عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۱)

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۴ اگست ۱۹۹۹ء
اصل عنوان: 
سلطان عبد الحمید عثمانی اور ان کی یادداشتیں

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید مرحوم کی یادداشتوں کا عربی میں ترجمہ کرنے والے دانشور پروفیسر محمد حرب کے حوالہ سے سلطان مرحوم کے بارے میں کچھ گزارشات گزشتہ ایک کالم میں پیش کی تھیں۔ اب ان یادداشتوں میں سے چیدہ چیدہ چند باتوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

سلطان عبد الحمید مرحوم نے، جو 1876ء سے 1909ء تک سریر آرائے خلافت رہے، خلافت سے معزولی کے بعد نظربندی کے دوران ذاتی ڈائری کے طور پر اپنی یادداشتیں قلمبند کی تھیں۔ اس وقت ان کا عربی ترجمہ ہمارے سامنے ہے جو عین شمس یونیورسٹی کے استاد پروفیسر محمد حرب نے کیا ہے۔ ان یادداشتوں کا آغاز سلطان مرحوم نے اپنے خلاف عائد کیے جانے والے اس الزام کے جواب سے کیا ہے کہ سلطان عبد الحمید ادب و لٹریچر کا دشمن ہے اور اس نے اپنے دور میں شعراء، ادیبوں اور قلمکاروں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ سلطان عبد الحمید مرحوم نے اس سلسلہ میں تقابل کے طور پر اپنے بڑے بھائی سلطان مراد خامس کا ذکر کیا ہے کہ سلطان مراد کو ترکی کے نوجوان انقلابیوں نے اپنا لیڈر بنا کر اسے تخت نشین کرنے کے لیے سلطان عبد العزیز مرحوم کو معزول کرایا جو سلطان مراد اور سلطان عبد الحمید کے چچا تھے۔ اور معزولی کے بعد سلطان عبد العزیز مرحوم نے ان انقلابیوں کے بقول خودکشی کر لی۔

سلطان مراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ موسیقی کا دلدادہ تھا، مغربی تہذیب و ثقافت کا شیدائی تھا، فرانسیسی زبان روانی سے بولتا تھا، اور لندن میں قیام کے دوران برطانوی ولی عہد سے ذاتی دوستی اور اس کے ذریعہ فری میسن تحریک سے روابط استوار کر چکا تھا۔ وہ ترکی کے انقلابی نوجوانوں کی تحریک کا سرپرست اور زبردست مالی معاون تھا۔ اسی پس منظر میں اسے سلطان عبد العزیز مرحوم کو معزول کر کے خلیفہ بنایا گیا تھا جبکہ اس کی عمر چھتیس برس تھی۔ لیکن خلافت سنبھالنے کے بعد وہ دماغی مرض کا شکار ہوگیا اور ایک دن بھی کارہائے خلافت کی انجام دہی کے لیے منظر عام پر نہ آسکا۔ چنانچہ مجبور ہو کر 93 دن کے بعد اسے خلافت سے الگ کر کے سلطان عبد الحمید کو خلیفہ بنانا پڑا۔

سلطان عبد الحمید کا کہنا ہے کہ ان کے بڑے بھائی سلطان مراد کو انقلابیوں نے ایک منظم منصوبے کے تحت اپنا ہمنوا بنایا اور پھر خلافت کے منصب تک پہنچایا۔ اسے ترکی میں ادب و کلچر کے سرپرست کے طور پر پیش کیا جاتا تھا اور ایک دانشور و قومی شاعر کی حیثیت سے اس کا تعارف کرایا جاتا تھا۔ مگر سلطان عبد الحمید کے بقول اس کی علمی حالت یہ تھی کہ وہ چند سطریں بھی ڈھنگ سے نہیں لکھ سکتا تھا۔ سلطان عبد الحمید نے اس سلسلہ میں سلطان مراد کے ایک خط کا مضمون بھی نقل کیا ہے جو چھ سات سطروں پر مشتمل ہے اور فواد پاشا کی بیماری پر اس کے اہل خانہ کو لکھا گیا ہے۔ سلطان عبد الحمید نے لکھا ہے کہ جب سلطان مراد یہ خط لکھ رہے تھے وہ ان کے پاس موجود تھے۔ یہ خط وہ ایک دفعہ میں مکمل نہیں کر سکے تھے کئی بار لکھا اور پھر اسے بدقت تمام مکمل کیا۔ لیکن اس کے باوجود اس چھ سطری خط میں گرائمر کی واضح غلطیاں موجود ہیں۔ سلطان عبد الحمید نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انقلابیوں نے محض اپنے مفادات کی خاطر علم و ادب سے کوسوں دور ایک شخص کو قومی شاعر اور ادب و علم کے ہیرو کے طور پر پیش کیا اور سلطان عبد الحمید کی کردار کشی کرتے ہوئے اسے علم دشمن اور ادب و لٹریچر کا مخالف قرار دے دیا۔

اس کے بعد سلطان عبد الحمید نے ان ادباء اور دانشوروں کا ذکر کیا ہے جو اس کے مخالف تھے اور اسے خلافت سے الگ کرنے کی تحریک میں شامل رہے۔ مگر سلطان نے ان کے خلاف نہ صرف یہ کہ کوئی کاروائی نہیں کی بلکہ ان میں سے بعض کو مخالفت کے باوجود نوازا۔ سلطان عبد الحمید نے ضیاء بیگ کا ذکر کیا ہے کہ وہ ان کے سب سے بڑے مخالف تھے اور وہ انہیں جلا وطن کر سکتے تھے اور ان کے لیے اس بارے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی، لیکن محض ان کے علم و فضل کے احترام میں ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ اسی طرح ایک انقلابی شاعر کمال بیگ کو وہ اپنی ذاتی جیب سے ساری عمر وظیفہ دیتے رہے۔ اور معروف ترکی ادیب عبد الحق حامد کے قرضے انہوں نے اپنی طرف سے ادا کیے۔ اس کے علاوہ دیگر ادباء اور شعراء کا بھی سلطان نے تذکرہ کیا ہے جو مخالفت اور حمایت سے قطع نظر صرف ادیب، شاعر اور دانشور ہونے کے ناطے سے ان سے مراعات حاصل کرتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ ادب اور کلچر کے دشمن ہوتے تو ان دانشوروں، شاعروں اور قلمکاروں کے خلاف کاروائی کرنا ان کے لیے کچھ مشکل نہ تھا لیکن انہوں نے ہمیشہ علم دوستی اور ادب نوازی کا مظاہرہ کیا۔ البتہ وہ ادب و شعر کے نام پر قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کے خلاف تھے اور حریت فکر کے قومی تقاضوں سے انحراف کو برداشت کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوئے۔

سلطان عبد الحمید مرحوم نے اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ انہوں نے جس وقت منصب خلافت سنبھالا تو خلافت عثمانیہ پر بیرونی قرضوں کی مقدار تین سو ملین لیرہ تک پہنچ گئی تھی جسے انہوں نے بتدریج کم کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ اور باوجودیکہ انہیں بلقان کی جنگوں اور روس کے ساتھ جنگ کے اخراجات برداشت کرنے پڑے اور کئی اندرونی بغاوتوں سے نمٹنا پڑا، مگر وہ ان سب کچھ کے باوجود اپنے دور خلافت میں اس قرضہ کو تین سو ملین سے کم کر کے صرف تیس ملین تک لانے میں کامیاب ہوگئے۔ حتیٰ کہ انہوں نے اس مقصد کے لیے سرکاری اخراجات میں اس حد تک کمی کر دی کہ انہیں بخیل خلیفہ کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔ لیکن جب ان کے بعد انجمن اتحاد و ترقی کے انقلابی نوجوانوں نے اختیارات سنبھالے تو یہ قرضے تھوڑے ہی عرصہ میں پھر تیس ملین سے چار سو ملین تک جا پہنچے۔

سلطان عبد الحمید نے روس کے ساتھ خلافت عثمانیہ کی 1877ء میں ہونے والی جنگ کا تذکرہ کیا جس میں خلافت عثمانیہ کو شکست ہوئی اور روس کی زار شاہی حکومت نے خلافت عثمانیہ سے کئی علاقے ہتھیا لیے۔ سلطان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یکے بعد دیگرے دو خلیفوں کی معزولی کے بعد 1876ء میں خلافت کا منصب سنبھالا تھا اور اس وقت انقلابیوں اور تبدیلی پسند نوجوانوں کو یہ حیثیت حاصل ہوگئی تھی کہ وہ خلیفہ کو معزول کرنے اور اس کی جگہ دوسرے شخص کو بٹھانے میں کامیاب ہو جاتے تھے، اس لیے انہوں نے اسی حوالے سے عوام میں مقبولیت رکھنے والے لیڈر مدحت پاشا کو صدر اعظم بنا دیا اور اسے مکمل اعتماد سے نوازا۔ حتیٰ کہ ملک میں دستوری حکومت کے قیام کے لیے مختلف حلقوں کی طرف سے دستوری مسودات پیش کیے گئے تو انہوں نے ان میں سے مدحت پاشا کے تیار کردہ دستوری خاکہ کو منظور کیا۔ لیکن مدحت پاشا کی حالت یہ تھی کہ خود پسندی اور اپنی رائے پر ہٹ دھرمی کی حد تک اصرار نے اسے مطلق العنان بنا دیا تھا۔ اور اسی ہٹ دھرمی کے باعث اس نے خلافت عثمانیہ کو تیاری کے بغیر اس جنگ میں جھونک دیا۔ حالانکہ سلطان عبد الحمید کا کہنا ہے کہ وہ خود اس جنگ میں شامل ہونے کے حق میں نہیں تھے۔

صورتحال یہ تھی کہ سربیا اور بلغاریہ میں خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت ہو چکی تھی اور بیرونی ممالک نے مشترکہ طور پر خلافت عثمانیہ سے مطالبہ کر دیا تھا کہ وہ سربوں کو جبل اسود اور دیگر علاقے حوالے کر دے اور بلغاریہ کو آزادی دینے کا اعلان کر دے۔ جبکہ روس نے ایسا نہ کرنے کی صورت میں کھلم کھلا جنگ کی دھمکی دے دی تھی۔ سلطان عبد الحمید نے لکھا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعہ مسئلہ حل کرنے کے حق میں تھے اور جنگ کے لیے تیار نہ تھے لیکن مدحت پاشا ہر حالت میں روسی چیلنج کو قبول کرنے پر زور دے رہے تھے۔ حتیٰ کہ انہوں نے مجلس وزراء سے اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کر لیا اور خلافت عثمانیہ جنگ میں کود پڑی جس میں اسے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔

سلطان عبد الحمید نے لکھا ہے کہ ان کے صدر اعظم مدحت پاشا نے انہیں بتایا کہ روس کے خلاف جنگ کی صورت میں برطانیہ اور فرانس نے خلافت عثمانیہ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ حالانکہ یہ بات غلط تھی اور سفارتی ذرائع سے خلیفہ تک برطانوی وزیر خارجہ کا پیغام پہنچ چکا تھا کہ روس کے ساتھ جنگ میں وہ خلافت عثمانیہ کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے مدحت پاشا کو بلا کر اس پیغام سے آگاہ کیا لیکن وہ جنگ کے سوا اور کسی بات کے لیے تیار نہیں تھے۔

سلطان عبد الحمید نے لکھا ہے کہ انہیں صدر اعظم اور افواج کے کمانڈر انچیف نے بتایا کہ اس وقت ان کے پاس دو لاکھ کی تعداد میں مسلح افواج تیاری کی حالت میں موجود ہیں اور کسی بھی دشمن کے حملہ کو روک دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مگر اسی دوران خلیفہ کو محاذ جنگ کے کمانڈر جنرل احمد مختار پاشا کا ٹیلی گرام موصول ہوا کہ اس کی کمان میں صرف تیس ہزار فوج ہے اور وہ اس پوزیشن میں دشمن کی لاکھوں کی تعداد میں فوج کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ سلطان کے بقول انہوں نے ٹیلی گرام موصول ہونے کے بعد فوری طور پر صدر اعظم اور کمانڈر انچیف کو قصر خلافت میں طلب کیا اور ٹیلی گرام دکھا کر صورت حال کی وضاحت کرنے کے لیے کہا تو صدر اعظم نے یہ کہہ کر اپنا دامن چھڑایا کہ انہیں فوج کی استعداد اور تیاری کا علم نہیں۔ جبکہ کمانڈر انچیف پر کپکپی طاری ہوگئی جس سے میں نے یہ سمجھ لیا کہ اس وقت جنگ میں کودنا پاگل پن کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ مگر قوم مدحت پاشا کے ساتھ تھی اور مدحت پاشا ہر حالت میں جنگ چاہتے تھے اس لیے جنگ ہوئی اور اس کے نتائج بھی جلد سامنے آگئے۔

سلطان عبد الحمید نے لکھا ہے کہ مدحت پاشا کی مغرب نوازی ان کے علم میں آچکی تھی اور وہ جانتے تھے کہ انگریزوں کے ساتھ مدحت پاشا کے خفیہ روابط ہیں۔ حتیٰ کہ سفارتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ مدحت پاشا کے رفیق کار جنرل عونی پاشا نے انگریزوں سے بھاری مقدار میں رقوم وصول کی ہیں۔ لیکن چونکہ رائے عامہ مدحت پاشا کے ساتھ تھی اور اسے قومی ہیرو کی حیثیت دے دی گئی تھی اس لیے ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ اسے صدر اعظم کا منصب عطا کریں، اس کے پیش کردہ مسودہ دستور کو منظور کریں، اور اس کی پالیسیوں پر ہر حالت میں منظوری کے دستخط ثبت کریں۔ حتیٰ کہ جب بات حد سے بڑھ گئی اور قطعی طور پر ناقابل برداشت ہوگئی تو انہیں مدحت پاشا کو معزول کرنا پڑا۔

سلطان عبد الحمید نے مدحت پاشا اور ان کے رفقاء کے کردار کے حوالہ سے اور بھی بہت سی باتیں لکھی ہیں جن میں سے بعض کا آئندہ کسی کالم میں تذکرہ کیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

درجہ بندی: