پیر آف پگارا سید مردان علی شاہ مرحوم

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ جنوری ۲۰۱۲ء

پیر آف پگارا سید مردان علی شاہ گزشتہ دنوں لندن میں انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ پاکستان کی قومی سیاست کا ایک اہم کردار تھے اور ان کا خاندان برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی استعمار کے خلاف قومی جدوجہد اور تحریک آزادی کی تاریخ میں ایک مستقل عنوان کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہماری اہم خانقاہوں دین پور شریف، امروٹ شریف، ہالیجی شریف اور شیرانوالہ لاہور کا تعلق سلسلہ قادریہ سے ہے۔ اور ان کے روحانی شجرے پر نظر ڈالیں تو ایک بڑا نام حضرت شاہ محمد راشدؒ کا ملتا ہے جن کی نسبت سے یہ روحانی سلسلے خود کو ’’راشدیہ‘‘ کے عنوان سے موسوم کرتے ہیں۔ خود میرے نام کے ساتھ ’’راشدی‘‘ کی نسبت بھی اسی حوالے سے ہے کہ میرا بیعت کا تعلق شیرانوالہ لاہور میں حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ سے تھا۔ میں نے جب حصول تعلیم شروع کیا تو اپنے آبائی قصبہ گکھڑ کے حوالے سے زاہد گکھڑوی کے نام سے لکھتا تھا۔ حضرت الشیخ مولانا عبید اللہ انورؒ کے ارشاد پر کہ گکھڑوی تلفظ کے لحاظ سے ایک ثقیل لفظ ہے، اس لیے اپنی نسبت سلسلہ کی طرف کر دیں، میں نے ’’زاہد الراشدی‘‘ کے نام سے لکھنا شروع کر دیا اور اسی تعارف سے موسوم چلا آرہا ہوں۔

شاہ محمد راشد رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جانشینی اور حلقہ ارادت اپنے دو بیٹوں میں تقسیم کر کے ایک کو اپنی پگڑی جبکہ دوسرے کو جھنڈا عطا فرما دیا تھا جس کی وجہ سے سندھ میں پیر صاحب آف پگارا اور پیر صاحب آف جھنڈا کے نام سے دو گدیاں اب تک چلی آرہی ہیں اور ان دونوں گدیوں کی اپنی اپنی مستقل تاریخ ہے۔

سندھ میں ’’حروں‘‘ کے نام سے برطانوی استعمار کے خلاف جو مسلح تحریک ایک عرصہ تک سرگرم رہی اس کے بانی پیر پگارا ششم حضرت پیر سید صبغۃ اللہ شہیدؒ تھے جو گزشتہ روز وفات پانے والے پیر صاحب آف پگارا کے والد محترم تھے۔ اور شہدائے بالاکوٹ حضرت سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ جب پشاور کے صوبے پر حملے کے لیے سندھ کے راستے گزرے تو پیر صاحب آف پگارا کی پہلی گدی ان کا مرکز تھی۔ اس وقت کے پیران پگارا نے نہ صرف ان کی خوب آؤ بھگت کی بلکہ ان کے جہاد آزادی میں ہر ممکن تعاون بھی کیا۔ بعد میں یہی جذبۂ حریت حروں کی تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔ سندھ میں حروں نے ایک عرصے تک چھاپہ مار کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ امروٹ شریف کے حضرت مولانا تاج محمود امروٹی، جو حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی تحریک کے اہم راہنما تھے، حروں کی اس مسلح تحریک آزادی کے پشت پناہ اور معاون رہے۔

پیر پگارا ششم حضرت پیر سید صبغۃ اللہ شاہ راشدیؒ کو انہی چھاپہ مار کاروائیوں کی وجہ سے برطانوی حکومت نے گرفتار کر کے ان پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا اور اسی جرم میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ ان کے دو بیٹوں سید سکندر علی شاہ المعروف علی مردان شاہ اور سید نادر علی شاہ کو جلا وطن کر کے لندن بھیج دیا گیا اور گدی کو ختم کر کے اس کی اراضی اور اثاثوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ ان دونوں بھائیوں کی تعلیم و تربیت لندن میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد سرکردہ راہ نماؤں کے توجہ دلانے پر، جن میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ بھی شامل بتائے جاتے ہیں، وزیر اعظم لیاقت علی خان مرحوم نے پیر صاحب آف پگارا کی گدی کو بحال کر کے ان کی جائیداد واگزار کی اور ان دونوں بھائیوں کو لندن سے بلا کر اس کا نظام ان کے سپرد کر دیا۔ قیام پاکستان کے وقت حروں کی ایک بڑی تعداد اپنی عسکری سرگرمیوں میں مصروف تھی، انہیں حکمت عملی کے ساتھ پاک فوج کا حصہ بنا لیا گیا۔

پیر صاحب آف پگارا اپنے ماضی کے حوالے سے بہت شاندار تاریخ رکھتے ہیں مگر وہ خود چونکہ مغربی ماحول کے تربیت یافتہ تھے اس لیے ان پر ان کے ماضی کا رنگ غالب نہ آسکا۔ میری ان سے کچھ عرصہ اس طرح رفاقت رہی ہے کہ ۱۹۷۷ء کے انتخابات اور تحریک نظام مصطفیؐ میں وہ پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان قومی اتحاد کے نو مرکزی قائدین میں شمار ہوتے تھے جنہیں ’’نو ستاروں‘‘ کے عنوان سے یاد کیا جاتا تھا۔ وہ پاکستان قومی اتحاد کے پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین تھے جبکہ بورڈ میں جمعیۃ علماء اسلام کی نمائندگی قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ اور راقم الحروف کیا کرتے تھے۔ اس دوران پیر صاحب آف پگارا کی صدارت میں درجنوں اجلاسوں میں شرکت اور بحث و مباحثہ کا موقع ملا۔

تصوف کی لائن میں پیر صاحب آف پگارا کو ان ’’فارورڈ صوفیاء‘‘ میں شمار کیا جا سکتا ہے جو طریقت کو اصل اور شریعت کو اس کا ذریعہ قرار دیتے ہیں اور شریعت کے احکام کو بطور مقصد ضروری نہیں سمجھتے۔ میں نے ایک روز ان سے سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ کی نسبت سے الگ ملاقات کر کے اس پس منظر میں کچھ گفتگو کرنا چاہی تو ان کی عدم دلچسپی دیکھتے ہوئے دوبارہ اس موضوع پر ان سے بات چیت کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ مگر پاکستان کے استحکام اور سندھ میں قوم پرستوں کے علیحدگی پسندانہ رجحانات کا مقابلہ کرنے میں وہ ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ سندھ میں جب بھی لسانی حوالے سے یا قوم پرستی کے عنوان سے کوئی مسئلہ کھڑا ہوا پیر صاحب آف پگارا پاکستان اور وفاق کی علامت کے طور پر سامنے آئے۔ ملک کی وحدت و سالمیت کے لیے وہ ہمیشہ محب وطن پاکستانیوں کی ڈھارس ثابت ہوئے اور ان کا نام پاکستان کے چند عظیم محب وطن راہ نماؤں میں شمار ہوتا ہے۔

قومی سیاست میں ان کا انداز گفتگو منفرد تھا۔ ہم ان کی باتوں سے مستقبل کے اندازے لگاتے تھے اور ان کے منفرد سیاسی تکلم کا حظ اٹھاتے تھے۔ ان کی بعض سیاسی پیش گوئیاں پوری بھی ہو جاتی تھیں جو وہ ذومعنی الفاظ اور جملوں کے ذریعے کر دیا کرتے تھے۔ آج صبح اخبار میں ان کی وفات کی خبر پڑھ کر میری اہلیہ ام عمار نے کہا کہ پیر صاحب آف پگارا کی ایک اور پیشین گوئی پوری ہوگئی ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کون سی؟ تو کہنے لگیں کہ پیر صاحب نے چند روز پہلے کہا تھا کہ ’’انتخابات میری زندگی میں ہوتے نظر نہیں آتے۔‘‘

پیر صاحب آف پگارا اپنے حال کے حوالے سے بہت سے سوالات کا عنوان ہونے کے باوجود ایک محب وطن قومی سیاست دان کے طور پر ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور ان کے ماضی کے ساتھ ہماری گہری عقیدت وابستہ ہے۔ اس ماضی کی ایک جھلک پیر صاحب مرحوم کے ایک عقیدت مند کے قلم سے ملاحظہ فرما لیجیے:

’’برطانوی سامراجیوں نے پیر صاحب آف پگارا سید صبغۃ اللہؒ کی تحریک کو نہایت بے دردی سے کچل ڈالا۔ آزادی کے متوالے مردان آزاداں جو ’’حر‘‘ کہلاتے تھے، حریت کی اس بے مثال تحریک میں قربانیوں کے قصے تاریخ پر ثبت کرتے چلے گئے۔ حروں نے گوریلا جنگ لڑی، ان پر قابو پانے کے لیے پورے سندھ پر فوجی آپریشن ہوا، توپ خانہ اور فضائیہ تک استعمال کی گئی، سید صبغۃ اللہ شاہؒ کو گرفتار کر لیا گیا۔ پیر صاحب پگارا سید صبغۃ اللہ شاہؒ کو فوجی عدالت نے موت کی سزا دی، مہینوں مارشل لاء کے تحت مقدمہ چلتا رہا، سزا کا فیصلہ کر لیا گیا، لیکن صرف چند گھنٹے پہلے اس مرد حق کو اس کی اطلاع دی گئی۔ کیونکہ انگریز سامراجیوں کو یقین تھا کہ اگر سزائے موت کا پہلے اعلان کر دیا گیا تو حر مجاہدین اپنی جان کی بازی لگا کر بھی پیر صاحب کو لے جائیں گے اور کسی جیل کی دیواریں حر مجاہدین کے لیے ناقابل تسخیر ثابت نہ ہوں گی۔ سید صبغۃ اللہ شاہؒ کو جب بتایا گیا کہ چند گھنٹے بعد انہیں پھانسی کے تختے پر جانا ہے تو انہوں نے کسی اضطراب کا اظہار نہ کیا اور نوافل ادا کیے۔‘‘

پیر صاحب آف پگارا سید مردان علی شاہ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں اور قومی سیاست کا ایک اہم باب مکمل ہوگیا ہے۔ ان کی بہت سی یادیں ذہن میں تازہ ہیں اور کتاب ماضی اپنے اوراق پلٹ پلٹ کر ان کی سرگرمیوں کی جھلکیاں دکھا رہی ہے۔ قومی سیاست کو شاید اب اس قسم کا منفرد کردار میسر نہ آئے۔ میں ذاتی طور پر غمزدہ ہوں، پیر صاحب مرحوم کے ساتھ سیاسی رفاقت کے دور کی یادوں کے حوالے سے بھی، اور سندھ کے اس عظیم روحانی خاندان کے شاندار ماضی کے حوالے سے بھی۔ اور دعا گو ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ پیر صاحب آف پگارا کی غلطیوں اور گناہوں سے درگزر فرمائیں، ان کی حسنات و خدمات کو شرف قبولیت سے نوازیں اور اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔