محکمہ ڈاک اور پی آئی اے کی ’’حسن کارکردگی‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ جولائی ۲۰۰۵ء

مجھے 7 جون کو برطانیہ جانا تھا اور دو ہفتے کا پروگرام تھا۔ دس گیارہ روز قبل میں نے ایک نیوزلیٹر جس میں میرے اس پروگرام کی خبر بھی شامل تھی، برطانیہ میں اپنے چالیس پینتالیس دوستوں کے نام بھجوانے کا اہتمام کیا، وہ اس طرح کہ انہیں لفافوں میں بند کر کے ان پر دوستوں کے ایڈریس لکھے اور لندن میں مقیم ایک دوست میاں محمد اختر صاحب کو ایک پیکٹ کی صورت میں اکٹھے بھجوا دیے اور انہیں لکھا کہ وہ ان پر ڈاک ٹکٹ لگا کر پوسٹ کر دیں۔ خیال تھا کہ دوستوں کو میرے جانے سے قبل یہ نیوزلیٹر مل جائے گا تو رابطہ کرنے اور پروگرام کی ترتیب بنانے میں آسانی رہے گی۔ گوجرانوالہ جنرل پوسٹ آفس سے معلومات حاصل کیں تو ان کی طرف سے بتایا گیا کہ ارجنٹ میل سروس کی صورت میں سات دن کے اندر پیکٹ پہنچ جائے گا۔ چنانچہ 27 مئی کو 1380 روپے ادا کر کے پیکٹ ارجنٹ میل سروس کے لیے گوجرانوالہ پوسٹ آفس کے سپرد کیا جس کا رسید نمبر EE000371704PK ہے۔ مگر 7 جون کو لندن پہنچنے کے بعد اس سے اگلے روز میاں صاحب سے فون پر دریافت کیا تو یہ پیکٹ ان تک نہیں پہنچا تھا۔ اس کے بعد ہر دوسرے تیسرے روز ان سے پوچھتا رہا مگر پیکٹ انہیں موصول نہیں ہوا تھا۔ گوجرانوالہ رابطہ کر کے عزیزم عمار ناصر سے کہا تو اس نے جنرل پوسٹ آفس سے بات کی جس پر انہوں نے جواب دیا کہ انکوائری کر کے دو چار روز تک بتائیں گے۔

میاں محمد اختر صاحب کا تعلق گکھڑ سے ہے، ہاکی کے قومی کھلاڑی رہے ہیں، حضرت والد صاحب مدظلہ کے پرانے شاگردوں میں سے ہیں، ایک عرصے سے ایسٹ لندن میں رامفورڈ روڈ پر رہائش پذیر ہیں، اور میرے برطانیہ جانے پر وہ ہمیشہ ایک روز اپنے احباب کو شام کے کھانے پر بلایا کرتے ہیں جس پر ایک اچھی نشست ہو جاتی ہے۔ اس بار میری واپسی سے دو روز قبل 20 جون کی شام کو یہ پروگرام تھا جس میں شرکت ہوئی مگر وہ پیکٹ اس وقت تک بھی ان کے ہاں نہیں پہنچ پایا تھا۔ مجھے اس سے جو کوفت ہوئی سو ہوئی، برطانیہ میں جس دوست کو بھی اخبار کے ذریعے میری آمد کا علم ہوا اس نے ناراضگی اور حیرت کا اظہار کیا کہ میں اس سے قبل ایسے سفر نہیں کیا کرتا تھا۔ بلکہ میرے برطانیہ پہنچنے سے قبل تقریباً سبھی احباب کو اس کا علم ہوتا تھا کہ میں کب پہنچ رہا ہوں اور کب واپسی ہوگی کہ اس سے انہیں رابطے میں اور مجھے پروگرام کی ترتیب سیٹ کرنے میں آسانی ہو جاتی تھی، مگر اس بار یہ دونوں باتیں خراب ہوگئیں اور میرے ذہن میں جو پروگرام تھا بمشکل اس کا نصف حصہ مکمل کر پایا۔

محکمہ ڈاک کی اس نوازش کے بعد مجھے اس سفر میں پی آئی اے کی ایک مہربانی کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ وہ اس طرح کہ میرا سفر پی آئی اے کے ذریعے تھا اور 22 جون کو لندن سے لاہور واپسی کی سیٹ کنفرم کرا کر میں یہاں سے گیا تھا۔ میرا معمول یہ ہے کہ سفر میں چانس کا رسک بہت کم لیتا ہوں اور سفر کا پورا شیڈیول کنفرم کرا کے سفر کا آغاز کرتا ہوں۔ سیٹ کنفرم تھی، اس کے باوجود میں نے 20 جون پیر کو صبح دس بجے ایسٹ لندن میں کمرشل روڈ پر اپنے ایک دوست ٹریول ایجنٹ داؤد بھائی کے دفتر میں جا کر انہیں ٹکٹ دیا کہ وہ سیٹ کی پوزیشن چیک کریں اور اگر کنفرمیشن کی ضرورت ہو تو کرا دیں۔ ان کے اسسٹنٹ نے میرے سامنے پی آئی اے آفس سے فون پر رابطہ کیا اور مجھے بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ کی سیٹ اوکے ہے اور ری کنفرم کرانے کی ضرورت نہیں ہے، اس پر میں نے مطمئن ہو کر ٹکٹ جیب میں ڈال لیا۔ مگر 22 جون کو فلائٹ کی روانگی سے دو گھنٹے قبل ہیتھرو ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے کاؤنٹر پر پہنچا تو وہاں کھڑی خاتون نے کمپیوٹر چیک کرنے کے بعد کہا کہ آپ چانس پر ہیں اس لیے ایک طرف ہو جائیں، ہم چانس والوں کو بلائیں گے اگر سیٹ کی گنجائش ہوئی تو آپ کو سیٹ دے دی جائے گی۔ میرے لیے یہ بات کسی دھماکے سے کم نہیں تھی اس لیے کہ احتیاط کے سارے مراحل میں اس سے قبل طے کر چکا تھا ۔ میں نے احتجاج کیا اور کہا کہ یہ زیادتی ہے کیونکہ میری سیٹ اوکے ہے اور دو روز قبل ٹریول ایجنٹ کے ذریعے رابطہ کر کے میں اس کی تصدیق کر چکا ہوں۔ خاتون نے کہا کہ ٹکٹ فروخت کرنے والے ٹریول ایجنٹ نے سیٹ ری کنفرم نہیں کرائی۔ میں نے کہا کہ اس کی سزا مجھے کیوں دی جا رہی ہے، ٹریول ایجنٹ نے اگر اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی تو وہ میرا نمائندہ نہیں ہے آپ کا ایجنٹ ہے، اس کا بار مجھ پر نہیں پڑنا چاہیے۔ خاتون نے کہا کہ میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتی۔ میں نے کہا کہ میں تو کر سکتا ہوں، اس نے پوچھا کہ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ میں احتجاج کروں گا اور شور مچاؤں گا۔ خاتون نے یہ کہہ کر سلسلہ کلام کو منقطع کر دیا کہ ٹھیک ہے آپ جا کر شور کریں۔

میں وہاں سے ہٹا تو ایک طرف اور بہت سے لوگ اسی انتظار میں کھڑے تھے۔ سیالکوٹ کے ایک بزنس مین سجاد صاحب نے بتایا کہ وہ بزنس ٹور کے سلسلے میں برازیل سے آرہے ہیں، ان کی سیٹ بھی اوکے ہے اور انہوں نے جس ایئر کمپنی کے ٹکٹ پر سفر کیا ہے اس سے رابطہ کر کے ایک روز قبل دریافت کیا تھا اور انہوں نے یہی جواب دیا کہ آپ کی سیٹ پی آئی اے پر کنفرم ہے اور ری کنفرم کرانے کی ضرورت نہیں ہے، مگر کاؤنٹر پر کھڑے حضرات کا کہنا ہے کہ ان کی سیٹ ری کنفرم نہ کرانے کی وجہ سے کینسل ہو چکی ہے او روہ چانس پر ہیں۔ ہم دونوں آپس میں یہ دکھ سکھ کر رہے تھے کہ پی آئی اے کے ایک افسر نظر آگئے، ہم نے ان سے صورتحال بیان کی تو وہ کہنے لگے کہ آپ دونوں وہاں سامنے آفس سے اپنے ٹکٹوں کے کمپیوٹر پرنٹ لے کر آئیں میں پھر بتا سکوں گا کہ کیا کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے اس آفس سے پرنٹ لے کر ان صاحب کو دکھائے تو انہوں نے پڑھ کر بتایا کہ آپ دونوں کی سیٹیں ایک روز قبل ری کنفرم نہ کرانے کی وجہ سے کینسل ہو چکی ہیں۔ میں نے صورتحال بتا کر احتجاج کیا تو کہنے لگے کہ یہ بات آپ وہاں جا کر پی آئی اے کو لکھیں۔ میں نے کہا کہ میں ضرور لکھوں گا اور خط کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے کالم میں لکھوں گا کیونکہ میں روزنامہ پاکستان کا کالم نگار ہوں۔

یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے دوران سفر اپنے کالم نویس ہونے کا حوالہ دیا ورنہ عموماً میں کسی طرح کا حوالہ نہیں دیا کرتا اور ایک عام مسافر کی طرح خاموشی سے سفر کیا کرتا ہوں۔ اور میرے پاسپورٹ سے بھی میری امتیازی حیثیت کا پتہ نہیں چلتا کیونکہ اس پر میرا اصل نام ’’حافظ محمد عبد المتین خان زاہد‘‘ درج ہے۔ جبکہ ٹکٹ پر آخری اور پہلا نام ’’زاہد حافظ‘‘ لکھا جاتا ہے۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ پی آئی اے کے عملے کے ایک اور صاحب قریب آئے اور مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ مولانا زاہد الراشدی ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو کہنے لگے کہ میں آپ کے مضامین پڑھتا رہتا ہوں اور میں نے آپ کو پہچان لیا ہے۔ اب معلوم نہیں کہ یہ میرے پہچانے جانے کا نتیجہ تھا یا میری دھمکی کا اثر کہ جونہی چانس والوں کو بلانے کا مرحلہ آیا تو اس آفیسر نے جس سے ہماری بات ہو رہی تھی مجھے اور سجاد صاحب کو بلایا اور کاؤنٹر پر جا کر خاتون کو ہمارے بارے میں بطور خاص ہدایت کی کہ انہیں بورڈنگ کارڈ جاری کیا جائے، چنانچہ ہمیں بورڈنگ کارڈ مل گیا اور ہم طیارے پر سوار ہونے کے اہل قرار پائے۔ مگر اس دوران تذبذب اور پریشانی نے جس طرح گھیرا اس نے بہت سی پچھلی باتیں بھی یاد کرا دیں۔

گزشتہ سال جنوری کی بات ہے کہ میں ڈھاکہ سے پی آئی اے کے ذریعے کراچی آیا تو ایئرپورٹ پر مجھے اپنا سامان وصول کرنے میں رکاوٹ پیش آئی، اس لیے کہ ڈھاکہ ایئرپورٹ پر ڈیوٹی پر موجود خاتون نے میرے سامان کا ٹیگ کسی اور کے سامان کو لگا دیا تھا اور کسی اور کے سامان کا ٹیگ میرے سامان پر فٹ کر دیا تھا۔ کراچی میں اپنا بیگ لے کر میں لاؤنج سے باہر نکلنے لگا تو روک لیا گیا کہ یہ سامان آپ کا نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ بھئی یہ میرا بیگ ہے، اس کی چابی میرے پاس ہے اور میں کھولے بغیر اس کے اندر کی ہر چیز بتا سکتا ہوں۔ مگر ڈیوٹی آفیسر پر میری کوئی دلیل کارگر نہیں ہو رہی تھی۔ چنانچہ افسران بالا سے رابطہ کیا گیا، انہوں نے میری بات سن کر بیگ کے بارے میں کچھ سوالات کیے تو میں اپنا سامان حاصل کر سکا۔ اسی طرح چند سال قبل سعودیہ سے واپسی پر میں نے دیکھا کہ بیگ کا تالا ٹوٹا ہوا تھا اور زپ تھوڑی سی کھلی ہوئی تھی۔ میں نے ڈیوٹی افسر سے شکایت کی تو کہنے لگے کہ آپ سامان چیک کر لیجیے اگر وہ پورا ہے تو تشریف لے جائیے۔ بیگ کا سامان پورا تھا البتہ کھجوروں میں کچھ کمی محسوس ہو رہی تھی لیکن میں نے اسے نظر انداز کیا اور بیگ اٹھا کر باہر نکل آیا۔

محکمہ ڈاک اور پی آئی اے کے بارے میں اپنی ان تازہ شکایتوں کا قارئین سے تذکرہ تو کر دیا ہے مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ باضابطہ شکایت کس سے کروں؟ جی چاہتا ہے کہ یہ شکایت محترمہ کرسٹینا روکا (پاکستان میں امریکی سفیر) سے کروں کہ وہ ان دنوں ہماری ’’وزیر امور ہند‘‘ ہیں۔ ان سے یہ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ہم پر انگریزوں نے بھی ڈیڑھ دو سو برس حکومت کی ہے، وہ سب کچھ کرتے رہے مگر انہوں نے محکمانہ نظام ٹھیک رکھا ہوا تھا۔ آزادی اور خودمختاری کے لیے ان سے ہماری کشمکش جاری رہتی تھی مگر محکمانہ نظام اور سرکاری ملازمین کی کارکردگی کا معیار انہوں نے قائم رکھا ہوا تھا جسے اب تک یہاں کے لوگ یاد کرتے ہیں۔ اس لیے محترمہ کرسٹینا روکا سے گزارش ہے کہ قومی اور بین الاقوامی امور میں ان سے ہمارے جھگڑے تو چلتے رہیں گے، لیکن کم از کم یہاں کے محکمانہ معاملات اور ملازمین کی کارکردگی کا معیار بہتر بنانے کی ہدایت جاری کر دیں کہ اس میں بہرحال ان کا بھی فائدہ ہے۔