دیوبندی بریلوی اختلافات ۔ افہام و تفہیم کے ماحول کی ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ نومبر ۲۰۱۵ء

گزشتہ ہفتے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سہ ماہی امتحان اور اس کی تعطیلات کا سلسلہ چل رہا تھا۔ اس لیے مجھے کچھ شہروں میں گھومنے پھرنے کا موقع مل گیا۔ ۹ نومبر کو چنیوٹ میں ایک عزیز شاگرد حافظ محمد عمیر چنیوٹی کی دعوت ولیمہ میں شریک ہوا۔ اگلے روز فیصل آباد میں دو تین پروگرام تھے اس لیے رات چنیوٹ میں ہی جامعہ انوار القرآن کے مہتمم مولانا قاری عبد الحمید حامد (فاضل نصرۃ العلوم) کے ہاں گزاری۔ دوسرے روز فیصل آباد کے لیے روانہ ہوا تو النور ٹرسٹ فیصل آباد کے چیئرمین حافظ پیر ریاض احمد چشتی نے فون پر دریافت کیا کہ بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم دین مولانا مفتی سعید احمد اسعد آپ سے ملاقات کے خواہشمند ہیں انہیں کیا جواب دوں؟ میں نے عرض کیا کہ آج کے پروگرام کا نظم آپ کے ہاتھ میں ہی ہے اگر گنجائش ہو تو ان کے ہاں جانے کی ترتیب بنا لیں۔ چنانچہ جاتے ہی پہلے ان سے ملاقات کا پروگرام بن گیا۔

مولانا مفتی سعید احمد اسعد بریلوی مکتب فکر کے معروف بزرگ مولانا مفتی محمد امین کے فرزند اور جامعہ امینیہ شیخ کالونی کے مہتمم ہیں۔ مسلکی اختلافات پر ایک بڑے مناظر کی شہرت رکھتے ہیں اور معروف خطباء میں شمار ہوتے ہیں۔ حافظ ریاض احمد قادری، مولانا قاری لائق علی اور سید ذکر اللہ الحسنی کے ہمراہ جامعہ امینیہ میں حاضری ہوئی۔ مفتی صاحب موصوف نے عزت و توقیر سے نوازا اور ملاقات کا مقصد یہ بتایا کہ وہ ایک عرصہ سے اس سوچ میں ہیں کہ دیوبندی بریلوی تفریق اور اختلافات امت کے اجتماعی ماحول اور مقاصد کے لیے نقصان کا باعث بن رہے ہیں، ان کو سمیٹنے کی کوئی صورت نکالنی چاہیے تاکہ ہم مل کر ملک و قوم کے اجتماعی مسائل کے لیے محنت کر سکیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو گزشتہ نصف صدی سے اس فکر اور کوشش میں ہوں کہ
(۱) نفاذ شریعت
(۲) تحفظ ختم نبوت
(۳) تحفظ ناموس رسالت
(۴) ملک کے اسلامی تشخص کے تحفظ
(۵) اسلامی تہذیب و ثقافت اور روایات و اقدار کی پاسداری اور
(۶) سیکولر ازم کے مقابلہ
کے لیے نہ صرف دیوبندی اور بریلوی بلکہ تمام دینی حلقوں کو مل جل کر محنت کرنی چاہیے۔ میں نے اپنی عملی اور تحریکی زندگی کا آغاز ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت سے کیا تھا جس کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام پر مشتمل آل پارٹیز مجلس عمل تشکیل پائی۔ اس کے ضلعی صدر بریلوی مکتب فکر کے بزرگ عالم دین مولانا ابو داؤد محمد صادق اور سیکرٹری جنرل معروف اہل حدیث بزرگ مولانا حکیم عبد الرحمن آزاد تھے، جبکہ میں شہری مجلس عمل کا سیکرٹری جنرل تھا۔ اس وقت سے اب تک اس طرح کے نصف درجن سے زائد متحدہ محاذوں کا سرگرم کردار رہا ہوں اس لیے اس مثبت سوچ پر مجھ سے زیادہ خوشی اور کس کو ہو سکتی ہے؟ مفتی سعید احمد اسعد نے فرمایا کہ اس سلسلہ میں میری تجویز یہ ہے کہ اس سے قبل دونوں طرف کے جن بزرگوں مثلاً مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا عبد الرحمن اشرفی اور دیگر حضرات نے جو کوششیں کی ہیں اور تجاویز پیش کی ہیں ان سے استفادہ کیا جائے اور باہمی مسلکی اختلافات کے بارے میں مل بیٹھ کر باہمی اتفاق رائے سے ہر مسئلہ میں قدر مشترک طے کر کے اس کا اعلان کیا جائے۔

مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے دیوبندی حضرات کو گستاخ رسولؐ کہا جاتا ہے اور دیوبندی علماء ہم بریلویوں کو مشرک اور بدعتی قرار دیتے ہیں۔ اگر ہم مل کر متفقہ طور پر (۱) شرک (۲) بدعت اور (۳) گستاخ کی کوئی تعریف طے کرلیں اور کسی بھی طرف سے اس متفقہ تعریف کے خلاف کی جانے والی باتوں سے رجوع کا اہتمام کر لیا جائے تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ دونوں طرف کے سنجیدہ اہل علم مل بیٹھ کر اس کی کوئی صورت نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امت کی اجتماعی ضروریات کا احساس رکھتے ہیں اور ہمارے اختلافات امت میں اجتماعی دینی جدوجہد میں جس طرح رکاوٹ بنے ہوئے ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن اس کے لیے مسلکی اختلافات کی موجودہ شدت اور نوعیت کو کم کرنا ضروری ہے اور اسی لیے وہ یہ تجویز پیش کر رہے ہیں۔

میں نے ان سے عرض کیا کہ ان کی اس تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے اور اس کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ مگر میرے خیال میں اس سے پہلے اس کا ماحول بنانا ضروری ہے اور میری تجویز یہ ہے کہ چند اختلافی مسائل سے ہٹ کر جو متفقہ امور و مسائل ہیں ان کے بارے میں مشترکہ جدوجہد کی جائے۔ مثلاً جس طرح ہم تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اسی طرح سودی نظام کے خاتمہ اور نظام شریعت کے نفاذ کی جدوجہد کے لیے مستقل متحدہ محاذ قائم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپس کی ملاقاتوں اور رابطوں کو بڑھائیں۔ اس لیے کہ باہمی ملاقاتوں، تبادلۂ خیالات اور افہام و تفہیم کے ذریعہ بہت سے مسائل خودبخود حل ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح اختلافی مسائل کو بلا ضرورت نہ بیان کیا جائے اور جہاں بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہو وہاں ان کا اظہار دلیل اور سلیقہ کے ساتھ ہو۔ اس طرح ایک ایسا ماحول قائم ہوگا جس میں ہم متنازعہ مسائل پر باہمی بحث و مباحثہ اور کوئی قدر مشترک طے کرنے کی طرف بھی پیش قدمی کر سکیں گے۔

ہم دونوں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کر کے اس بات پر اتفاق کیا کہ وقتاً فوقتاً ہم ملتے رہیں گے اور اس سوچ اور فکر کو آگے بڑھانے کے راستے تلاش کرتے رہیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

درجہ بندی: