تہذیبی یلغار اور حضرت جعفر بن ابی طالبؓ

   
تاریخ بیان: 
۲۲ اکتوبر ۲۰۲۱ء

(مسجد صدیق اکبرؓ، پیپلز کالونی، گوجرانوالہ میں جلسۂ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ابھی ہمارے شہر کے معروف قاری جناب قاری حماد انور نفیسی نے قرآن کریم کی بہت خوبصورت لہجہ میں تلاوت کی ہے اور ان سے پہلے مولانا ندیم احمد نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی تلاوت کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائش پر کی تھی جبکہ ایک تلاوت قرآن کریم کا میں تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے شاہ حبشہ نجاشی کے دربار میں کی تھی اور وہ امت مسلمہ کی تاریخ کے ایک اہم واقعہ سے متعلق ہے۔

مکہ مکرمہ میں جناب نبی اکرمؐ نے جب کفر و شرک کے ماحول میں توحید کی دعوت پیش کی تو سارا ماحول مخالف ہو گیا اور ایمان لانے والوں کے لیے طعن و تشنیع اور تشدد و اذیت کا بازار گرم ہوتا گیا جس میں مسلسل اضافہ کے باعث اہل ایمان سخت آزمائش اور امتحان کا شکار ہوئے اور کچھ حضرات نے نبی اکرمؐ سے ہجرت کی اجازت مانگی تاکہ کسی اور علاقے میں جا کر آزادی کے ساتھ اپنے دین پر عمل کر سکیں۔ انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت ملی جہاں مسیحی بادشاہ اصحمہؓ حکمران تھے اور نجاشی کہلاتے تھے۔ ان مہاجرین میں حضرت جعفر بن ابی طالبؓ اور حضرت عثمان بن عفانؓ بھی شامل تھے۔ مکہ مکرمہ والوں کو ان مسلمانوں کا حبشہ کی طرف ہجرت کر کے امن کے ساتھ زندگی گزارنا راس نہ آیا اور انہوں نے حضرت عمرو بن العاصؓ کی سربراہی میں ایک وفد شاہ حبشہ کے پاس ان کی واپسی کی درخواست کے لیے روانہ کیا۔

حضرت عمرو بن العاصؓ اس وقت قریش کے کیمپ میں تھے اور بہت ذہین ڈپلومیٹ سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے شاہ حبشہ کے دربار میں اپنا مقدمہ اس طرح پیش کیا کہ یہ لوگ ہمارے ماتحت اور غلام لوگ ہیں جو بھاگ کر حبشہ آ گئے ہیں اور ہم انہیں واپس لے جانے کے لیے قریش کے وفد کے طور پر آئے ہیں۔ شاہ حبشہ نے مسلمانوں کا موقف معلوم کرنے کے لیے ان کے نمائندوں کو طلب کیا تو حضرت جعفرؓ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پیش ہوئے اور بتایا کہ ہم لوگ غلام اور بھاگے ہوئے لوگ نہیں ہیں بلکہ انہی کے قبیلہ کے انہی کی طرح کے آزاد لوگ ہیں۔ ہمارے ہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے جن پر ایمان لانے کے باعث یہ لوگ ہمارے مخالف ہو گئے ہیں اور مسلسل اذیتوں کا انہوں نے ہمیں شکار بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے ہم نے آپ کے ملک میں آ کر پناہ لی ہے تاکہ ان کے ظلم و تشدد سے محفوظ رہ سکیں۔

شاہ حبشہ نے مسلمانوں کا یہ موقف سن کر قریش کے وفد کی درخواست قبول کرنے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ پناہ لینے کے لیے ہمارے پاس آئے ہیں ہم انہیں واپس نہیں کریں گے اور یہ جب تک چاہیں گے ہماری پناہ اور امان میں رہیں گے۔ قریش کے وفد نے یہ دیکھ کر پینترا بدلا اور کہا کہ ان لوگوں کے عقائد اور خیالات حضرت مریم اور حضرت عیسٰی علیہما السلام کے بارے میں آپ لوگوں کے خیالات سے مختلف ہیں اور یہ انہیں آپ کی طرح نہیں مانتے۔ حضرت جعفرؓ فرماتے ہیں کہ یہ بات سن کر مجھے کچھ پریشانی ہوئی کہ حضرت مریم و عیسٰی علیہما السلام کے بارے میں ہمارا عقیدہ واقعتًا عیسائیوں سے مختلف ہے اس لیے سوچ میں پڑ گیا کہ اس موقع پر کیا کرنا چاہیے؟ اگر ہمارے عقیدہ کے اظہار سے شاہ حبشہ ناراض ہو گیا تو قریش کے وفد کا مقصد پورا ہو سکتا ہے، اور اگر گول مول بات کریں تو یہ ہمارے دین کے خلاف ہو گا اس لیے کہ صدق اور سچ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔

حضرت جعفرؓ فرماتے ہیں کہ کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہر حال میں صحیح اور اصل بات ہی کہنی ہے نتیجہ جو بھی ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے میں نے قریش کے اس اعتراض کے جواب میں شاہ حبشہ کے دربار میں قرآن کریم کی وہ آیات تلاوت کیں جو حضرت مریم و عیسٰی علیہما السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور جن میں ان دونوں بزرگوں کے حوالے سے مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان کی وضاحت کی گئی ہے۔

روایات میں آتا ہے کہ شاہ حبشہ نے قرآن کریم کی وہ آیات حضرت جعفرؓ کی زبان سے توجہ کے ساتھ سنیں اور متاثر ہوئے حتٰی کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور انہوں نے تلاوت سننے کے بعد کہا کہ جو کچھ سنا ہے وہی حقیقت ہے اس لیے میں ان پناہ گزینوں کو قریش کے مطالبہ پر واپس نہیں کروں گا۔ جس پر وفد ناکام واپس چلا گیا اور بعد میں شاہ حبشہ اصحمہ نجاشیؓ خود بھی مسلمان ہو گئے۔

یہ واقعہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم آج بھی مغربی دنیا کے ساتھ مکالمہ کے اسی طرح کے ماحول سے دوچار ہیں، مغربی دنیا حضرت مریم اور حضرت عیسٰی علیہما السلام کے بارے میں تو نہیں مگر دنیا پر مسلط کردہ اپنے فلسفہ و نظام اور تہذیب و ثقافت کے حوالہ سے ہم سے بار بار وضاحتیں طلب کر رہی ہے جس کے جواب میں مسلم دنیا کے حکمران گول مول باتیں کر رہے ہیں جبکہ بہت سے مسلم دانشوروں نے بھی مغرب کو مطمئن کرنے کے لیے اسلام کی بنیادی تعلیمات کے بارے میں بے جا تاویلات کا بازار گرم کر رکھا ہے، چنانچہ ہمارے خیال میں اس وقت مغربی دنیا کے فکر اور تہذیبی تقاضہ اور دباؤ کے مقابلہ میں حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کے کردار اور عزم کو دہرانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور وقت آ گیا ہے کہ ہم قرآن کریم کی تعلیمات کسی قسم کی مرعوبیت اور تاویلات کے بغیر اصل صورت میں دنیا کے سامنے پیش کریں اور بارگاہِ ایزدی سے اس کے مثبت نتائج کا یقین اپنے اندر پیدا کریں۔ خدا کرے کہ ہمارے حکمران اور دانشور وقت کی اس ناگزیر ضرورت کا پوری طرح احساس و ادراک کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔

Flag Counter