سنی شیعہ کشیدگی اور جناب ظفر حسین نقوی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۴ مئی ۱۹۹۹ء

راقم الحروف نے ’’سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب پر ایک نظر‘‘ کے عنوان سے کچھ گزارشات پیش کی تھیں جن میں اس کشیدگی میں اضافہ کا باعث بننے والے کچھ عوامل کا تذکرہ کیا تھا اور اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وزیراعظم پاکستان نے اس حوالہ سے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی سربراہی میں جو کمیٹی قائم کی ہے اس کمیٹی کو اپنا کام جاری رکھنا چاہیے اور کمیٹی کے شرکاء کو چاہیے کہ وہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معروضی حالات کا بے لاگ جائزہ لیں، سنی شیعہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ کے مرحلہ وار پراسیس کا تجزیہ کریں، اور اس کے اسباب و عوامل کی نشاندہی میں کسی مصلحت کا شکار نہ ہوں۔ اس مضمون پر جناب ظفر حسین نقوی صاحب نے روزنامہ اوصاف میں اظہار خیال کیا ہے، ان کے ارشادات کے بارے میں کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں۔ نقوی صاحب نے اپنے مضمون میں فرمایا ہے کہ اہل تشیع قرآن پاک پر ایمان رکھتے ہیں، صحابہ کرامؓ کا احترام کرتے ہیں، سب اہل سنت کو مسلمان سمجھتے ہیں، اور اہل سنت کی مساجد کے تقدس کے قائل ہیں اس لیے انہیں اس بات کا ملزم گرداننا درست نہیں ہے کہ ان کے طرز عمل کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔

اس سلسلہ میں نقوی صاحب محترم سے گزارش ہے کہ راقم الحروف نے اپنے مضمون میں ان میں سے کسی بات پر بھی بحث نہیں کی اور نہ ہی کسی پر دلائل دیے ہیں جس پر نقوی صاحب کو اپنی پوزیشن کی وضاحت اور اس کے لیے دلائل پیش کرنے کی ضرورت پیش آئی ہو، بلکہ میں نے تو صرف واقعات کے حوالہ سے سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب کا ذکر کیا ہے۔

  • عزاداری کے جلوسوں کو متنازعہ راستوں سے گزارنے پر اصرار فسادات کا باعث بنتا آرہا ہے۔
  • اکابر صحابہؓ کے بارے میں بعض مقررین کے گستاخانہ لب و لہجہ نے مختلف اوقات میں اشتعال کی آگ بھڑکائی ہے۔
  • شیعہ نصاب تعلیم اور اوقاف کی علیحدگی کے مطالبات نے اہل تشیع کا راستہ اجتماعی دھارے سے الگ کیا ہے اور فقہ جعفریہ کے متوازی نفاذ کی تحریک نے یہ بات انتہاء کو پہنچا دی ہے جس کے رد عمل نے ’’سپاہ صحابہؓ‘‘ کو جنم دیا ہے اور صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے۔

مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ ظفر حسین نقوی صاحب جیسے بہت سے سنجیدہ اہل تشیع اشتعال انگیزی کو پسند نہیں کرتے اور صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کے روادار نہیں ہیں۔ لیکن ایسے دوستوں کی طرف سے بیزاری اور براءت کے اعلان سے وہ واقعات تو صفحہ وجود سے محو نہیں ہو جائیں گے جو رونما ہو چکے ہیں اور جن کی وجہ سے کئی بار اشتعال اور کشیدگی کے شعلے بھڑکے ہیں۔ میں کسی بات کے جواز یا عدم جواز پر بحث نہیں کر رہا بلکہ یہ گزارش کر رہا ہوں کہ یہ واقعات ہیں جو کشیدگی کا باعث بنتے چلے آرہے ہیں اور آئندہ کشیدگی کو روکنے کے لیے اس قسم کے واقعات کی روک تھام ضروری ہے۔

بہتر ہوتا کہ نقوی صاحب غیر متعلقہ بحث میں الجھنے کی بجائے ان واقعات سے انکار کرتے اور مجھ سے مطالبہ کرتے کہ میں ان واقعات کا ریکارڈ پیش کروں جن کو سنی شیعہ کشیدگی میں اضافے کا باعث قرار دے رہا ہوں۔ اور اب بھی اگر نقوی صاحب یہ اصولی مطالبہ کریں تو میرے لیے یہ ضروری ہو جائے گا کہ گزشتہ نصف صدی کے ریکارڈ کی چھان بین کر کے ان اہم واقعات کی نشاندہی کروں جو کشیدگی اور اشتعال کا باعث بنے ہیں، اگر نقوی صاحب اس کو مناسب سمجھتے ہیں تو میں اس خدمت کے لیے حاضر ہوں۔

البتہ ظفر حسین نقوی صاحب کی ایک بات قابل توجہ ہے جو انہوں نے میرے اس اصولی موقف کے جواب میں ارشاد فرمائی ہے کہ ’’اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان عقائد اور اصول کے حوالہ سے بنیادی اختلافات موجود ہیں اس لیے ان میں مذہبی مفاہمت ممکن نہیں ہے‘‘۔ اس پر نقوی صاحب نے کہا ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع میں کوئی ایسا بنیادی اختلاف نہیں ہے جو مذہبی مفاہمت میں رکاوٹ بنتا ہو، اس کے لیے نقوی صاحب موصوف نے قرآن کریم پر اہل تشیع کے ایمان اور صحابہ کرامؓ کے احترام کے حوالہ سے کچھ وضاحتی ارشادات بھی فرمائے ہیں۔ مگر میں بصد ادب گزارش کروں گا کہ ظفر حسین نقوی صاحب کا یہ موقف نہ معروضی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی اہل تشیع کے عقائد اور اصول کی ان کتابوں کی تصریحات پر پورا اترتا ہے جو اہل تشیع کے ہاں ’’مسلمہ مآخذ‘‘ کا درجہ رکھتی ہیں اور جن کی بنیاد پر اہل تشیع کے جمہور اہل علم اپنے عقائد و احکام کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر میں ان کتابوں اور ان کی تصریحات کی بحث میں الجھنے کی بجائے بطور مثال ایک تازہ ترین واقعہ کا ذکر مناسب سمجھتا ہوں جس سے نقوی صاحب میرے موقف کو باآسانی سمجھ پائیں گے۔

روزنامہ پاکستان لاہور نے 6 اپریل 1999ء کو تہران میں ہونے والی ایک مذہبی تقریب کا فوٹو شائع کیا ہے جس کا منظر یہ ہے کہ ایران کے مذہبی پیشوا جناب آیت اللہ خامنہ ای ’’عید غدیر‘‘ کے موقع پر ایک جلسہ سے خطاب کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ اسٹیج پر ایران کے صدر محترم جناب محمد خاتمی، سابق صدر جناب ہاشمی رفسنجانی، پارلیمنٹ کے اسپیکر جناب علی اکبر ناطق نوری، اور ایرانی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ محمد یزیدی تشریف فرما ہیں۔ جبکہ ایران کی اس اعلیٰ ترین قیادت کے سروں پر ایک بینر لٹک رہا ہے جس کی یہ عبارت صاف طور پر پڑھی جا رہی ہے کہ الحمد للّٰہ الذی جعل کمال دینہ و تمام نعمتہ بولایتہ امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ’’سب تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے اپنے دین کی تکمیل اور اپنی نعمت کا اتمام حضرت علیؓ کی ولایت کے ساتھ کر دیا۔ یہ جملہ قرآن کریم کی سورہ المائدہ کی آیت نمبر 3 کے حوالہ سے ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے خطاب کر کے فرمایا ہے الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی کہ آج کے دن میں نے تمہارے لیے اپنا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے۔ یعنی جس وحی کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا تھا وہ مکمل ہوگئی ہے اور حضرات انبیاء کرامؑ کے ذریعہ نسل انسانی کی راہنمائی کے لیے آنے والے دین کی نعمت تمام ہوگئی ہے۔

اس آیت کریمہ کے بارے میں جمہور اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ یہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے کیونکہ انہی کے ذریعہ دین مکمل ہوا ہے اور انہی پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوا ہے۔ اب اگر دین کی تکمیل کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ولایت کے ساتھ مختص کیا جائے تو جناب نبی اکرمؐ پر نازل ہونے والی وحی مکمل قرار نہیں پاتی اور ختم نبوت کے عقیدہ کے ساتھ ساتھ حضرت محمدؐ کے بعد وحی کے بند ہوجانے کا عقیدہ بھی مشکوک ٹھہرتا ہے۔ جہاں تک حضرت علیؓ کی ولایت کا تعلق ہے ہم اہل سنت اس کے قائل ہیں بلکہ انہیں امام الاولیاء مانتے ہیں اور ان کے ساتھ عقیدت و محبت ہمارے ایمان کا جزو ہے۔ مگر دین کی تکمیل اور وحی کے ساتھ حضرت علیؓ کی ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وحی صرف حضر ت محمد رسول اللہؐ پر نازل ہوتی تھی اور انہی پر دین مکمل ہوا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر وحی نازل نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی دین کی تکمیل سے ان کا کوئی واسطہ ہے۔

یہ ایک اصولی اور بنیادی مسئلہ ہے جس کا تعلق ختم نبوت سے ہے، تکمیل دین سے ہے، اور جناب نبی اکرمؐ کی وحی و تعلیمات کی حتمی حیثیت سے ہے۔ اور مذکورہ بالا تصویر کے مطابق اس میں جمہور اہل اسلام کے اجماعی عقیدہ سے الگ موقف کا اظہار کسی غیر ذمہ دار واعظ کے ذریعہ نہیں ہو رہا بلکہ ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی قیادت ’’ولایت فقیہہ‘‘ اور مقتدر حکمرانوں کی طرف سے سامنے آرہا ہے۔ اس لیے یہ کہہ دینا اس قدر آسان نہیں ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے اور یہ صرف چند مخصوص گروہوں کی پیدا کردہ صورتحال ہے۔

ان گزارشات کے ساتھ ظفر حسین نقوی صاحب اور ان کے ہمنوا شیعہ دوستوں سے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس وقت بلاوجہ عقائد کی بحث میں نہ پڑیں ورنہ یہ قصہ لمبا ہو جائے گا، البتہ کشیدگی کے اسباب کو دور یا کم کرنے کی ضرورت موجود ہے اور اس کے لیے ہم ہر طرح حاضر ہیں۔