مولانا محمد عالمؒ اور مولانا محمد عبد اللہ عباسیؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ انصاف، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جولائی ۲۰۱۴ء

گزشتہ ہفتے ہمیں دو بزرگ علماء کرام کی جدائی کے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا اور دین کی مخلصانہ محنت کرنے والی صف کچھ اور سکڑ گئی۔ شیخوپورہ میں حضرت مولانا محمد عالم صاحبؒ کا انتقال دینی حلقوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے، وہ گزشتہ روز طویل علالت کے بعد وفات پا گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق ہزارہ کے علاقہ بالاکوٹ سے تھا۔ پہلے ضلع شیخوپورہ کے دیہاتی علاقہ میں دینی تعلیم و تدریس کی خدمات سر انجام دیتے رہے جبکہ ۱۹۷۴ء میں شہر میں انہوں نے جامعہ فاروقیہ کے نام سے مدرسہ قائم کیا جو شرق پور روڈ پر ایک وسیع خطہ زمین اور کئی بلاکوں پر مشتمل عمارت میں واقع ہے، اور ضلع شیخوپورہ کا مرکزی دینی مدرسہ شمار ہوتا ہے۔ ضلع شیخوپورہ میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا حلقہ اثر بہت زیادہ ہے اور بے شمار لوگ ان کے فیض و نسبت سے فیضیاب ہیں۔ ایک دور میں حضرت مولانا امین الحقؒ اور مولانا قاری محمد امینؒ اور مولانا محمد شعیبؒ آف خانقاہ ڈوگراں اس ضلع کے بزرگ علماء کرام تھے۔ اور شاعرِ اسلام الحاج سید امین گیلانیؒ اس علاقہ کی دینی تحریکات کے روح رواں ہوتے تھے۔ پھر مولانا عبد اللطیف انور، مولانا محمد یعقوب ربانی، مولانا محمد عالمؒ ، ڈاکٹر عبد الحق تارڑ، مولانا عبد الہادیؒ اور حافظ محمد عباسؒ کا دور آیا جس میں جمعیۃ علماء اسلام، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور سپاہ صحابہؓ کی تحریکات نے ضلع کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کو سرگرم رکھا۔ مگر کوئی مرکزی دینی درسگاہ اس علاقہ میں موجود نہیں تھی جس کی کمی شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی تھی۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے مولانا محمد عالمؒ آگے بڑھے اور بے سروسامانی کے باوجود ایک بڑے جامعہ کی تعمیر کا آغاز کر دیا۔

میں جامعہ فاروقیہ کے سنگ بنیاد سے لے کر اب تک کے مختلف مراحل کا عینی شاہد ہوں اور اس کے بیسیوں اجتماعات اور پروگراموں میں شرکت کی سعادت حاصل کر چکا ہوں۔ ہم سب کے مخدوم حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کی خصوصی سرپرستی اس جامعہ کو حاصل رہی ہے۔ جبکہ مرشد العلماء حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ ، امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، خطیب اسلام حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ ، اور مخدوم العلماء حضرت سید نفیس الحسینیؒ بھی اس جامعہ اور مولانا محمد عالمؒ کے ساتھ گہری شفقت و محبت کا تعلق رکھتے تھے اور وقتاً فوقتاً وہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کئی بار وہاں تشریف لے گئے ہیں اور سالانہ اجتماعات میں شرکت کے علاوہ امتحانات میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ ذہن میں آگیا ہے کہ جامعہ فاروقیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہمارے ایک دوست مولانا حافظ محمد اعجاز صاحب جو نیویارک کے دارالعلوم میں کچھ عرصہ تک خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں، ایک بار میں وہاں گیا اور سالانہ امتحان میں کچھ طلبہ سے امتحان لینے کا موقع ملا۔ مولانا حافظ اعجاز احمد کے فرزند مشکوٰۃ شریف کا امتحان دے رہے تھے، اس دوران مولانا حافظ اعجاز احمد آئے اور کہا کہ عجیب اتفاق ہے کہ میں نے جامعہ فاروقیہ شیخوپورہ میں مشکوٰۃ شریف کا امتحان آپ کے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کو دیا تھا۔ اور آج دارالعلوم نیویارک میں میرے بیٹے کا مشکوٰۃ شریف کا امتحان آپ لے رہے ہیں۔

جامعہ فاروقیہ اور مولانا محمد عالمؒ کی دینی، تعلیمی اور اصلاحی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے جس کا یہ مختصر کالم متحمل نہیں ہو سکتا۔ چند سطور صرف حضرت مرحوم کی وفات پر رنج و غم کے اظہار کے لیے اور قارئین سے ان کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا کی درخواست کی غرض سے قلم بند کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ان کے فرزند و جانشین مولانا قاری محمد طاہر سمیت ان کے اہل خاندان اور رفقاء کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

ان سے دو روز قبل ضلع گوجرانوالہ میں منڈھیالہ تیگہ کے قریب بلال پور میں ہمارے پرانے دوست اور ساتھی مولانا محمد عبد اللہ عباسیؒ کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق مری سے تھا۔ ہمارے چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ قیام پاکستان سے قبل مری کی ایک مسجد میں کچھ عرصہ خطیب رہے ہیں، مولانا محمد عبد اللہؒ کے والد حاجی محمد سلیم مرحوم اس مسجد کے منتظم تھے۔ وہاں سے تعلق قائم ہوا تو سلسلۂ محبت دراز ہوتا چلا گیا۔

مولانا محمد عبد اللہؒ نے ۱۹۷۰ء کے دوران جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورہ حدیث سے فراغت حاصل کی اور حضرت صوفی صاحبؒ کے حکم پر بلال پور میں، جو اس دور میں بدھوپور کہلاتا تھا، ایک مسجد کی امامت و خطابت کے فرائض سنبھال لیے۔ بلال پور کے ایک صاحب دل اور مخیر بزرگ حاجی جمال دین مرحوم کے ساتھ مل کر طالبات کے دینی مدرسہ اعجاز القرآن کا آغاز کیا جو اب ضلع میں بنات کے بڑے مدارس میں شمار ہوتا ہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اس مدرسہ کے سرپرست تھے اور حاجی جمال دین مرحوم اس کے مہتمم تھے جبکہ مولانا محمد عبد اللہ عباسیؒ اس مدرسہ کی ترقی و فلاح کے لیے زندگی بھر متحرک رہے۔ حضرت صوفی صاحبؒ کے ساتھ مولانا مرحوم کا انتہائی عقیدت و محبت کا تعلق تھا اور اسی حساب سے انہیں شفقت و سرپرستی بھی ہمیشہ حاصل رہی۔ چنانچہ ان کی وصیت کے مطابق ان کا جنازہ حضرت صوفی صاحبؒ کے فرزند مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی نے پڑھایا اور راقم الحروف نے بھی شرکت کی سعادت حاصل کی۔

انتہائی سادہ، نیک دل اور درد دل سے بہرہ ور بزرگ تھے، اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کے ساتھ ان کی حسنات جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔