مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ جنوری ۲۰۰۵ء

مولانا عبد الرؤف فاروقی سمن آباد لاہور کی مسجد خضراء کے خطیب ہیں اور لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے سادھوکی سے ایک کلومیٹر آگے جی ٹی روڈ پر جامعہ اسلامیہ ٹرسٹ کے نام سے ایک دینی تعلیمی ادارے کی تعمیر و ترقی میں مصروف ہیں۔ جامعہ اسلامیہ میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک ہسپتال بھی علاقے کے لوگوں کی خدمت کر رہا ہے اور اب جامعہ میں تحریک آزادی کے نامور رہنما مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کے نام سے منسوب ایک ہال تعمیر کیا گیا ہے جس کی ۲ جنوری کو افتتاحی تقریب تھی۔ اس تقریب میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے رہنما سینیٹر مولانا سمیع الحق، مولانا قاضی عبد اللطیف، مولانا میاں محمد اجمل قادری، اور پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی کے علاوہ بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی بھی شریک ہوئے اور خطاب کیا۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے بارے میں دور حاضر کے تقاضوں پر ڈاکٹر صاحب موصوف نے مفصل اور خوبصورت گفتگو کی جو الگ طور پر مرتب ہو کر شائع ہو سکے تو بے شمار لوگوں کو اس سے فائدہ ہوگا۔ مجھے اس محفل میں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی خدمات اور جدوجہد کے حوالے سے گفتگو کے لیے کہا گیا، میں نے اس پر جو کچھ عرض کیا اس کا خلاصہ قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔

مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کا نام ہماری گزشتہ صدی کی تاریخ میں دو حوالوں سے بہت نمایاں ہے۔ ایک اس حوالے سے کہ برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف ۱۸۵۷ء کے معرکۂ آزادی میں انہوں نے بھرپور حصہ لیا اور قربانیاں دیں۔ دوسرا اس حوالہ سے کہ جنوبی ایشیا پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے تسلط کے بعد مسیحی مشنریوں نے اقتدار کے زیر سایہ اس خطے کو مسیحی ریاست بنانے کے لیے جو یلغار کی اور اسلام کے خلاف اعتراضات اور شکوک و شبہات کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر مسلمانوں کو مسیحی بنانے کی جو مہم چلائی اس کا مقابلہ کرنے اور اس کا راستہ روکنے والے چند سرکردہ علمائے کرام میں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کا نام سرفہرست ہے۔

مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کا تعلق عثمانی خاندان سے تھا، ان کے جد امجد قاضی عبد الرحمنؒ گازرونی سلطان محمود غزنویؒ کے لشکر میں ’’قاضیٔ عسکر‘‘ تھے اور انہی کے ساتھ ہندوستان آئے تھے۔ انہوں نے سومنات کے معرکے میں شرکت کی اور اس کے بعد پانی پت میں آباد ہوگئے جہاں قلعہ کے قریب ان کی قبر بتائی جاتی ہے۔ اس خاندان کے ایک اور بزرگ حکیم عبد الکریمؒ نے جو ’’حکیم بینا‘‘ کے لقب سے یاد کیے جاتے تھے، اکبر بادشاہ کے دور میں شہرت پائی۔ بتایا جاتا ہے کہ اکبر بادشاہ ایک بار شکار کھیلتے ہوئے زخمی ہوگیا تو حکیم عبد الکریم نے اس کا علاج کیا جس سے وہ جلد شفایاب ہوگیا۔ اس پر انہیں ’’شیخ الزمان‘‘ کا خطاب دیا گیا اور ان کے بھائی حکیم محمد احسنؒ کو جہانگیر بادشاہ نے کیرانہ کی جاگیر عطا کی۔ شہنشاہ جہانگیر کے دور میں حکیم محمد احسن دکن کے اور شاہ جہان کے دور میں بہار کے گورنر بھی رہے۔ ان کی جاگیر کی وسعت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ’’تزک جہانگیری‘‘ میں ان کے ایک باغ کے درختوں کی تعداد نو لاکھ بتائی گئی ہے۔

مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی ولادت ۱۲۳۳ ہجری میں ہوئی اور انہوں نے وہی روایتی دینی تعلیم حاصل کی جو اس دور کے علمائے کرام حاصل کیا کرتے تھے۔ جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے جلو میں ہزاروں مسیحی پادریوں نے مشنری سرگرمیوں کے لیے ہندوستان کا رخ کیا تو ان کا مقابلہ کرنے والوں میں مولانا رحمت اللہؒ بھی شامل تھے۔ اس دور کے سب سے بڑے پادری ڈاکٹر فنڈر تھے جو گفتگو اور مناظرے کے فن میں طاق تھے اور پورے ہندوستان میں ان کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ ان کے بارے میں عام طور پر یہ مشہور تھا کہ کوئی مسلمان عالم دین ان کے مقابلے میں آنے کی ہمت نہیں کرتا۔ مگر مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے نہ صرف ان کا چیلنج قبول کیا بلکہ مناظرے میں شکست فاش دے کر انہیں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ یہ مناظرہ ۱۰ اپریل ۱۸۵۴ء کو اکبر آباد، آگرہ میں ہوا جس میں علاقے کے معززین اور عمائدین شریک ہوئے۔ مناظرے کے لیے تین دن طے تھے مگر دو دن کی گفتگو میں ڈاکٹر فنڈر اس قدر زچ اور بے بس ہوئے کہ تیسرے روز مناظرے کے لیے نہیں آئے اور اس کے بعد ہندوستان چھوڑ کر ترکی چلے گئے۔

۱۸۵۷ء میں جب جنوبی ایشیا کے مختلف حصوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے تسلط کے خلاف بغاوت کے شعلے بھڑکے اور درجنوں مقامات پر عوام نے علم بغاوت بلند کیا تو کیرانہ بھی اس میں شامل ہوگیا۔ چنانچہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اقتدار کے خلاف کیرانہ کے عوام کی بغاوت کا اعلان ان الفاظ میں ہوا کہ ’’ملک خدا کا اور حکم مولوی رحمت اللہ کا‘‘۔ ان کے بڑے ساتھی چودھری عظیم الدین مرحوم بتائے جاتے ہیں جنہوں نے انگریزی فوج سے لڑنے والے لشکر کی کمان کی مگر ملک کے دوسرے حصوں کی طرح کیرانہ میں بھی آزادی کی یہ مسلح جدوجہد ناکام ہوئی۔ اس کے بعد مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی گرفتاری کے لیے چھاپے پڑتے رہے مگر وہ کسی طرح بچتے بچاتے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی غیر حاضری میں ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا اور ۳ جنوری ۱۸۶۲ء کو ڈپٹی کمشنر کرنال کے حکم سے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کے خاندان کی جاگیر اور جائیداد بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔

مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں کے علماء سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جوہر شناس علماء نے اس مردِ درویش کے علمی مقام کو پہچان لیا اور بہت سے لوگوں نے ان سے استفادہ کیا۔ اس دور میں حجاز مقدس ترکی کی خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا اور سلطان عبد المجید خلیفہ تھے۔ ہندوستان میں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کے ہاتھوں شکست کھانے والے پادری ڈاکٹر فنڈر نے ترکی کا رخ کیا تھا اور استنبول کو، جو اس دور میں قسطنطنیہ کہلاتا تھا، اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا تھا۔ ڈاکٹر فنڈر نے وہاں یہ تاثر دیا کہ ہندوستان کے علماء اسلام کے بارے میں ان کے اعتراضات کا جواب نہیں دے سکے اس لیے وہ عالم اسلام کے مرکز قسطنطنیہ میں آئے ہیں تاکہ یہاں کے علماء میں سے اگر کسی میں ہمت ہو تو ان کے اعتراضات کا سامنا کرے۔ سلطان عبد المجید مرحوم نے حالات کی تحقیق کے لیے حرمین شریفین میں علمائے کرام کو لکھا کہ حج کے موقع پر ہندوستان سے لوگ آئے ہوں تو ان سے صورتحال معلوم کر کے انہیں صحیح رپورٹ دی جائے۔ جب سلطان کا پیغام مکہ مکرمہ پہنچا تو مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ ہجرت کر کے مکہ مکرمہ میں بسیرا کر چکے تھے۔ علمائے کرام نے سلطان کو لکھا کہ جس ہندوستانی عالم دین سے ڈاکٹر فنڈر کا مقابلہ ہوا تھا وہ مکہ مکرمہ میں موجود ہیں۔ چنانچہ سلطان عبد المجید مرحوم نے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کو قسطنطنیہ بلا لیا اور ڈاکٹر فنڈر کو دعوت دی کہ وہ مولانا سے جس موضوع پر چاہے مناظرہ کرلیں۔ ڈاکٹر فنڈر کو جب معلوم ہوا کہ ان سے مناظرے کے لیے وہی آگرہ والے مولوی رحمت اللہ آگئے ہیں تو انہوں نے مناظرہ کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے بعد ترکی سے بھی راہ فرار اختیار کرلی۔

خلافت عثمانیہ کے خلیفہ سلطان عبد المجید مرحوم بہت متاثر ہوئے اور مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ سے فرمائش کی کہ وہ اسلام اور مسیحیت کے حوالے سے متعلقہ مسائل پر مبسوط کتاب لکھیں جو سرکاری خرچے پر چھپوا کر دنیا میں تقسیم کی جائے گی۔ چنانچہ مولانا نے ’’اظہار الحق‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب تصنیف کی جس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر سلطان ترکی نے اسے تقسیم کرایا۔ یہ معرکۃ الاراء کتاب عربی میں ہے اور جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے نام سے اردو میں اس کا ترجمہ کر کے ایک وقیع مقدمہ بھی اس پر تحریر کیا ہے۔

مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کو سلطان عبد المجید مرحوم نے قسطنطنیہ میں قیام کی پیشکش کی جس پر انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر خدا کے گھر میں آگیا ہوں، اب یہ گھر چھوڑ کر کہیں اور نہیں جا سکتا۔ مکہ مکرمہ میں انہوں نے ایک دینی درسگاہ قائم کرنے کا ارادہ کیا جس کے لیے کلکتہ کی ایک فیاض خاتون صولت النساء بیگمؒ نے زمین خرید کر عمارت بنوا دی۔ یہ مدرسہ آج بھی مکہ مکرمہ کے محلہ حارۃ الباب میں ’’مدرسہ صولتیہ‘‘ کے نام سے دینی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے صنعت و حرفت اور دستکاری کا ایک اسکول قائم کیا جس میں طلبہ کو مختلف ہنر سکھائے جاتے تھے۔ ترکی کے سلطان نے مدرسہ صولتیہ کے اخراجات سرکاری طور پر برداشت کرنے کی پیشکش کی تو انہوں نے اس سے معذرت کر دی اور کہا کہ جو مختلف مسلمان مل جل کر اس مدرسے کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں، میں ان کو اس سعادت اور ثواب سے محروم نہیں کرنا چاہتا۔

مولانا کیرانویؒ کے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ جس زمانے میں وہ مکہ مکرمہ پہنچے، اس دور میں مکہ مکرمہ میں ڈاک کی تقسیم کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ لوگ اپنے خطوط حرم کے دروازے پر رکھ آتے تھے اور وہیں سے لوگ چھانٹ کر اپنے اپنے خط لے جاتے تھے۔ مولانا رحمت اللہؒ نے مکہ مکرمہ کے حکام اور عوام کو اس ضرورت کی طرف توجہ دلائی اور باقاعدہ ڈاک خانے کے قیام کی تحریک دی۔ یہ نظام ان کی زندگی میں تو نہ بن سکا لیکن ان کے جانشین مولانا محمد سعید مرحوم کے دور میں مکہ مکرمہ میں ڈاک خانے کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا۔

اب جامعہ اسلامیہ کامونکی میں اس مردِ درویش کے نام سے منسوب ہال تعمیر ہوا ہے تو تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اس پر مجھے جو خوشی ہوئی ہے میرے لیے اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ میں ایک عرصے سے اس سوچ بلکہ کرب میں مبتلا ہوں کہ مسیحی مشنریاں اور ان کی تبلیغی سرگرمیاں آج بھی پاکستان میں اسی طرح وسعت پذیر ہیں جیسے برطانوی استعمار کے تسلط کے بعد انہوں نے اس خطے پر یلغار کی تھی۔ جس ضلع میں جامعہ اسلامیہ کام کر رہا ہے ایک اخباری رپورٹ کے مطابق اس ضلع گوجرانوالہ میں مسیحی کمیونٹی کی آبادی اڑھائی لاکھ کے لگ بھگ ہے اور اس میں پونے چار سو چرچ، سوا چار سو سے زیادہ رفاہی تنظیمیں، اور بتیس کے لگ بھگ مشنری ادارے کام کر رہے ہیں۔ یہی صورتحال دیگر بہت سے اضلاع کی بھی ہے۔ ملک میں مسیحی مشنریوں اور این جی اوز کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں اور ہماری ثقافتی و تہذیبی اقدار کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو دین سے برگشتہ کرنے کے لیے مختلف حوالوں سے کام جاری ہے۔ مگر اس صورتحال میں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کا کردار اور مشن کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر مولانا عبد الرؤف فاروقی نے ان کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے تو میں اس پر بے پناہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مبارک باد دیتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے اس عزم میں آگے بڑھنے کی توفیق دے اور مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ سے منسوب اس ہال کو اس عظیم بزرگ کے مشن اور جدوجہد کا مرکز بنائے، آمین یا رب العالمین۔