حضورؐ کے رمضان المبارک کے معمولات

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ رمضان میں اور غیر رمضان میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں تین باتوں کا فرق ہوتا تھا۔

(۱) ایک تو روزہ کا۔ عام دنوں میں، باقی سال میں حضورؐ کسی مہینے میں اتنے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے۔ ایام بیض کے، یا اکا دکا، پیر کا یا جمعرات کا۔ عام طور پر ایام بیض کے، درمیان کے تین روزے رکھتے تھے۔ شعبان کے کثرت سے رکھتے تھے۔ اور رمضان کے مکمل۔ اور یہ رمضان کے مکمل روزے تو ہر مسلمان پر فرض ہیں۔ ہر مسلمان مرد پر اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہیں۔ اس کا ترک کبیرہ گناہ ہے، اور قضا واجب ہے، بعض صورتوں میں کفارہ بھی ہے، بعض صورتوں میں فدیہ ہے، وہ احکام اپنی جگہ پر ہیں۔ ایک تو کہتی ہیں کہ فرق یہ تھا۔

(۲) دوسرا فرق بتاتی ہیں حضرت عائشہ ؓ کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن کریم کی تلاوت رمضان میں باقی سال سے دگنی ہو جاتی تھی۔ باقی سارا سال بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ ہوتا تھا کہ قرآن کریم کی تلاوت کثرت سے کرتے تھے۔ تلاوت کرتے بھی تھے اور سنتے بھی تھے۔ قرآن کریم کا تلاوت کرنا یہ بھی عبادت ہے اور قرآن کریم کا اہتمام کے ساتھ سننا یہ بھی عبادت ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت کرنا یہ بھی سنت ہے اور سننا یہ بھی سنت ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہتمام کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے، اور اہتمام کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت سنتے تھے۔ اور دونوں پر یکساں ثواب بتایا ہے۔ فرمایا قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی ہو تو پڑھنے والے کو بھی ہر حرف پر دس نیکیاں، اور سننے والے کو بھی ہر حرف پر دس نیکیاں۔ میں نے عرض کیا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول رمضان میں قرآن کریم کی قراءت کا بڑھ جاتا تھا۔ رات کی قراءت تو چلتی ہی تھی، دن میں بھی جبریل علیہ السلام آتے تھے روزانہ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور کرتے تھے۔ ہمارے ہاں حافظوں میں باری باری جو ایک دوسرے کو سناتے ہیں، ہم اس کو ’’دور‘‘ کہتے ہیں۔ تکرار کہتے ہیں، دور کہتے ہیں۔ یہ سنت ہے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام کی، دونوں رمضان میں روزانہ عصر سے مغرب تک دور کیا کرتے تھے، ایک دوسرے کو قرآن کریم سنایا کرتے تھے۔ اور یہ حضورؐ کا معمول رمضان میں بڑھ جاتا تھا۔

(۳) تیسرا فرماتی ہیں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا۔ رمضان کی خاص عبادات میں روزہ ہے، قرآن کریم کی تلاوت ہے۔ اور تیسرا فرماتی تھیں کہ حضورؐ سارا سال سخی ہوتے تھے، رمضان میں تو سخاوت کی حد ہو جاتی تھی۔ پورا سال حضورؐ کا معمول یہ تھا کہ حضورؐ کے دروازے سے کوئی سوالی خالی نہیں جاتا تھا۔ جناب نبی کریمؐ کا معمول یہ تھا کہ کوئی آدمی آیا ہے سوالی، ضرورتمند ہے، اپنے پاس ہے تو دیا، نہیں ہے تو سفارش کر دی ہے۔ کسی سے کہا کہ بھئی اس کا کام حل کر دو۔ حضورؐ کے کہنے پر کیا تو پہلا ثواب تو حضورؐ کو ہی ملا۔ اگر کوئی نہیں ملا، تو ایک واقعہ اسی سے متعلق ہے کہ ایک شخص آیا، کہا کہ یا رسول اللہ میں آپ کا مہمان ہوں مجھے کھانا کھلائیں۔ ایک گھر سے پتہ کیا، کچھ نہیں ملا، دوسرے سے پتہ کیا کچھ نہیں ملا، تیسرے سے پتہ کیا کچھ نہیں ملا، ۹ گھروں میں کسی سے ایک کھانا نہیں نکلا۔ تو حضورؐ نے فرمایا کہ کوئی ہے جو میرے مہمان کو کھانا کھلا دے۔ مجلس میں، حضرت ابو طلحہ انصاریؓ اٹھے، کہا کہ یا رسول اللہ میں کھلاتا ہوں، میں گھر سے ہو کر آتا ہوں۔ گھر گئے اور بیوی سے پوچھا کہ گھر میں کچھ ہے؟ اس نے کہا کہ ایک آدمی کا کھانا ہے، یا تم کھا لو، یا میں کھا لوں، یا مہمان کو کھلا دو۔ بچے بھی بھوکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضورؐ کا مہمان ہے اب اس کو تو میں واپس نہیں کر سکتا، اس کو تو کھلانا ہی ہے۔ بچوں کو کسی طریقے سے بہلا پھسلا کر سلا دو، کھانا دستر خوان پر رکھ دو، مجھے بیٹھنا ہے اخلاقاً ساتھ۔ اور کہا کہ کسی بہانے چراغ بجھا دینا، میں منہ ہلاتا رہوں گا، وہ کھاتا رہے گا، اس طریقے سے کھلا دیتے ہیں۔

اور صبح قرآن کریم کی آیت اتری اس صحابی کی شان میں۔ ’’یوثرون علٰی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ‘‘ خود بھوکے رہ کر مہمانوں کو کھانا کھلاتے ہیں، فرمایا، انصار مدینہ کی شان یہ ہے۔

تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، خود اگر میسر ہوتا تو دیتے، ورنہ سفارش کر دیتے تھے۔ یہ بھی نہیں ہوتا تھا تو دعا دیتے تھے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ تینوں میں سے بڑا عطیہ کونسا تھا؟ ایک آدمی کو دو روٹیاں مل گئی ہیں کھانے کو۔ اور ایک کو دعا ملی ہے، دعا کس کی؟ زیادہ کس کو ملا ہے؟ جس کے لیے حضورؐ کے ہاتھ اٹھے ہیں۔ کہتی ہیں کہ کوئی سوالی حضورؐ کے در سے خالی نہیں جاتا تھا، اور رمضان میں تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے سخی ہوتے تھے ’’کالریح المرسلۃ‘‘ یہاں (ورجینیا، امریکہ) میں پتہ نہیں وہ تصور ہے کہ نہیں، ہمارے ہاں تو جب حبس کے موسم میں ہوا چلتی ہے ٹھنڈی شام کو، کیا عجیب منظر ہوتا ہے، وہ ریح مرسلہ ہے۔ سخت حبس کا موسم ہو، شدید گرمی ہو، اچانک ٹھنڈی ہوا چل جائے، اور کوئی آدمی اس کے فیض سے، اس کے مزے سے محروم نہیں رہتا۔ فرمایا رمضان میں تو کوئی شخص بھی حضورؐ کے فیض سے حضورؐ کی سخاوت سے محروم نہیں رہتا تھا۔