مسلم لیگ ن کی نئی حکومت سے توقعات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ مئی ۲۰۱۳ء

عام انتخابات کے نتائج ہماری خواہشات کے خلاف ضرور ہیں مگر توقعات کے خلاف ہرگز نہیں ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ دینی قوتیں متحد ہو کر الیکشن لڑیں اور پارلیمنٹ میں اتنی قوت ضرور حاصل کر لیں کہ ملک کے نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری کی بحالی اور بیرونی مداخلت کے سدّباب کے لیے موثر کردار ادا کر سکیں، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے نہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا تھا بلکہ صرف اس لیے کہ دینی قوتیں ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھیں، ورنہ اگر جمعیۃ علماء اسلام کے تینوں دھڑے، جماعت اسلامی، سپاہ صحابہؓ، جمعیۃ علماء پاکستان (نورانی گروپ) اور جمعیۃ اہل حدیث کوئی ایسا متحدہ محاذ قائم کر لیتیں جو متحدہ مجلس عمل کے خلاء پُر کر سکتا تو نہ صرف قومی سیاست میں بیلنس پاور ان کے ہاتھ میں ہوتی بلکہ صوبہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کی صورت حال بھی یکسر مختلف ہوتی، مگر ہم میں سے ہر ایک نے یہ سمجھ لیا تھا یا ہمارے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی گئی تھی کہ اس دفعہ تنہا قسمت آزمائی میں شاید زیادہ فائدہ مل جائے، یہ سوچے بغیر کہ اس تنہا قسمت آزمائی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے ہمارے مہربانوں نے کیا کیا چالیں چلی ہیں اور کیسے کیسے جال بُنے ہیں۔ بہرحال جو ہونا تھا ہو چکا اور ہم اگر اس پر بھی خوش ہیں کہ دینی قوتوں نے بازی جیت لی ہے تو ہم سے اس ’’خوشی‘‘ کے اظہار کا حق کون چھین سکتا ہے؟

جنگ کے بارے میں کسی دور میں کہا جاتا تھا کہ ’’الحرب سجال‘‘ ، لڑائی پانی کے ڈول کی طرح ہے کبھی ایک کے ہاتھ میں اور کبھی دوسرے کے ہاتھ میں۔ اب کے یہ ڈول پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ میں آگیا ہے اور اگلے پانچ سال تک قومی سیاست میں صف بندی اور ملکی پالیسیوں کی ترجیحات کا کنٹرول اسی ہاتھ میں رہے گا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ہماری کسی دور میں یاد اللہ رہی ہے، پاکستان قومی اتحاد میں بھی اور پھر اسلامی جمہوری اتحاد میں بھی، بلکہ آئی۔جے۔آئی میں جبکہ وہ اس کے صوبائی صدر تھے، ان کے ساتھ جمعیۃ علماء اسلام درخواستی گروپ کی طرف سے صوبائی نائب صدر کہلانے کا بھی کچھ عرصہ تک موقع ملا ہے۔ اس دوران بہت سی ملاقاتیں ہوئی تھیں اور کچھ کاموں میں رفاقت بھی رہی ہے، اس پس منظر میں گزشتہ روز ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نون لیگ کی حکومت سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟ تو میں نے عرض کیا کہ پاکستانیت اور پاکستان کی معیشت کے حوالہ سے مجھے کسی حد تک توقع ہے کہ معاملات کچھ بہتر ہو جائیں گے مگر باقی معاملات جوں کے توں دکھائی دے رہے ہیں۔ چنانچہ آج نون لیگ کے ایک ذمہ دار راہ نما کی طرف سے یہ کہہ بھی دیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور حکمت عملی حسب سابق رہے گی جبکہ ڈرون حملوں کے بارے میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ ان حملوں پر نظر ثانی کے لیے امریکہ کو قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کامطلب اس کے سوا کیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی پالیسیاں جس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں چلتی رہی ہیں اسی طرح نون لیگ کے دور میں بھی ان کا تسلسل قائم رہے گا۔ یہ پڑھ کر غلط یا صحیح میرے دل میں جنرل پرویز (ر) مشرف کے بارے میں یہ خیال آنے لگا ہے کہ اگر پالیسیاں اسی کے دور کی جاری رہنی ہیں تو پھر خود اسے عتاب و احتساب کے شکنجے میں جکڑتے چلے جانے کا آخر کیا جواز ہے؟

پاکستان کے عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اسے اگلے پانچ سال تک ملک پر حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے، ہم اس عوامی فیصلے کا احترام کرتے ہیں، اسے دل و جان سے قبول کرتے ہیں اور میاں محمد نواز شریف صاحب اور ان کے تمام رفقاء کو اس شاندار کامیابی پر مبارک باد دیتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ کچھ باتیں بطور یاد دہانی ان کی خدمت میں گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں:

  • پاکستان مسلم لیگ جس آل انڈیا مسلم لیگ کی جانشین کہلاتی ہے اس کا قیام برصغیر میں مسلمانوں کے جداگانہ تہذیبی و معاشرتی تشخص کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا مگر آج مسلمانوں کے ثقافتی اور معاشرتی امتیاز و تشخص کو مسلسل تحلیل کیا جا رہا ہے جس کے لیے عالمی، علاقائی اور قومی سطح پر بہت سے حلقے اور لابیاں متحرک ہیں اور خود مسلم لیگ کے اندر بھی ان کی گھاتیں موجود ہیں۔ اس لیے اگر نون لیگ فی الواقع قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی آل انڈیا مسلم لیگ کی وارث اور جانشین ہے تو اسے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے جداگانہ تہذیبی، معاشرتی اور مذہبی تشخص کے بقا کی ذمہ داری کو اپنی پالیسیوں کا حصہ بنانا ہوگا۔
  • پاکستان مسلم لیگ کا یہ اعزاز ہے کہ اس نے قیام پاکستان کی تحریک کی قیادت کی تھی اور اس کی جدوجہد سے مسلمانوں کا یہ الگ ملک وجود میں آیا تھا۔ اس وقت تحریک پاکستان کے قائدین میں مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ، قائد اعظم محمد علی جناحؒ، سردار عبد الرب نشترؒ، مولانا ظفر علی خانؒ اور خان لیاقت علی خان مرحوم کے ساتھ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا عبد الحامد بد ایونیؒ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ اور پیر مانکی شریفؒ جیسے عظیم مذہبی اکابر بھی شامل تھے۔ ان اکابرین نے پاکستان کے دستور و نظام کے بارے میں قوم کے ساتھ جو وعدے کیے تھے وہ تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہیں اور نون لیگ کی قیادت ان سے بے خبر نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان وعدوں کی تکمیل اور ان کی عمل داری کا اہتمام بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
  • پاکستان مسلم لیگ (ن) ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی خواہاں ہے اور اس کے لیے واضح پروگرام اور سوچ رکھتی ہے جس کا اظہار مسلم لیگی راہ نماؤں کے بیانات میں ہوتا رہتا ہے۔ ہم بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنی معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے اس خطاب کو ضرور سامنے رکھے گی جو انہوں نے ۱۵ جولائی ۱۹۴۸ء کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا اور جس میں انہوں نے موجودہ عالمی معاشی نظام کو دنیا میں فساد اور خرابیوں کا باعث قرار دیتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ملکی معیشت کی بنیاد اسلامی اصولوں اور قرآنی احکامات پر رکھی جائے۔
  • میاں صاحب محترم کو یہ یاد دلانا بھی شاید بے موقع نہ ہو کہ انہوں نے اپنے گزشتہ دورِ حکومت میں پارلیمنٹ سے ’’شریعت بل‘‘ کے عنوان سے ایک ایکٹ پاس کرایا تھا جس میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دیا گیا تھا۔ اگرچہ اس ایکٹ میں ملک کے سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچے کو اس سے مستثنیٰ قرار دینے کی شق کے بارے میں ہمارے تحفظات موجود ہیں لیکن اس سے ہٹ کر ملک کے مجموعی ماحول اور قانونی نظام میں بھی قرآن و سنت کی بالادستی ابھی تک حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کی راہ تک رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ میاں صاحب محترم کو یہ بات یقیناًیاد ہوگی اور وہ اس دستوری وعدے کی تکمیل کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔
  • قومی خود مختاری کے تحفظ، ڈرون حملوں کی روک تھام، ملکی معاملات میں بیرونی مداخلت کے سدّباب، قومی معیشت کی بہتری او ر عالمی برادری میں پاکستان کی باوقار اور آزاد پوزیشن کے بارے میں یاد دہانی کی شاید ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ یہ باتیں تو خود میاں صاحب بھی مسلسل فرما رہے ہیں اور ان کے حالیہ انتخابی وعدوں کا حصہ ہیں۔

بہرحال ان جذبات، یاد دہانیوں اور توقعات کے ساتھ ہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو خوش آمدید کہتے ہیں اور یہ گزارش کرتے ہیں کہ خیر کے ہر کام میں انہیں ہمارا تعاون حاصل رہے گا اور جس کام کو ہم دین، قوم اور ملک کے حوالہ سے نقصان دہ سمجھیں گے ان پر روک ٹوک کا فریضہ بھی ہم بدستور سر انجام دیتے رہیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔