خیر القرون میں خواتین کے علم و فضل کا اعتراف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۶ اگست ۱۹۹۹ء
اصل عنوان: 
خواتین کی علمی برتری کا خیر القرون میں اعتراف

۲۴ جولائی ۱۹۹۹ء کو جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم برطانیہ میں تقسیم اسناد و انعامات کی سالانہ تقریب تھی۔ اس تقریب میں جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کے والدین اور جامعہ کے منتظمین و معاونین شریک ہوتے ہیں۔ اس سالہ سولہ سال سے زائد عمر کی طالبات کی ایک کلاس ’’عالمہ‘‘ کا دو سالہ کورس مکمل کر کے فارغ ہو رہی تھی جو جامعہ سے فارغ ہونے والی پہلی کلاس ہے، اس لیے جامعہ الہدیٰ کے منتظمین اور کارکنوں کی خوشی قابل دید تھی۔ مجھے جب ابتدا میں بتایا گیا کہ ’’مہمان خصوصی‘‘ کی حیثیت سے مجھے گفتگو کرنا ہوگی تو میں نے اپنے ذہن میں گفتگو کا تانا بانا بننا شروع کر دیا اور گزشتہ سال اسی تقریب میں کی جانے والی گفتگو کے تسلسل میں چند باتوں کی ترتیب قائم کر لی۔ مگر جب خود میری ہی تجویز پر پاکستان کے بزرگ عالم دین اور ماہنامہ الرشید لاہور کے مدیر مولانا حافظ عبد الرشید ارشد کو یہ ذمہ داری منتقل ہوگئی تو گفتگو کا جو خاکہ ذہن میں ترتیب دے رکھا تھا وہ زبان پر نہ آسکا۔ لیکن اسے اگلے سال تک ملتوی رکھنے کی بجائے ان معروضات کی صورت میں پیش کر دینے کو زیادہ مناسب خیال کر رہا ہوں۔

گزشتہ سال اس تقریب میں مسلم خواتین کو دی جانے والی تعلیم کی حدود اور دائرے کے سوال پر عرض کیا تھا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس سلسلہ میں کامل ترین اسوہ اور معیار ہیں۔ کیونکہ وہ نو سال کی عمر میں حرم نبویؐ میں آئیں، اٹھارہ برس کی عمر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رہیں، اور پھر کم و بیش نصف صدی تک انہوں نے تعلیم و تدریس اور امت کی رہنمائی میں ہی باقی زندگی گزار دی۔ ان کے معاصرین جن علوم میں ان کی خصوصی مہارت کا اعتراف کرتے ہیں ان کی تعداد ایک درجن کے لگ بھگ ہے۔ ان میں قرآن کریم کی تفسیر، حدیث و سنت، شعر و ادب، اور طب و علاج بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ علوم انہوں نے جناب نبی اکرمؐ کے گھر میں ہی حاصل کیے، اس لیے مسلمان طالبات کے لیے تعلیم کا دائرہ و نصاب بھی اسی کی روشنی میں طے ہونا چاہیے۔

اس کے بعد اسی تسلسل میں خیر القرون یعنی صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور اتباع تابعینؒ کے دور کے چند واقعات عرض کرنا چاہتا ہوں جن سے علم و فضل میں مسلم خواتین کی پیش رفت بلکہ برتری کا اظہار ہوتا ہے، اور اس زمانے میں اس کا پوری طرح اعتراف کیا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیرؒ میں مذکور ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ نے ایک بار مسجد نبویؐ میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اعلان کیا کہ بعض لوگوں نے نکاح میں مہر کے لیے بڑی بڑی رقمیں مقرر کرنا شروع کر دی ہیں جس سے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اس لیے وہ یہ پابندی عائد کر رہے ہیں کہ کوئی شخص نکاح میں چار سو درہم سے زیادہ مہر مقرر نہ کرے۔ حضرت عمرؓ خطبہ ارشاد فرما کر باہر تشریف لائے تو ایک قریشی خاتون نے انہیں روک لیا اور کہا کہ عورتوں کو خاوندوں کی طرف سے دی جانے والی رقوم کو قرآن کریم (سورۃ النساء آیت ۲۰) میں ’’قنطار‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کا معنٰی ڈھیر ہے۔ اور جب قرآن کریم ہمیں ڈھیروں دلواتا ہے تو آپ کو اس پر پابندی لگانے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ یہ سن کر حضرت عمرؓ واپس منبر پر تشریف لے گئے اور دوبارہ اعلان کیا کہ میرے فیصلے پر ایک عورت نے اعتراض کیا ہے جو درست ہے اور وہ قرآن کریم کے مفہوم کو مجھ سے زیادہ بہتر سمجھی ہے اس لیے میں اپنا فیصلہ واپس لیتا ہوں۔

تابعین میں حضرت سعید بن الحسیبؒ معروف بزرگ ہیں جنہیں ’’افقہ التابعین‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض روایات کے مطابق حضرت حسن بصریؒ جیسے بزرگ بھی مشکل مسائل میں ان سے رجوع کیا کرتے تھے۔ ان کے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح اپنے شاگردوں میں سے ایک ذہین شخص سے کر دیا۔ شادی کے بعد شب عروسی گزار کر صبح جب وہ صاحب گھر سے نکلنے لگے تو نئی نویلی دلہن نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہیں؟ جواب دیا کہ استاد محترم حضرت سعید بن الحسیبؒ کی مجلس میں حصول علم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے جا رہا ہوں۔ اس خاتون نے جواب دیا کہ اس کے لیے وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے، ابا جان کا سارا علم میرے پاس ہے اور وہ میں ہی آپ کو سنا دوں گی۔

امام مالک بن انسؒ اہل سنت کے چار بڑے اماموں میں سے ہیں۔ امام اہل سنت اور امام مدینہ کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں اور اتباع تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔ قاضی عیاضؒ نے ’’ترتیب المدارک‘‘ میں لکھا ہے کہ حضرت امام مالکؒ جب حدیث پڑھانے بیٹھتے تو ان کی بیٹی بھی دروازے کے پیچھے بیٹھتی تھی۔ امام مالکؒ کے سامنے شاگردوں کا ایک بڑا ہجوم ہوتا تھا، ان میں سے کوئی صاحب احادیث سناتے تو حضرت امام مالکؒ سن کر تصدیق فرما دیتے یا ضرورت ہوتی تو اصلاح کر دیتے اور معنیٰ و مفہوم بیان فرما دیتے۔ ان کی دختر نیک اختر دروازے کے پیچھے بیٹھ کر یہ سب سنتی تھیں اور اگر حدیث پڑھنے والا کہیں غلطی کرتا تو وہ دروازہ کھٹکھٹا دیتیں جس پر امام مالکؒ پڑھنے والے کو ٹوک دیتے کہ تم نے کہیں غلطی کی ہے۔ چنانچہ اسے دوبارہ چیک کیا جاتا تو کہیں نہ کہیں غلطی ضرور نکل آتی۔ قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں کہ بیٹی کا حال یہ تھا جبکہ امام مالکؒ کا بیٹا جس کا نام محمد تھا ادھر ادھر گھومتا پھرتا رہتا اور لاپروائی کے ساتھ سامنے سے گزر جاتا۔ اس پر امام مالکؒ نے کئی بار شاگردوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ خدا کی شان دیکھو، وہ میری بیٹی ہے اور یہ میرا بیٹا ہے۔ ایک موقع پر فرمایا کہ اس بیٹے کو دیکھ کر بات سمجھ میں آتی ہے کہ علم وراثت میں منتقل نہیں ہوتا۔

امام شافعیؒ بھی اہل سنت کے بڑے اماموں میں سے ہیں اور ان کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد دنیا کے مختلف حصوں میں آباد ہے۔ امام تاج الدین السبکیؒ نے ’’طبقات الشافعیۃ الکبریٰ‘‘ میں حضرت امام شافعیؒ کی والدہ محترمہ کا واقعہ نقل کیا ہے کہ انہیں کسی مقدمہ میں گواہ کے طور پر قاضی کی عدالت میں پیش ہونا پڑا۔ اصول کے مطابق ان کے ساتھ ایک اور خاتون بھی گواہ تھیں کیونکہ قرآن کریم نے بعض معاملات میں دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کے برابر قرار دیا ہے۔ قاضی نے دونوں کی گواہی سنی اور جرح کے لیے دونوں کو الگ الگ کرنا چاہا تاکہ وہ گواہی میں ایک دوسرے کی معاونت نہ کر سکیں۔ امام شافعیؒ کی والدہ محترم نے اس موقع پر قاضی کو ٹوک دیا کہ وہ دو خاتون گواہوں کو ایک ہی معاملہ میں گواہی دیتے ہوئے الگ الگ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ قرآن کریم (سورۃ البقرۃ آیت ۲۸۲) میں دو عورتوں کی گواہی کا ذکر کرتے ہوئے اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا سکے۔ اس لیے دونوں کو الگ الگ کر کے گواہی لینا قرآن کریم کی منشا کے خلاف ہے۔ چنانچہ قاضی کو ان کا موقف تسلیم کرنا پڑا۔

یہ چند واقعات خیر القرون کے ہیں جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امت مسلمہ کے خیر القرون یعنی مثالی اور آئیڈیل دور میں عورت کو علم و فضل میں کیا مقام حاصل تھا۔ اور وہ نہ صرف علم میں مردوں سے آگے بڑھ کر اپنی برتری کا اظہار کر سکتی تھی بلکہ اس کے علم و فضل اور برتری کا کھلے بندوں اعتراف بھی کیا جاتا تھا۔

درجہ بندی: