ایک اچھی خبر اور ایک حسرت!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ فروری ۲۰۱۶ء

جمعیۃ علماء اسلام میرا گھر ہے، میں نے ۱۹۶۲ء میں چودہ سال کی عمر میں اس حویلی میں قدم رکھا تھا اور اب جبکہ ہجری اعتبار سے سترہواں (۷۰) سال گزر رہا ہے اس کے مین گیٹ کے اندر ہی ہوں اور اسی حویلی میں زندگی کے باقی ماندہ لمحات گزارنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ کنبے بڑے ہو جائیں تو حویلی میں دیواریں بھی کھینچی جاتی ہیں، نئے نئے پورشن بھی تعمیر ہوتے ہیں اور اسٹرکچر میں رد و بدل بھی ہوتا رہتا ہے۔ ان سارے مراحل سے گزشتہ نصف صدی کے دوران میں بھی بار بار گزرا ہوں۔ ربع صدی میں نے متحرک بلکہ انتہائی متحرک طور پر گزاری ہے اور اس کے بعد میرے غیر متحرک دور کو بھی ربع صدی ہوگئی ہے۔ مگر یہ غیر متحرک ہونا صرف انتخابی اور تحریکی سرگرمیوں کے حوالہ سے ہے۔ علمی، فکری اور نظریاتی محاذ پر جو کچھ تھوڑا بہت کر رہا ہوں وہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے اغراض و مقاصد ہی کا حصہ ہے اور یہی کچھ کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہونا چاہتا ہوں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

گزشتہ روز جمعیۃ علماء اسلام کے حوالہ سے دو خبریں سامنے آئیں تو دل کے ماحول میں کچھ ہلچل سی محسوس ہونے لگی۔ ایک خبر اچھی تھی جس سے حوصلہ بڑھا جبکہ دوسری خبر کو اچھی کہنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ بلوچستان میں نظریاتی گروپ کے نام سے چند سال قبل جمعیۃ علماء اسلام کا جو الگ دھڑا قائم ہوا تھا اس نے بقائمی ہوش و حواس خود کو جمعیۃ علماء اسلام پاکستان میں ضم کر کے اپنی الگ شناخت ختم کر دی ہے۔ اور جو خبر اچھی نہیں لگ رہی وہ یہ ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام (ف) پنجاب کے امیر ڈاکٹر قاری عتیق الرحمن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی جو کامیاب نہ ہو سکی۔

بلوچستان میں مولانا عصمت اللہ اور ان کے رفقاء کو الگ دھڑا قائم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی اور پھر اسے ’’نظریاتی گروپ‘‘ سے تعبیر کیوں کیا گیا تھا؟ یقیناً اس کے اسباب پر فریقین کے قائدین نے غور کر لیا ہوگا اور ان اسباب کے دوبارہ لوٹ آنے کے امکانات کو روکنے کی کوئی سبیل بھی سوچ لی گئی ہوگی۔ مگر نظریاتی حوالہ سے گروپ بندی سے ہٹ کر بھی ملک بھر میں بہت سے کارکن تحفظات کا شکار ہیں اور اپنے ان تحفظات کے اظہار کی کوئی مناسب صورت نہ دیکھتے ہوئے خاموشی کے ساتھ ’’کھڈے لائن‘‘ لگے ہوئے ہیں۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ ’’نظریاتی گروپ‘‘ کی واپسی کے ساتھ ساتھ ’’نظریاتی ماحول‘‘ کی واپسی کی بھی کوئی راہ نکال لی جائے۔

میرے جیسے بہت سے کارکنوں کو یہ بات مسلسل پریشان کر رہی ہے کہ علماء حق کی یہ عظیم قوت جو بیک وقت شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ کی جمعیۃ علماء ہند اور شیخ الاسلام حضرت عثمانیؒ کی جمعیۃ علماء اسلام کی نمائندگی کر رہی ہے، اس پر معروضیت کے سائے دن بدن گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ معروضیت مقاصد کے حصول کے لیے ایک ذریعہ رہنے کی بجائے خود ’’مقصدیت‘‘ کے منصب پر فائز ہو چکی ہے جس سے نظریاتی اہداف بتدریج رسمی اور ظاہری عنوان بن کر رہ گئے ہیں۔

پارلیمانی قوت ہمارے دینی مقاصد کے حصول کا مؤثر ذریعہ رہی ہے اور آج بھی بن سکتی ہے بشرطیکہ اس کی پشت پر منظم رائے عامہ اور تحریکی قوت موجود ہو۔ تحریکی قوت کے ہندسے کے ساتھ پارلیمانی قوت کے جتنے زیرو بھی لگ سکیں ان سے قوت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن تحریکی قوت کا ہندسہ نہ ہو تو پارلیمانی قوت کے زیرو محض زیرو ہی رہتے ہیں جس کا تجربہ ہم ایک عرصہ سے کر رہے ہیں۔ جبکہ تحریکی قوت کا راستہ ہم بھول ہی گئے ہیں اور ’’اسٹریٹ پاور‘‘ کی ریت ہماری مٹھی سے پھسلتے پھسلتے چند ذروں تک محدود دکھائی دینے لگی ہے۔

ہم کے کارکنوں کو تحریکی ماحول کے لیے تیار کرنا چھوڑ دیا ہے اور ہمارا کارکن بھی دوسری سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی طرح نہ صرف سہل پسند اور تھانے کچہری کے کاموں میں مگن ہوگیا ہے بلکہ جوڑ توڑ کے مزاج نے اس کی نظریاتی اساس کو مضمحل کر کے رکھ دیا ہے جس کی ایک ہلکی سی جھلک امیر پنجاب کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو منظم کرنے اور اسے ناکام بنانے کی چالوں کی صورت میں دونوں طرف سے ہمارے سامنے آئی ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹر قاری عتیق الرحمن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہوئی، وہ میرے محترم بزرگ اور قریبی دوست حضرت مولانا قاری سعید الرحمن رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرزند ہیں۔ لیکن میں اس سے ہٹ کر اصولی حوالہ سے بات کر رہا ہوں کہ اس طرح کی تحریکیں ہمارے قدیم جماعتی اور دینی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتیں اور ہم دھیرے دھیرے اپنے روایتی ماحول سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جب کسی لشکر کو اس کے اصل حریف کے خلاف صف آرائی کا موقع نہیں ملے گا تو وہ آپس کی مشقوں میں ہی اپنے ذوق کی تسکین کے راستے تلاش کرے گا۔

میں ایک عرصہ سے دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی دینی حوالہ سے عوامی تحریکی کا محاذ گرم کرنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے تو ملک بھر کے لوگوں کی نظریں ہماری طرف دیکھنے لگ جاتی ہیں، لیکن ہم اس کے اہتمام کی طرف توجہ نہیں دیتے بلکہ کوئی اور شخص یا حلقہ اس خلا کو پر کرنے اور ضرورت کو پورا کرنے کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو ہم خاموشی کے ساتھ اسے اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی پن نکال دیتے ہیں اور غریب کارکن دیکھتا رہ جاتا ہے۔

مولانا عصمت اللہ نے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات کر کے گلے شکوے دور کیے ہیں تو بہت اچھا کیا ہے جس سے میرے جیسے کارکنوں کو حوصلہ ہوا ہے اور یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جماعتی جسم میں طاقت کا کوئی انجکشن لگ گیا ہو۔ مگر کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمن کی ملاقاتیں تو ہوتی رہتی ہیں، کبھی کسی ملاقات میں اس طرح کے گلے شکوے وہ بھی کر لیں جیسے مولانا عصمت اللہ کے ساتھ ملاقات میں ہوئے ہیں۔ اور پھر ان گلوں شکوؤں کے بعد باہمی مل بیٹھنے اور مل کر آگے بڑھنے کے امکانات نظر آنے لگے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق دونوں میرے بڑے ہیں، میں دونوں کا کارکن ہوں، ان میں سے جس نے کسی دینی کام کے لیے جب آواز دی ہے تو مجھے حاضر پایا ہے، آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مگر ایک کارکن کے طور پر میری یہ حسرت ہے کہ دونوں حضرات اپنی کسی ملاقات میں معمول کی دوستانہ گپ شپ کے ساتھ ساتھ مولانا عصمت اللہ کی طرز کی بات چیت بھی کر لیں۔

بہرحال ’’نظریاتی گروپ‘‘ کی جمعیۃ علماء اسلام میں واپسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں اور مولانا فضل الرحمن اور مولانا عصمت اللہ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو ایک خوشی کی خبر سے نوازا ہے۔ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کار خیر کو قبولیت و برکات سے بہرہ ور فرمائیں اور حضرت مدنیؒ اور حضرت عثمانیؒ کے مشن کے تمام نام لیواؤں کو ایک پرچم تلے جمع کر کے نظریاتی اور دینی محاذ پر مسلسل پیش رفت کی توفیق، اسباب اور مواقع سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔