قیام پاکستان کی پہلی اینٹ کس نے رکھی؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۳ جولائی ۲۰۰۰ء

فقیر آباد پشاور کے ڈاکٹر پرویز تاج خٹک صاحب نے اچھا کیا ہے کہ محترم راجہ انور صاحب کے حالیہ مضمون کے سلسلہ میں ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلا دی ہے۔ ورنہ میں نے وضاحت و جواب کے لیے صرف دو نکات پر اکتفاء کرنے کا فیصلہ کیا تھا جن کے بارے میں معروضات گزشتہ دو کالموں میں پیش کر چکا ہوں۔ مگر ڈاکٹر خٹک صاحب کے مراسلہ سے اندازہ ہوا کہ عام طور پر پائی جانے والی اس غلط فہمی کے بارے میں بھی کچھ عرض کرنا ضروری ہے کہ قیام پاکستان کی پہلی اینٹ سر سید احمد خان مرحوم نے رکھی تھی۔ یہ بات اتنے تواتر کے ساتھ کہی جانے لگی ہے بلکہ ہمارے سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جا رہی ہے کہ اس سے اختلاف کو ابتداء میں بہت عجیب سمجھا جائے گا مگر تاریخی تناظر پر منصفانہ نظر ڈالی جائے تو اس کی حقیقت ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اس حوالہ سے سب سے پہلے ہمیں اس امر کا جائزہ لینا ہوگا کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا ہے؟ اور شمالی ہند میں مسلمانوں کی جداگانہ ریاست قائم کرنے سے تحریک پاکستان کے لیڈروں کی غرض کیا تھی؟ اس سلسلہ میں دو نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔

  1. ایک یہ کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا، اور یہ غرض تھی کہ قرآن و سنت کا نظام ایک بار پھر اجتماعی زندگی میں نافذ و جاری ہو۔
  2. دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اسلامی نظام کا نفاذ تحریک پاکستان کے قائدین کے پیش نظر نہیں تھا بلکہ وہ صرف ہندو اکثریت کے غلبہ و تسلط سے مسلمانوں کو نجات دلا کر بس ایک مسلم ریاست قائم کرنے کے خواہشمند تھے۔

اس سلسلہ میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے قیام پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد مختلف اعلانات میں، بالخصوص اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر مسلمانوں کی جداگانہ تہذیب و ثقافت، قرآن کو دستور قرار دینے، قرآن و سنت کی حکمرانی قائم کرنے، اور پاکستان کو مغربی نظام معیشت کی بجائے اسلامی نظام معیشت کی تجربہ گاہ بنانے کے اعلانات جس واشگاف انداز میں کیے ہیں، انہیں اگر حقیقت گوئی سمجھا جائے تو مذکورہ بالا دوسرے نقطہ نظر کو قبول کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ کیونکہ اس نقطہ نظر یعنی پاکستان کو اسلامی ریاست کی بجائے صرف مسلم ملک بنانے کے موقف کو قبول کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ قائد اعظم مرحوم کے ان تمام اعلانات کو ڈپلومیسی، سیاست کاری، اور ملمع سازی پر محمول کیا جائے جس کے لیے میرا خیال ہے کہ ان کا کوئی عقیدت مند اور فکری پیروکار تیار نہیں ہوگا۔

اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ قیام پاکستان کا مقصد شمالی ہند میں مسلمانوں کی الگ ریاست قائم کرنا تھا تو تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس کا آغاز ۱۸۳۰ء میں اس وقت عملاً ہوگیا تھا جب سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے پشاور کے صوبہ پر قبضہ کر کے اسلامی نظام عملی طور پر نافذ کر دیا تھا۔ اور امیر المومنین کے منصب کے اعلان کے بعد زیرقبضہ علاقوں میں شرعی قوانین کے مطابق لوگوں کے معاملات طے ہونا شروع ہوگئے تھے۔ یہ صرف مسلمانوں کی حکومت تھی، اسلامی حکومت تھی، اور شمالی ہند میں ہی تھی۔ اس لیے قیام پاکستان کا مقصد اگر یہی تھا تو اس کی پہلی اینٹ سر سید احمد خان مرحوم نے نہیں بلکہ سید احمد شہیدؒ نے رکھی تھی، اور اس وقت رکھی تھی جب سر سید احمد خان کی عمر صرف تیرہ برس تھی۔یہ تحریک ناکام ہوگئی اور اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد چھ ماہ کے اندر ختم ہوگئی۔

اس کے ربع صدی بعد ۱۸۵۷ء کا معرکہ بپا ہوا اور اس کے نتیجہ میں انگریزوں کے خلاف عسکری مزاحمت کے سارے راستے مسدود ہوگئے تو اس کے بعد سر سید احمد خان نے مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کا نعرہ لگایا جس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو کام سید احمد شہیدؒ نے عسکری قوت اور محاذ آرائی کے ذریعہ حاصل کرنا چاہا اس میں ان کی ناکامی کے بعد سر سید احمد خان نے اس خیال کو انگریزوں کے ساتھ مفاہمت اور ان کی اطاعت کے پردہ میں از سر نو دھیرے دھیرے آگے بڑھانے کی کوشش کی، اور پھر اس کے نتیجہ میں پر امن اور عدم تشدد پر مبنی تحریک پاکستان وجود میں آئی۔

چنانچہ سر سید احمد خان کا اگر مسلمانوں کی جداگانہ ریاست کی راہ ہموار کرنے میں کردار ہے تو وہ دوسرے مرحلہ کا کردار ہے جسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اسے پہلی اینٹ رکھنے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور برصغیر میں انگریزوں کی آمد کے بعد مسلمانوں کی جداگانہ ریاست قائم کر کے اس میں اسلامی نظام نافذ کرنے میں اولیت حاصل کرنے کا اعزاز تاریخ میں بہرحال سید احمد شہیدؒ کے لیے مخصوص ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر خٹک صاحب نے اپنے مراسلہ میں ایک بات یہ بھی فرمائی ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد سر سید احمد خان مرحوم کا رویہ اور طرز عمل حکمت پر مبنی تھا جبکہ علماء کرام نے جو کچھ کیا صرف غصہ کی وجہ سے کیا۔ میں بڑے ادب کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے اس ارشاد سے اختلاف کروں گا۔ کیونکہ علماء کرام نے ۱۸۵۷ء سے پہلے اور اس کے بعد جو کچھ کیا، بالخصوص ولی اللّٰہی جماعت نے جس جس محاذ پر جدوجہد کی، اس کی بنیاد غصہ پر نہیں بلکہ دینی ذمہ داری پر تھی۔ کیونکہ شرعی احکام اور دینی اصولوں کا تقاضا ہر دور میں وہی تھا جو ولی اللّٰہی جماعت کے اکابر نے اختیار کیا۔ اور یہ انہی کی حکمت عملی، قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ جنوبی ایشیا کا یہ خطہ آج پوری دنیا میں اسلامی عقائد و احکام اور روایات و اقدار کے ساتھ مسلمانوں کی بے لچک اور ناقابل شکست وابستگی کی مثال بن چکا ہے۔

میں باقی تمام امور سے قطع نظر کرتے ہوئے راجہ انور صاحب اور ڈاکٹر پرویز تاج خٹک صاحب کو صرف ایک نکتہ پر غور کی دعوت دوں گا کہ اگر سید احمد شہیدؒ والی مزاحمت اور محاذ آرائی کی پالیسی (یا خٹک صاحب کے بقول غصہ والے طرز عمل) کے تحت تحریک آزادی کو آگے بڑھایا جاتا اور پوری طرح سپر انداز ہونے کی بجائے حریت پسندی کے جذبہ کو اپنے اصلی رنگ میں کسی نہ کسی طرح باقی رکھا جاتا تو کیا پھر بھی یہی ہوتا کہ آزادی ملنے کے نصف صدی بعد تک لوگ آزادی کے ثمرات کو ترستے رہتے؟ اور کیا اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے حکمران طبقات کی جھجھک نصف صدی کے بعد بھی قائم رہتی؟ اگر راجہ صاحب اور خٹک صاحب میری یہ جسارت معاف فرمائیں تو یہ سپر اندازی اور مفاہمت کی اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ قیام پاکستان کے پچاس سال بعد بھی ہمارے ان حکمران طبقات کو جو سر سید احمد خان مرحوم کے نظام تعلیم کے فیض یافتہ ہیں ابھی تک اس بات پر یقین ہی نہیں آرہا کہ انگریزوں نے جو نظام نافذ کیا تھا وہ غلط تھا اور اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ مکمل نظام حیات ہے جس کے نفاذ کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہو سکتا۔