مکہ کا سردار قیصرِ روم کے دربار میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۶ و ۱۸ دسمبر ۲۰۰۰ء

غزوۂ بدر میں ابوجہل کے قتل ہو جانے کے بعد قریش کی سرداری ابو سفیان نے سنبھال لی اور فتح مکہ تک تمام معرکوں میں وہ قریش کی کمان کرتے رہے لیکن فتح مکہ کے بعد وہ مسلمان ہوگئے تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اپنے دور جاہلیت کے واقعات سنایا کرتے تھے۔ انہی میں سے ایک واقعہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے ان سے روایت کیا ہے اور امام بخاریؒ نے صحیح بخاری کے پہلے باب میں اسے نقل کیا ہے۔

یہ اس دور کی بات ہے جب جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش مکہ کے درمیان حدیبیہ میں دس سال تک آپس میں جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہو چکا تھا۔ اور عارضی مصالحت کے اس دور میں جہاں جناب نبی اکرمؐ مختلف علاقوں کے حکمرانوں اور بادشاہوں کو اسلام کی دعوت کے خطوط بھجوا رہے تھے وہاں مکہ کے قریشی بھی تجارت کے لیے آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

رسول اکرمؐ نے اس وقت کی ایک بڑی بلکہ سب سے بڑی سلطنت رومن ایمپائر کے حکمران ہرقل کو بھی، جو قیصر روم کہلاتا تھا، دعوت اسلام کا خط بھجوایا۔ یہ خط حضرت دحیہ کلبیؓ لے کر گئے۔ شام اس دور میں رومی سلطنت کا حصہ تھا اور قیصر روم شام کے دورے پر ایلیا میں آیا ہوا تھا۔ جبکہ جناب ابو سفیان بھی ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ وہیں قیام پذیر تھے۔ آنحضرتؐ کا ہرقل کے نام خط لے کر حضرت دحیہ کلبیؓ وہاں پہنچے۔ ہرقل کو اطلاع دی گئی کہ حجاز سے ایک قاصد آیا ہوا ہے جو نئے نبی حضرت محمدؐ کا خط اسے پیش کرنا چاہتا ہے۔ ہرقل نے خط وصول کرنے سے قبل حضورؐ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری سمجھا اور اپنے اہلکاروں سے کہا کہ ان کے علاقے سے اگر کچھ لوگ یہاں آئے ہوں تو انہیں میرے پاس لایا جائے تاکہ میں ان سے اس نئے نبی کے بارے میں دریافت کر سکوں۔ سرکاری کارندوں نے جناب ابو سفیان کو ڈھونڈ نکالا اور انہیں قیصر روم کے دربار میں پیش کر دیا۔ حضرت ابو سفیانؓ فرماتے ہیں کہ قیصر روم نے ہمیں دیکھ کر کہا کہ تم میں سے جو شخص اس نئے نبی سے زیادہ قریبی تعلق رکھتا ہو وہ آگے آجائے جس پر میں آگے بڑھ گیا اور باقی ساتھی میرے پیچھے تھے۔

قیصر نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے کچھ سوالات کروں گا، ان کے صحیح جواب دینا۔ اور میرے ساتھیوں سے کہا کہ اگر یہ کسی سوال کے جواب میں غلطی کرے تو تم اسے ٹوک دینا۔ اس کے بعد قیصر روم نے سوالات کیے جنہیں ترتیب وار پیش کیا جا رہا ہے۔

قیصر: اس شخص کا خاندان اور نسب کیا ہے؟

ابو سفیان: یہ معزز ترین خاندان سے ہے۔

قیصر: اس خاندان میں پہلے کوئی بادشاہ گزرا؟

ابو سفیان: نہیں۔

قیصر: اس کے خاندان میں پہلے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا؟

ابو سفیان: نہیں۔

قیصر: اس کے پیروکار کمزور لوگ ہیں یا خوشحال؟

ابو سفیان: کمزور لوگ زیادہ ہیں۔

قیصر: ان کی تعداد بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے؟

ابو سفیان: دن بدن بڑھ رہی ہے۔

قیصر: کوئی شخص اس پر ایمان لانے کے بعد مرتد بھی ہوا؟

ابو سفیان: نہیں۔

قیصر: تمہیں اس شخص پر کبھی جھوٹ کا شک گزرا؟

ابو سفیان: نہیں۔

قیصر: کبھی کسی معاہدے سے اس نے غداری کی؟

ابو سفیان: ہم اس وقت معاہدہ کے دور سے گزر رہے ہیں، دیکھیں کیا کرتا ہے۔

قیصر: تمہاری کبھی جنگ بھی ہوئی اور کیا نتیجہ نکلا؟

ابو سفیان: متعدد جنگیں ہوئیں، کبھی وہ جیتا اور کبھی ہم۔

قیصر: اس کی تعلیمات کیا ہیں؟

ابو سفیان: وہ کہتا ہے کہ ایک اللہ کی بندگی کرو، تمہارے باپ دادا نے جو بت بنا رکھے ہیں انہیں چھوڑ دو۔ اس کے ساتھ وہ کہتا ہے کہ نماز پڑھو، سچائی اختیار کرو، پاک دامن رہو، صلہ رحمی کرو، امانت ادا کرو، اور وعدہ پورا کرو۔

اس پر قیصر روم نے اپنے سوالات پر عمومی تبصرہ کیا کہ اگر اس کے خاندان میں پہلے کوئی نبی یا بادشاہ قریب زمانہ میں گزرا ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ صاحب اس کی نقل کر رہے ہیں اور اس طریقہ سے بادشاہت دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ باقی باتیں جتنی بتائی گئی ہیں وہ انبیاء ہی کے شایان شان ہیں کہ ان کا تعلق شریف اور معزز خاندانوں سے ہوتا ہے اور ان پر ایمان لانے والا کوئی شخص انہیں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہ انبیاء سچے لوگ ہوتے ہیں، معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں، ان کے ساتھ جنگوں میں اتار چڑھاؤ کے معاملات رہتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبروں کی تعلیمات وہی ہوتی ہیں جو تم نے ان صاحب کے حوالہ سے بتائی ہیں۔

اس تبصرہ کے بعد قیصر روم نے کہا کہ میرے سوالات کے جواب میں جو کچھ تم نے کہا ہے اگر یہ سب اسی طرح ہے تو یہ شخص میرے ان قدموں کی جگہ کا مالک ہو کر رہے گا۔ اور اگر میرے بس میں ہو تو میں ان صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے پاؤں خود اپنے ہاتھوں سے دھوؤں۔ اس موقع پر قیصر روم نے یہ بھی کہا کہ مجھے اس بات کا اندازہ تو تھا کہ ایسے ایک پیغمبر کا ظہور ہونے والا ہے لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ پیغمبر تم عربوں میں سے ہوگا۔

حضرت ابو سفیانؓ کہتے ہیں کہ قیصر روم نے ان سے سوالات کرنے کے بعد تبصرہ کیا اور اس کے بعد حضرت دحیہ کلبیؓ نے بادشاہ کو جناب نبی اکرمؐ کا گرامی نامہ پیش کیا جس کا مضمون یہ ہے۔

اللہ کے بندے اور رسول محمدؐ کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام۔

سلامتی ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام قبول کر لو سلامتی پا جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں دوہرا اجر عطا فرمائیں گے۔ اور اگر تم نے انکار کیا تو رومیوں کا گناہ تجھ پر ہوگا ۔ اے اہل کتاب آؤ اس کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بندی نہ کریں۔ اور ہم میں سے کچھ لوگ دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا رب نہ بنائیں۔ پس اگر وہ اہل کتاب اعراض کریں تو تم (اہل اسلام) کہہ دو کہ ہم تو اس بات کو قبول کرنے والے ہیں۔

حضرت ابو سفیانؓ کہتے ہیں کہ قیصر روم کی یہ باتیں سن کر دربار میں ہر طرف شور مچ گیا اور مختلف اطراف سے آوازیں بلند ہونے لگیں جس پر ہمیں دربار سے نکال کر دروازے بند کر دیے گئے۔ میں نے باہر آتے ہی اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشۃ کی بات تو پوری ہونے لگی ہے۔ رومیوں کا بادشاہ بھی اس سے خوف کھاتا ہے۔ اس کے بعد میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ اب اسلام کا غلبہ ہو کر رہے گا۔ حتیٰ کہ اسلام میرے دل میں داخل ہوگیا اور میں نے بالآخر اسلام قبول کر لیا۔ ابوکبشۃ حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے خاوند کو کہا جاتا تھا جو آنحضرتؐ کی رضاعی ماں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حلیمہؓ کا بچپن میں دودھ پیا تھا جس کی نسبت سے حضرت ابوکبشۃ جناب نبی اکرمؐ کے رضاعی باپ بن گئے تھے۔ مشرکین مکہ اسی وجہ سے حقارت آمیز لہجہ میں آنحضرتؐ کو ابوکبشۃ کا بیٹا کہا کرتے تھے۔

آپؐ کا خط پڑھے جانے کے بعد دربار میں شور و غوغا ہوا تو ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں کو دربار سے نکال کر دروازے بند کر دیے گئے۔ لیکن بادشاہ کے دربار میں کیا ہوا؟ وہ شام کے اس وقت کے چیف پادری ابن ناطورا کی روایت سے معلوم ہوتا ہے جو بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی اس روایت میں مذکور ہے۔

ابن ناطورا اس واقعہ کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قیصر روم ہرقل بادشاہ ایک روز صبح کے وقت انتہائی سست اور پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ قریبی ساتھیوں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ میں رات ستاروں کو دیکھ رہا تھا تو ستاروں کی چال سے مجھے معلوم ہوا کہ ملک الختان کا ظہور ہوگیا ہے یعنی ختنے والوں کا بادشاہ ظاہر ہوگیا ہے اور اس کے غلبہ کا دور شروع ہونے والا ہے۔ اس لیے یہ بات معلوم کرنے کی کوشش کرو کہ ختنہ کرنے ولے لوگ کون اور کہاں ہیں؟ سرکاری پادریوں اور مصاحبوں نے جواب دیا کہ یہودی ختنہ کرتے ہیں لیکن وہ تو اس پوزیشن میں نہیں کہ ہمیں پریشان کر سکیں۔ وہ بہت تھوڑی تعداد میں ہیں، آپ مدائن کے حاکم کو حکم دیں وہ ان کا خاتمہ کر دے گا۔ اس دوران غسان کے بادشاہ نے قیصر روم کو خبر دی کہ حجاز میں ایک نئے نبی کا ظہور ہوا ہے۔ قیصر نے دریافت کیا کہ کیا یہ لوگ ختنہ کرتے ہیں؟ جواب ملا کہ ہاں ان کے ہاں ختنہ ہوتا ہے۔ تو اس وقت سے قیصر روم کے دل میں جناب نبی کریمؐ کے بارے میں بات بیٹھ گئی۔

ابن ناطورا کے مطابق ہرقل بادشاہ نے اس پر یہ تبصرہ کیا کہ یہ اس امت نسل انسانی کا بادشاہ ہے جو ظاہر ہو چکا ہے۔ اس کے بعد ہرقل نے اپنے ایک صاحب علم اور ساتھی کو ساری تفصیل لکھ کر روانہ کی اور اس سے رائے چاہی جبکہ بادشاہ خود حمص کی طرف روانہ ہوگیا۔ وہ جب حمص پہنچا تو اس کے پاس اس صاحب علم ساتھی کا جواب آچکا تھا ، اس نے ہرقل کی رائے کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مکہ میں جس کا ظہور ہوا ہے وہ واقعی نبیؐ ہے۔ چنانچہ بادشاہ نے حمص کے ایک ہال میں روم کے سرداروں کو جمع کیا اور ان کو ساری بات بتاتے ہوئے کہا کہ اگر تم فلاح اور رشد چاہتے ہو اور یہ چاہتے ہو کہ تمہاری بادشاہت قائم رہے تو اس نبیؐ کے ہاتھ پر بیعت کر لو۔ یہ سن کر ہال میں شور مچ گیا، طرح طرح کی آوازیں بلند ہونے لگیں اور بہت سے لوگ وحشی گدھوں کی طرح ہال سے باہر کی طرف بھاگنے لگے۔ اس پر ہرقل بادشاہ نے انہیں باہر جانے سے روکا اور کہا کہ ٹھہرو میں تو یہ باتیں تمہارے امتحان کے لیے کر رہا تھا تاکہ تمہارے ایمان کی مضبوطی دیکھوں اور وہ میں نے دیکھ لی ہے۔ قیصر روم کے اس اعلان پر درباریوں کے قدم رک گئے اور وہ واپس آکر بادشاہ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔

یوں سچ اور اقتدار کے درمیان وہ کشمکش اپنے انجام کو پہنچی جس نے دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کے مطلق العنان حکمران کے ذہن میں کچھ عرصہ سے ہلچل مچا رکھی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقتدار والوں کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں اور وہ ایک حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اس کے اعتراف سے کیوں رک جاتے ہیں۔

آج پھر تاریخ خود کو دہرا رہی کہ نسل انسانی اخلاقی، معاشرتی اور معاشی طور پر ہولناک تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ استحصال اور ظلم و غصب نے عالمی نظام کے خوشنما لیبل کے ساتھ پورے انسانی معاشرہ پر اپنے خونی پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ ہر طرف افراتفری اور جبر و تشدد کا دور دورہ ہے، پسے ہوئے طبقات دنیا کے ہر خطے میں کسی نجات دہندہ کی راہ تک رہے ہیں، اور اعلیٰ دانش گاہوں میں موجودہ ورلڈ سسٹم کی ناکامی اور تباہ کاریوں کا تجزیہ کرتے ہوئے متبادل سسٹم کی تلاش جاری ہے۔ یہ بات اب ہر ایک کی سمجھ میں آرہی ہے کہ آسمانی تعلیمات اور وحی کی طرف واپسی کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ اور یہ بھی ہر ایک کو معلوم ہے کہ انبیاء کرام کی تعلیمات اور وحی الٰہی کا محفوظ ذخیرہ صرف اور صرف اسلام کے پاس ہے۔ اس کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گرامی نامہ تاریخ کے ایک عظیم الشان ریکارڈ کے طور پر آج کے قیصروں، بادشاہوں اور حکمرانوں کو بھی مسلسل دعوت دے رہا ہے کہ ’’اسلام قبول کر لو سلامتی پا جاؤ گے۔‘‘

لیکن بات یہ ہے کہ جب مسلم ممالک کے دارالحکومتوں میں بیٹھے ہوئے حکمران اس پیغام کو سننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو دوسروں سے اس کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ آج کے مسلمان حکمران انسانی سوسائٹی پر اسلامی احکام و قوانین کی عملداری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ وہ جناب نبی اکرمؐ کا کلمہ پڑھتے ہوئے، آپؐ کی محبت کا دم بھرتے ہوئے، اور آپؐ کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے بھی اس آخر الزمان پیغمبرؐ کے سلامتی کے پیغام کے حوالہ سے ’’قیصر روم‘‘ بنے بیٹھے ہیں۔ مگر تاریخ کسی ایک جگہ رک نہیں جایا کرتی، وہ اپنی طبعی رفتار کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور ’’قیصر‘‘ اپنی تمام تر شوکت و سطوت کے باوجود اس کے دھندلکوں میں گم ہو جایا کرتے ہیں۔

درجہ بندی: