صدر محترم اور ان کی مسنون داڑھی

صدر محترم جناب محمد رفیق تارڑ جب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کے منصب پر فائز ہوئے ہیں ان کی داڑھی مسلسل موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے اور کسی نہ کسی حوالہ سے اس کا تذکرہ سامنے آتا رہتا ہے۔ جہاں تک نمازی ہونے کا تعلق ہے موجودہ ایوان صدر میں داخل ہونے والے سارے صدر نمازی رہے ہیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق شہیدؒ ، جناب غلام اسحاق خان، جناب وسیم سجاد، اور سردار فاروق احمد خان لغاری سکہ بند نمازی شمار ہوتے ہیں۔ بلکہ اول الذکر کو تو بعض حلقوں میں ’’مونا مولوی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ البتہ جناب محمد رفیق تارڑ کا معاملہ پہلوں سے مختلف ہے اور وہ اپنی بعض وضاحتوں کے باوجود پکے نمازی ہونے کے ساتھ ساتھ شعوری اور نظریاتی مسلمان سمجھے جاتے ہیں۔ اور ان کے چہرے پر سجی سنت رسولؐ جہاں دین دار حلقوں کے ہاں ایوان صدر کی روایات میں ایک خوشگوار اضافے کی علامت بن گئی ہے وہاں بعض حلقوں کے لیے الجھن کا باعث بھی بنی ہوئی ہے۔

چند سال پہلے کی بات ہے کہ مظفر آباد، آزاد کشمیر میں کشمیری مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کرنے کے لیے امریکیوں کا کوئی گروپ آیا تو کیمپوں میں ذمہ دار حضرات سے کہا گیا کہ لمبی داڑھیوں والے مہاجرین کو ذرا ادھر ادھر کر دینا کیونکہ مہمان داڑھی سے الجھن محسوس کرتے ہیں۔ اسی دور کی بات ہے کہ وسطی ایشیا کی ایک ریاست کا دورہ کرنے والے علماء کرام کے ایک گروپ نے ویزے کے لیے درخواست دی تو متعلقہ سفارت خانے نے یہ کہہ کر بعض پاسپورٹ کر واپس کر دیے کہ ان کی داڑھیاں لمبی ہیں، گروپ میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ چنانچہ ہمیں ویزے لگوانے کے لیے ’’متبادل‘‘ ذرائع کا سہارا لینا پڑا۔

اس دور میں راقم الحروف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنی اسرائیل کے فرعون کو کسی نے اس کے خواب کی تعبیر میں بتا دیا کہ تمہارے اقتدار کا خاتمہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے کسی بچے کے ہاتھوں ہوگا۔ اس پر اس نے بنی اسرائیل میں جنم لینے والے بچوں کا قتل عام شروع کر دیا تھا اور لگ بھگ ستر ہزار بچے اس کی اس سفاکی کی نذر ہوگئے تھے۔ مگر جس بچے کے ہاتھوں اس کے اقتدار کا خاتمہ مقدر تھا اس نے بنی اسرائیل کے ایک خاندان میں جنم لے کر فرعون کے گھر میں پرورش پائی اور بالآخر فرعون کو بحیرۂ قلزم میں ڈبو دیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج کے فرعون کو کسی ستم ظریف نے یہ کہہ کر داڑھی سے الرجک کر دیا ہے کہ اس کے اقتدار کے لیے کوئی داڑھی والا چیلنج بننے والا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ داڑھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ تمام انبیاء کرامؑ کی مشترکہ سنت اور مردانہ وجاہت کی علامت ہونے کے باوجود بہت سے حلقوں میں خوف اور الجھن کا عنوان بن گئی ہے۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت نے داڑھی کے مسئلہ پر سختی شروع کی اور ’’داڑھی‘‘ نہ رکھنے والوں پر تعزیر جاری کی تو بہت سے اہل علم نے اسے محسوس کیا اور کہا کہ یہ سختی غیر ضروری ہے۔ کئی دوستوں نے راقم الحروف سے بات کی تو میں نے عرض کیا کہ یہ مسئلہ شرعی اور علمی نہیں، نفسیاتی ہے۔ اور میرے نزدیک طالبان کا یہ طرز عمل داڑھی کے خلاف پھیلائی جانے والی اس نفرت کا نفسیاتی ردعمل ہے جو مغرب کے ذرائع ابلاغ کا وطیرہ بن گیا ہے۔ کیونکہ مغرب جن چیزوں کو ’’کٹر اسلامیت‘‘ کی علامت کے طور پر پیش کر رہا ہے اس کے ردعمل میں ’’کٹر اسلامیت‘‘ جب اپنے سفر کا آغاز کرے گی تو وہ انہی چیزوں سے بسم اللہ کرے گی۔ اس لیے ان معاملات کو شرعی دلائل اور ترجیحات کے حوالہ سے نہیں بلکہ مغرب کے طرز عمل کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔

بات صدر محترم جناب محمد رفیق تارڑ کی داڑھی سے چلی تھی جو بلاشبہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ کے چہرے پر بھلی معلوم ہوتی ہے۔ مگر اسے دیکھ کر ناک بھوں چڑھانے والے بھی کم نہیں ہیں حتیٰ کہ ملک کی اپوزیشن لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی اپنے جذبات کا اظہار اچھے انداز میں نہیں کیا تھا جس کا نقد جواب قدرت کی طرف سے انہیں مل گیا ہے کہ جس سیاسی اتحاد کے لیے وہ ایک عرصہ سے سرگرم عمل تھیں اس کا قیام ایک داڑھی والے کی صدارت میں عمل میں لایا گیا ہے، اور محترمہ کو کم از کم ایک سال کے لیے داڑھی والے کی قیادت قبول کرنا پڑ گئی ہے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ خود داڑھی والے حضرات بھی جب صدر محمد رفیق تارڑ کا تذکرہ کرتے ہیں تو داڑھی کے ذکر کے بغیر بات آگے نہیں بڑھتی۔ گزشتہ دنوں صدر محترم گوجرانوالہ تشریف لائے تو سرکٹ ہاؤس میں ان کے ساتھ مقامی علماء کرام کی ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام موجود تھے اور ان میں اکثر نے صدر سے بات کرتے ہوئے ان کی داڑھی کا ذکر کیا اور اس پر مسرت اور خوشی کا اظہار کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دین دار اور داڑھی والا صدر ملا ہے۔ مجھے جب بات کرنے کا موقع ملا تو میں نے بھی یہ عرض کیا کہ صدر محترم کی داڑھی کے ساتھ ملک بھر کے سب داڑھی والوں کی عزت بھی شامل ہوگئی ہے، اس لیے ہم ہر وقت دعاگو رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس عزت کی حفاظت فرمائیں اور بھرم قائم رکھیں، آمین یا رب العالمین۔

صدر محترم ایک سنجیدہ اور باوقار شخصیت کے حامل ہیں، لیکن ان کی سنجیدگی کا خشکی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجلسی زندگی میں ان کی بذلہ سنجی ان کے پرانے دوستوں کے ہاں معروف ہے۔ وہ لطیفہ سناتے ہیں اور خوش دلی کے ساتھ سنتے بھی ہیں، اور اگر کوئی بات مزاح اور ظرافت کے دائرے کی ہو تو اس سے محظوظ بھی ہوتے ہیں۔

اسی مناسبت سے داڑھی کے حوالہ سے ایک واقعہ اس موقع پر عرض کرنے کو جی چاہ رہا ہے جو میں نے مولانا محمد اجمل خان جیسے ثقہ بزرگوں سے سنا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اہل حدیث علماء میں مولانا محمد حنیف ندویؒ ایک باوقار اور سنجیدہ عالم تھے جن کے علم و فضل کا اعتراف تمام علمی حلقوں میں کیا جاتا ہے، مگر وہ داڑھی کترواتے تھے اور اکثر مٹھی سے کم رکھتے تھے۔ اہل حدیث علماء میں ہی علامہ حسین میر کاشمیریؒ بھی تھے جو مقبول عوامی واعظ تھے اور حسِ ظرافت سے بہرہ ور تھے۔ ان کی داڑھی خاصی گھنی اور طویل تھی۔ ایک موقع پر دونوں حضرات کسی اجتماع میں اکٹھے ہوگئے، مولانا محمد حنیف ندویؒ منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور علامہ حسین میر کاشمیریؒ عام اجتماع میں بیٹھے تھے۔ اچانک سامعین میں سے ایک صاحب اٹھے اور مولانا محمد حنیف ندویؒ پر اعتراض کر دیا کہ آپ منبر پر بیٹھے خطبہ دے رہے ہیں مگر آپ کی داڑھی سنت کے مطابق نہیں ہے۔ اردگرد کے لوگوں نے ان صاحب کو سمجھایا کہ بات بے موقع ہے، بعد میں بات کر لینا، ابھی ہمیں ان کا خطاب سننے دو۔ وہ صاحب تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر کھڑے ہو کر وہی بات کہہ دی۔ لوگوں نے پھر سمجھایا کہ بھائی بعد میں بات کرلینا ابھی ہمیں مولانا کی باتیں سننے دو۔ ان صاحب نے تھوڑی دیر توقف کیا اور پھر تیسری بار اعتراض کے لیے کھڑے ہوگئے۔ علامہ حسین کاشمیریؒ یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے، ان سے رہا نہ گیا، وہ اٹھے اور منبر کے ساتھ جا کر کھڑے ہوگئے اور ان صاحب سے مخاطب ہو کر بولے کہ:

’’بھائی! ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے، میں مولانا صاحب کے ساتھ کھڑا ہوں، تمہیں سنت کے مطابق داڑھی دیکھنے کا شوق ہے تو داڑھی میری دیکھتے رہو اور خطبہ ان کا سنتے رہو۔‘‘

اس لیے جہاں تک داڑھی والے صدر کا تعلق ہے تو ہم یقیناًخوش ہیں، لیکن صدر محمد رفیق تارڑ صرف داڑھی والے نہیں بلکہ علم و عمل اور کردار کی روشنی سے بھی بہرہ ور ہیں اور ہمارے بہت پرانے دوست و مہربان ہیں۔ اگر ان کا انتخاب ان کی ساری خصوصیات کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے تو ہم میاں نواز شریف کو ان کے انتخاب کی داد دیتے ہیں۔ لیکن اگر خدانخواستہ صرف مسنون داڑھی دیکھنے کے خواہشمند لوگوں کو مصروف رکھنا مقصد ہے تو ہم ہمدردیوں کے اظہار اور دعا کے سوا کیا کر سکتے ہیں کہ ’’یا الٰہی ایک شریف اور باوقار آدمی بہت کٹھن اور مشکل گھاٹی میں پھنس گیا ہے، اس کی حفاظت فرما اور اسے اپنی دین داری، شرافت، اور اسلامی حمیت کی روایات کو قائم رکھنے کی توفیق دے، آمین یا رب العالمین۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۲۵ مارچ ۱۹۹۸ء