عشرۂ دفاعِ وطن و ختم نبوت کی چند جھلکیاں

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ ستمبر ۲۰۲۱ء

ستمبر کا پہلا عشرہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی میں گزرا۔ یوم دفاع، یوم فضائیہ اور یوم بحریہ کی رونقوں کے ساتھ ساتھ یوم ختم نبوت کی مصروفیات نے قوم کے تمام طبقات کو مصروف رکھا اور مجھے بھی مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔

۵ ستمبر کو لاہور میں مجلس احرار اسلام پاکستان کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں حاضری دی اور معروضات پیش کیں۔

۶ ستمبر کو صبح جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شہداء آزادی، شہداء دفاع پاکستان اور شہداء ختم نبوت کے ایصال ثواب اور دعا کے لیے تقریب ہوئی۔ اس کے بعد جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ میں یوم دفاع پاکستان کے حوالہ سے مولانا قاری گلزار احمد قاسمی کے ہمراہ پرچم کشائی کی سعادت حاصل کی جس میں شہر کے سرکردہ علماء کرام اور دینی راہنما شریک ہوئے۔

۷ ستمبر کو ظہر کے بعد چناب نگر میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس اور مغرب کے بعد مینار پاکستان لاہور کی وسیع گراؤنڈ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں گزارشات پیش کیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ۶ ستمبر کو لیاقت باغ راولنپڈی اور ۷ ستمبر کو مینار پاکستان لاہور کی ان کانفرنسوں کی بھرپور کامیابی کے لیے جو مسلسل تگ و دو کی اس کے اثرات و ثمرات دیکھ کر دل بے حد خوش ہوا اور محنت کرنے والے علماء کرام اور کارکنوں کے لیے دل سے دعائیں نکلیں، اللھم ربنا آمین۔ ان اجتماعات میں جو گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا ان کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں درج ذیل ہے:

  • وطن عزیز کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا دفاع ہم سب کی قومی اور ملی ذمہ داری ہے۔ یوم دفاع ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ و دفاع کا عنوان ہے اور یوم ختم نبوت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کی علامت ہے۔ اس موقع پر دونوں محاذوں کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں حوالوں سے عزم و عہد کی تجدید کرنی چاہیے۔
  • ہمیں درپیش سنگین قومی و ملی مسائل کا اصل مرکز داخلی نہیں ہے بلکہ بیرونی مداخلت کے تسلسل نے ہمارے لیے یہ مسائل کھڑے کر رکھے ہیں۔ مثلاً‌ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور تحفظ ختم نبوت کے قوانین کے بارے میں یورپی یونین کی مداخلت اور دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ خاندانی نظام کو سبوتاژ کرنے اور مغربی ثقافت جبرً‌ا مسلط کرنے کی کاروائیاں ’’سیڈا‘‘ کے کہنے پر ہو رہی ہیں۔ مسجد و مدرسہ کی خودمختاری اور مذہبی آزادی کا ماحول ’’فیٹف‘‘ کے دباؤ پر خراب کیا جا رہا ہے، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو حکومتی کنٹرول سے آزاد کرنے کی کاروائی کے پیچھے ’’آئی ایم ایف‘‘ مصروف کار ہے۔ حالانکہ ملک کے اندر ایسی صورتحال نہیں ہے جیسا کہ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے بارے میں امر واقعہ ہے کہ (۱) پارلیمنٹ کے سامنے جب بھی یہ مسائل آئے ہیں اس نے واضح فیصلہ دیا ہے اور ختم نبوت قوانین کے بارے میں پارلیمنٹ کے کم و بیش چار فیصلے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ (۲) عدالت عظمٰی سے جب بھی دریافت کیا گیا ہے اس کا فیصلہ دستور اور قانون کے مطابق سامنے آیا ہے، اور (۳) سول سوسائٹی یعنی ملک کی رائے عامہ اور قوم کے تمام طبقات مثلاً‌ مکاتب فکر کے علماء کرام، وکلاء، تاجر برادری، اساتذہ و طلبہ اور دیگر طبقے ہمیشہ سے اس مسئلہ پر یک آواز چلے آ رہے ہیں۔ مگر بیرونی مداخلت بالخصوص یورپی یونین کے ذریعے ان قوانین کو ختم کرنے یا بے اثر بنانے کی مہم جاری ہے۔
  • ہم نے ہر موقع پر ملک کے اصحاب فکر و دانش کو توجہ دلائی ہے کہ ملکی رائے عامہ اور دستوری تقاضوں سے علی الرغم اس قسم کی بیرونی مداخلت کے پیچھے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بین الاقوامی معاہدہ موجود ہوتا ہے جس پر ہمارے حکمرانوں کے دستخط ثبت ہوتے ہیں۔ ان معاہدات میں ملک کی نمائندگی کرنے والوں کا شروع سے یہ وطیرہ چلا آ رہا ہے کہ معاہدوں پر دستخط کرنے سے قبل نہ ملک کے دستور کے تقاضے دیکھتے ہیں، نہ رائے عامہ کے عمومی رجحان کا لحاظ کرتے ہیں، اور نہ قوم اور اس کے متعلقہ طبقات کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ وقتی دباؤ اور محدود مفاد کو سامنے رکھ کر خاموشی سے دستخط کر کے چلے آتے ہیں جس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہمارے خیال میں ایسے معاہدوں اور ان پر دستخط کرنے والوں کو قوم کے سامنے لانے کی اشد ضرورت ہے جو ہمارے بیشتر قومی مسائل اور مشکلات کی اصل جڑ ہیں۔
  • اسی طرح قومی سطح پر ایک اعلیٰ کمیشن کا قیام ناگزیر ہو گیا ہے جو قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کے ایسے بین الاقوامی معاہدات کا جائزہ لے جو ملک کے دستور، وطن کی نظریاتی شناخت اور عوام کی اکثریتی رائے سے متصادم نظر آتے ہیں۔ اور ان کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی اور سفارت کاری کی منظم مہم کے ذریعے متعلقہ اقوام و ممالک اور اداروں سے باضابطہ گفت و شنید کا اہتمام کیا جائے، اس کے بغیر ہم اس دلدل سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے۔
  • ان تمام مسائل کے لیے عوامی بیداری کے ساتھ ساتھ قومی وحدت کا ماحول قائم رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے اور ایسے تمام اندرونی و بیرونی عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو زبان، نسل، قومیت، علاقائیت یا مسلک کی بنیاد پر تفریق کو ہوا دے کر بیرونی مداخلت اور عالمی استعماری ایجنڈے کی تقویت کا باعث بن رہے ہیں۔
  • سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ دستورِ پاکستان کی عملداری کی طرف توجہ دی جائے جو اس وقت طاقتور طبقوں اور اداروں کے رحم و کرم پر دکھائی دے رہا ہے۔ دستور ہی ہماری وہ اساس ہے جس پر ہم اپنی قومی زندگی کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی منزل کی طرف گامزن کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
   
Flag Counter