پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جنوری ۱۹۷۹ء

صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک غیر ملکی جریدہ ’’امپیکٹ انٹرنیشنل‘‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں افراد کی بجائے جماعتوں کو ووٹ دینے کے سلسلہ میں اظہارِ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ اس نظام کے حق میں ہیں لیکن جب انہوں نے یہ تجویز سیاستدانوں کو پیش کی تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی۔‘‘

ہمارے خیال میں اس تجویز پر سیاستدانوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ خود سیاستدان بارہا پارٹی سسٹم کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ بلکہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں تین اہم سیاسی جماعتوں جمعیۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے انتخابی منشور میں قوم سے وعدہ کیا تھا کہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد افراد کی بجائے جماعتوں کو ووٹ دینے کا نظام رائج کریں گے۔ اور انتخابات میں ان جماعتوں کو حاصل ہونے والی عوامی حمایت کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ قوم نے مجموعی طور پر اس نظام کے حق میں ووٹ دیے ہیں اور اس کی حمایت کی ہے۔ مگر بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اس کے دیگر انتخابی وعدوں کی طرح یہ تجویز بھی سیاست کی نذر ہوگئی اور سیاسی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک معقول اور تمام حلقوں کے لیے قابل قبول تجویز کو عملی جامہ پہنایا نہ جا سکا۔

اس لیے اب جبکہ صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق اس تجویز کی حمایت کر رہے ہیں اور ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں قوم سے اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کا وعدہ کرنے والی دو جماعتیں جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی ان کے ساتھ شریکِ حکومت ہیں تو یہ ضروری ہے کہ پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کے مطالبہ کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ دی جائے۔ اور جس طرح ایک قومی ضرورت سمجھتے ہوئے جداگانہ طرز انتخاب کو اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اسی طرح جماعتی بنیادوں پر ووٹ دینے کا نظام بھی اپنا لیا جائے۔ اس تجویز پر سنجیدہ توجہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ انتخابی سیاست میں مروجہ طریقِ انتخاب کے باعث درپیش متعدد مسائل ایسے ہیں جنہوں نے قومی سیاست کو الجھاؤ اور کشیدگی کا شکار بنا رکھا ہے اور ان کا حل اس کے سوا ممکن ہی نہیں کہ انتخاب کے مروجہ طریقِ کار میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں کی جائیں، مثلاً:

  1. ہماری سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں پروگرام اور پالیسی کی بجائے شخصیات کے گرد گھومتی ہیں اور بجائے اس کے کہ جماعتیں لیڈر پیدا کریں، لیڈر حضرات پارٹیوں کو جنم دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے پارٹیوں پر منشور اور پالیسی کی بجائے شخصیات کی چھاپ زیادہ گہری ہوتی ہے۔ اس لیے اگر جماعتوں کی بنیاد پر الیکشن کا طریقِ کار اپنا لیا جائے تو جماعتی سوچ شخصی سوچ پر غالب آئے گی، پارٹیوں پر پالیسی اور منشور کی چھاپ زیادہ گہری ہوگی اور بتدریج ہم اس منزل کی طرف بڑھیں گے کہ بالآخر لیڈر پارٹیوں کو جنم دینے کی بجائے خود وجود میں آنے کے لیے جماعتوں کی کوکھ کے محتاج ہوں گے۔
  2. مروجہ طریقِ انتخاب میں سیاسی جماعتیں کسی بھی حلقۂ انتخاب میں امیدوار کا چناؤ کرتے وقت اس کی اہلیت، شرافت، سیاسی دیانت، سوجھ بوجھ، قانون سازی کے شعور اور فہم و دانش کو معیار بنانے کی بجائے اس بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں کہ (۱) حلقہ میں امیدوار کا اثر و رسوخ کیا ہے؟ (۲) اس کی دولت خرچ کرنے کی صلاحیت کتنی ہے؟ (۳) اس کی برادری اور دھڑا کیا ہے؟ (۴) اور وہ اپنے رعب و داب سے انتظامیہ اور مخالفین پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے؟ اسی وجہ سے اسمبلیوں میں بہت سے ارکان ایسے پہنچ جاتے ہیں جنہیں نہ قانون سازی کا شعور ہوتا ہے اور نہ کسی سیاسی و انتظامی مسئلہ میں رائے دینے کی اہلیت۔ بلکہ ایسے ارکان اسمبلی کی رکنیت کو ناجائز مفادات کے حصول، اقرباء پروری اور ہر جائز و ناجائز کام کرا سکنے کا ذریعہ سمجھتے ہوئے ایسی بدعنوانیوں کا ارتکاب کرتے ہیں کہ بار بار احتساب اور نا اہل قرار دینے کا عمل بھی ان پر اثر انداز نہیں ہو سکا۔

    اس کی بجائے اگر الیکشن جماعتی بنیادوں پر ہو اور پارٹیوں کے سامنے سوال سیٹیں جیتنے کا نہیں بلکہ حاصل شدہ سیٹوں کو پر کرنے کا ہو تو یقیناً وہ اپنے نمائندوں کے چناؤ میں دولت، برادری اور اثر و رسوخ کی بجائے اہلیت، شرافت اور دیانت کو معیار بنائیں گی۔ اور اس کا اثر نہ صرف اسمبلیوں کی کارکردگی پر انتہائی خوشگوار اور مثبت ہوگا بلکہ مفادات کے حصول اور چودھراہٹ کے لیے دولت اور برادری کے سہارے اسمبلیوں میں پہنچ جانے والے مفاد پرست عناصر کے قدم بھی کافی حد تک رک جائیں گے۔

  3. مروجہ طریقِ انتخاب میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک حلقہ میں تین یا اس سے زائد امیدواروں کی صورت میں اکثریت کے ووٹ ہارنے والے امیدواروں میں بٹ جاتے ہیں اور جیتنے والا امیدوار عملاً اپنے حلقہ کی اکثریت کی بجائے اقلیت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ملکی سطح پر اکثریت کے ووٹ حاصل کرنے والی جماعتیں اسمبلیوں میں اقلیت ہوتی ہیں اور اقلیت کے ووٹ لینے والی جماعت اکثریتی جماعت بن جاتی ہے۔ جیسا کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں ۳۷ فیصد ووٹ حاصل کرنے والی پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں غالب اکثریت حاصل تھی جبکہ ۶۳ فیصد ووٹ لینے والی جماعتیں صرف چند نشستیں جیت سکی تھیں۔

    یہ صورتحال جمہوریت کے نقطۂ نظر سے بھی ناقابل قبول ہے کیونکہ جمہوریت کا مقصد عوام کی اکثریت کی بالادستی ہوتا ہے جبکہ یہاں اقلیت کی نمائندگی کو تفوق اور بالادستی حاصل ہے اور اکثریت نمائندگی سے محروم ہے۔ اس کی بجائے اگر یہ طریقِ کار اختیار کر لیا جائے کہ ووٹ افراد کی بجائے جماعتوں کو ڈالے جائیں اور ہر پارٹی کو ملک بھر سے ملنے والے ووٹوں کے تناسب سے اسمبلیوں میں نشستیں الاٹ کر دی جائیں تو مذکورہ بالا خرابی کے انسداد کے ساتھ ساتھ ملک کا کوئی ووٹر نمائندگی سے محروم نہیں رہے گا۔

  4. سیاسی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی ہماری قومی سیاست کا اہم مسئلہ ہے کیونکہ ہمارے ہاں کسی شخصیت کو کسی بھی وجہ سے اگر ملک گیر تعارف حاصل ہو جائے تو سیاسی تقاضے پورے کیے بغیر اور فیلڈ ورک کے جھنجھٹ میں پڑے بغیر وہ صاحب ایک عدد مرکزی دفتر، سائن بورڈ، خوبصورت لیٹر پیڈ اور چند مہروں کے سہارے قومی سیاست کو فیض یاب فرمانے کو اپنا بنیادی حق تصور کرتے ہیں۔ اس لیے اگر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کا نظام اپنا لیا جائے اور اس کے ساتھ اس قسم کی کوئی پابندی بھی عائد کر دی جائے کہ ایک خاص حد سے کم ووٹ حاصل کرنے والی جماعتوں کے لیے اپنا وجود ختم کر کے ہم خیال بڑی جماعتوں میں ضم ہوئے بغیر کوئی چارۂ کار نہ رہے تو نہ صرف یہ کہ قومی سیاست میں برساتی جماعتوں کی افزائش رک جائے گی بلکہ دو تین صحیح انتخابات کے بعد خودبخود تین چار متحرک، منظم اور طاقتور سیاسی جماعتیں ہی میدان میں رہ جائیں گی۔
  5. جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا نظام رائج ہونے کی صورت میں چند حلقوں یا علاقوں کی بنیاد پر سیاست کرنے والی جماعتیں بھی پورے ملک میں ’’سیاسی ورک‘‘ کرنے پر مجبور ہوں گی جس سے قومی سوچ کو تقویت حاصل ہوگی، علاقائیت اور صوبائی عصبیت کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ملکی سالمیت اور قومی وحدت پر سیاسی ضرب لگانے کے امکانات کم سے کم تر ہوتے چلے جائیں گے۔

بہرحال ہماری قومی سیاست کی بہت سی الجھنیں ایسی ہیں جو جماعتی بنیادوں پر الیکشن کا نظام اپنانے سے دور ہو سکتی ہیں اور سیاست پر چھائے ہوئے بدعنوان اور نا اہل عناصر کی جگہ اہلیت، دیانت اور شرافت سے بہرہ ور افراد کے آگے آنے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ اس لیے حکومتِ پاکستان، پاکستان قومی اتحاد اور قومی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ قومی پریس کو بھی اس تجویز کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ ہم ایک صحیح اور متوازن سیاسی نظام کے ذریعے قومی سیاست میں استحکام کی طرف مؤثر پیش رفت کر سکیں۔