اردو زبان کے حوالہ سے سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۵ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک ماہ سے بھی کم مدت تک چیف جسٹس رہنے والے فاضل جج محترم جسٹس جواد ایس خواجہ گزشتہ روز ریٹائر ہو گئے ہیں مگر ریٹائر منٹ سے پہلے انہوں نے سپریم کورٹ کے فل بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے ایک ایسا تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے جو ملک کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آئندہ نسلیں یقیناً انہیں دعائیں دیتی رہیں گی۔ جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے بارے میں یہ خبریں بھی اخبارات کی زینت بنی ہیں کہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران نہ کوئی سرکاری پلاٹ لیا اور نہ ہی امتیازی پروٹوکول اور مراعات سے فائدہ اٹھایا ہے بلکہ سادگی اور قناعت کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے رخصت ہو گئے ہیں۔ جسٹس خواجہ نے بہت سے فیصلے ایسے کیے ہیں جو اسلام اور پاکستان سے محبت رکھنے والوں کے لیے اطمینان کا باعث بنے ہیں مگر اردو کو ملک کی باقاعدہ سرکاری اور دفتری زبان بنانے کے لیے عملی اقدامات کے اہتمام کا جو فیصلہ وہ جاتے جاتے کر گئے ہیں اس کے اثرات قومی زندگی پر ہمیشہ محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

دستور کے مطابق اردو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی زبان ہے اور دستور میں اسے عدالتی، دفتری اور سرکاری زبان بنانے کی ضمانت دی گئی ہے، لیکن جس طرح ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی دستوری ضمانت ہماری اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے دوغلاپن کی وجہ سے غیر مؤثر چلی آر ہی ہے اسی طرح اردو کو باضابطہ دفتری زبان بنا دینے کا دستوری وعدہ بھی حکام بالا کی ’’کہہ مکرنیوں‘‘ کا شکار چلا آ رہا ہے جسے محسوس کرتے ہوئے کچھ دردمند حضرات نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کئی ماہ بحث و تمحیص کے بعد بالآخر سپریم کورٹ نے دو ٹوک حکم صادر کر دیا ہے کہ آئندہ تمام دفتری کاروائی اور خط و کتابت اردو میں کی جائے، جس کے مطابق وزیر اعظم پاکستان نے سرکاری محکموں کو ہدایات جاری کر دی ہیں اور مختلف شعبوں میں اس پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔

اس فیصلہ پر عمل کا آغاز خود چیف جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ نے یہ فیصلہ اردو میں سنا کر کیا جبکہ صدر پاکستان نے نئے چیف جسٹس سے حلف اردو میں لیا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عملدرآمد کا آغاز اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے اسی روز اپنی اردو ویب سائٹ جاری کر کے کیا۔ اور ان اقدامات سے یہ توقع ہو گئی ہے کہ اردو کو سرکاری اور دفتری زبان کا عملاً درجہ دینے کا یہ عدالتی فیصلہ بہت سے دیگر عدالتی فیصلوں کی طرح کسی فریزر میں منجمد نہیں کر دیا جائے گا اور پاکستانی قوم اپنے عدالتی، دفتری اور سرکاری امور اپنی قومی زبان میں بجا لانے کی سہولت سے فی الواقع بہرہ ور ہو جائے گی۔

اردو ہماری قومی زبان ہے جو دنیا بھر میں بولی جانے والی دوسری بڑی زبان بتائی جاتی ہے۔ انسانی سوسائٹی میں تعداد کے لحاظ سے چینی زبان سب سے زیادہ بولی جاتی ہے اور اردو دوسری زبان کا درجہ رکھتی ہے مگر چینی زبان بولنے والی آبادی تعداد میں کثرت کے باوجود دنیا کے ایک محدود خطے کی زبان ہے جبکہ دنیا بھر میں پھیلاؤ کے حوالہ سے اردو دنیا کی سب سے بڑی زبان سمجھی جاتی ہے کہ دنیا کے ہر براعظم میں اردو بولنے والے اور سمجھنے والے خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ہمیں انگریزی کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں ہے، وہ بلاشبہ بین الاقوامی رابطہ کی زبان ہے، سائنسی علوم و فنون کی زبان ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ کی زبان ہے، اس درجہ اور دائرہ میں اس کی تعلیم و تدریس اور اس سے شناسائی کی ضرورت ہمارے دینی حلقوں میں بھی مسلّم رہی ہے، لیکن یہ بات بھی مسلّمات میں سے ہے کہ ہر ملک اور قوم کو اپنے معاملات اپنی قومی زبان میں سر انجام دینے کا حق ہوتا ہے، کسی بھی قوم کے لیے اس کی اپنی زبان باعث افتخار ہوتی ہے اور دفتری و عدالتی ماحول کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کے بیشتر مراحل میں بھی مادری اور قومی زبانیں ہی حقیقی افادیت کی حامل ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ زبان صرف زبان نہیں ہوتی بلکہ اپنے ساتھ کلچر اور ماحول کی عکاسی بھی کرتی ہے اور اس کے فروغ کا بھی مؤثر ذریعہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے ہمارے اکابر فقہاء کرامؒ نے ہمیشہ انگریزی زبان کی ضرورت کے مطابق تعلیم و تربیت اور استعمال کے جواز کا فتویٰ دیتے ہوئے اس کے فکری و تہذیبی اثرات سے بچنے کی بھی تلقین کی ہے جو انگریزی ثقافت کے فروغ کے تلخ ثمرات دیکھتے ہوئے اور بھی زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔

اس پس منظر میں ہم سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس تاریخی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے تمام جج صاحبان بالخصوص جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کو ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں البتہ اس موقع پر اس فیصلے کے تین چار اہم تقاضوں کی طرف توجہ دلانا بھی مناسب سمجھتے ہیں۔

  • اس فیصلے پر سنجیدگی کے ساتھ ہر سطح پر عملدرآمد کی ضرورت ہے جو اسے صرف بیوروکریسی اور مقتدر طبقات کی صوابدید بلکہ رحم و کرم پر چھوڑ دینے سے پوری نہیں ہوگی۔ اس کے لیے محب وطن جماعتوں، اداروں اور شخصیات کو مسلسل متحرک رہنا ہوگا، اردو کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو عملدرآمد کی مرحلہ وار صورتحال پر نظر رکھنا ہو گی اور عوامی و اخلاقی دباؤ کو ہر سطح پر قائم رکھنا ہوگا کیونکہ اس کے بغیر مطلوبہ نتائج (خدانخواستہ) حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
  • انگریزی کے استعمال کی کثرت سے اردو زبان مسلسل متاثر ہوتی چلی آرہی ہے، بہت سے انگریزی الفاظ، محاورے اور جملے اردو زبان میں شامل ہو چکے ہیں اور آج کی اردو انگریزی کے ساتھ اس درجہ میں ’’مکس‘‘ ہو گئی ہے کہ بسا اوقات اردو اور انگریزی الفاظ میں فرق قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے اردو کے فروغ کے ساتھ ساتھ اردو کی تطہیر اور چھانٹی کی بھی ضرورت ہے جس کے لیے تعلیمی اداروں اور صحافتی دنیا کو بطور خاص کردار ادا کرنا ہوگا۔
  • تعلیمی اداروں میں ہر سطح پر اردو کی تعلیم کی ضرورت اس فیصلے کے ساتھ مزید بڑھ گئی ہے جس کے لیے قومی تعلیمی پالیسی کا مرکز اور صوبوں میں ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہو گیا ہے، کیونکہ محکمہ ہائے تعلیم میں اس کے لیے ماحول بنانے اور اقدامات کرنے کے لیے جو محنت درکار ہے وہ اگر بروقت نہ کی گئی تو اس فیصلے کی افادیت مجروح ہو سکتی ہے۔
  • دینی مدارس میں اردو زبان کی باقاعدہ تعلیم و تدریس کی طرف ہم ایک عرصہ سے توجہ دلاتے آرہے ہیں۔ امامت و خطابت، تحقیق و تصنیف، تدریس و تربیت اور ابلاغ و صحافت کے سب شعبوں میں ضرورت کے مطابق رجال کار کی فراہمی اور تیاری کے لیے معیاری اردو کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اور یہ سب کچھ خودبخود نہیں ہو جائے گا اس کے لیے اردو زبان کی باقاعدہ تعلیم کا اہتمام کرنا ہوگا اور پھر تحریر و تقریر اور تصنیف و تحقیق کے مختلف پہلوؤں کی باقاعدہ مشق اور تربیت کو بھی نصاب و نظام کا حصہ بنانا ہوگا۔