جدید تعلیم یافتہ دانش وروں کا المیہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۰ جولائی ۲۰۰۰ء

ہمارے جدید تعلیم یافتہ دانشوروں کی ایک مجبوری یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات و احکام اور اسلامی تاریخ تک ان کی رسائی براہ راست نہیں بلکہ انگلش لٹریچر کے ذریعہ ہے۔ اور انگلش لٹریچر بھی وہ جو مسیحی اور یہودی مستشرقین کے گروہ نے اپنے مخصوص ذہنی ماحول اور تاریخی پس منظر میں پیش کیا ہے۔ مستشرقین کی تحقیقی کاوشوں اور جانگسل محنت سے انکار نہیں مگر اس کے اعتراف کے باوجود ان کے پیش کردہ لٹریچر کو ان کے ذہنی رجحانات اور فکری پس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ہی ان کے ذریعہ اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ تک رسائی حاصل کرنے کے عمل کو ان خرابیوں اور نقصانات سے مبرا قرار دیا جا سکتا ہے جو کسی بھی واقعہ یا مسئلہ میں معلومات تک بالواسطہ رسائی کی صورت میں لازماً پیدا ہو جاتے ہیں۔

اس کی ایک جھلک مجھے محترم راجہ انور صاحب کے اس مضمون میں بھی دکھائی دی ہے جو انہوں نے ’’یہ اسلام کی کیسی خدمت ہے؟‘‘ کے عنوان سے تحریر فرمایا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اس مضمون میں دو اصطلاحات ایسی استعمال کی ہیں جو خالصتاً مسیحی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا اسلامی تعلیمات اور تاریخ سے براہ راست کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ان میں سے ایک بات شریعت کے ظاہری احکام پر زور دینے کی بجائے اس کی روح پر عمل کرنے سے متعلق ہے۔ اور دوسری ملائیت کو تھیوکریسی سے تعبیر کرنے کے بارے میں ہے۔ اس لیے ان کے اس مضمون کے دیگر مندرجات کے سلسلہ میں گزارشات کرنے سے پہلے انہی دو امور کے حوالہ سے چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

شریعت کے ظاہری احکام کی بجائے اس کی روح پر عمل کرنے کا تصور سب سے پہلے معروف مسیحی پیشوا پولس نے پیش کیا تھا جن کے متعدد خطوط بائبل کے عہد نامہ جدید میں شامل ہیں۔ اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو بدل کر اس میں وہ عقائد شامل کیے جو موجودہ مسیحیت کی بنیاد ہیں، اور اس طرح مسیحیت کے نام پر ایک نیا مذہب دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ اس سلسلہ میں گفتگو کو آگے بڑھانے سے پہلے جناب پولس کے بارے میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار کا تبصرہ ملاحظہ فرمالیں جو ان کے تذکرہ میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے کہ

’’مصنفین کا ایک مکتب فکر جس میں ڈبلیو ریڈ کا بطور مثال ذکر کیا جا سکتا ہے اگرچہ کسی بھی اعتبار سے پولس کا منکر نہیں ہے تاہم وہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ پولس نے عیسائیت کو اس قدر بدل دیا تھا کہ وہ اس کا دوسرا بانی بن گیا۔ وہ در حقیقت اس ’’کلیسائی عیسائیت‘‘ کا بانی ہے جو یسوع مسیح کی لائی ہوئی عیسائیت سے بالکل مختلف ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’یا تو یسوع کی اتباع کرو یا پولس کی‘‘ ان دونوں پر بیک وقت عمل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

شریعت کے ظاہری احکام کی بجائے اس کی روح پر عمل کی بات سب سے پہلے ان پولس صاحب نے کی اور اپنے پیروکاروں کو یہ عقیدہ دیا کہ چونکہ ان کے بقول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پوری نسل انسانی کے گناہوں کے بدلہ میں کفارہ کے طور پر سولی چڑھ گئے ہیں اس لیے ان کی صلیب کے زیر سایہ آنے والے مسیحیوں کو ان کا کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا، اور وہ شریعت کے احکام کی بجائے محض نسبت اور فضل کے سہارے نجات پا جاتے ہیں۔ پولس صاحب کے اس فلسفہ کو انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمالیجیے جو انہوں نے رومیوں کے نام اپنے خط میں تحریر کیے ہیں اور یہ خط بھی بائبل کے عہد نامہ جدید میں موجود ہے۔

’’اب ہم جانتے ہیں کہ شریعت جو کچھ کہتی ہے ان سے کہتی ہے جو شریعت کے ماتحت ہیں تاکہ ہر ایک کا منہ بند ہو جائے اور ساری دنیا خدا کے نزدیک سزا کے لائق ٹھہرے کیونکہ شریعت کے اعمال سے کوئی بشر اس کے حضو راست باز نہیں ٹھہرے گا اس لیے کہ شریعت کے وسیلہ سے تو گناہ کی پہچان ہی ہوتی ہے مگر اب شریعت کے بغیر خدا کی ایک راست بازی ظاہر ہوئی ہے جس کی گواہی شریعت اور نبیوں سے ہوتی ہے یعنی خدا کی وہ راست بازی جو یسوع مسیح پر ایمان لانے سے سب ایمان والوں کو حاصل ہوتی ہے کیونکہ کچھ فرق نہیں اس لیے کہ سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں مگر اس کے فضل کے سبب اس سے اس مخلصی کے وسیلہ سے جو یسوع مسیح میں ہے مفت راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں اسے خدا نے اس کے خون کے باعث ایسا کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ مند ہوتا ہے کہ جو گناہ پیشتر ہو چکے تھے اور جن سے خدا نے تحمل کر کے طرح دی تھی ان کے بارے میں وہ اپنی راست بازی ظاہر کرے بلکہ اسی وقت اس کی راست بازی ظاہر ہو تاکہ وہ خود بھی عادل رہے اور جو یسوع پر ایمان لائے اس کو بھی راست باز ٹھہرانے والا ہو پس فخر کہاں رہا؟ اس کی گنجائش ہی نہیں کون سی شریعت کے سبب سے؟ کیا اعمال کی شریعت سے؟ نہیں بلکہ ایمان کی شریعت سے چنانچہ ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان کے سبب سے راست باز ٹھہرتا ہے۔‘‘

اتنا طویل اقتباس پیش کرنا اس لیے ضروری ہوگیا تھا کہ اس کے بغیر اس فلسفے کو پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں ہے جو صرف ایمان اور نسبت کو مدار نجات ٹھہرا کر انسانی معاشرہ کو اچھے اور برے اعمال کی تمیز سے بے گانہ کر رہا ہے۔ اور گناہ کرنے والوں کو یہ اعتماد اور تسلی دلا رہا ہے کہ پورے حوصلہ کے ساتھ جو گناہ جی میں آئے کر گزرو اس لیے کہ تمہارے سب گناہوں کی سزا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ کر (نعوذ باللہ تعالیٰ) بھگت چکے ہیں۔

نیکی اور بدی میں تمیز اور شرعی احکام کی پابندی کے بغیر محض نسبت اور چند خود ساختہ روحانی رسوم کے سہارے نجات حاصل کرنے کا یہ فلسفہ چند مسلمان صوفیاء کے ہاں بھی پایا جاتا ہے جو شریعت کی بجائے طریقت پر زور دیتے ہیں، اور یہ فلسفہ اسی ’’پولسی مکتب فکر‘‘ کے اثرات کا نتیجہ ہے۔ ورنہ قرآن کریم نے تو ایمان کے ساتھ اعمال کی پابندی کو نجات کامل کے لیے ضروری قرار دیا ہے اور جا بجا یہ ذکر فرمایا ہے کہ ہر شخص کو اپنے اعمال کی سزا خود بھگتنا ہوگی، کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں بھگتے گا۔ اور جس شخص نے جو عمل بھی کیا ہے اسے قیامت کے روز اپنے سامنے موجود پائے گا۔ اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اعمال کی اصلاح اور نیک اعمال کی پابندی پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔

اور جہاں تک نسبت کا تعلق ہے قرآن کریم نے سورۃ الاحزاب میں آنحضرتؐ کی ازواج مطہرات کے تذکرہ میں یہ کہہ کر بات صاف کر دی ہے کہ یہ دو دھاری تلوار کی طرح ہے۔ کیونکہ ازواج مطہرات سے کہا گیا ہے کہ اگر انہوں نے کوئی نیک عمل کیا تو اس کا ثواب دوہرا ہوگا لیکن ان سے کوئی گناہ سرزد ہوا تو اس کی سزا بھی دگنی بھگتنا ہوگی۔ اور جناب نبی اکرمؐ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہؓ تک سے کہہ دیا کہ بیٹی اس خوش فہمی میں نہ رہنا کہ نبی کی بیٹی ہوں بلکہ نجات کے لیے اپنے اعمال کا توشہ تیار رکھنا۔

جبکہ شریعت کی بجائے طریقت کو کافی سمجھنے والے نام نہاد صوفیاء کو حقیقی صوفیاء کرامؒ اور اولیاء عظامؒ نے کبھی قبول نہیں کیا۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ شریعت کے ظاہری احکام پر عمل اور پابندی کے بغیر نہ تو کوئی شخص ولایت کا مرتبہ پا سکتا ہے اور نہ ہی نجات کامل کا مستحق ہو سکتا ہے۔ اس لیے شریعت کے ظاہری احکام کو ہلکا سمجھنے اور ان کی پابندی کو غیر ضروری قرار دینے کا فلسفہ اسلامی نہیں بلکہ پولسی ہے جسے غلط طور پر مسیحیت قرار دے کر دنیا بھر میں اس کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ اور ہمارے دانشور بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی سے متاثر ہو کر شریعت اسلامیہ کے ظاہری احکام کی اہمیت کو کم کرنے کی اس مہم میں شریک ہوگئے ہیں۔

مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ اس فلسفہ کے اثرات ہمارے معاشرہ میں بھی موجود ہیں اور اس کی صحیح جھلک دیکھنی ہو تو ان گدیوں اور تکیوں پر کسی بھی وقت دیکھی جا سکتی ہے جہاں شریعت کے ظاہری احکام سے بے نیاز بلکہ ظاہری لباس تک سے بے گانہ ملنگ اپنی ترنگ میں یہ گنگناتے ہوئے ’’گھوٹا‘‘ لگا رہے ہوتے ہیں کہ

؂   گھوٹ گھوٹ پیتیاں تے رب نال گلاں کیتیاں

مگر راجہ انور صاحب جیسے پڑھے لکھے دانشور بھی اس لے اور سر میں شریعت کے ظاہری احکام کی پابندی کرنے والوں پر پھبتیاں کسنے لگ جائیں، یہ بات بہرحال کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔