بھارت کی عظمت اور نجم سیٹھی کا خطاب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۰ مئی ۱۹۹۹ء

نجم سیٹھی سے میرا براہ راست تعارف نہیں ہے، اخبارات ہی کے ذریعہ کبھی کبھار ان کے خیالات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ انہیں تفصیل کے ساتھ پڑھنے کا کبھی موقع نہیں ملا اور نہ کبھی اس کی ضرورت پیش آئی ہے۔ البتہ ان کی گرفتاری کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اور جس طرح ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان کی گرفتاری پر ردعمل کا اظہار ہوا ہے، حتیٰ کہ امریکی سفیر کو بھی لب کشائی کی ضرورت محسوس ہوئی ہے، اس کے پیش نظر یہ خیال ہوا کہ انہیں پڑھنا چاہیے۔ یا کم از کم ان کے اس خطاب سے آگاہی کی کوئی صورت ضرور نکالنی چاہیے جو بھارت کی سرزمین پر ہوا اور جسے ان کی گرفتاری کے پس منظر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

خدا بھلا کرے ان کی اہلیہ محترمہ کا کہ انہوں نے اس خطاب کا متن اخبارات کو جاری کر دیا اور میرے جیسے لوگوں کی بھی اس خطاب تک رسائی ہوگئی۔ میں نے نجم سیٹھی کے خطاب کا مطالعہ کیا ہے اور اس لحاظ سے انہیں داد دینے کو جی چاہتا ہے کہ انہوں نے جو محسوس کیا، یا جو کچھ ان کے دل میں تھا انہوں نے اس کا اظہار کر دیا۔ اور اس بات کا بھی لحاظ نہیں کیا کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور کن لوگوں کے سامنے گفتگو کر رہے ہیں۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مولانا مفتی محمودؒ جب دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت گئے تو اس وقت صورتحال یہ تھی کہ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے ساتھ ان کی اچھی خاصی ٹھن چکی تھی۔ اور وہ قومی سیاست میں جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایک طاقت ور اور وسیع تر سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ دوسری طرف ان سے منسوب یہ جملہ بھی خاصی شہرت حاصل کر چکا تھا کہ ’’ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔‘‘ یہ جملہ دراصل کیا تھا اور اس کی پوری کہانی کیا ہے، اس پر پھر کسی موقع پر عرض کروں گا کیونکہ میں اس کا عینی گواہ ہوں۔ سردست دہلی میں مولانا مفتی محمودؒ کی بھارت کے اخبار نویسوں کے ساتھ گفتگو کا تذکرہ کرتے ہوئے اس وقت کے مجموعی تناظر کو سامنے لانا چاہتا ہوں کہ اس پس منظر میں بھارت کے اخبار نویسوں نے مفتی صاحب مرحوم سے پاکستان کی داخلی صورتحال کے بارے میں کچھ سوالات کرنا چاہے تو مفتی صاحبؒ نے انہیں بلا تکلف ٹوک دیا کہ میں دہلی میں بیٹھ کر ان سوالات کا جواب نہیں دوں گا۔ کیونکہ یہ معاملات ہمارے گھر کے اندر کے ہیں اور یہاں میں صرف پاکستان کا نمائندہ ہوں۔

مگر نجم سیٹھی صاحب نے جس انداز میں پاکستان کی داخلی صورتحال پر بھارت میں بیٹھ کر بات کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں سرحدات اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے وہ دائرے قائم نہیں رہے جو گزشتہ نصف صدی کی تاریخ کا حصہ چلے آ رہے ہیں۔

جہاں تک پاکستان کی نظریاتی شناخت کا تعلق ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ ابھی تک قائم نہیں ہوئی۔ مگر ان کی یہ بات غلط ہے کیونکہ پاکستان کی قومی شناخت 1965ء میں دنیا بھر نے اس وقت دیکھ لی تھی جب بھارت نے لاہور پر قبضہ کرنے کے لیے شب خون مارا تھا اور پوری قوم اس جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی تھی جس کی بنیاد لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر تھی۔ اور پھر اسی شناخت کو سبوتاژ کرنے کے لیے دنیا بھر کی قوتیں اور لابیاں متحرک ہوگئی تھیں۔ ہماری بدقسمتی یہ نہیں کہ ہم قومی شناخت نہیں رکھتے، بلکہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری شناخت کے ساتھ ہمارے حکمران طبقات کی کمٹمنٹ نہیں ہے۔ اور نجم سیٹھی جیسے دانشوروں کا ذہن جو کسی نہ کسی اوٹ میں حکمرانی کی کمین گاہوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں اس قومی شناخت کو قبول نہیں کر رہا۔ یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہمیں آج تک قومی شناخت کے ساتھ نظریاتی اور شعوری وابستگی رکھنے والی لیڈرشپ نہیں ملی اور اسی کے نتیجے میں وطن عزیز پہلے بھی دولخت ہوا ہے اور اب پھر قومی عصبیتوں کے نام سے اس کے خلاف سازشوں کا نیا تانا بانا بنا جا رہا ہے۔

نجم سیٹھی نے اس خطاب میں مسلم ریاستوں کو روایتی اور لبرل ریاستوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ جن ریاستوں کا انہوں نے ذکر کیا ہے وہ اپنی پالیسیوں کے حوالہ سے کم و بیش سب کی سب لبرل ہیں اور مغربی استعمار کی طے شدہ پالیسیوں کے دائرہ میں چل رہی ہیں۔ صرف ہماری شمالی مغربی سرحد پر ایک روایتی نظریاتی ریاست کے ابھرنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں تو پوری دنیا خوف کا شکار ہوگئی ہے کہ اگر یہ ریاست کامیاب ہوگئی تو مروجہ مصنوعی نظاموں کا کیا بنے گا؟

نجم سیٹھی کو یہ بھی پریشانی ہے کہ اسلام کی تعبیر میں جماعت اسلامی، جمعیۃ علماء اسلام اور سپاہ صحابہ میں کس کی اجارہ داری ہوگی؟ مگر وہ اس حقیقت سے جان بوجھ کر لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام کی دستوری تعبیر اور قانون سازی کے حوالہ سے نہ صرف ان مذکورہ جماعتوں میں بلکہ پاکستان کے کم و بیش سبھی دینی حلقوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور وہ اپنے اتفاق رائے کا اظہار علماء کے 22 دستوری نکات، 1973ء کے دستور، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، اور وفاقی شرعی عدالتوں کے فیصلوں کی صورت میں کئی بار کر چکے ہیں۔

یہاں نجم سیٹھی کے خطاب کے تمام پہلوؤں کا احاطہ مقصود نہیں بلکہ صرف اس انداز کی طرف توجہ دلانا مطلوب ہے جو انہوں نے بھارت کی سرزمین پر کھڑے ہو کر پاکستان کے داخلی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے اختیار کیا ہے اور اس کا مقصد واضح کرنے میں بھی کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ چنانچہ ان کا ارشاد ہے کہ:

’’اگر بھارت کے عقبی صحن میں غیر مستحکم اور ناراض ہمسایہ موجود ہوگا تو وہ کبھی اپنا عظیم طاقت بننے کا خواب پورا نہیں کر سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر بھارت کا عظمت کا خواب فوجی وسعت کی حکمت عملی پر قائم ہے تو پاکستان کی جوابی اسلحہ سازی یہ خواب کبھی پورا نہیں ہونے دے گی۔ لہٰذا آنے والے سالوں میں بھارت اگر اپنی شناخت ایک عظیم طاقت کے طور پر کرانا چاہتا ہے تو اس کی بنیاد بھارت کی فوجی طاقت نہیں ہوگی بلکہ یہ حقیقت ہوگی کہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک معاشی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ کس قدر پیوست ہیں۔‘‘

ہمارے خیال میں اس کے بعد نجم سیٹھی صاحب کے خطاب کے کسی اور حصے پر گفتگو کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ کیونکہ جب گفتگو کا ایجنڈا ہی بھارت کی عظمت کا اعتراف اور اسے ایک عظیم طاقت کے روپ میں پیش کرنا ہے تو پھر اس مقصد کے لیے وہی باتیں کہی جا سکتی ہیں جو نجم سیٹھی نے کہی ہیں۔ اس کے سوا وہ اور کہہ بھی کیا سکتے تھے؟