حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ اگست ۲۰۱۰ء

میں گزشتہ روز امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے قاری محمد ہاشم صاحب کے گھر میں قیام پذیر تھا کہ انہوں نے انٹرنیٹ پر پاکستانی اخبارات کا مطالعہ کرایا۔ خبروں میں ایک تعزیتی بیان نے چونکا دیا جس میں مولانا قاضی عبد اللطیف آف کلاچیؒ کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا گیا تھا۔ میرے لیے یہ خبر اچانک تھی، بہت صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ابھی چند روز قبل ان کے بھتیجے مولانا قاضی عبد الحلیم کا انتقال ہوا تھا تو میں بیرون ملک سفر کی تیاری میں تھا اور سوچ رہا تھا کہ واپسی پر رمضان المبارک کے بعد کلاچی حاضری دوں گا۔ مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کی وفات کی خبر نے صدمہ میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔

کلاچی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا یہ قاضی خاندان کئی پشتوں سے علمی و دینی خدمات میں مصروف ہے اور نہ صرف صوبہ سرحد بلکہ ملک بھر کے عوام کی سیاسی و دینی راہنمائی میں اس خاندان کا نام سرفہرست ہے۔ حضرت مولانا قاضی نجم الدینؒ کا تذکرہ ہم علمائے کرام سے سنتے رہتے تھے جن کے نام پر کلاچی مدرسہ نجم المدارس قائم ہے اور ہزاروں علماء و طلبہ اب تک اس سے استفادہ کر چکے ہیں۔ ان کے فتاویٰ کے مجموعہ ’’نجم الفتاویٰ‘‘ سے ان کے علمی مقام کی بلندی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت مولانا قاضی عبد الکریم دامت برکاتہم اس خاندان میں سے ہیں جن سے میں نے ہمیشہ استفادہ کیا ہے اور انہوں نے بھی مسلسل سرپرستی، شفقتوں اور دعاؤں سے نوازا ہے۔ جبکہ ان کے بھائی مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کے ساتھ میری طویل سیاسی و جماعتی رفاقت رہی ہے اور مختلف تحریکات میں ہم نے اکٹھے کام کیا ہے۔

جمعیۃ علمائے اسلام کے ایک کارکن کے طور پر میری جماعتی زندگی کا ۱۹۶۲ء سے ۱۹۷۰ء تک کا دور گوجرانوالہ ڈویژن کی حدود تک جبکہ ۱۹۷۱ء سے ۱۹۹۰ء مرکزی سطح پر رہا۔ پھر مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے منصب سے مستعفی ہو کر میں نے خود کو جمعیۃ علمائے اسلام کے ایک عام رکن کی حد تک محدود کر لیا۔ پورا ملک مسلسل بیس سال تک میری جماعتی سرگرمیوں کی جولانگاہ تھا، اس بیس سالہ دور میں جن چند بزرگوں کے ساتھ میری سب سے زیادہ ذہنی و فکری ہم آہنگی اور عملی رفاقت رہی ہے ان میں حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کا نام نمایاں ہے۔ وہ عمر، علم، اور عمل تینوں حوالوں سے مجھ سے سینئر بلکہ میرے بزرگ تھے مگر عملی و جماعتی زندگی کے اس دور میں انہوں نے کبھی اس کا احساس نہیں دلایا اور کبھی اشارتاً بھی اس کا اظہار نہیں کیا۔ چنانچہ عمر، علم، عمل کے تفاوت کے باوجود ہمارے درمیان بے تکلفی، دوستی، اعتماد، اور تعاون کا یہ تعلق قائم رہا۔

حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ ایک مدرس عالم دین، پختہ کار سیاسی رہنما، انتھک جماعتی کارکن، سنجیدہ پارلیمنٹیرین، اور بے باک مقرر تھے۔ وہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے معتمد رفقاء میں سے تھے اور مفتی صاحبؒ کی وفات کے وقت ان کے چار نائبین میں سے تھے۔ مفتی صاحبؒ جمعیۃ علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل تھے جبکہ ان کے معاون چار جماعتی سیکرٹریوں میں مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا قاضی عبد اللطیفؒ، اور مولانا غلامؒ ربانی آف رحیم یار خان کے ساتھ مجھے بھی اس ٹیم کا چوتھا رکن ہونے کا شرف حاصل تھا۔ قاضی عبد اللطیفؒ سیاسی زبان، مذاکراتی لب و لہجہ، اور دستور و قانون کی موشگافیوں سے آگاہ تھے اور جماعتی اجلاس میں ہونے والے بحث و مباحثہ میں ان کی شرکت بھرپور ہوتی تھی۔ وہ پیش آمدہ امور پر سوچ سمجھ کر رائے قائم کرتے، اس کا پوری قوت کے ساتھ اظہار کرتے، اس کے حق میں دلائل دیتے، اس کا دفاع کرتے، اور اسے منوانے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔ وہ اجلاس کا رخ دیکھ کر رائے قائم نہیں کرتے تھے بلکہ پہلے سے تیاری کے ساتھ رائے متعین کرکے آتے تھے اور انہیں ان کے موقف سے ہٹانا آسان بات نہیں ہوتی تھی۔ البتہ وہ اپنی رائے کے خلاف جماعتی فیصلوں کا مکمل احترام کرتے اور اس پر عمل بھی کرتے تھے۔

میرا ذوق بھی کم و بیش اسی طرح کا تھا اس لیے اگر کسی مسئلہ میں ہماری رائے مختلف ہو جاتی تو شوریٰ کے اجلاس میں ہمارا باہمی مباحثہ دیکھنے کے قابل ہوتا تھا۔ صدر ضیاء الحق مرحوم کے مارشل لاء کی حکومت میں پاکستان قومی اتحاد کی شمولیت کے مسئلہ پر ہماری رائے ایک دوسرے سے مختلف تھی۔ وہ شمولیت کے حق میں تھے جبکہ میں اس کے سخت خلاف تھا۔ جامعہ حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں جمعیۃ کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس تھا، قاضی صاحبؒ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے اور میں اپنی رائے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس پر ہمارے مباحثہ نے ایک طرح سے باقاعدہ مناظرے کی شکل اختیار کر لی جسے حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور دیگر شرکاء دلچسپی سے سنتے رہے، بالآخر ہاؤس نے فیصلہ مولانا مفتی محمودؒ پر چھوڑ دیا اور انہوں نے یہ کہہ کر مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کے حق میں فیصلہ دے دیا کہ اصولاً بات راشدی کی درست ہے لیکن موجودہ صورتحال میں پاکستان قومی اتحاد کو بچانے کے لیے حکومت میں شمولیت ہماری مجبوری ہے۔ میرے ذہن میں مارشل لاء کی کابینہ میں شمولیت کی صورت میں شدید تحفظات تھے اس لیے میں نے اختلافی نوٹ کا حق مانگا جو مل گیا اور میں نے کارروائی کے رجسٹر میں شوریٰ کے فیصلے کے ساتھ اپنا اختلافی نوٹ تحریر کرا دیا۔

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد جمعیۃ علمائے اسلام درخواستی گروپ اور فضل الرحمان گروپ میں تقسیم ہوئی تو ہم دونوں درخواستی گروپ کا حصہ بلکہ سرگرم کردار تھے۔ اس دوران صدر ضیاء الحق مرحوم نے غیر جماعتی مجلس شوریٰ تشکیل دی تو ہماری رائے پھر مختلف ہوگئی۔ مولانا سمیع الحق، مولانا قاضی عبد اللطیفؒ، اور مولانا قاری سعید الرحمانؒ آف راولپنڈی نے مجلس شوریٰ کی رکنیت اختیار کر لی۔ مجھے بھی پیشکش ہوئی مگر میں نے معذرت کا راستہ اختیار کیا۔ دراصل ہمارے بعض بزرگوں کی مخلصانہ رائے تھی کہ صدر ضیاء الحق چونکہ ایک مضبوط حکمران ہیں اور نفاذ شریعت کے دل سے خواہاں ہیں اس لیے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں ان کا مکمل ساتھ دینا چاہیے اور جتنا کام بھی اس سلسلے میں ان سے لیا جا سکتا ہے اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ مگر میری رائے یہ تھی کہ صدر ضیاء الحق مرحوم اپنے تمام تر خلوص اور مضبوط حکمرانی کے باوجود نفاذ شریعت کے سلسلے میں معروضی صورتحال میں کچھ زیادہ مؤثر پیش رفت نہیں کر پائیں گے، البتہ اپنا پورا وزن ان کے پلڑے میں ڈال دینے سے دینی قوتوں کی سیاسی ساکھ مجروح ہوگی جو مستقبل میں ان کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ مگر اس اختلاف رائے کے باوجود ہم اکٹھے چلتے رہے حتیٰ کہ غیر جماعتی الیکشن میں مولانا سمیع الحقؒ اور مولانا قاضی عبد اللطیفؒ سینٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔ اور جب انہوں نے سینٹ میں نفاذ شریعت کے حوالے سے ’’شریعت بل‘‘ پیش کیا تو نہ صرف ہماری جماعتی سرگرمیوں میں ہلچل پیدا ہوئی بلکہ ملک بھر کے دینی حلقوں میں جوش وخروش سامنے آیا۔ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحقؒ کی سربراہی میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام اور راہنماؤں پر مشتمل متحدہ شریعت محاذ تشکیل پایا جس کی مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں سینٹ آف پاکستان نے ’’شریعت بل‘‘ منظور کر لیا۔ لیکن بعد قومی اسمبلی میں اس بل کو اصلی شکل میں توثیق حاصل نہ ہو سکی اور دستور کی دیگر اسلامی دفعات کی طرح وہ بھی ایک نمائشی ایکٹ کی صورت اختیار کر گیا۔

اس دوران کا ایک قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ جس روز اوجڑی کیمپ میں اسلحہ کا ذخیرہ پھٹنے کا سانحہ ہوا اس روز نفاذ شریعت کے سلسلے میں ہمارا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کرنے کا ارادہ تھا۔ جمعیۃ علمائے اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلے کے مطابق مولانا سمیع الحق، مولانا قاضی عبدا للطیفؒ، مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی، مولانا عبد الرحمان قاسمیؒ، اور راقم الحروف پر مشتمل پانچ حضرات کے گروپ کو پلے کارڈ اٹھا کر پارلیمنٹ کے سامنے اس کے اجلاس کے دوران خاموش مظاہرہ کرنا تھا۔ مولانا سمیع الحق کے علاوہ باقی چار وں حضرات اس سے پچھلی رات چکوال میں تھے۔ صبح ہم اس مقصد کے لیے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے تو روات سے اسلام آباد جانے والی شاہراہ پر ہمیں روک دیا گیا۔ پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی تھی اور اسے ہدایت تھی کہ ہمیں اسلام آباد میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ ناکے پر پولیس نے ہمیں روکا تو قاضی عبد اللطیفؒ نے متعلقہ پولیس آفیسر سے کہا کہ میں پارلیمنٹ کا رکن ہوں مجھے آپ اجلاس میں شرکت سے روکنے کے مجاز نہیں ہیں اور یہ میرے ساتھی ہیں یہ بھی میرے ساتھ جائیں گے۔ پولیس آفیسر نے کہا کچھ بھی ہو اس وقت ہم آپ کو یہاں سے آگے نہیں جانے دیں گے۔ قاضی صاحبؒ نے اپنے قافلے کی گاڑیوں کے ڈرائیوروں سے کہا کہ گاڑیاں روڈ پر ٹیڑھی کھڑی کر کے روڈ بلاک کر دو، اگر ہم آگے نہیں جائیں گے تو کوئی بھی یہاں سے آگے نہیں جائے گا۔ مگر ہم ابھی اس کی تیاری کر رہے تھے کہ ہر طرف سے خوفناک دھماکوں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں اور یوں محسوس ہونے لگا جیسے اسلام آباد پر فضائی حملہ ہوگیا ہے، ہر طرف بم دھماکوں کا راج تھا۔ چنانچہ ہمارا اور پولیس دونوں کا پروگرام ادھورا رہ گیا، ہم نے ایم این اے ہاسٹل پہنچ کر قاضی صاحب مرحوم کے کمرے میں پناہ لی اور وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اوجڑی کیمپ میں اسلحہ کا ذخیرہ پھٹ گیا ہے اور دیگر بہت سے حضرات کے علاوہ رکن قومی اسمبلی خاقان عباسی بھی شہید ہوگئے ہیں۔

یہ چند باتیں قاضی صاحبؒ کے حوالے سے فی الوقت ذہن میں آئیں جو تحریر کر دی ہیں جبکہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کی جدوجہد کا دائرہ بہت متنوع اور وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبولیت سے نوازے اور ان کے برادر حضرت مولانا قاضی عبد الکریم دامت برکاتہم اور دیگر اہل خانہ کو یہ صدمہ صبر و حوصلہ کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے، آمین یا رب العالمین۔