پاکستان میں نفاذ اردو، ہندوستان میں فروغ اردو

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ مارچ ۲۰۱۶ء
اصل عنوان: 
نفاذِ اردو کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق اردو کو دفتری اور قومی زبان کا حقیقی درجہ دلانے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے ایک اخباری رپورٹ کے مطابق اپنی سفارشات مکمل کر لی ہیں۔ کمیٹی کے سربراہ صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان نے گزشتہ روز لاہور تعلیمی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں تعلیمی اداروں کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا، اور تعلیمی اداروں کو ہر سطح پر اس کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔

اردو صرف ہماری قومی زبان نہیں بلکہ عالمی رابطہ کی چند بڑی زبانوں میں سے ہے۔ بعض بین الاقوامی اداروں کی رپورٹ کے مطابق بولنے والوں کی تعداد کے حوالہ سے اردو اس وقت دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے، جبکہ وہ اپنے پھیلاؤ اور دنیا کے مختلف بر اعظموں میں بولی اور سمجھی جانے والی سب سے بڑی زبان کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ متحدہ ہندوستان میں برطانوی استعمار کے تسلط کے بعد مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کو قائم رکھنے کے لیے جو دو بڑے عنوانات اختیار کیے گئے تھے ان میں مسلمانوں کی تہذیبی شناخت و امتیاز کے ساتھ اردو زبان کو بھی ملی جدوجہد میں برابر کا درجہ دیا گیا تھا۔ چنانچہ سر سید احمد خان مرحوم نے جہاں دو قومی نظریہ کے عنوان سے مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کو ہندو تہذیب و ثقافت سے الگ ایک مستقل تہذیب کے طور پر پیش کیا وہاں ہندی زبان کے فروغ کے مقابلہ میں اردو کے تحفظ اور فروغ کی جنگ بھی لڑی، اور اسے مسلمانوں کا تشخص برقرار رکھنے کی ایک مستقل کوشش اور عنوان کا درجہ دیا۔ اس کے بعد علامہ محمد اقبالؒ ، مولانا ظفر علی خانؒ ، مولوی عبد الحقؒ اور دیگر زعماء نے اردو کے فروغ و تحفظ کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ اس لیے نظریہ پاکستان کی اساس جداگانہ مسلم تہذیب کے ساتھ ساتھ اردو زبان بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے قیام پاکستان کے بعد اردو کو قومی زبان قرار دینے کا دوٹوک اعلان کیا۔ مگر اردو کو ایک زندہ، متنوع اور ادب و علم کے ذخائر سے مالا مال زبان ہونے کے باوجود ہماری اسٹیبلشمنٹ نے نظر انداز کرنے کی روش اختیار کر رکھی ہے اور دفتری اور عدالتی دائروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے مجموعی ماحول کو بھی انگریزی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ جس طرح ہر زبان کی پشت پر اس کی تہذیب و ثقافت کار فرما ہوتی ہے اسی طرح ہمارے ہاں انگریزی زبان کے جلو میں انگریزیت اپنی پوری نفسیات کے ساتھ ہر طرح پاؤں پھیلاتی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی رابطہ اور عالمی ضروریات کے لیے انگریزی کی اہمیت سے انکار نہیں ہے لیکن اسے عملاً قومی زبان کی جگہ بھی دے دی گئی جس کا نتیجہ ہم قومی سطح پر فکری اور تہذیبی خلفشار کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ حتیٰ کہ عدالت عظمیٰ کو اس کا نوٹس لینا پڑا اور اس کی طرف سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ دستور کے مطابق اردو کو اس کا صحیح مقام اور کردار دلانے کے لیے اقدامات کریں۔ جہاں تک اردو زبان کی دفتری اور عدالتی شعبوں میں ترویج و تنفیذ کا معاملہ ہے، اور قومی اداروں میں اردو کے عملی فروغ کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کا تعلق ہے، ان پر عملدرآمد کا کوئی سنجیدہ ماحول سرکاری حلقوں میں دکھائی نہیں دے رہا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نظریۂ پاکستان کی پہلی اساس یعنی مسلم تہذیب و ثقافت کے امتیاز و تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کی دوسری اساس یعنی اردو زبان بھی ورلڈ اسٹیبلشمنٹ اور اس کے سائے میں قومی اسٹیبلشمنٹ کی مصلحتوں کے جال میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ جبکہ اس سے زیادہ المیہ کی بات یہ ہے کہ اسے اب سرسید احمد خانؒ ، مولوی عبد الحقؒ ، اور ڈاکٹر سید عبد اللہؒ جیسا کوئی وکیل بھی میسر نہیں جو اس کا مقدمہ لڑ سکے اور اردو کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنے والے عناصر کے درمیان کم از کم پُل کا کردار ہی ادا کر سکے۔

میں گزشتہ روز دہلی سے شائع ہونے والے سہ روزہ ’’دعوت‘‘ کے ایک شمارہ میں ہندوستان میں اردو زبان کے فروغ کے لیے ہونے والے کام کی رپورٹ پڑھ رہا تھا جو حکومت ہند کی قائم کردہ ’’قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان‘‘ کے ایک اشتہار کی صورت میں ہے، یہ اشتہار مذکورہ قومی کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر سید علی کریم کی طرف سے ہے جس میں نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں اردو زبان کے فروغ کے لیے کونسل کی سرگرمیوں کی تفصیل درج ہے۔ ان سرگرمیوں کو مختلف دائروں میں تقسیم کیا جائے تو وہ ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ ہو جاتے ہیں، ان میں سے دو چار کا ذکر ہی اس کالم میں کیا جا سکتا ہے۔ نمونہ کے طور پر ہمارے قارئین بھی ملاحظہ فرما لیں:

  • اردو صحافت کے دو سو سال پورے ہونے کا جشن ملک کے تین بڑے شہروں کولکتہ، سری نگر اور پٹنہ میں منایا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر شہروں میں یہ جشن جاری رہے گا۔
  • کونسل کا اردو کو ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے لیے قومی اردو پورٹل بنانے کا کام جاری ہے۔ اس پورٹل پر اردو سے متعلقہ تمام معلومات دستیاب ہوں گی۔ یہ پورٹل عوام کے لیے بین الاقوامی سطح پر اردو سے متعلق کوئی بھی جانکاری حاصل کرنے کے لیے سنگل ونڈو (Single window) کا کام دے گا۔
  • اردو سیکھنے کے خواہشمند افراد کو آن لائن اردو لرننگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اب تک ۲۷ ممالک سے ۱۶۵۰۰ سے زیادہ محبان اردو اس سے مستفیض ہو چکے ہیں۔
  • قومی اردو کونسل اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مختلف اسکیموں کے تحت ادیبوں، رضاکار تنظیموں، دیگر اداروں کو مالی اعانت فراہم کرتی ہے۔ مسودات کو شائع کرانے کے لیے امسال یعنی ۱۶۔۲۰۱۵ء میں ۱۳۹ مصنفین کو تقریباً پینتالیس لاکھ روپے کی اعانت کی گئی اور ۱۸۳ رضاکار تنظیموں، اداروں کو ایک کروڑ روپے کی مالی اعانت کی گئی جنہوں نے لسانی، ادبی اور تہذیبی روایات کے موضوعات پر سیمینارز، کانفرنس، ورکشاپ، مشاعرے وغیرہ کا انعقاد کیا۔
  • قومی اردو کونسل کے فروغ کے لیے کمپیوٹر (CABA-MDTD) ، اردو، عربی، اور فارسی ڈپلومہ کورسز کا اہتمام کرتی ہے۔

یہ ان سرگرمیوں کی چند جھلکیاں ہیں جن کا ذکر مذکورہ اشتہار میں کیا گیا ہے اور صرف اس لیے اس کالم میں ان کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جو اس کے نظریہ کی اساس اور دستور کا تقاضہ ہے مگر ہم اس کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں؟

رانا مشہود احمد خان کی سربراہی میں پنجاب حکومت کی خصوصی کمیٹی کی سرگرمیاں خوش آئند ہیں لیکن اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ریاستی ادارے اس کے لیے سنجیدہ ہوں اور اس سے بھی زیادہ یہ ضروری ہے کہ سنجیدگی کا یہ ماحول پیدا کرنے کے لیے کہیں سے مولوی عبد الحقؒ اور ڈاکٹر سید عبد اللہؒ کو تلاش کیا جائے۔