مولانا عبد الرؤفؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ اپریل ۲۰۰۷ء
اصل عنوان: 
مرحوم بزرگوں اور دوستوں کی یاد میں

مولانا عبد الرؤف آزاد کشمیر میں بیس بگلہ کے مقام پر دارالعلوم فیض القرآن کے مہتمم تھے اور جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے۔ ان کے والد محترم مولانا عبد الغنیؒ کا شمار آزاد کشمیر کے بڑے علماء کرام میں ہوتا تھا اور میرے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ابتدائی شاگردوں میں سے تھے۔ دارالعلوم فیض القرآن بیس بگلہ آزاد کشمیر کے قدیمی مدارس میں سے ہے جہاں حضرت مولانا عبد الغنیؒ کے دور میں سے ہی تعلیمی عمل جاری تھا۔ مجھے متعدد بار وہاں حاضری کا موقع ملا بلکہ بحمد اللہ اس دور میں بھی جاتا رہا ہوں جب بیس بگلہ کے لیے کوئی سواری میسر نہیں ہوتی تھی اور جھالہ سے پہاڑ کی سیدھی چڑھائی کا کم و بیش سات آٹھ میل کا پیدل سفر ہوتا تھا۔ جب میں نے پہلی بار حضرت والد مدظلہ کو بتایا کہ میں بیس بگلہ گیا ہوں تو تعجب سے پوچھا کہ کیسے گئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ جھالہ سے چڑھائی کی ہے تو حیرانی اور خوشی کا اظہار کیا اور بتایا کہ میں جب قیام پاکستان کے دور میں بیس بگلہ گیا تھا تو کوہالہ سے پیدل سفر کیا تھا۔

بیس بگلہ آزاد کشمیر کا وہ بدقسمت شہر ہے جو ہزارہ ڈویژن کے بالاکوٹ کی طرح مکمل طور پر زلزلہ کی تباہ کاریوں کی نذر ہوگیا ہے۔ زلزلہ سے قبل میں وہاں گیا تو دارالعلوم فیض القرآن کی نئی عمارت اور خوبصورت جامع مسجد دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی تھی مگر زلزلہ کے بعد دیکھا تو صدمہ ہوا، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پورا شہر ڈھا دیا گیا ہو، مسجد و مدرسہ کی نئی تعمیر شدہ عمارتیں زمین بوس ہو چکی تھیں۔ مولانا عبد الرؤف اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور مدرسہ و مسجد کی دوبارہ تعمیر کے لیے مصروف عمل تھے کہ بارگاہ ایزدی سے بلاوا آگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائیں اور ان کے پسماندگان کو مدرسہ و مسجد کی تعمیر کا مشن مکمل کرنے کی توفیق اور اسباب مہیا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔