اسٹیٹ بینک کے بارے میں مجوزہ قانونی ترامیم کا جائزہ

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
یکم اپریل ۲۰۲۱ء

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالہ سے ملکی قوانین میں مجوزہ ترامیم ان دنوں قومی حلقوں میں زیربحث ہیں اور انہیں قومی خودمختاری کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ریٹائرڈ سیشن جج چودھری خالد محمود نے ان کا جائزہ لیا ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

’’اسٹیٹ بینک آف پاکستان آرڈر 1948ء کے تحت بینک کے فرائض کا اہم نکتہ یہ تھا کہ کرنسی نوٹس کا اجراء، ذخائر کو ملکی مالیاتی استحکام کے لیے محفوظ رکھنا، اور کرنسی اور قرضہ نظام کو ملکی مفاد میں ترقی دینا پیش نظر رہے۔ اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956ء کے تحت اس اولین مقصد کو وسعت دی گئی کہ آئندہ سے بینک مالیاتی اور کریڈٹ سسٹم کو ملک میں صحیح طور پر ریگولیٹ کرے۔ تاکہ ملک کے بہترین مفاد کے حق میں اس کی بڑھوتری ہو، ملک میں مالی و مالیاتی استحکام کو محفوظ کیا جائے، اور ملک کے پیداواری وسائل کو پوری طرح زیر استعمال لایا جائے ۔ فروری 1994ء میں SBP (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) کو مالیاتی سیکٹر اصلاحات کے تحت خود مختاری دی گئی۔ جنوری 1997ء میں اس خود مختاری کو مزید مضبوط کیا گیا اور اس مقصد کے لیے SBP ایکٹ 1956ء، بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962ء اور بینک نیشنلائزیشن ایکٹ 1974ء میں ترامیم کی گئیں۔

مجوزہ ترامیمی مسودہ 2021ء میں SBP کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ خود مختاری اور آزادی میں حد درجہ فرق ہے۔ خود مختار ادارے اپنے ملک کے آئین کے تحت آزاد ہوتے ہیں۔ جبکہ مکمل آزادی کا خود مختاری سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ جیسا کہ اوپر 1956ء ایکٹ کے تحت SBP کا اولین مقصد زیر تحریر لایا جا چکا ہے جو کہ اپنے اندر ملکی مفادات اور ملکی مالیاتی نظام کے استحکام کو ترجیح دیتا ہے۔ لیکن ترمیمی مسودہ 2021ء میں اس اہم اولین مقصد کو صرف ملک میں قیمتوں کے استحکام تک محدود کر دیا گیا ہے۔ (ویسے قیمتوں پر استحکام کا قیام اور جائزہ علاقہ مجسٹریٹ کے فرائض میں شامل ہوتا ہے)۔ مالیاتی استحکام کو ضمنی مقصد میں رکھا گیا ہے اور حکومتی اقتصادی پالیسیوں کی مدد، ملکی وسائل کا استعمال اور ترقی SBP کے تیسرے درجہ کے مقاصد میں شامل کیا گیا ہے۔ یہاں یہ امر خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ دوسرے قوانین جو حال ہی میں وجود میں لائے گئے ہیں، انہیں کی طرح یہ SBP ترمیمی مسودہ 2021ء بھی IMF کے دباؤ پر تیار کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق SBP سے حکومتی تعلق کو انتہائی کمزور کر دیا گیا ہے بلکہ وہ تعلق محض رسمی سا رہ جاتا ہے۔ جب کہ SBP کا بنیادی فرض بیرونی قرض اور سود کی ادائیگی پر محدود کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں کیا ہم اپنے ملکی مالیاتی نظام کو کبھی سود جیسی لعنت سے پاک کر سکتے ہیں!

موجودہ ضوابط کے تحت SBP کو بظاہر مالیاتی معاملات (Fiscal activities) کو پورا کرنے کا فرض بھی سونپا گیا ہے جس میں دیہی قرضہ جات، صنعتی قرضہ جات، برآمداتی قرضہ جات، قرضہ جاتی ضمانت اور ہاوسنگ قرضہ جات شامل ہیں۔ (اور اس میں حکومت کی طرف سے عوام کو سب سڈی بھی شامل ہوتی ہے)۔ لیکن مجوزہ ترامیم میں بینک کو اس اہم فرض سے مبرا کر دیا گیا ہے۔ تاہم یہ سہولت صرف غیر مستحق سیکٹر تک محدود کر دی گئی ہے۔ ترمیمی مسودہ میں مانیٹری اور مالیاتی پالیسی کوآرڈی نیشن بورڈ کو غیر فعال کر دیا گیا ہے اور اس کی بجائے گورنر SBP اور وزیر خزانہ کے درمیان رابطہ کو اختیار کیا گیا ہے تاکہ SBP اور فنانس ڈویژن میں قریبی اور مضبوط تعلق ترویج پا سکے۔ مزید ترمیم کے مطابق SBP کے گورنر، ڈپٹی گورنر، ڈائریکٹرز، مانیٹری پالیسی آفیسرز اور ملازمین کو کسی بھی فعل یا ترک فعل (Commission or Omission) پر ذاتی حیثیت میں ذمہ دار نہ ٹھہرایا جا سکتا ہے، اگر اسے نیک نیتی سے کیا گیا ہو ۔ (نیک نیتی یا بد نیتی کو کس طرح الگ کیا جائے گا، یہ ایک معمہ لاینحل کی صورت اختیار کر جائے گا)۔ اور اگر کسی کاروائی کی ضرورت ہو گی تو نقصان و تاوان کی ذمہ داری صرف بینک پر ہو گی۔

موجودہ ضوابط کے مطابق بینک ملازمین کو عوامی ملازم (Public servant) کا درجہ حاصل ہے، جس کے خلاف عام ملکی قوانین کے مطابق کاروائی ہو سکتی ہے۔ لیکن مجوزہ ترامیم میں کسی بھی ملازم SBP کے خلاف ملکی قوانین کے تحت کاروائی نہ کی جا سکتی ہے جب تک کہ وہ بدنیتی سے کئے گئے فعل کو ثابت نہ کرے۔ موجودہ صورتحال میں SBP کو کافی مالیاتی وسائل اور تقسیم منافع حکومتی منظوری سے دیئے جاتے ہیں۔ جبکہ مجوزہ بل میں حکومتی منظوری کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ان ترامیم کی روشنی میں SBP ایکٹ 1956ء میں ڈرامائی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ موجودہ صورت میں اسٹیٹ بینک ملک پاکستان کا ایک بازو ہے اور ملکی پالیسیوں کے ترویج و تسلسل کا مضبوط ذمہ دار ہے۔ مگر اس اہم مالیاتی ادارہ کو آزاد کر کے حکومت پاکستان کو بینک کا محض پالن ہار بنا دیا گیا ہے۔ نئی ترامیم سے SBP میں حکومتی نمائندگی ختم ہو جائے گی اور بینک کا بنیادی مقصد محض افراط یعنی Inflation کو روکنا رہ جائے گا، اور ترقی کے اہداف بینک کے دائرہ کار میں غیر اہم درجہ اختیار کر جائیں گے۔ اور سب سے اہم یہ کہ SBP کی نئی تنظیم محض یہ ہو گی کہ حکومت پر دباؤ ڈال کر بیرونی اور غیر ملکی قرضہ جات کی ادائیگی کرنی ہو گی اور دوسرے تمام ملکی اخراجات کی ضرورت ثانوی حیثیت اختیار کر جائے گی۔ مؤثر میکرو اکنامک تنظیم (Effective Macroeconomic Management) کے لیے مانیٹری اور مالیاتی پالیسی پر مربوط طریقہ سے عملداری کرنا ضروری ہے مگر مجوزہ ترمیم سے مانیٹری پالیسی SBP کے زیر اختیار ہو گی اور مالیاتی پالیسی (Fiscal policy) فیڈرل گورنمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہو گی اس طرح مانیٹری اور مالیاتی پالیسی کو الگ کرنے سے میکرو اکنامک ورکنگ متاثر ہو گی۔

نئی ترامیم سے حکومت SBP سے قرض حاصل نہ کر سکتی ہے۔ اس طرح حکومت دیگر کمرشل بینکوں سے قرض حاصل کرنے پر مجبور ہو گی جس کا شرح سود بہت زیادہ ہے۔ اور پھر پاکستان بینکنگ کا زیادہ حصہ بیرونی ملکوں میں ملکیتی ہے۔ اس طرح حکومت کے وسائل انتہائی شرح سود اور قرضہ میں ضائع ہو جائیں گے۔ جیسا کہ یہ سامنے آیا ہے کہ SBP کی اولین فوقیت محض غیر ملکی اداروں کو ادائیگی قرض پر ہوگی تو اس طرح حکومت پاکستان SBP سے ملکی اخراجات و ترقی کے لیے حصول وسائل کے لیے محض درخواست گزار کی حیثیت رکھے گی۔

ملک عزیز کے عوام کو یہ تلخ حقیقت کا سامنا ہے کہ ہماری سابقہ حکومتوں نے عرصہ 40 سال سے غیر ملکی قرضے بے دردی سے حاصل کیے اور انہیں غیر ترقیاتی اہداف پر خرچ کیا ہے اور اس میں کرپشن کا عنصر بھی خاصہ اہم ہے۔ لیکن یہ امر آئندہ آنے والے وقتوں کے لیے اہم ہے کہ ترقیاتی مقاصد اور مؤثر اقتصادی انفراسٹرکچر کے قیام کے لیے حکومتی ذرائع کون سے وسائل استعمال کریں گے اور پھر ایسے منظرنامہ میں ملک میں روزگار کے مواقع یا غربت میں کمی کیسے ممکن ہو سکتی ہے ۔

SBP ملک عزیز کے فارن ایکسچینج ریزروز کو محفوظ رکھنے والا ادارہ ہے ۔ مجوزہ ترامیم سے SBP حکومتی فیصلوں کے بغیر ان ریزروز سے بیرونی قرضے ادا کرے گا۔ جبکہ ان ریزروز کو دوبارہ پورا کرنا (اور ہر بار پورا کرنا) اور خسارے کو پورا کرنا فیڈرل حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔ اور اگر خدانخواستہ حکومت کے پاس وسائل موجود نہ ہوں تو اس کے لیے جدید قرضے حاصل کرنا ہوں گے، جس سے ملکی مالیاتی ڈھانچہ مزید کمزور ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں حکومت ملازمین کو تنخواہیں اور مسلح افواج کو ضروری فنڈز کا اجرا کن وسائل سے کرے گی؟ نتیجہ محض اقتصادی خودمختاری کا خاتمہ ہو گا اور یہ کسی بھی ملک کی بنیادوں کو ہلا دینے کے مترادف ہوتا ہے۔

ایسے معروضی حالات میں ملکی خود مختاری اور سلامتی کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ کوئی بھی قانون سازی اپنے ملک عزیز کی نظریاتی بنیادوں کے تقاضہ کو سامنے رکھ کر کی جائے اور وطن عزیز کے مفادات کو اولین مقصد اور فریضہ کی حیثیت سے سامنے رکھ کر کی جائے اور اس راہ میں کسی بھی مخالف یا غیر ملکی اداروں کے دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ظاہری نمود و نمائش کو قربان کر دیا جائے۔ حکومتی اللوں تللوں کو قصہ ماضی بنا دیا جائے۔ سود کی لعنت کو ملک سے ختم کر دیا جائے۔ ملک کو فلاحی ریاست کے زاویے دیئے جائیں۔ دین متین کے دیئے گئے سنہری قوانین کو ملکی اداروں میں نافذ کر دیا جائے۔ تقسیم وسائل کے فرق کو کم سے کم تر کیا جائے۔ اہل ثروت اصحاب محروم افراد کو وسائل میں شریک کریں۔ قناعت کی دولت کا حصول ہر شہری کا فریضہ اول ہو۔ انفرادی اور اجتماعی خود داری اور عزت کو ایک بار پھر مطمح نظر بنایا جائے۔ جہاں غربت گالی نہ ہو اور امارت فخر و عزت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کا تحفظ اور ان پر عمل فریضہ سمجھا جائے۔ شعائر اسلام کی توہین قول و فعل سے نہ ہو۔ اللہ اور اس کے رسول کریم سے جنگ کا راستہ ترک کر کے محبت اور اللہ کی غلامی کا طریقہ اپنایا جائے۔ تاکہ عظمت رفتہ کو پھر پا لیں۔ کاش ہمیں اقبال کی خودی کا درس یاد آ جائے ۔ مگر کیا یہ ممکن ہے!!! خدا نہ کرے ہم اللہ کے دروازہ کو چھوڑ کر دوسروں کے غلام بن جائیں۔ ذرا سوچیئے!’’