حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کی یاد میں سیمینار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ جنوری ۲۰۱۹ء

گزشتہ اتوار کو جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کی یاد میں منعقدہ سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ مولانا رشید میاں صدارت کر رہے تھے، سینیٹر مولانا عطاء الرحمان مہمان خصوصی تھے اور بہت سے فاضل مقررین نے حضرت رحمہ اللہ تعالٰی کی دینی و قومی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔ اسی روز مولانا قاری جمیل الرحمان اختر کی دختر کا نکاح تھا، میں جب وہاں سے فارغ ہو کر جامعہ مدنیہ پہنچا تو مولانا نعیم الدین کا خطاب جاری تھا اور وہ مولانا سید محمد میاںؒ کی علمی و دینی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کا تذکرہ کر رہے تھے۔ وقت مختصر تھا اور مہمان خصوصی نے ابھی خطاب کرنا تھا اس لیے مجھے کچھ عرض کرنے کے لیے کہا گیا تو درج ذیل چند گزارشات پیش کرنے پر اکتفا کیا۔

پہلی بات یہ کہ میں نے حضرت مولانا سید محمد میاںؒ سے بہت کچھ سیکھا ہے، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و حکمت اور تحریک ولی اللٰہی کے علوم و معارف سے میری شناسائی کا ایک بڑا ذریعہ حضرت مرحوم کی تصنیفات تھیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و معارف اور تحریک و جدوجہد کا تذکرہ بحمد اللہ تعالٰی ہمارے گھرانے کا اوڑھنا بچھونا رہا ہے اور بحمد اللہ تعالیٰ اب بھی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حضرت شاہ صاحبؒ کے سیاسی افکار اور معاشی فکر و فلسفہ کو جدید اسلوب و اصطلاحات میں اختصار اور جامعیت کے ساتھ حضرت مولانا سید محمد میاںؒ نے بہت خوبی کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس سلسلہ میں ان کی تحریرات کو ولی اللہی فلسفہ کا نچوڑ کہا جا سکتا ہے۔ پھر انہوں نے صرف فکر و فلسفہ سے ہی نئی نسل کو متعارف نہیں کرایا بلکہ اس کے لیے صدیوں جاری رہنے والی علمی، سیاسی اور فکری جدوجہد کا مرحلہ وار تعارف بھی پیش کیا ہے جو رہتی دنیا تک علماء و اہل دانش کے لیے راہنمائی کا سرچشمہ رہے گا۔

حضرت مرحوم کی سادگی اور تواضع کے حوالہ سے میں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کیا جو پہلے بھی بعض مواقع پر ذکر کر چکا ہوں کہ حضرت مولانا سید محمد میاںؒ جب اپنی پوتی کی شادی میں شرکت کے لیے لاہور تشریف لائے تو یہ میرا نوجوانی کا دور تھا، ان کے فرزند گرامی حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کے ساتھ میرا نیازمندی کا تعلق تھا، میں نے جب حضرتؒ کی تشریف آوری کے بارے میں سنا تو ان کی زیارت کے لیے جامعہ مدنیہ حاضر ہوا۔ مولانا سید حامد میاںؒ موجود نہیں تھے، دروازہ کھٹکھٹانے پر ایک سادہ سے بزرگ نے دروازہ کھولا اور پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ گوجرانوالہ سے حضرت کی زیارت کے لیے آیا ہوں، فرمایا کہ حضرت کسی کام کے لیے گئے ہوئے ہیں تھوڑی دیر میں آئیں گے، آپ دور سے آئے ہیں اندر آکر بیٹھ جائیں۔ میں کمرہ میں بیٹھ گیا، ان بزرگوں کے بارے میں خیال یہ ہوا کہ گھر کے کوئی بزرگ ہیں اور مہمانوں کی دیکھ بھال پر مامور ہیں۔ تھوڑی دیر میں وہ دستر خواں لے آئے اور کہا کہ آپ مہمان ہیں، کھانے کا وقت ہے، کھانا کھا لیں۔ میں نے خاموشی اختیار کی تو پانی کا لوٹا ہاتھ میں پکڑے آگئے، میں نے لوٹا ان کے ہاتھ سے لینا چاہا اور عرض کیا کہ آپ بزرگ ہیں، میں خود ہی ہاتھ دھو لوں گا۔ فرمایا، نہیں آپ مہمان ہیں، ہاتھ میں ہی دھلواؤں گا۔ میں ہاتھ دھو کر کھانے میں مصروف ہوگیا، کچھ ہی دیر میں حضرت مولانا سید حامد میاںؒ تشریف لائے، سلام و دعا کے بعد پوچھا کہ کیسے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت کا پتہ چلا تھا، زیارت و ملاقات کے لیے آیا ہوں۔ فرمایا کہ ملاقات ہوگئی؟ میں نے پوچھا کہ حضرت کہاں ہیں؟ بتایا کہ یہ سامنے تو بیٹھے ہیں۔ لا الٰہ الا اللہ، میں تو سناٹے میں آگیا کہ یہ کیا ہوگیا۔ شرمندگی کے باعث میرے منہ سے کوئی بات نہیں نکل رہی تھی اور حضرت مولانا سید محمد میاںؒ سامنے بیٹھے انتہائی شفقت کے ساتھ مسکرائے جا رہے تھے۔ میری کیفیت دیکھ کر فرمایا کہ کوئی بات نہیں آپ مہمان ہیں اور یہ آپ کا حق ہے۔ میرے لیے یہ بات نئی تو نہیں تھی کہ اپنے گھر میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کو مہمانوں کی اسی طرح خاطر تواضع کرتے دیکھا تھا مگر اپنی حالت پر شرمندگی ضرور محسوس ہو رہی تھی کہ ایک بیکار سے طالب علم کو حضرت مولانا سید محمد میاںؒ جیسی عظیم علمی شخصیت نے کس شفقت سے نوازا ہے۔

اس موقع پر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے بزرگوں کے امتیازات میں علم و عمل، فکر و جدوجہد، خلوص و للٰہیت اور ذکر و عبادت کے ساتھ سادگی و انکساری بھی ایک بڑا وصف چلی آرہی ہے جس کا ذوق بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے آج کے ماحول میں کروفر، رعب و داب اور غیر اعلانیہ تفاخر جیسے تکلفات نظر آتے ہیں تو بسا اوقات وحشت سی ہونے لگتی ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ ہم شاید کسی اجنبی ماحول میں آگئے ہیں، ہمیں اپنے بزرگوں سے زندگی بسر کرنے کے آداب اور مختلف المزاج و مختلف الخیال لوگوں کے درمیان وقار کے ساتھ رہنے کا سلیقہ بھی سیکھنا چاہیے۔

ایک گزارش جو میں اس سیمینار میں تفصیل کے ساتھ کرنا چاہ رہا تھا مگر وقت کی کمی مانع رہی، ان معروضات کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ علمی و فکری خدمات کا تنوع بھی ہم سے دور ہوتا جا رہا ہے، مولانا سید محمد میاںؒ جس دور سے تعلق رکھتے ہیں اس میں ان کے معاصرین بالخصوص مولانا مناظر احسن گیلانیؒ، مولانا حفظ الرحمان سیہارویؒ، مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ، مولانا قاری محمد طیبؒ، مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، مولانا عبد الماجد دریابادیؒ، مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ، چودھری افضل حق مرحوم اور دیگر اکابر کی تصنیفات کے موضوعات کی فہرست بنا کر ان کا تنوع دیکھ لیں کہ اسلام کے اجتماعی نظام کا کون سا شعبہ ان کی جولانگاہ نہیں بنا؟ ہمارا حال یہ ہے کہ اپنے اپنے فکر اور علمی دائروں میں اردگرد چاروں طرف لکیریں کھینچے چلہ کی کیفیت میں مسلسل بیٹھے ہوئے ہیں اور کسی دوسرے دائرہ کی طرف دیکھنا بھی ہم نے خود پر ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ ان دائروں کی اہمیت سے انکار نہیں مگر یہ پہچان اور امتیاز کے لیے ہیں، یہ افادہ اور استفادہ کی ممانعت کے دائرے نہیں ہیں، ہمیں اپنے بزرگوں سے یہ سبق بھی حاصل کرنا چاہیے۔