کرونا کی تیسری لہر

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ اپریل ۲۰۲۱ء

کرونا کی تیسری لہر کی تباہ کاریاں بڑھتی جا رہی ہیں اور دنیا کے بہت سے ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں، بھارت سب سے زیادہ متاثر بتایا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی اس کے دائرہ اثر میں روز افزوں وسعت پریشان کن ہے۔ یہ وائرس قدرتی ہے یا مصنوعی، اس پر بحث جاری ہے مگر بہرحال موجود ہے اور اپنا کام کر رہا ہے۔ ایک مجلس میں اس پہلو پر گفتگو چل نکلی تو میں نے عرض کیا کہ اگر واٹر سپلائی کی ٹینکی میں کوئی بدبخت زہر گھول دے تو اس کی تلاش ضرور کرنی چاہیے اور اسے نشان عبرت بنانے کی کوشش بھی ہونی چاہیے، مگر اس سے پہلے ٹینکی کی صفائی، متاثرین کا علاج اور اس کا پانی استعمال کرنے والوں کو اس سے بچانا ضروری ہے۔ متعلقہ محکمے اپنے اپنے دائرہ میں اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور احتیاط و علاج کی مختلف تدابیر ہر سطح پر اختیار کی جا رہی ہیں جن میں حتی الوسع تعاون ہم سب کی شہری اور دینی ذمہ داری ہے۔ احتیاطی تدابیر کی ضرورت سے زیادہ اور بے محل استعمال کی شکایات عام ہیں اور ہماری محکمانہ کارکردگی کے روایتی رویے بھی زیربحث ہیں، مگر اس سب کچھ کے باوجود احتیاط اور علاج کی ہر قابل عمل تدبیر اختیار کرنا ضروری ہے جس سے ہر طبقے اور شہری کو ہرممکن تعاون کرنا چاہیے، البتہ ایک انتہائی اہم پہلو جو ابھی تک ہماری سنجیدہ توجہ حاصل نہیں کر سکا یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات میں ظاہری اسباب و عوامل کے ساتھ ساتھ ان کے باطنی اسباب کی طرف توجہ بھی ضروری ہے جو کائنات کے غیبی نظام سے تعلق رکھتے ہیں مگر ظاہری طور پر نظر نہ آنے کی وجہ سے ہماری مطلوبہ توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔

کائنات کا ظاہری نظام مشاہدات، محسوسات اور معقولات سے تعلق رکھتا ہے جو معلومات کے دائرے میں رہتا ہے اور ان تک ہمیں دسترس بھی حاصل ہو جاتی ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ وسیع وہ غیبی اور باطنی نظام ہے جو دنیا میں مسلسل کام کر رہا مگر ہمارے مشاہدات و محسوسات سے بالاتر ہے، ہم انہیں محسوس تو نہیں کر پاتے مگر ان کی کارفرمائی کے اثرات ہمارے اردگرد ہر طرف موجود رہتے ہیں۔ ہم ان سے استفادہ بھی کرتے ہیں اور ان کا شکار بھی ہوتے ہیں مگر نگاہوں سے اوجھل ہونے کی وجہ سے ہمارے عقیدہ و یقین اور عملی ترجیحات میں صحیح جگہ حاصل نہیں کر پاتے۔ قرآن کریم کے آغاز میں سورہ البقرہ کی ابتدائی آیات میں ایمان و تقوٰی والوں کی پہلی صفت اور نشانی یہ بیان کی گئی ہے کہ ’’الذین یومنون بالغیب‘‘ وہ اس جہان اور نظام پر بھی یقین رکھتے ہیں جو ان کے دائرہ علم و حواس سے بالاتر ہے۔

ایک نوجوان نے کسی موقع پر سوال کیا کہ کیا فرشتے موجود ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو پوچھا کہ کہاں ہیں؟ میں نے کہا کہ بیٹا کم از کم دو تمہارے کندھوں پر ہیں اور دو میرے کندھوں پر ہیں۔ اس نے کہا کہ نہ نظر آتے ہیں اور نہ ہی محسوس ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کے باوجود وہ سارے کام کر رہے ہیں، اور سمجھانے کے لیے ایک مثال دی کہ جب ہم موبائل فون پر کسی سے بات کرتے ہیں تو ایک دوسرے کی آواز بھی سنتے ہیں اور ویڈیو کال کال کی صورت میں ایک دوسرے کو دیکھتے بھی ہیں۔ ایک موبائل سیٹ یہاں ہوتا ہے اور دوسرا دنیا کے کسی اور حصے میں، درمیان میں ہزاروں میل کا فاصلہ ہوتا ہے، ہماری آواز اور تصویر ایک دوسرے تک آناً فاناً پہنچانے والا ذریعہ کون سا ہے؟ اس نے کہا کہ سائنس کے مطابق فضا میں لہروں کا ایک مربوط اور مسلسل نظام موجود ہے جس کے ذریعے یہ کام ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سسٹم جسے آپ موجود مان رہے ہیں وہ کام بھی کر رہا ہے اور اسے کنٹرول بھی کیا جاتا ہے حالانکہ نہ نظر آتا ہے اور نہ محسوس ہوتا ہے۔ اس نوجوان سے میں نے کہا کہ بیٹا یہ لہریں تم دکھا دو، فرشتے میں دکھا دوں گا۔ دوسری بات میں نے عرض کی کہ یہ لہریں عام لوگوں کو تو محسوس نہیں ہوتیں لیکن ان کا فن سیکھنے والوں کو محسوس ہوتی ہیں اور وہ انہیں اپنے استعمال اور کنٹرول میں بھی لے آتے ہیں۔ اگر تم فرشتوں والے نظام کا فن بھی کسی اللہ والے کی صحبت میں کچھ وقت گزار کر سیکھ لو تو وہ بھی محسوس ہو جائیں گے۔

اس تناظر میں قرآن کریم کے بیان کردہ ایک واقعہ کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جو سورۃ الاعراف کی آیت ۱۳۲ تا ۱۳۵ میں مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو جھٹلا دیا اور تکبر پر اتر آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون عذاب کے طور پر بھیج دیے۔ اس پر انہوں نے حضرت موسٰیؑ سے درخواست کی کہ اپنے رب سے دعا کرو کہ یہ عذاب ہم سے ٹال دے، ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کا آپ کا مطالبہ بھی پورا کر دیں گے۔ موسٰی علیہ السلام نے دعا کی تو عذاب وقتی طور پر ٹل گیا مگر وہ وعدہ پورا کرنے کی بجائے عہدشکنی پر اتر آئے جس پر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو بحیرۂ قلزم میں غرق کر کے کمزور طبقوں کو ملک کا وارث بنا دیا۔

اس واقعہ کی بہت سی تفصیلات قرآن کریم اور بائبل میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں اور اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انسانی معاشرہ میں اس قسم کی وبائیں عام اسباب سے قطع نظر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا اور تنبیہ کے طور پر بھی آتی ہیں جو قوموں کو ان کی غلطیوں پر خبردار کرنے اور توبہ کا موقع دینے کے لیے ہوتی ہیں، اور اگر قومیں توبہ و استغفار اور اپنی غلطیوں کی تلافی کا راستہ اختیار نہ کریں تو پھر مستقل عذاب آجایا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے پناہ دیں، آمین۔

کرونا کی بار بار پھیلتی ہوئیں یہ لہریں ہمیں متوجہ کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور فرمانوں کے حوالہ سے اپنی قومی اور اجتماعی غلطیوں کا احساس کریں، ان سے باز آنے اور ان کی تلافی کی صورتیں عملاً اختیار کریں اور بارگاہ خداوندی میں انفرادی، طبقاتی اور قومی دائروں میں خلوص دل کے ساتھ توبہ و استغفار کا ہر سطح پر اہتمام کریں۔ رمضان المبارک ویسے بھی توبہ و استغفار کا مہینہ ہے اور اللہ رب العزت کی خصوصی رحمتیں اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں، اس لیے وباؤں کا مقابلہ کرنے کی نفسیات سے نجات حاصل کر کے ان سے سبق حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوششوں کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
Flag Counter