یہ بھی، تو کہتا ہے کہ میری حویلی کے صحن میں تین سو بچیاں پل رہی تھیں جب میں نے اسلام قبول کیا ہے۔ یہ واقعہ میں نے عمومی کیفیت کے حوالے سے بتایا ہے۔