محبت کی شادیاں اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۵ ستمبر ۲۰۰۰ء

این این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں تھانہ گڑی شاھو لاہور کے علاقہ میں رہنے والی شبانہ بی بی کے کیس میں فیصلہ دیا ہے کہ محبت کی شادی جرم نہیں ہے۔ اس خاتون نے لو میرج کی تھی اور اس کے خلاف مقدمہ درج تھا جس پر فاضل عدالت نے تھانہ گڑھی شاھو کے تفتیشی انسپکٹر کو ہدایت کی ہے کہ وہ درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرے اور پیش کردہ شہادتوں کی بنا پر مقدمہ کا فیصلہ کرے۔ فاضل عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ محبت کی شادی کرنا جرم نہیں ہے بشرطیکہ یہ شادی قانون اور شریعت کے مطابق ہوئی ہو۔ فاضل عدالت نے کہا ہے کہ باہمی ہم آہنگی سے ہونے والی شادی اریجنڈ میرج سے زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔

ہماری اعلیٰ عدالتوں میں کچھ عرصہ سے اس قسم کے مقدمات کثرت اور تواتر کے ساتھ آرہے ہیں۔ ان کا ایک پہلو یہ ہے کہ ان سے ہمارے معاشرہ میں شادی اور نکاح کے حوالہ سے لڑکوں اور لڑکیوں کی رضامندی اور خوشی کو نظر انداز کرنے کے رجحانات کا اندازہ ہوتا ہے جو بلاشبہ زیادتی ہے اور شریعت کے تقاضوں کے منافی ہے۔ کیونکہ اسلام نے بالغ لڑکے اور لڑکی کے رشتہ و نکاح کے معاملہ میں ان کی رضامندی کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ مغربی حکومتوں اور اداروں کی طرف سے اپنے کلچر اور تمدن و ثقافت کو مشرقی اور اسلامی ممالک میں رواج دینے کی خواہش کے پورا ہونے میں ہمارا خاندانی نظام اور خاندانی روایات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس لیے لڑکوں اور لڑکیوں کی مکمل آزادی کے اس نوعیت کے عدالتی سرٹیفیکیٹس مسلم معاشرہ کے فیملی سسٹم اور خاندانی روایات و اقدار کی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

چنانچہ اس قسم کے مقدمات اور ان کے فیصلوں کا جائزہ ان دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کر لینا ہوگا۔ اور چونکہ ہائی کورٹس کے فیصلے ملک کے قانون کا حصہ بن رہے ہیں اس لیے دینی اور علمی مراکز کی ذمہ داری میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ان فیصلوں اور سوسائٹی پر پڑنے والے ان کے اثرات پر نظر رکھیں اور قرآن و سنت اور اسلامی روایات کی روشنی میں قوم کی رہنمائی کریں۔

جہاں تک محبت کا تعلق ہے یہ ایک فطری جذبہ ہے۔ اسلام نے نہ صرف یہ کہ اس کی نفی نہیں کی بلکہ جائز حدود میں ہو تو اس کا احترام کیا ہے اور ایک جائز رجحان کے طور پر اسے تسلیم کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث نبویؐ کا حوالہ دینا چاہوں گا جو امام ابن ماجہؒ ، امام حاکمؒ ، امام بیہقیؒ اور امام طبرانیؒ نے اپنی اپنی کتابوں میں روایت کی ہے اور حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی نے اعلاء السنن میں اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ ارشاد نبویؐ ہے کہ

’’دو محبت کرنے والوں کے مسئلہ کا نکاح جیسا کوئی حل نہیں دیکھا گیا۔‘‘

یعنی اگر کسی مرد اور عورت میں محبت ہو جائے تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ان کا آپس میں نکاح کر دیا جائے۔ جبکہ امام جلال الدین سیوطیؒ نے ’’اسباب درود الحدیث‘‘ میں اس حدیث کا پس منظر یہ بیان کیا ہے جو حضرت جابر بن عبد اللہؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ دونوں سے روایت ہے۔ وہ یہ کہ ایک شخص جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ہماری ایک لڑکی ہے جس کی ہم شادی کرنا چاہتے ہیں۔ مگر قصہ یہ ہے کہ ہم اس کی شادی ایک مالدار نوجوان سے کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ ایک غریب نوجوان سے محبت کرتی ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ اس پر جناب نبی اکرمؐ نے وہ بات فرمائی جس کا اوپر تذکرہ ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت کی کسی مرد سے محبت کے جذبہ کو بھی اسلام رد نہیں کرتا اور جناب نبی اکرمؐ نے اسے ملحوظ رکھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔

لیکن محبت کا دائرہ اور اس کی حدود کیا ہیں؟ اس سلسلہ میں بھی قرآن کریم اور سنت نبویؐ میں واضح ہدایات ملتی ہیں۔ مثلاً قرآن کریم نے سورۃ النساء آیت 25 اور سورۃ المائدہ آیت 5 میں کسی بھی مرد اور عورت کے خفیہ تعلقات کو ناجائز قرار دیا ہے۔ اور آنحضرتؐ نے واضح اور صحیح احادیث میں غیر محرم عورت کو بلاوجہ دیکھنے، اور آپس میں حرمت کا رشتہ نہ رکھنے والے کسی بھی مرد اور عورت کے کسی جگہ تنہا ہونے کی ممانعت فرمائی ہے۔ چنانچہ مرد اور عورت کے باہمی روابط و تعلقات اور پردہ و خلوت کے معاملہ میں شرعی احکام کو سامنے رکھا جائے تو اس محبت کا کسی درجہ میں کوئی جواز نہیں بنتا جو ہمارے ہاں خفیہ تعلقات سے شروع ہوتی ہے اور خطوط کے درپردہ باہمی تبادلہ سے لے کر تنہائی کی ملاقاتوں کے مراحل طے کرتے ہوئے لو میرج کی منزل تک جا پہنچتی ہے۔

چنانچہ محبت کی جائز صورت یہی سامنے آتی ہے کہ کوئی لڑکا کسی لڑکی کے بارے میں یا لڑکی کسی لڑکے کے بارے میں دوسروں سے معلومات حاصل کر کے یا پھر کسی مجلس میں اتفاقیہ ملاقات ہونے پر اسے دیکھ کر متاثر ہو جائے اور دونوں میں انس اور محبت کا رجحان پرورش پانے لگے۔ اس صورت میں محبت اس وقت قابل قبول ہوگی جب کوئی اور رکاوٹ موجود نہ ہو اور اس سے کوئی شرعی یا معاشرتی خرابی پیدا نہ ہو۔ مثلاً حافظ ابن القیمؒ نے سیرت نبویؐ پر اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’زاد المعاد‘‘ میں درجہ بدرجہ ان پانچ خرابیوں کی نشاندہی کی ہے جو مرد اور عورت کے خفیہ تعلقات کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔

  1. غیر محرم عورت سے بے تکلفانہ گفتگو، علیحدگی میں ملاقات، اور خفیہ مراسم اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
  2. اگر وہ عورت کسی اور شخص کی بیوی ہے تو یہ عمل اس کے خاوند کی حق تلفی ہے۔
  3. اگر مرد کی طرف سے یہ بے تکلفی پیدا کرنے میں کسی طرح کے جبر اور دباؤ کا دخل ہے تو یہ خود اس عورت کی بھی حق تلفی شمار ہوگی۔
  4. ان تعلقات کے انکشافات پر عورت کے خاندان کو معاشرہ میں ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس صورت میں یہ اہل خاندان کی حق تلفی ہوگی۔
  5. اور اگر خدانخواستہ کسی ایسی عورت سے بے تکلفی جائز حدود کو پھلانگ رہی ہے جو محرم عورتوں میں شمار ہوتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی دوہری نافرمانی ہے۔

حافظ ابن القیمؒ نے یہ پانچ حق تلفیاں زنا کے نقصانات میں شمار کی ہیں۔ لیکن اگر محبت کے اس تصور اور پراسیس کو دیکھا جائے جو ہمارے ہاں مروج ہے اور جس پر ’’لو میرج‘‘ کے کم از کم پچانوے فیصد واقعات کی بنیاد ہوتی ہے تو اپنے نتائج کے لحاظ سے وہ بھی اس سے کسی صورت میں مختلف نہیں ہے اور یہ پانچ خرابیاں اس میں بھی واضح طور پر پائی جاتی ہیں۔

مگر ہمارے فاضل جج صاحبان اس پورے پراسیس سے آنکھیں بند کرتے ہوئے محبت اور رضامندی کی شادیوں کو جواز کا سرٹیفکیٹ مہیا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس لیے بڑے ادب کے ساتھ ہائی کورٹس کے جج صاحبان سے یہ سوال کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ محبت اور رضامندی دونوں کی اہمیت مسلم ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس محبت اور رضامندی تک پہنچنے کے جو مراحل مروج ہیں، کیا قرآن و سنت نے ان مراحل کے بارے میں بھی کوئی حکم دیا ہے یا نہیں؟ اور اگر قرآن و سنت میں ان کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں تو ہمارے جج صاحبان نے ان پر عملدرآمد کے لیے کون سا طریق کار تجویز کیا ہے؟