قرآن و سنت کی بالادستی کا دستوری سفر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۷ ستمبر ۱۹۹۸ء

قومی اسمبلی میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کا بل پیش کر دیا گیا ہے اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کی حکومت ملک میں قرآن و سنت کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی۔ جبکہ ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک اعلان کے مطابق صدر محمد رفیق تارڑ نے اسے ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے علماء کرام، صحافیوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں بھرپور کردار ادا کریں۔قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کا مطالبہ ایک عرصہ سے کیا جا رہا تھا اور قریبی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے والد محترم میاں محمد شریف کچھ عرصہ سے ذاتی طور پر اس کے لیے کوشاں تھے کہ ان کے فرزند جتنی جلدی ہو سکے یہ کار خیر کر گزریں۔ جبکہ صدر مملکت جناب رفیق تارڑ بھی متعدد مواقع پر اس کا عندیہ دے چکے تھے کہ وہ اس مقصد کے لیے وزیر اعظم سے مسلسل رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔

قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کا فیصلہ اعلیٰ ایوانوں میں اس سے قبل بھی ایک سے زائد بار ہو چکا ہے لیکن اصل مسئلہ موجودہ نو آبادیاتی سسٹم کا ہے کہ اس نے اس فیصلہ کو کبھی ایک خاص حد سے آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا۔ اور جب بھی قرآن و سنت کی بالادستی کے کسی فیصلے نے یہ ’’ریڈ لائن‘‘ کراس کرنے کی کوشش کی وہ کسی نہ کسی جال میں پھنس کر رہ گیا۔

اس سلسلہ میں سب سے پہلا اقدام ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی منظوری کا تھا جو پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان مرحوم نے دستور ساز اسمبلی سے منظور کرائی۔ قرارداد مقاصد میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت مطلقہ کو تسلیم کرتے ہوئے ملک کے منتخب اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کتاب و سنت کی مقرر کردہ حدود کے اندر قانون سازی کر سکیں گے۔ لیکن یہ قرارداد مقاصد ملک کے ہر دستور میں شامل ہونے کے باوجود اس کا صرف دیباچہ رہی اور اسے کسی بھی دستور کے نفاذ کے وقت دستوری واجب العمل حصہ قرار نہیں دیا گیا۔ صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تفویض کردہ اختیارات کے تحت ۱۹۷۳ء کے دستور میں بہت سی ترامیم کیں تو ان میں ایک ترمیم قرارداد مقاصد کے بارے میں بھی تھی جس کے ذریعے اسے دستور کا واجب العمل حصہ قرار دیا گیا۔ اور اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے اس کی روشنی میں بعض اہم فیصلے بھی صادر کیے۔ مگر انہی میں سے ایک فیصلے کے خلاف اپیل میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بینچ نے جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں قرارداد مقاصد کی امتیازی اور بالادست حیثیت کو ختم کر دیا۔ یوں قرآن و سنت کی بالادستی کا یہ دستوری سفر ایک خاص حد پر آکر ختم ہوگیا۔

دوسری بار سینیٹ آف پاکستان میں مولانا سمیع الحق اور قاضی عبد اللطیف کے پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دیا گیا تھا۔ یہ شریعت بل مختلف مراحل سے گزرتا ہوا سینیٹ میں منظور بھی ہوگیا تھا جس میں میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگی ارکان نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن جب وہی شریعت بل میاں محمد نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے سابقہ دور میں قومی اسمبلی میں پیش ہوا تو اس میں قرآن و سنت کی بالادستی کی شق میں اس شرط کا اضافہ کر دیا گیا کہ

’’بشرطیکہ اس سے ملک کا سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچہ متاثر نہ ہو‘‘۔

اس طرح قرآن و سنت کو ملک کا بالاتر قانون قرار دلوانے کی یہ کوشش بھی اسی ’’ریڈ لائن‘‘ پر پھڑپھڑا کر رہ گئی جس پر قرارمقاصد کا جھٹکا ہوا تھا۔ چنانچہ اس کے بعد ملک کے دینی حلقوں نے ازسرِنو اس مطالبہ پر رائے عامہ کو منظم کرنا شروع کیا کہ دستور میں باضابطہ ترمیم کے ذریعے قرآن و سنت کو غیر مشروط طور پر ملک کا سپریم لاء قرار دیا جائے۔ اسی کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں یہ بل پیش کیا گیا ہے جس پر نفاذ اسلام کی جدوجہد کا ہر کارکن خوشی کا اظہار کرے گا کہ یہ اس کے دل کی آواز ہے اور ملک کو موجودہ فرسودہ نظام سے نجات دلا کر ایک منصفانہ اور عادلانہ نظام فراہم کرنے کا راستہ بھی یہی ہے۔

لیکن سابقہ تلخ تجربات کی روشنی میں یہ سوال اب بھی بدستور موجود ہے کہ ملک کے موجودہ سیاسی، انتظامی اور عدالتی ڈھانچے کے ساتھ اس فیصلے کا کیا تعلق ہوگا؟ کیونکہ اگر موجودہ ’’فریم ورک‘‘ کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے اندر قرآن و سنت کی بالادستی کو کسی جگہ فٹ کرنے کی کوشش کی جائے گی تو یہ اقدام بھی قرارداد مقاصد کی طرح دستور میں ایک خوبصورت ’’شو پیس‘‘ سجا دینے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں دے گا۔ اور اس سے جہاں نفاذ اسلام کے خواہاں عوام اور کارکنوں کی مزید حوصلہ شکنی ہوگی وہاں ان قوتوں کا موقف اور بھی مضبوط ہوگا کہ موجودہ سیاسی عمل کے ذریعہ ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ممکن نہیں ہے، اس لیے نفاذ اسلام کی جدوجہد کرنے والوں کو متبادل راستے تلاش کرنے چاہئیں۔

چنانچہ حکمران اگر نفاذ اسلام کے اس عمل میں مخلص ہیں تو انہیں موجودہ نو آبادیاتی ڈھانچے کے بارے میں دوٹوک موقف اختیار کرنا ہوگا۔ انہیں اس سسٹم اور اسلام میں سے کسی ایک کا انتخاب کر کے اس کے عملی تقاضے پورے کرنا ہوں گے، ورنہ وہ قرآن و سنت کی بالادستی کے دعوے کے ساتھ انصاف نہیں کر سکیں گے۔پھر قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کی اس آئینی ترمیم کو اگر صرف اسی حد تک محدود رکھا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ لیکن اس کے ساتھ دستوری ترامیم کے لیے دو تہائی اکثریت کی شرط کو ختم کرنے، اور حکومت کو اپنے کسی حکم کے تحت کسی قانون یا عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا اختیار تفویض کرنے کی دو اضافی باتیں شامل کر کے یہ تاثر پیدا کر دیا گیا ہے کہ

؎ ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ حکومت اس کی آڑ میں دراصل کچھ اور مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، یا فائنل اختیارات بہرحال اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے لیے ضروری تحفظات کو یقینی بنا سکے۔

تاہم ان سب خدشات، شبہات اور ذہنی تحفظات کے باوجود پاکستان کی قومی اسمبلی میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کا دستوری بل ایک ایسی پیش رفت ہے جس پر نفاذ اسلام کا کوئی بھی کارکن خوشی کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے اس بل کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے یہ گزارش کریں گے کہ وہ اسے حکومت اور اپوزیشن کے حوالہ سے نمٹانے کی کوشش کرنے کی بجائے قومی نقطۂ نظر سے ڈیل کریں۔ اور ملک کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اس پر زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے اپنے تمام تر ذرائع اور صلاحیتیں استعمال کریں۔ کیونکہ یہ قوم کے مستقبل کا مسئلہ ہے، ملک کو نوآبادیاتی نظام سے نجات دلانے کا مسئلہ ہے، اور پاکستان کے قیام کے نظریاتی مقاصد کی تکمیل کا مسئلہ ہے۔ اسے جس قدر سنجیدگی، تدبر اور اعتماد کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے لیے یہ اسی قدر فائدہ مند ہوگا۔