سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۱۹۹۴ء

بیس سال قبل اس وقت کے حالات کے تناظر میں سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل پر راقم الحروف نے ایک مضمون لکھا تھا جو ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے دسمبر ۱۹۹۴ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا ، اور روزنامہ پاکستان اسلام آباد نے بھی اسے شائع کیا تھا۔ دو عشرے گزر جانے کے بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں بلکہ ان کی سنگینی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس لیے اسے دوبارہ پیش کرنے کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں۔ اللہ کرے کہ ہم اس سلسلہ میں باہمی مشاورت و مفاہمت کے ساتھ ’’سنی جدوجہد‘‘ کے لیے کوئی بہتر راستہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں، آمین یا رب العالمین۔

’’تحریک جعفریہؒ پاکستان اور سپاہ صحابہؓ پاکستان کے درمیان کشمکش نے مسلح تصادم کی جو صورت اختیار کر لی ہے، اس سے ملک کا ہر ذی شعور شہری پریشان ہے۔ دونوں جانب سے سینکڑوں افراد اب تک اس مسلح تصادم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اور ارباب اختیار فرقہ واریت کے خاتمہ کے عنوان سے اس کشمکش پر قابو پانے کا بار بار عزم ظاہر کرتے ہیں، مگر اس کی جڑیں معاشرہ میں اس قدر گہرائی تک اتر چکی ہیں کہ بیخ کنی کے لیے ان تک رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس لیے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس کشیدگی کے اسباب و عوامل کا کھلے دل و دماغ کے ساتھ تجزیہ کیا جائے اور سنجیدہ عمومی بحث و مباحثہ کے ذریعہ اس کے محرکات کا کھوج لگا کر اس مقام تک پہنچا جائے جہاں سے اس کشمکش کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ تاکہ ان کو بند کرنے کی کوئی صورت نکالی جا سکے۔

یہ کشمکش اور تصادم جو عملاً سپاہ صحابہؓ پاکستان اور تحریک جعفریہؒ پاکستان کے درمیان ہے، دراصل شیعہ سنی کشمکش کا شدت پسندانہ اظہار ہے۔ اور شیعہ سنی کشمکش کی تاریخ بہت پرانی ہے جس کا آغاز پہلی صدی ہجری کے اختتام سے قبل ابتدائی شکل میں ہوگیا تھا۔ اور رفتہ رفتہ اس نے ملت اسلامیہ میں عقائد و نظریات کے لحاظ سے دو واضح متحارب گروہوں کی صورت اختیار کر لی۔ قارئین کی معلومات کے لیے دونوں گروہوں کے اعتقادات میں چند بنیادی فرق واضح کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

  • اہل سنت کے نزدیک موجودہ قرآن کریم ہی اصلی اور مکمل قرآن کریم ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفاء راشدینؓ نے مرتب شکل میں امت کو دیا تھا۔ اس میں کسی قسم کا کوئی رد و بدل نہیں ہوا۔ اہل تشیع کے نزدیک یہ قرآن کریم مکمل نہیں ہے بلکہ ان کے بقول اس میں رد و بدل ہوا ہے۔ جبکہ اصل قرآن کریم امام غائب کے پاس ہے جو اپنے وقت پر اسے لے کر ظاہر ہوں گے، اس وقت تک مصلحتاً موجودہ قرآن کریم کو ہی بطور قرآن پڑھنا اور پیش کرنا بامر مجبوری درست ہے۔
  • اہل سنت کے نزدیک جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپؐ کا ساتھ دینے والے سب لوگ صحابہ کرامؓ ہیں۔ ان میں مہاجرین، انصار اور اہل بیت سمیت تمام طبقات شامل ہیں۔ یہ سب لوگ اہل ایمان ہیں، سب کے ساتھ عقیدت و محبت رکھنا ضروری ہے اور سب کے سب ہدایت کا ذریعہ اور معیار ہیں۔ جبکہ اہل تشیع کے نزدیک اہل بیتؓ کے سوا باقی لوگ لائق اعتبار نہیں ہیں، بلکہ انہیں اہل ایمان میں شامل کرنا بھی درست نہیں ہے۔ اور اہل بیتؓ سے مراد بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان اور کنبہ کے سب افراد نہیں بلکہ صرف حضرت خدیجہؓ، حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ اور ان کی اولاد ہے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات اور اولاد اہل تشیع کے نزدیک اہل بیت میں شامل نہیں ہے۔
  • اہل سنت کے نزدیک قرآن کریم کے بعد سنت رسولؐ دین کا دوسرا بڑا ماخذ اور سر چشمہ ہے۔ اور سنت سے مراد وہ تمام روایات و احادیث ہیں جو صحابہ کرامؓ کے کسی بھی فرد سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہیں۔ جبکہ اہل تشیع بھی سنت رسولؐ کو دین کا ماخذ مانتے ہیں، مگر ان کے نزدیک حدیث و سنت صرف وہی ہے جو اہل بیتؓ سے منقول ہے۔ اور ان کے علاوہ مہاجرینؓ، انصارؓ، ازواج مطہراتؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ سے منقول روایات اہل تشیع کے نزدیک سنت میں شامل نہیں ہیں۔
  • اہل سنت کے نزدیک جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چونکہ وحی کا سلسلہ بند ہو چکا ہے، اس لیے کوئی شخصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسی نہیں ہے جس کی رائے میں خطا کا احتمال نہ ہو۔ اور کسی دلیل اور بنیاد کے بغیر اس کی بات بہر صورت واجب العمل ہو۔ جبکہ اہل تشیع کے نزدیک اہل بیتؓ کے ۱۲ امام معصوم عن الخطا ہیں اور ان کی رائے اور قول کو وہی حیثیت حاصل ہے جو پیغمبر کی وحی کو حاصل ہوتی ہے۔
  • اہل سنت کے نزدیک خلفاء راشدین کی واقعاتی ترتیب ہی اصلی اور جائز ترتیب ہے۔ یعنی پہلے خلیفہ حضرت ابوبکرؓ، دوسرے حضرت عمرؓ، تیسرے حضرت عثمانؓ، اور چوتھے حضرت علیؓ ہیں۔ اور ان کے درمیان فضیلت و رتبہ کی ترتیب بھی یہی ہے۔ جبکہ اہل تشیع کے نزدیک جناب نبی اکرم کے بعد خلافت حضرت علیؓ کا حق تھا جو انہیں نہیں دیا گیا۔ اس لیے پہلے تین خلفاء کی خلافت جائز نہیں ہے بلکہ ان کی حیثیت غاصبین اور ظالمین کی ہے۔

چنانچہ ان واضح اور بنیادی اختلافات کے ہوتے ہوئے دونوں میں سے کسی کے لیے بھی دوسرے فریق کو بطور مسلمان قبول کرنا ممکن نہیں تھا۔ اور اس کا واضح اظہار دونوں فریقوں کی بنیادی کتابوں اور اساسی تعلیمات میں موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی حد تک تعلقات اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان صدیوں سے قائم چلے آرہے ہیں جو حالات کی ضرورت کی تحت بسا اوقات مشترکہ معاملات میں باہمی تعاون کی صورت بھی اختیار کر جاتے ہیں۔

اس پس منظر میں وطن عزیز پاکستان میں شیعہ سنی تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو ماضی کے حوالہ سے ان میں حوصلہ افزائی کا پہلو نمایاں دکھائی دیتا ہے اور بہت سی دینی تحریکات میں سنی اور شیعہ قائدین ایک پلیٹ فارم پر جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں:

  • تحریک آزادی میں مجلس احرار اسلام کی جدوجہد ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتی ہے اور اس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ ، اور صاحبزادہ سید فیض الحسنؒ کے ساتھ مولانا مظہر علی اظہر بھی صف اول کے لیڈروں میں شامل ہیں جو شیعہ تھے اور ایک عرصہ تک احرار کے سیکرٹری جنرل رہے ہیں۔
  • تحریک پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح کا شیعہ ہونا کسی سے مخفی نہیں ہے۔ مگر علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا عبد الحامد بد ایونیؒ ، اور مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ جیسے اکابر علماء نے ان کی قیادت میں قیام پاکستان کی جنگ لڑی ہے۔
  • تحریک ختم نبوت میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا سید ابوالحسناتؒ ، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ ، اور مولانا خواجہ خان محمد کے ساتھ سید مظفر علی شمسی اور علامہ غضنفر کراروی جیسے شیعہ راہنماؤں کی محنت بھی شامل ہے۔
  • قیام پاکستان کے بعد اسلامی دستور کے لیے ۲۲ دستوری نکات مرتب کرنے والے ۳۱ سرکردہ علماء کرام میں علامہ سید سلیمان ندویؒ ، مولانا عبد الحامد بد ایونیؒ ، مولانا محمد داؤد غزنویؒ ، اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے ساتھ ممتاز شیعہ راہنما حافظ کفایت حسن اور مولانا مفتی جعفر حسین بھی شریک تھے۔

اس لیے یہ بات پورے شرح صدر کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اعتقادی اختلافات کی شدت اور سنگینی کے باوجود پاکستان میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور مشترکہ معاملات میں باہمی تعاون کچھ عرصہ پہلے تک قائم رہی ہے۔ اور اہل سنت نے اپنی واضح اکثریت کے ہوتے ہوئے بھی اہل تشیع کو قومی معاملات میں شریک کرنے حتیٰ کہ دینی تحریکات کی قیادت کی صف میں شامل کرنے میں بھی بخل سے کام نہیں لیا۔ لیکن اب یہ فضا قائم نہیں رہی اور جہاں قومی سطح پر فرقہ وارانہ کشیدگی کے مسلح تصادم کی صورت اختیار کر جانے کی شکل میں اس کے نقصانات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، وہاں تحریک نفاذ اسلام کے ایک نظریاتی کارکن کی حیثیت سے میں اپنے اس دکھ کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ اس سے نفاذ اسلام کی جدوجہد کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، جہاں سیکولر حلقوں کو کبھی نفاذ شریعت کے مطالبہ کو فرقہ وارانہ قرار دینے میں کامیابی نہیں ہوئی تھی، ’’شریعت بل‘‘ کے بارے میں تحریک جعفریہ کے جداگانہ موقف کے باعث نفاذ شریعت کو فرقہ واریت کا باعث قرار دینے کا ہتھیار سیکولر حلقوں کے ہاتھ میں ایسا مضبوطی کے ساتھ آیا ہے کہ بے چارے شریعت بل کے سر عام پرخچے اڑ گئے۔

سوال یہ ہے کہ باہمی برداشت اور مشترکہ معاملات میں تعاون کی یہ فضا آخر تبدیل کیسے ہوئی؟ اور وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے اہل سنت اور اہل تشیع کے راہنماؤں کو تحریک پاکستان، تحریک ختم نبوت، مجلس احرار اسلام اور ۲۲ نکات کی ترتیب و تدوین کی فضا سے نکال کر ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دیا ہے؟ اس سوال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ہے۔ اور اب وقت آگیا ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع دونوں کے سنجیدہ راہنما ان عوامل کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں۔ اور تحریک جعفریہؒ اور سپاہ صحابہؓ کے مسلح تصادم کو ملک گیر سطح پر شیعہ سنی خانہ جنگی کی صورت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے اپنے علم و دانش کو استعمال میں لائیں۔ اسی جذبہ اور درد دل کے ساتھ شیعہ سنی کشمکش کے موجودہ شدت پسندانہ اظہار کے اسباب و عوامل کے بارے میں ہم اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ اور ہمارے نزدیک حالات کو شدت اور سنگینی کے اس مقام تک لے جانے میں تین باتوں کا دخل سب سے زیادہ ہے۔ اور بد قسمتی سے تینوں باتوں کی ذمہ داری بنیادی طور پر اہل تشیع پر عائد ہوتی ہے۔

ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ اہل تشیع نے قومی معاملات میں جداگانہ موقف، مطالبات اور حقوق کی جدوجہد شروع کی اور تعلیمی اداروں میں اپنے لیے جداگانہ نصاب تعلیم کے ساتھ ساتھ قانونی نظام میں اپنی فقہ کے الگ نفاذ کا مطالبہ کر دیا۔ یہ دونوں مطالبات نہ صرف یہ کہ غیر منطقی اور غیر حقیقت پسندانہ تھے بلکہ ان مطالبات نے شیعہ اور سنی آبادی کے درمیان دوئی اور منافرت کی ایک واضح لکیر کھینچ دی۔ جس کے نتائج و ثمرات آج ہمارے سامنے ہیں۔ جہاں تک نصاب تعلیم کا تعلق ہے، اہل تشیع کی یہ شکایت بجا تھی کہ چونکہ سکولوں میں اسلامیات کا نصاب ملک کی اکثریت اہل سنت کے معتقدات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے، اس لیے ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ لیکن اس کا آسان حل یہ تھا کہ اسلامیات کا یہ نصاب شیعہ طلبہ کے لیے اختیاری قرار دے دیا جاتا اور اہل تشیع اپنے بچوں کی مذہبی تعلیم کا اہتمام اپنی مذہبی درسگاہوں میں کرتے۔ لیکن اس پر اکتفا نہ کیا گیا اور سکولوں میں دو الگ الگ نصابوں کی بیک وقت تعلیم ضروری سمجھی گئی جس سے تعلیمی اداروں سے ہی اعتقادی محاذ آرائی کا آغاز ہوگیا۔ اسی طرح فقہ جعفریہ کے متوازی نفاذ کے مطالبہ نے بھی صورت حال خراب کی۔ جہاں تک پرسنل لاء اور شخصی قوانین کا تعلق ہے، اہل سنت نے کبھی اہل تشیع کے اس حق سے انکار نہیں کیا کہ ان کے شخصی معاملات ان کی فقہ کے مطابق ہوں۔ یہ ایک مسلمہ حق ہے جس کا اعتراف علماء کے ۲۲ نکات میں بھی کیا گیا ہے اور موجودہ دستور میں بھی انہیں یہ حق حاصل ہے۔ لیکن پوری کی پوری فقہ جعفریہ کے نفاذ کا مطالبہ عملاً ملک کے پبلک لاء میں دو متوازی نظاموں کے نظام کا مطالبہ ہے جو مسلمہ اصولوں کے منافی ہے۔ اور خود ایران میں بھی، جہاں شیعہ اکثریت ہے اور ولایت فقیہ کی مذہبی حکومت ہے، یہ طریق کار اختیار نہیں کیا گیا۔ ایرانی دستور کے مطابق ملک کا سرکاری مذہب اور پبلک لاء اکثریتی فقہ اثنا عشری جعفریہ کے مطابق ہے، اور اہل سنت کو صرف پرسنل لاء میں اپنی فقہ پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ مگر پاکستان میں اہل تشیع نے ایران سے الگ معیار اختیار کیا اور فقہ جعفریہ کے متوازی نظام کا مطالبہ کر کے جہاں سیکولر حلقوں کو موقع دیا کہ وہ نفاذ شریعت کو فرقہ وارانہ مسئلہ قرار دے کر اس کے خلاف مہم چلائیں، وہاں شیعہ اور سنی کے الگ الگ ہونے کے تصور کو اور زیادہ پختہ کر دیا۔

شیعہ سنی کشیدگی میں اضافہ کا دوسرا بڑا سبب شیعہ لٹریچر اور شیعہ مقررین کے خطابات میں حضرات صحابہ کرامؓ کے بارے میں توہین آمیز اور گستاخانہ جذبات کا برملا اظہار ہے۔ ازواج مطہراتؓ، خلفاء راشدینؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کے بارے میں اہل تشیع کے عقائد جو بھی ہوں، یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔ لیکن ایک ایسے معاشرہ میں جس کی اکثریت ان بزرگوں سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتی ہو، ان کے بارے میں مخالفانہ جذبات کا اظہار ایک الگ مسئلہ ہے۔ پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق اہل سنت کی تعداد ۹۵ فیصد ہے، اور وہ ازواج مطہراتؓ، خلفاء راشدینؓ، اور اہل بیت عظامؓ سمیت تمام صحابہ کرامؓ کے ساتھ محبت و عقیدت اور ان کے احترام کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس حقیقت کے ادراک کے باوجود یہ بھی حقائق ہیں کہ اہل تشیع کے ذمہ دار حضرات کی کھلی بندوں تقسیم ہونے والی کتابوں اور رسالوں میں ان قابل احترام ہستیوں کے بارے میں گستاخانہ مواد موجود ہوتا ہے۔ بہت سے شیعہ مقررین کھلے خطابات میں ان بزرگوں کے بارے میں توہین آمیز باتیں کہہ جاتے ہیں اور درجنوں ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن میں صحابہ کرامؓ اور خلفاء راشدین کے پتلے کھلے عام جلا کر ان کے خلاف نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ صورت حال آخر کس حد تک برداشت ہو سکتی ہے؟ اہل سنت کی یہ مجبوری ہے کہ وہ ان باتوں کا جواب برابر کی سطح پر نہیں دے سکتے۔ کیونکہ اہل تشیع کے اس سطح کے بزرگ یعنی حضرات ائمہ اہل بیتؓ خود اہل سنت کے بھی قابل احترام بزرگ ہیں اور ان کے خلاف کوئی بات کہنا اہل سنت کے نزدیک اسی طرح ناقابل برداشت جرم ہے جیسے حضرات صحابہ کرامؓ کی توہین ناقابل برداشت ہے۔ اس لیے اہل سنت کی طرف سے ان باتوں کا رد عمل کئی گنا زیادہ شدت اختیار کر کے اپنے سامنے کے اہل تشیع کے مقابل آجاتا ہے۔ جو بہرحال کشیدگی اور اشتعال میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔

شیعہ سنی کشیدگی میں اضافہ کا تیسرا بڑا سبب اہل تشیع کے ماتمی جلوس ہیں جو اہل تشیع کے نزدیک عبادت کا درجہ رکھتے ہیں، مگر اہل سنت انہیں جائز نہیں سمجھتے۔ جہاں تک امام حسینؓ اور خانوادہ نبوت کی کربلا میں شہادت اور ان کی مظلومیت کا تعلق ہے، اہل سنت کے جذبات بھی اس معاملہ میں اہل تشیع سے کم نہیں ہیں اور وہ اپنے جذبات غم، صدمہ اور محبت کا اپنے انداز میں اظہار کرتے ہیں۔ لیکن غم کے اظہار کا جو طریقہ ماتمی جلوسوں کی صورت میں اہل تشیع کی طرف سے رواج پا گیا ہے وہ اہل سنت کے نزدیک نہ صرف یہ کہ درست نہیں بلکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے منافی ہے۔ اہل سنت کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اہل تشیع اپنے جذبات غم کا اظہار اپنے طریقے سے کریں، بشرطیکہ وہ ان کے گھروں کی چار دیواری اور عبادت گاہوں میں محدود ہو۔ اور اس کا دائرہ اہل سنت کے گھروں اور آبادی تک وسیع نہ کیا جائے۔ سوال یہ نہیں کہ اہل تشیع کو اپنے مذہب کے مطابق ماتم کرنے کا حق ہے یا نہیں؟ وہ تو طے شدہ حق ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کا دائرہ کار اہل تشیع تک محدود رہنا چاہیے اور ان لوگوں تک وسیع نہیں ہونا چاہیے جو اسے جائز نہیں سمجھتے۔ کیونکہ کوئی بھی ایسا اجتماع یا جلوس ان لوگوں کے درمیان لے آیا جائے جو مذہبی طور پر اسے جائز نہ سمجھتے ہوں، بہرحال کشیدگی پیدا کرتا ہے اور اس کشیدگی کے المناک مظاہرے کئی بار ہم اپنے ملک کے بازاروں اور سڑکوں پر دیکھ چکے ہیں۔

یہ ہیں وہ چند بنیادی اسباب جنہوں نے پاکستان میں شیعہ سنی تعلقات کو باہمی برداشت اور تعاون کی فضا سے نکال کر محاذ آرائی اور مسلح تصادم کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ ہم سپاہ صحابہؓ پاکستان کی پالیسی اور طریق کار سے متفق نہیں ہیں اور اس کا اظہار سپاہ صحابہؓ کے قائدین کے ساتھ روبرو گفتگو کے علاوہ پبلک بیانات میں بھی کئی بار کر چکے ہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک سپاہ صحابہؓ اس رد عمل کا نام ہے جو اہل تشیع کے مذکورہ بالا طرز عمل کے نتیجہ میں فطری طور پر نمودار ہوا ہے۔ اور ری ایکشن کی شدت اور تلخی کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہوں، اس کی ذمہ داری بہرحال اس ’’عمل‘‘ پر عائد ہوتی ہے جو اس رد عمل کو جنم دیتا ہے۔

اسباب و عوامل کے تجزیہ کے بعد ضروری ہے کہ شیعہ سنی تعلقات کے مستقبل کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کر دی جائیں۔ ہمارے نزدیک شیعہ سنی تعلقات کو مستقبل میں منفی شاہراہ پر گامزن رکھنے یا مثبت رخ دینے کا اختیار بھی اہل تشیع کے سنجیدہ راہنماؤں کے پاس ہے۔ اگر شیعہ قیادت یہ سمجھتی ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بریک لگانا ضروری ہے اور باہمی برداشت اور تعاون کی سابقہ فضا کی بحالی ملک و قوم اور خود شیعہ آبادی کے لیے مفید ہے تو ابھی اس کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ اور اس منزل گم گشتہ کے حصول کے لیے سنجیدگی کے ساتھ پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ بلکہ ذاتی طور پر خود ہمارا جی چاہتا ہے کہ تحریک نفاذ شریعت اور تحریک ختم نبوت میں اہل تشیع کا سابقہ رول بحال ہو۔ لیکن اس کے لیے شیعہ قیادت کو جداگانہ فقہ کے نفاذ اور ہر چھوٹی بڑی بات میں جداگانہ تشخص کے اظہار کا راستہ ترک کر کے علماء کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات کی پوزیشن پر قومی دھارے میں واپس آنا ہوگا۔ ناموس صحابہؓ کے تحفظ اور ماتمی جلسوں کے بارے میں اہل سنت کے قیادت کے ساتھ اعتماد کی فضا بحال کرنا ہوگی۔ اور اہل سنت کے مذہبی جذبات کے احترام کا عملاً یقین دلانا ہوگا۔ اور اگر شیعہ قیادت اس پوزیشن پر واپسی کو مشکل خیال کرتی ہے اور قومی دھارے سے الگ جداگانہ تشخص، موقف اور مطالبات کی راہ پر چلتے رہنا اس کے نزدیک ناگزیر امر ہے تو اس کے منطقی تقاضوں سے آنکھیں بند کر کے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ مگر اہل سنت اس پوزیشن میں بھی اہل تشیع کے ساتھ تعلقات کار کا از سر نو تعین کرنے کے لیے تیار ہوں گے جس کے لیے ہمارے نزدیک سب سے بہتر معیار ایرانی دستور ہے۔ اور ہم اہل سنت اور اہل تشیع کے راہنماؤں کے سامنے یہ تجویز پیش کریں گے کہ:

  • آئندہ مردم شماری شیعہ سنی بنیادوں پر کرا کے دونوں کی آبادی کا صحیح تناسب معلوم کر لیا جائے تاکہ باہمی حقوق کا تعین عملاً ممکن ہو جائے۔
  • ایران کے دستور میں اکثریت اور اقلیت کے لیے جو دائرہ مقرر کیا گیا ہے، اسے معیار تسلیم کر کے پاکستان میں دستوری ترامیم کے ذریعہ اسے مکمل طور پر نافذ کر دیا جائے۔
  • آبادی کے صحیح تناسب کے مردم شماری کے ذریعہ تعین کے بعد فوج اور سول کی ملازمتوں اور اسمبلیوں کی نمائندگی کے لیے اسی بنیاد پر تناسب طے کر دیا جائے تاکہ کوئی فریق دوسرے کے حقوق پر اثر انداز نہ ہو سکے۔

ہمیں امید ہے کہ ملک کے سنجیدہ اہل دانش ان تجاویز کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لے کر بڑھتی ہوئی شیعہ سنی کشمکش کی روک تھام کے لیے موثر کردار ادا کریں گے۔ ‘‘

درجہ بندی: