ختم نبوت کے فکری و عملی تقاضے اور ہماری ذمہ داریاں

   
مقام / زیر اہتمام: 
تاریخ بیان: 
۲۷ ستمبر ۱۹۹۰ء

(۲۷ ستمبر ۱۹۹۰ء کو جناح ہال بلدیہ ملتان میں عالمی تحریک فدایان ختم نبوت کی طرف سے ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت تحریک کے صدر علامہ رشید احمد راشد کشمیری نے کی جبکہ میونسپل کارپوریشن ملتان کے میئر ملک صلاح الدین ڈوگر بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ کانفرنس سے صدر اجلاس اور مہمان خصوصی کے علاوہ مولانا عبد الحق مجاہد قاری محمد عباس ارشد اور دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا، اور تفصیلی خطاب مدیر الشریعہ مولانا زاہد الراشدی کا ہوا جس میں انہوں نے ختم نبوت کے نظریاتی اور اعتقادی تقاضوں پر روشنی ڈالی مدیر الشریعہ کا خطاب درجہ ذیل ہے۔ ادارہ الشریعہ)

بعد الحمد والصلوۃ۔ عالمی تحریک فدایان ختم نبوت ملتان کا شکر گزار ہوں کہ ختم نبوت کے مقدس عنوان پر منعقد ہونے والی اس تقریب میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع فراہم کیا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان نوجوانوں کی خدمات کو قبولیت سے نوازے۔ عقیدہ ختم نبوت کے مختلف پہلوؤں پر مجھ سے قبل فاضل مقررین اظہار خیال کر چکے ہیں۔ مجھے اس کے دو پہلوؤں پر مختصرًا کچھ عرض کرنا ہے۔ ایک تحریک ختم نبوت کی موجودہ صورتحال اور اس کے عملی تقاضوں کے بارے میں، اور دوسرا موجودہ فکری اور نظریاتی کشمکش کے پس منظر میں عقیدہ ختم نبوت کے فکری اور نظریاتی تقاضوں کے بارے میں چند معروضات پیش کروں گا۔

تحریک ختم نبوت کی عملی صورتحال یہ ہے کہ نوے سال کی طویل جدوجہد کے بعد اسلامیانِ پاکستان ۱۹۷۴ء میں ملک کے دستور میں منکرین ختم نبوت کے ایک گروہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں کامیاب ہوئے، لیکن اس دستوری ترمیم کے بعد اس کے عملی تقاضوں کی تکمیل کے لیے قانون سازی کا کام نہ ہو سکا۔ اور ۱۹۸۴ء میں مولانا محمد اسلم قریشی کے حوالے سے منظم ہونے والی تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے جاری کردہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کی صورت میں قانون سازی کی طرف پہلی عملی پیشرفت ہوئی۔ ۱۹۷۴ء کی دستوری ترمیم اور ۱۹۸۴ء کے صدارتی آرڈیننس کی شکل میں ہمیں ختم نبوت کے محاذ پر جو کچھ حاصل ہوا ہے وہ اگرچہ مکمل نہیں ہے اور ہمارے بہت سے بنیادی مطالبات ابھی تشنہ تکمیل ہیں جن کے لیے جدوجہد جاری ہے، لیکن ان دو بنیادی امور کے تحفظ اور ان پر عملدرآمد کا مسئلہ بجائے خود سنجیدہ توجہ اور جدوجہد کا تقاضا کر رہا ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور انہیں اسلام کا نام اور مسلمانوں کے شعائر سے روکنے کے لیے جو دستوری اور قانونی اقدامات اب تک ہوئے ہیں ان پر عملدرآمد کا معاملہ خاصا کمزور ہے۔ اور قادیانی گروہ اور اس کی حمایتی لابیاں ان اقدامات کو عملًا غیر مؤثر بنانے کے لیے پورا زور صرف کر رہی ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور دوسری استعماری قوتیں اور پاکستان میں ان کی لابیاں مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ منکرین ختم نبوت کے خلاف کیے گئے یہ آئینی و قانونی اقدامات ختم کرا دیے جائیں۔

چنانچہ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے کچھ عرصہ قبل پاکستان کی امداد کی بحالی کے لیے جو شرائط عائد کی تھیں ان میں ایٹم بم نہ بنانے کی واضح یقین دہانی کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین کے نفاذ کو روکنے اور قادیانیوں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات واپس لینے کی شرطیں بھی شامل ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے بعض مفادات کی وجہ سے وقتی طور پر ان شرائط کو نظر انداز کر رہی ہے لیکن امریکی سینٹ کی طرف سے یہ شرائط بدستور موجود ہیں اور جب بھی حالات سازگار نظر آئے امریکہ ان شرائط پر عملدرآمد کے لیے پورا وزن ڈال دے گا۔ بلکہ حالات کی رفتار یہ بتا رہی ہے کہ پاکستان میں ان امریکی شرائط کے لیے حالات کو سازگار بنانے کی غرض سے انتہائی منظم اور سائنٹفک انداز میں کام ہو رہا ہے۔

حضرات محترم! ان حالات میں تحریک ختم نبوت کے عملی تقاضوں کے حوالہ سے ہم پر تین ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:

  1. ایک یہ کہ قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے والی آئینی ترمیم اور ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحفظ کے لیے ہم پوری طرح ہوشیار رہیں، اور ان کے خاتمہ کی کوشش کرنے والی قوتوں کا پوری بیداری کے ساتھ تعاقب کریں۔
  2. دوسری یہ کہ ان اقدامات پر عملدرآمد کے لیے بھرپور محنت کو جاری رکھا جائے اور مشترکہ محاذ کے ذریعے عوامی دباؤ کو قائم رکھنے کی محنت کی جائے۔
  3. اور تیسری ذمہ داری یہ ہے کہ تحریک ختم نبوت کے باقی مطالبات کی منظوری کے لیے جدوجہد کو منظم اور مربوط طریقے سے آگے بڑھایا جائے۔

محترم بزرگو اور دوستو! تحریک ختم نبوت کے عملی تقاضوں کے حوالہ سے اس گفتگو کے بعد ایک اور پہلو پر کچھ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں اور وہ اس کا نظریاتی اور فکری پہلو ہے۔ مجھ سے قبل ایک فاضل مقرر نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبوت کا اقرار ختم نبوت کے منافی ہے تو آنحضرتؐ کے بعد کسی اور کو معصوم ماننا بھی عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ہے۔ کیونکہ جناب رسالت مآبؐ خاتم المعصومین ہیں۔ میں اس سے پوری طرح متفق ہوں اور میرا عقیدہ بھی یہی ہے لیکن یہ ایک اور پہلو کی طرف بھی ہمیں غور و فکر کی دعوت دے رہا ہے جو شاید آپ دوستوں کے لیے نیا ہو اور ہو سکتا ہے کچھ تلخ بھی ہو، لیکن مجھے بہرحال اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے اور آپ حضرات کو غوروفکر کی دعوت دینا ہے۔

حضرات محترم! ہمارا یہ موقف ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس طرح کے دیگر مدعیان نبوت کو استعماری قوتوں نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا تھا۔ ہمارے ہاں مرزا غلام احمد، ایران میں محمد علی باب، اور بہاء اللہ اور اسی طرح دیگر مسلم معاشروں میں اس قسم کے لوگ کھڑے کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ ان سے آخر استعماری قوتوں کے مقاصد کیا تھے اور سوچنے کی بات ہے کہ ان مقاصد میں استعماری قوتوں کو کامیابی ہوئی یا ناکامی؟ یہ ایک انتہائی نازک سوال ہے اور اس کا جائزہ بہرحال ہمیں لینا ہوگا۔ ہمیں قادیانی نبوت سے سابقہ پیش آیا ہے اور اس کے حوالہ سے اگر ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو بطور نبی سامنے لانے کے استعماری مقاصد کا تعین کریں گے تو تین باتیں کھل کر ہمارے سامنے آئیں گی۔

  1. جناب نبی اکرمؐ کے لائے ہوئے دین کے بنیادی احکام میں ردوبدل کی ضرورت اور گنجائش کا ذہن مسلمانوں میں پیدا کرنا۔
  2. جہاد کے تصور اور جذبہ کو مسلمانوں کے ذہنوں اور دلوں سے نکالنا۔
  3. خلافت کی ہیبت کو ختم کرنا اور مسلمانوں کے ذہنوں کو اس کے تصور سے بیگانہ کرنا۔

اب نتائج کے لحاظ سے دیکھ لیجئے کہ برطانوی استعمار کو مرزا غلام احمد قادیانی کے ذریعے ان مقاصد کے حصول میں کہاں تک کامیابی یا ناکامی کا سامنا کرنا پڑا؟

یہ درست ہے کہ ہمارے علماء کی تاریخی جدوجہد نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو قادیانیت کی آغوش میں جانے سے روک لیا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کو غیر مسلم قرار دلانے اور اس موقف کو دنیا بھر کے مسلمانوں سے باور کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ قادیانیت کے خلاف نفرت کی ایسی فضا قائم کر دی گئی ہے کہ مسلم معاشرہ میں قادیانی کا لفظ گالی بن کر رہ گیا ہے۔ لیکن مجھے اس جسارت پر معاف فرمائیں کہ بالکل اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ جہاد کا تصور اور جذبہ ہماری فکری اور عملی زندگی سے نکل گیا ہے۔ خلافت کا فلسفہ اور اصطلاح ہمارے ہاں متروک ہو گئے ہیں اور اسلام کے بنیادی احکام میں ردوبدل کی ضرورت کی باتیں ہمارے معاشرے میں کھلم کھلا ہو رہی ہیں۔ آخر ان ذہنی رجحانات کو آپ کس عنوان سے تعبیر کریں گے؟ ان کا کیا جواز پیش کریں گے؟

جہاد اور خلافت کے حوالہ سے میں ایک جسارت اور کرنا چاہوں گا کہ یہ دو اہم دینی فرائض ہماری عملی اور فکری زندگی سے ہی نہیں بلکہ علمی اور تدریسی زندگی سے بھی خارج ہو گئے ہیں۔ ہمارے مدارس میں ان کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ میں خود ایک چھوٹا سا مدرس ہوں اور اپنے ماحول کو جانتا ہوں، ہمارے ہاں خالص دینی مدارس میں خلافت اور جہاد کی تعلیم ہمارے تدریسی مقاصد اور اہداف میں شامل نہیں رہی۔ ہم طہارت اور صلوٰۃ کے جزوی مباحث پر مہینوں صرف کر دیتے ہیں لیکن جہاد اور خلافت کے اصولی احکام کی تشریح و تعلیم کی ہمیں توفیق نہیں ہوتی۔ یہ انتہائے ستم نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم علماء کے نام پر کام کرنے والے حلقے اور جماعتیں بھی اسلامی نظام سیاست کی بات ’’خلافت‘‘ کے حوالہ سے نہیں کرتے بلکہ مغربی جمہوریت اور دیگر درآمدی اصطلاحات کے عنوان پر اسلام کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تو افغان مجاہدین کو دعائیں دیجئے کہ انہوں نے دینی غیرت کا مظاہرہ کیا اور پندرہ لاکھ افغانوں کے خون کی قربانی دے کر جہاد کے عمل اور تصور کو ایک بار پھر دنیا میں زندہ کر دیا، ورنہ عالم اسلام میں جہاد شرعی کا تصور کہاں باقی رہ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کو کامیابی سے نوازیں اور ان کی قربانیوں کو جہاد کے ساتھ ساتھ خلافت کے احیا کا ذریعہ بنائیں، آمین۔

قادیانی نبوت نے جہاد کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور خلافت کے تصور و وقار کو اس حد تک مجروح کیا کہ خلیفہ المسلمین کی پر ہیبت اصطلاح جو کسی دور میں ہارون الرشید اور سلطان مراد فاتح جیسے اولوالعزم افراد کے لیے استعمال کی جاتی تھی، آج اس کا اطلاق غلام احمد قادیانی کے جانشینوں پر کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ خلافت کی توہین اور اس کا استخفاف نہیں ہے؟ اور کیا قادیانی گروہ اور اس کے استعماری آقا جہاد کا تصور اور خلافت کی اہمیت ہمارے ذہنوں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہو گئے؟ ہمیں اس پہلو پر بھی سوچنا ہوگا اور استعماری قوتوں کے کھڑے کیے ہوئے جھوٹے مدعیاں نبوت کے مقاصد کے حوالہ سے اپنے حالات کا جائزہ لینا ہوگا، ورنہ ہم نہ خدا کے ہاں اپنے فرائض سے سبکدوش ہو سکیں گے اور نہ ہی تاریخ ہمیں معاف کرے گی۔

بزرگان ِمحترم! ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ اسلام کے منصوص اور مسلمہ احکام میں ردوبدل کا جو نعرہ لگایا جا رہا ہے اس کا عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ آج یہ کہا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ کو مجتہد مطلق کا درجہ دے کر اسے یہ اختیار دیا جائے کہ وہ منصوص مسائل میں بھی ردوبدل کر سکتی ہے۔ آج قرآن کریم کی بیان کردہ صریح حدود کو تبدیل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک شخص خود کو نبی کے روپ میں پیش کر کے جہاد جیسے حکم کو منسوخ کرنے کی بات کرے تو وہ منکر ختم نبوت ہے اور کافر ہے، اور دوسرا شخص اجتہاد اور پارلیمنٹ کے عنوان پر اسلامی احکام میں ردوبدل کا تصور پیش کرے تو وہ عظیم مسلم اسکالر اور دانشور کا خطاب حاصل کرنے کا مستحق ہو جائے۔ آخر ان دونوں باتوں میں نتائج کے لحاظ سے کیا فرق ہے؟ بنیادی مقصد تو دونوں کا یہ ہے کہ دین کے بنیادی احکام میں ردوبدل کے لیے مسلمانوں کو ذہنی طور پر تیار کیا جائے، صرف طریق کار اور اصطلاح کا فرق ہے۔ ایک شخص اس کام کو نبوت کے نام پر کرنا چاہتا ہے اور دوسرا اجتہاد اور پارلیمنٹ کے عنوان سے انجام دینے کے درپے ہے۔

حضرات محترم! ختم نبوت کا بنیادی مقصد اور فلسفہ ہی یہ ہے کہ دین اب مکمل ہو چکا ہے، اس کے بنیادی امور میں ردوبدل اور تنسیخ و ترمیم کی کوئی ضرورت اور گنجائش باقی نہیں رہی، اس لیے اب کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ لہذا مجھے یہ عرض کرنے کی اجازت دیجئے کہ جس طرح نبوت کے دعوی کرنے کے ساتھ جہاد اور دیگر احکام کو منسوخ کرنے کی بات عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہے، اس طرح اجتہاد یا پارلیمنٹ یا کسی بھی دوسرے عنوان سے اسلام کے صریح اور منصوص احکام میں ردوبدل کا تصور بھی ختم نبوت کے عقیدہ کے منافی ہے، اور مقاصد و نتائج کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

میرے محترم بزرگو! تحریک ختم نبوت کے عملی اور نظریاتی تقاضوں پر چند ٹوٹی پھوٹی معروضات آپ کے سامنے پیش کی ہیں، آپ حضرات سے گزارش ہے کہ ان پر غور فرمائیں اور ان تقاضوں کی تکمیل کے لیے اپنے اپنے دائرہ کار میں جو کچھ آپ کر سکیں اس کے لیے سنجیدہ سے کوشش کریں۔

میں عالمی تحریک فدایان ختم نبوت کے نوجوانوں کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ سب دوستوں سے اس دعا کا خواستگار ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ سچی وابستگی اور تحریک ختم نبوت کے لیے مخلصانہ جدوجہد کی توفیق نصیب فرمائیں۔ آمین یا الہ العالمین۔